مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

جب کوئی قدرتی آفت آتی ہے

جب کوئی قدرتی آفت آتی ہے

‏”‏شروع میں ہم بالکل مایوس ہو گئے۔‏ ہمارا سب کچھ مٹی کے تودوں اور سیلاب کی وجہ سے تباہ ہو گیا تھا۔‏“‏—‏سیرا لیون میں رہنے والے اینڈریو۔‏

‏”‏طوفان کے بعد جب ہم گھر لوٹے تو کچھ بھی نہیں بچا تھا۔‏ ہم بالکل گم‌صم ہو گئے۔‏ میری بیٹی تو گھٹنوں کے بل گِر کر رونے لگی۔‏“‏—‏ورجن جزائر میں رہنے والے ڈیوڈ۔‏

اگر آپ کو بھی کسی قدرتی آفت کا سامنا ہوا ہے تو شاید آپ اُن لوگوں کے احساسات کو سمجھ سکیں جو قدرتی آفت کے بعد زندہ بچ جاتے ہیں۔‏ وہ صدمے،‏ بےیقینی،‏ پریشانی اور اُلجھن میں مبتلا ہوتے ہیں اور اُنہیں ڈراؤنے خواب ستاتے ہیں۔‏ قدرتی آفت کے نتیجے میں بہت سے لوگ اِتنے مایوس اور بےحوصلہ ہو جاتے ہیں کہ اُن میں جینے کی تمنا لگ بھگ ختم ہو جاتی ہے۔‏

اگر کسی قدرتی آفت کی وجہ سے آپ کی زندگی تہس‌نہس ہو گئی ہے تو شاید آپ بھی یہ محسوس کریں کہ آپ کی ہمت جواب دے گئی ہے۔‏ شاید آپ یہ بھی سوچنے لگیں کہ آپ کی زندگی بالکل بےکار ہو گئی ہے اور جینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔‏ لیکن پاک کلام میں بتایا گیا ہے کہ زندگی بےکار نہیں ہے اور آپ ٹھوس وجوہات کی بِنا پر ایک بہتر مستقبل کی اُمید رکھ سکتے ہیں۔‏

ایک بہتر مستقبل کی اُمید

پاک کلام میں لکھا ہے کہ ”‏کسی بات کا انجام اُس کے آغاز سے بہتر ہے۔‏“‏ (‏واعظ 7:‏8‏)‏ جب آپ کسی قدرتی آفت کے بعد زندگی کی طرف لوٹنے لگتے ہیں تو شروع میں شاید آپ کو اپنی زندگی مایوسی کے اندھیرے میں ڈوبی ہوئی لگے۔‏ لیکن جیسے جیسے آپ زندگی کی عمارت دوبارہ کھڑی کرتے جائیں گے،‏ صورتحال بہتر ہوتی جائے گی۔‏

پاک کلام میں پیش‌گوئی کی گئی ہے کہ ایک ایسا وقت آئے گا جب ”‏رونے کی صدا اور نالہ کی آواز پھر کبھی سنائی نہ دے گی۔‏“‏ (‏یسعیاہ 65:‏19‏)‏ یہ پیش‌گوئی اُس وقت پوری ہوگی جب یہ زمین خدا کی بادشاہت کے تحت فردوس بن جائے گی۔‏ (‏زبور 37:‏11،‏ 29‏)‏ پھر قدرتی آفتیں ماضی کا قصہ ہوں گی۔‏ ہر طرح کی تلخ یادیں اور صدمے ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گے کیونکہ لامحدود قدرت والے خدا نے یہ وعدہ کِیا ہے کہ ”‏پہلی چیزوں کا پھر ذکر نہ ہوگا اور وہ خیال میں نہ آئیں گی۔‏“‏—‏یسعیاہ 65:‏17‏۔‏

ذرا سوچیں کہ یہ کتنی شان‌دار بات ہے کہ ہمارے خالق نے ہمیں ”‏اُمید اور درخشاں [‏یعنی روشن]‏ مستقبل“‏ دینے یعنی اپنی بادشاہت کے تحت ایک پُرامن زندگی دینے کا بندوبست کِیا ہے!‏ (‏یرمیاہ 29:‏11‏،‏ نیو اُردو بائبل ورشن‏)‏ کیا یہ بات جاننے سے آپ کی زندگی واقعی بامقصد ہو سکتی ہے؟‏ سیلی جن کا پہلے مضمون میں ذکر کِیا گیا تھا،‏ کہتی ہیں:‏ ”‏جب آپ اُن شان‌دار کاموں کے بارے میں سوچتے ہیں جو خدا کی بادشاہت مستقبل میں ہمارے لیے کرے گی تو آپ ماضی کو بھول کر حال میں جینے کے قابل ہو سکتے ہیں۔‏“‏

کیوں نہ اُن شان‌دار کاموں کے بارے میں مزید سیکھیں جو خدا کی بادشاہت اِنسانوں کے لیے بہت جلد کرے گی؟‏ اگر آپ ایسا کریں گے تو آپ قدرتی آفتوں سے پاک مستقبل کا اِنتظار کرتے ہوئے یہ بھروسا رکھ سکیں گے کہ قدرتی آفت کا سامنا کرنے کے باوجود بھی آپ کی زندگی بےمعنی نہیں ہے۔‏ لیکن تب تک آپ قدرتی آفت کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کو برداشت کرنے کے لیے پاک کلام میں پائے جانے والے مشوروں پر عمل کر سکتے ہیں۔‏ آئیں،‏ ایسے کچھ مشوروں پر غور کریں۔‏