مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 سرِورق کا موضوع :‏ ایمان‌دار کیوں بنیں؟‏

ایمان‌داری کا صلہ

ایمان‌داری کا صلہ

‏”‏ہمیں یقین ہے کہ ہمارا ضمیر صاف ہے اور ہم ہر بات میں ایمان‌داری سے کام لینا چاہتے ہیں۔‏“‏—‏عبرانیوں 13:‏18‏۔‏

جس یونانی لفظ کا ترجمہ پاک کلام میں اکثر ”‏ایمان‌داری“‏ کِیا گیا ہے،‏ اُس کا لفظی مطلب ہے:‏ ”‏ہر لحاظ سے اچھا۔‏“‏ اِس لفظ میں اخلا‌قی خوب‌صورتی کے معنی بھی پائے جاتے ہیں۔‏

مسیحی پوری کوشش کرتے ہیں کہ وہ ’‏ہر بات میں ایمان‌داری سے کام لیں۔‏‘‏ اِس کے لیے کیا کرنا ضروری ہے؟‏

اپنے آپ سے جنگ

ہم گھر سے باہر جانے سے پہلے اکثر شیشہ دیکھتے ہیں کیونکہ ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ہم کیسے لگ رہے ہیں۔‏ لیکن ہماری ظاہری شکل‌وصورت سے زیادہ اہم ہماری سیرت ہے کیونکہ اِس سے یا تو ہماری خوب‌صورتی میں چار چاند لگ سکتے ہیں یا پھر یہ ماند پڑ سکتی ہے۔‏

خدا کے کلام میں بتایا گیا ہے کہ ہم فطری طور پر غلط کام کرنے کی طرف مائل ہیں۔‏ پیدایش 8:‏21 میں لکھا ہے:‏ ”‏اِنسان کے دل کا خیال لڑکپن سے بُرا ہے۔‏“‏ لہٰذا ایمان‌داری سے کام لینے کے لیے ہمیں اپنی بُری خواہشوں سے لڑنا پڑتا ہے۔‏ یسوع مسیح کے ایک پیروکار پولُس نے گُناہ کے خلا‌ف اپنی جدوجہد کو یوں بیان کِیا:‏ ”‏مَیں دل سے تو خدا کی شریعت کو بہت پسند کرتا ہوں لیکن میرے اعضا میں ایک اَور شریعت ہے جو میرے ذہن کی شریعت سے جنگ کرتی ہے اور مجھے اُس گُناہ کی شریعت کا غلا‌م بنا دیتی ہے جو میرے اعضا میں ہے۔‏“‏—‏رومیوں 7:‏22،‏ 23‏۔‏

مثال کے طور پر جب ہمارا دل ہمیں بےایمانی کرنے پر اُکساتا ہے تو ضروری نہیں کہ ہم اِس کی بات مانیں۔‏ دل کی بات کو رد کرنا ہمارے بس میں ہے۔‏ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہم بےایمانی سے بھری اِس دُنیا میں ایمان‌داری سے کام لے سکیں گے۔‏

جنگ جیتنے کے لیے تدابیر

افسوس کی بات ہے کہ زیادہ‌تر لوگ اپنی ظاہری شکل‌وصورت کو نکھارنے کے لیے تو بہت کچھ کرتے ہیں مگر اپنی سیرت کو سنوارنے کے لیے کچھ نہیں کرتے۔‏ اِس وجہ سے وہ اپنے مطلب کے لیے تھوڑی بہت بےایمانی کرنے کو غلط نہیں سمجھتے۔‏ اِس سلسلے میں ایک کتاب میں بتایا گیا:‏ ”‏چھوٹے موٹے معاملا‌ت میں بےایمانی کرنے سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا اور ہم یہی سمجھتے ہیں کہ ہم ایمان‌دار ہیں۔‏“‏ لیکن کیا واقعی تھوڑی بہت بےایمانی کرنے میں کوئی حرج نہیں؟‏ کیا ایسے اصول ہیں جو اِس سلسلے میں ہماری رہنمائی کر سکیں؟‏ بالکل ہیں۔‏

