مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

ریاکاری کی وبا آخر کب ختم ہوگی؟‏

ریاکاری کی وبا آخر کب ختم ہوگی؟‏

پانایوٹا کی پرورش بحیرۂروم کے ایک جزیرے پر ہوئی۔‏ جب وہ نوجوان تھیں تو اُنہیں سیاست میں بہت دلچسپی تھی۔‏ بعد میں وہ اپنے گاؤں میں ایک سیاسی جماعت کی سیکرٹری بن گئیں۔‏ وہ اِس جماعت کے لیے چندہ اِکٹھا کرنے گھر گھر جاتی تھیں۔‏ لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا،‏ اُن کا دل سیاست سے اُچاٹ ہو گیا۔‏ اُنہوں نے دیکھا کہ جماعت کے ارکان ایک دوسرے کے ساتھی ہونے کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن اصل میں اُن میں حسد اور اِختلا‌فات پائے جاتے ہیں،‏ وہ ایک دوسرے کو نیچا دِکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے اِختیار کا ناجائز اِستعمال کرتے ہیں۔‏

ڈینئل ملک آئرلینڈ کے ایک مذہبی گھرانے میں پلے بڑھے ہیں۔‏ اُنہیں اچھی طرح یاد ہے کہ اُن کے چرچ کے پادری کتنے ریاکار تھے۔‏ وہ بہت زیادہ شراب پیتے تھے،‏ جُوا کھیلتے تھے اور چندے کی تھالیوں سے پیسے چُراتے تھے لیکن ڈینئل سے کہتے تھے کہ اگر وہ کوئی گُناہ کریں گے تو خدا اُنہیں دوزخ میں ڈالے گا۔‏

جیفری نے بڑے عرصے تک ایک ایسی بین‌الاقوامی کمپنی میں سیلزمین کے طور پر کام کِیا جس کے دفتر برطانیہ اور امریکہ میں ہیں۔‏ اُنہیں یاد ہے کہ بہت سے موقعوں پر گاہکوں اور حریف کمپنیوں نے سرکاری افسروں سے بات کرتے وقت جھوٹ بولا۔‏ وہ لوگ ٹھیکا لینے کے لیے منافقت سے کام لینے اور کوئی بھی وعدہ کرنے کو تیار تھے۔‏

افسوس کی بات ہے کہ ایسے واقعات اکثر دیکھنے میں آتے ہیں۔‏ آج‌کل ریاکاری بہت عام ہے،‏ چاہے یہ سیاست میں ہو،‏ مذہبی حلقے میں ہو یا کاروباری دُنیا میں۔‏ بہت سی زبانوں میں ریاکاری اور منافقت کے لیے جو لفظ اِستعمال ہوتا ہے،‏ وہ ایک یونانی لفظ سے نکلا ہے جو ایک ایسے مقرر یا اداکار کی طرف اِشارہ کرتا تھا جس نے ماسک پہنا ہوتا تھا۔‏ آہستہ آہستہ اِس لفظ کا مطلب یہ لیا جانے لگا:‏ ایسا شخص جو دوسروں کو دھوکا دینے یا اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے اپنے آپ کو کچھ اَور بنا کر پیش کرتا ہے۔‏

ریاکاری دیکھ کر لوگوں میں تلخی،‏ غصے اور نفرت جیسے احساسات پیدا ہوتے ہیں۔‏ اِس وجہ سے بعض لوگ مایوس ہو کر سوچتے ہیں کہ ”‏ریاکاری کی وبا آخر کب ختم ہوگی؟‏“‏ آئیں،‏ دیکھیں کہ اِس سلسلے میں پاک کلام میں کیا بتایا گیا ہے۔‏

ریاکاری کے متعلق خدا اور یسوع مسیح کا نظریہ

پاک کلام کے مطابق ریاکاری کی شروعات اِنسانوں نے نہیں بلکہ ایک روحانی مخلوق نے کی۔‏ دراصل شیطان نے حوا کو گمراہ کرنے کے لیے خود کو اُن کا خیرخواہ ظاہر کِیا اور اپنی اصلیت چھپانے کے لیے ایک سانپ کو اِستعمال کِیا،‏ بالکل ویسے ہی جیسے ایک اداکار ایک ماسک کو اِستعمال کرتا ہے۔‏ (‏پیدایش 3:‏1-‏5‏)‏ تب سے لاتعداد اِنسان دوسروں کو دھوکا دینے اور اپنا مطلب نکا‌لنے کے لیے اپنی اصلیت چھپاتے آئے ہیں۔‏

 بنی‌اِسرائیل بھی ریاکاری کرنے کے پھندے میں پھنس گئے۔‏ کئی بار ایسا ہوا کہ وہ سچے خدا کی عبادت کرنے کے ساتھ ساتھ جھوٹے معبودوں کی عبادت بھی کرنے لگے۔‏ اِس کے علا‌وہ وہ مذہبی ہونے کا دِکھاوا بھی کرتے تھے۔‏ خدا نے بار بار اُنہیں اِس ریاکاری کے سنگین نتائج سے آگاہ کِیا۔‏ اُس نے یسعیاہ نبی کے ذریعے کہا:‏ ”‏یہ لوگ زبان سے میری نزدیکی چاہتے ہیں اور ہونٹوں سے میری تعظیم کرتے ہیں لیکن اُن کے دل مجھ سے دُور ہیں۔‏“‏ (‏یسعیاہ 29:‏13‏)‏ جب بنی‌اِسرائیل نے خدا کی آگاہیوں پر دھیان نہیں دیا تو خدا نے دوسری قوموں کے ذریعے اُن کے مُقدس شہر یروشلیم کو اور اُن کی مرکزی عبادت‌گاہ کو تباہ کر دیا،‏ پہلی بار 607 قبل‌ازمسیح میں بابلی قوم کے ذریعے اور دوسری بار 70ء میں رومی قوم کے ذریعے۔‏ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کو ریاکاری سے سخت نفرت ہے اور وہ ریاکاروں کے خلا‌ف کارروائی کرتا ہے۔‏

پاک کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا اور یسوع مسیح دیانت‌دار اور مخلص لوگوں کی بہت قدر کرتے ہیں۔‏ مثال کے طور پر ایک بار جب نتن‌ایل نامی ایک شخص یسوع مسیح کے پاس آیا تو اُنہوں نے کہا:‏ ”‏دیکھو!‏ .‏ .‏ .‏ اِس میں مکر نہیں۔‏“‏ (‏یوحنا 1:‏47‏)‏ نتن‌ایل جنہیں برتُلمائی بھی کہا جاتا تھا،‏ بعد میں یسوع مسیح کے 12 رسولوں میں شمار ہوئے۔‏—‏لُوقا 6:‏13-‏16‏۔‏

یسوع مسیح نے اپنے پیروکاروں کو سکھایا کہ وہ ریاکاری کو ویسا ہی خیال کریں جیسا خدا کرتا ہے۔‏ اُن کو کسی بھی طرح کی ریاکاری نہیں کرنی تھی۔‏ یسوع مسیح نے اُنہیں نصیحت کی کہ وہ ریاکار مذہبی پیشواؤں کی طرح نہ بنیں۔‏ اُس زمانے کے مذہبی پیشوا کس لحاظ سے ریاکار تھے؟‏

وہ دِکھاوے کے لیے نیک کام کرتے تھے۔‏ یسوع مسیح نے اپنے پیروکاروں سے کہا:‏ ’‏خبردار اپنے راست‌بازی کے کام آدمیوں کے سامنے دِکھانے کے لئے نہ کرو جیسے ریاکار کرتے ہیں۔‏‘‏ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ خیرات دیتے وقت ڈھنڈورا نہ پیٹیں اور دِکھاوے کے لیے دُعائیں نہ کریں تاکہ اُن کی عبادت ریاکاری سے پاک ہو اور خدا کی نظر میں قابلِ‌قبول ہو۔‏—‏متی 6:‏1-‏6‏۔‏

وہ دوسروں پر نکتہ‌چینی کرتے تھے۔‏ یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏اَے ریاکار پہلے اپنی آنکھ میں سے تو شہتیر نکا‌ل پھر اپنے بھائی کی آنکھ میں سے تنکے کو اچھی طرح دیکھ کر نکا‌ل سکے گا۔‏“‏ (‏متی 7:‏5‏)‏ مذہبی رہنما اپنی غلطیوں کو چھپانے کے لیے لوگوں کی غلطیوں کو نمایاں کرتے تھے تاکہ وہ خود بڑے نیک دِکھائی دیں۔‏ مگر سچ تو یہ ہے کہ سب اِنسانوں نے ”‏گُناہ کِیا اور خدا کے جلا‌ل سے محروم ہیں۔‏“‏—‏رومیوں 3:‏23‏۔‏