پوری دُنیا میں لاکھوں لوگوں نے دیکھا ہے کہ یہ اصول  بائبل  میں  پائے  جاتے ہیں اور یہ نہایت عمدہ اور بےمثال ہیں۔‏ (‏زبور 19:‏7‏)‏ بائبل گھریلو زندگی،‏ ملا‌زمت،‏ اخلا‌قیات اور خدا کی قربت کے حوالے سے شان‌دار رہنمائی فراہم کرتی ہے۔‏ بائبل ہر دَور کے لوگوں کے لیے فائدہ‌مند ثابت ہوئی ہے۔‏ اِس میں درج اصول ہر قوم،‏ نسل اور قبیلے کے لوگوں کے کام آتے ہیں۔‏ بائبل کو پڑھنے،‏ اِس پر سوچ بچار کرنے اور اِس کی رہنمائی پر چلنے سے ہم ہر بات میں ایمان‌داری سے کام لینا سیکھ جاتے ہیں۔‏

ہم ایک ایسی دُنیا میں رہ رہے ہیں جس کے اخلا‌قی معیار  دن  بہ‌دن  گِرتے جا رہے ہیں اور جو ہمیں اپنے رنگ میں رنگنے کی پوری کوشش کرتی ہے۔‏ اِس لیے  بےایمانی کے خلا‌ف جنگ جیتنے کے لیے صرف بائبل کا علم حاصل کرنا کافی نہیں۔‏ ہمیں اِس سلسلے میں خدا سے دُعا بھی کرنی چاہیے۔‏ (‏فِلپّیوں 4:‏6،‏ 7،‏ 13‏)‏ یوں ہمیں صحیح کام کرنے کی ہمت ملے گی اور ہم ہر بات میں ایمان‌داری سے کام لینے کے عزم پر قائم رہیں گے۔‏

ایمان‌داری کے فائدے

ہتوشی،‏ جن کا پہلے مضمون میں ذکر کِیا گیا ہے،‏ اُنہیں ایمان‌داری کی راہ پر چلتے رہنے سے بہت فائدہ ہوا۔‏ اب اُنہیں ایک ایسی کمپنی میں نوکری مل گئی ہے جس کا مالک اُن کی ایمان‌داری کی بڑی قدر کرتا ہے۔‏ ہتوشی نے کہا:‏ ”‏مجھے اِس بات کی بےحد خوشی ہے کہ اب مجھ پر بےایمانی کرنے کا کوئی دباؤ نہیں اور مَیں صاف ضمیر کے ساتھ کام کر سکتا ہوں۔‏“‏

ہتوشی کی طرح دوسرے لوگوں کو بھی ایمان‌داری سے کام لینے کا بہت فائدہ ہوا ہے۔‏ آئیں،‏ کچھ ایسے لوگوں کی مثالوں پر غور کریں جنہوں نے بائبل کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے ہر بات میں ایمان‌داری سے کام لینا سیکھا۔‏

  • صاف ضمیر

    ‏”‏مَیں نے 13 سال کی عمر میں سکول چھوڑ دیا اور چوروں کے ایک گینگ میں شامل ہو گئی۔‏ میری 95 فیصد کمائی بےایمانی کی ہوتی تھی۔‏ پھر میری شادی ہو گئی اور مَیں اور میرا شوہر یہوواہ کے گواہوں سے بائبل کورس کرنے لگے۔‏ ہم نے سیکھا کہ یہوواہ * خدا کو بےایمانی سے نفرت ہے۔‏ اِس لیے ہم نے اپنی زندگی بدلنے کا فیصلہ کِیا۔‏ 1990ء میں ہم نے اپنی زندگی یہوواہ کے لیے وقف کر دی اور بپتسمہ لے کر یہوواہ کے گواہ بن گئے۔‏“‏—‏امثال 6:‏16-‏19‏۔‏

    ‏”‏پہلے میرا گھر چوری کے مال سے بھرا ہوتا تھا لیکن اب میرے گھر میں ایسی چیزیں نہیں ہیں۔‏ اِس وجہ سے میرا ضمیر صاف ہے۔‏ حالانکہ مَیں نے بہت سالوں تک بےایمانی کی لیکن مَیں یہوواہ کی شکرگزار ہوں کہ اُس نے مجھ پر رحم کِیا۔‏ مجھے ہر رات بڑے سکون کی نیند آتی ہے کیونکہ مَیں جانتی ہوں کہ اب یہوواہ خدا مجھ سے خوش ہے۔‏“‏—‏شیرل،‏ آئرلینڈ۔‏

    ‏”‏جب میرے باس کو پتہ چلا کہ مَیں نے ایک شخص سے رشوت نہیں لی تو اُنہوں نے مجھ سے کہا:‏ ”‏آپ کی ایمان‌داری کو دیکھ کر لگتا ہے کہ آپ کے مذہب میں کوئی بات تو ضرور ہے۔‏ مجھے فخر ہے کہ آپ ہماری کمپنی میں کام کر رہے ہیں۔‏“‏ چونکہ مَیں ہر معاملے میں ایمان‌داری سے کام لیتا ہوں اِس لیے یہوواہ خدا کے سامنے میرا ضمیر صاف ہے اور مَیں اپنے گھر والوں اور دوسروں کی مدد کر سکتا ہوں کہ وہ بھی ایمان‌داری کی راہ پر چلیں۔‏“‏—‏سونی،‏ ہانگ‌کانگ۔‏

  • ذہنی سکون

    ‏”‏مَیں ایک بین‌الاقوامی بینک میں ایک بڑے عہدے پر ہوں۔‏ ہمارے کام میں اکثر لوگ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کے چکر میں ایمان‌داری کو بھول جاتے ہیں۔‏ وہ سوچتے ہیں کہ ”‏اگر تھوڑی سی بےایمانی کرنے سے ملک میں پیسہ آتا ہے اور معیشت میں ترقی ہوتی ہے تو اِس میں کوئی خرابی نہیں۔‏“‏ لیکن مَیں بےایمانی نہیں کرتا  اِس لیے مجھے ذہنی سکون حاصل ہے۔‏ مَیں نے عزم کِیا ہے کہ مَیں ہمیشہ ایمان‌داری سے کام لوں گا،‏ چاہے اِس کا انجام کچھ بھی ہو۔‏ میرے باس جانتے ہیں کہ مَیں نہ تو اُن سے  جھوٹ بولوں گا اور نہ ہی اُن کے کہنے پر کسی اَور سے جھوٹ بولوں گا۔‏“‏—‏ٹام،‏  امریکہ۔‏

  • عزت اور بھروسا

    ‏”‏جہاں مَیں کام کرتی ہوں،‏ ایک بار وہاں کچھ چیزیں گم ہو گئیں۔‏ میرے سُپروائزر نے مجھ سے کہا کہ مَیں اِن چیزوں کے بارے میں جھوٹی رپورٹ دوں۔‏ لیکن مَیں نے ایسا کرنے سے اِنکا‌ر کر دیا۔‏ آخر جب چور پکڑے گئے تو میرے باس نے میری ایمان‌داری کی تعریف کی۔‏ اِس بےایمان دُنیا میں ایمان‌داری سے کام لینے کے لیے ہمت چاہیے۔‏ لیکن ایسا کرنے سے ہم دوسروں کا بھروسا جیت سکتے ہیں اور اُن کی نظر میں ہماری عزت بڑھ جاتی ہے۔‏“‏—‏کاؤری،‏ جاپان۔‏

ایک ایمان‌دار شخص کو صاف ضمیر،‏ ذہنی سکون،‏ عزت اور دوسروں کا بھروسا حاصل ہوتا ہے۔‏ کیا آپ بھی یہ نعمتیں حاصل کرنا چاہتے ہیں؟‏

^ پیراگراف 18 یہوواہ پاک کلام کے مطابق خدا کا ذاتی نام ہے۔‏