اُن کی نیت صحیح نہیں تھی۔‏ ایک دفعہ یہودیوں کے ایک مذہبی فرقے کے ارکان اور بادشاہ ہیرودیس کے حامی یسوع مسیح کے پاس آئے۔‏ پہلے تو اُنہوں نے یسوع مسیح کی خوشامد کرتے ہوئے کہا:‏ ”‏اَے اُستاد ہم جانتے ہیں کہ تُو سچا ہے اور سچائی سے خدا کی راہ کی تعلیم دیتا ہے۔‏“‏ اِس کے بعد اُنہوں نے اُن کو پھنسانے کے لیے یہ سوال پوچھا:‏ ”‏قیصرؔ کو جزیہ [‏یعنی ٹیکس]‏ دینا روا ہے یا نہیں؟‏“‏ یسوع مسیح نے جواب دیا:‏ ”‏اَے ریاکارو مجھے کیوں آزماتے ہو؟‏“‏ وہ لوگ واقعی ریاکار تھے کیونکہ وہ اپنے سوال کا جواب حاصل کرنے کی نیت سے نہیں بلکہ یسوع مسیح کو پھنسانے کی نیت سے آئے تھے۔‏—‏متی 22:‏15-‏22‏۔‏

خدا کے بندے ایک دوسرے سے ”‏پاک دل اور نیک‌نیت اور بےریا ایمان سے محبت“‏ کرتے ہیں۔‏—‏1-‏تیمُتھیُس 1:‏5‏۔‏

جب 33ء کی عیدِپنتِکُست پر مسیحی کلیسیا کی بنیاد ڈالی گئی تو دیانت‌داری اور سچائی کو فروغ ملنے لگا۔‏ سچے مسیحیوں نے اپنے اندر سے ریاکاری کو دُور کرنے کے لیے سخت محنت کی۔‏ یسوع مسیح کے ایک رسول،‏ پطرس نے مسیحیوں کی حوصلہ‌افزائی کی کہ وہ پاک کلام کی تعلیم کے فرمانبردار رہیں اور اپنے دل میں بےریا محبت پیدا کرتے رہیں۔‏ (‏1-‏پطرس 1:‏22‏)‏ پولُس رسول نے بھی اپنے ساتھیوں کو یہ ہدایت دی کہ وہ ’‏پاک دل اور نیک‌نیت اور بےریا ایمان سے محبت پیدا کریں۔‏‘‏—‏1-‏تیمُتھیُس 1:‏5‏۔‏

خدا کا کلام بڑا مؤثر ہے!‏

یسوع مسیح اور اُن کے رسولوں کی تعلیمات آج بھی اُتنی ہی مؤثر ہیں جتنی پہلی صدی عیسوی میں تھیں۔‏ پولُس رسول نے لکھا:‏ ”‏خدا کا کلام زندہ اور مؤثر اور ہر ایک دو دھاری تلوار سے زیادہ تیز ہے اور جان اور روح اور بندبند اور گُودے کو جُدا کر کے گذر جاتا ہے اور دل کے خیالوں اور اِرادوں کو جانچتا ہے۔‏“‏ (‏عبرانیوں 4:‏12‏)‏ بہت سے لوگوں نے پاک کلام کی تعلیمات سے واقف  ہونے کے بعد ریاکاری سے کام لینا چھوڑ دیا اور دیانت‌داری اور خلوصِ‌دل سے کام لینے لگے۔‏ اِن میں وہ تین لوگ بھی شامل ہیں جن کا مضمون کے شروع میں ذکر ہوا تھا۔‏

‏”‏مَیں نے دیکھا کہ لوگوں کے درمیان سچی محبت ہے اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ مخلص ہیں۔‏“‏—‏پانایوٹا

پانایوٹا کی زندگی اُس وقت بدل گئی جب وہ پہلی بار یہوواہ کے گواہوں کے اِجلا‌س پر گئیں۔‏ وہاں کوئی بھی شخص نیک کاموں کا دِکھاوا نہیں کر رہا تھا۔‏ وہ کہتی ہیں:‏ ”‏مَیں نے دیکھا کہ لوگوں کے درمیان سچی محبت ہے اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ مخلص ہیں۔‏ یہ ایک ایسی بات تھی جو مَیں نے سیاست میں کبھی نہیں دیکھی تھی۔‏“‏

پانایوٹا نے یہوواہ کے گواہوں کے ساتھ پاک کلام کا کورس کِیا اور آخرکار خود بھی یہوواہ کی گواہ بن گئیں۔‏ یہ 30 سال پہلے کی بات ہے۔‏ اب وہ کہتی ہیں:‏ ”‏میری زندگی بامقصد ہے۔‏ پہلے مَیں گھر گھر جا کر ایک سیاسی جماعت کے لیے چندہ اِکٹھا کرتی تھی لیکن اب مَیں گھر گھر جا کر لوگوں کو خدا کی بادشاہت کے بارے میں بتاتی ہوں جو ہمارے سارے مسئلے حل کر دے گی۔‏“‏

‏”‏مَیں نہیں چاہتا تھا کہ مَیں اپنے آپ کو .‏ .‏ .‏ ایک ایسے شخص کے طور پر پیش کروں جو مَیں اصل میں نہیں تھا۔‏“‏—‏ڈینئل

ڈینئل بھی یہوواہ کے گواہ بن گئے اور اُنہیں کلیسیا میں کچھ ذمےداریاں دی گئیں۔‏ کچھ سال بعد اُن سے ایک غلط کام ہو گیا جس کی وجہ سے اُن کا ضمیر اُنہیں ملا‌مت کرنے لگا۔‏ وہ کہتے ہیں:‏ ”‏مجھے وہ ریاکاری اچھی طرح یاد تھی جو مَیں نے چرچ میں کئی سال تک دیکھی تھی۔‏ لہٰذا مَیں نے وہ ذمےداریاں واپس کر دیں جو مجھے کلیسیا میں حاصل تھیں۔‏ مَیں نہیں چاہتا تھا کہ مَیں اپنے آپ کو کلیسیا کے ارکان کے سامنے ایک ایسے شخص کے طور پر پیش کروں جو مَیں اصل میں نہیں تھا۔‏“‏

اپنی اِصلا‌ح کرنے کے بعد ڈینئل کو لگا کہ وہ دوبارہ سے کلیسیا میں ذمےداریاں سنبھالنے کے لائق ہیں۔‏ اِس لیے کچھ عرصے بعد اُنہوں نے ذمےداریاں قبول کر لیں۔‏ جو لوگ خلوصِ‌دل سے خدا کی عبادت کرتے ہیں،‏ وہ ڈینئل کی طرح ہر معاملے میں دیانت‌داری سے کام لیتے ہیں۔‏ وہ پہلے ’‏اپنی آنکھ میں سے شہتیر نکا‌لتے ہیں اور پھر اپنے بھائی کی آنکھ میں سے تنکا نکا‌لتے ہیں۔‏‘‏

‏”‏مَیں سمجھ گیا کہ ٹھیکا حاصل کرنے کے لیے چکنی‌چپڑی باتیں کرنا اور مکا‌ری سے کام لینا غلط ہے۔‏“‏—‏جیفری

جیفری جنہوں نے بہت عرصے تک کاروباری دُنیا میں کام کِیا،‏ کہتے ہیں:‏ ”‏جیسے جیسے مَیں نے پاک کلام کی تعلیم حاصل کی،‏ مَیں سمجھ گیا کہ ٹھیکا حاصل کرنے کے لیے چکنی‌چپڑی باتیں کرنا اور مکا‌ری سے کام لینا غلط ہے۔‏ پاک کلام کی کچھ آیتوں نے میرے دل پر گہرا اثر کِیا،‏ مثال کے طور پر امثال 11:‏1 نے جس میں لکھا ہے کہ ”‏دغا کے ترازو سے [‏یہوواہ خدا]‏ کو نفرت ہے۔‏“‏“‏ جیفری نے سیکھ لیا کہ اُنہیں ہر کام صاف نیت سے کرنا چاہیے اور اُن لوگوں کی طرح نہیں ہونا چاہیے جو یسوع مسیح کو پھنسانے کی نیت سے اُن کے پاس آئے تھے۔‏

دُنیا بھر میں لاکھوں یہوواہ کے گواہ اُن باتوں پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو وہ پاک کلام سے سیکھتے ہیں۔‏ وہ اُس ”‏نئی اِنسانیت“‏ کو اپنانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں جو ”‏خدا کے مطابق سچائی کی راست‌بازی اور پاکیزگی میں پیدا کی گئی ہے۔‏“‏ (‏اِفسیوں 4:‏24‏)‏ کیوں نہ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ یہوواہ کے گواہ کون ہیں اور وہ کن باتوں پر ایمان رکھتے ہیں؟‏ وہ آپ کو اُس نئی دُنیا کے بارے میں بھی بتا سکتے ہیں جس کا خدا نے وعدہ کِیا ہے۔‏ اُس نئی دُنیا میں ”‏راست‌بازی بسی رہے گی“‏ اور کسی بھی طرح کی ریاکاری نہیں ہوگی۔‏—‏2-‏پطرس 3:‏13‏۔‏