مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

‏”‏تیری آنکھوں نے مجھے اُس وقت دیکھا جب میرے جسم کی شکل ابھی نامکمل تھی۔‏“‏‏—‏زبور 139:‏16،‏ اُردو جیو ورشن۔‏

کیا خدا آپ کو سمجھتا ہے؟‏

کیا خدا آپ کو سمجھتا ہے؟‏

خدا کی تخلیق سے کیا پتہ چلتا ہے؟‏

اِنسانوں کے بیچ پائے جانے والے سب سے قریبی رشتوں میں سے ایک رشتہ وہ ہوتا ہے جو مماثل جُڑواں * بچوں میں ہوتا ہے۔‏ اُن کے درمیان خاص طور پر بہت گہرا بندھن ہوتا ہے۔‏ جُڑواں بچوں پر تحقیق کرنے والے ایک اِدارے کی ڈائریکٹر نینسی سیگل نے جو خود بھی جُڑواں ہیں،‏ بتایا کہ کچھ مماثل جُڑواں بچوں کے بیچ تو اِتنا گہرا رشتہ ہوتا ہے کہ ”‏وہ بغیر وضاحت کے ایک دوسرے کی بات سمجھ جاتے ہیں۔‏“‏ ایک اَور عورت نے اپنے اور اپنی مماثل جُڑواں بہن کے رشتے کے بارے میں یوں کہا:‏ ”‏ہمیں ایک دوسرے کے بارے میں سب کچھ پتہ چل جاتا ہے۔‏“‏

مماثل جُڑواں بچوں کے درمیان اِتنا منفرد بندھن کیوں ہوتا ہے؟‏ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ اِس کی وجہ ماحول اور پرورش تو ہیں لیکن اِس کی سب سے اہم وجہ اُن کی ایک جیسی جینیاتی خصوصیات ہیں۔‏

غور کریں:‏ بےشک اِس حیران‌کُن جینیاتی بناوٹ کا خالق ہم میں سے ہر ایک کو اِتنی اچھی طرح جانتا ہے کہ ہم بھی خود کو نہیں جانتے۔‏ داؤد نبی نے کہا:‏ ”‏تُو نے مجھے ماں کے پیٹ میں تشکیل دیا ہے۔‏ میرا ڈھانچا تجھ سے چھپا نہیں تھا جب مجھے پوشیدگی میں بنایا گیا،‏ .‏ .‏ .‏ تیری آنکھوں نے مجھے اُس وقت دیکھا جب میرے جسم کی شکل ابھی نامکمل تھی۔‏“‏ (‏زبور 139:‏13،‏ 15،‏ 16‏،‏ اُردو جیو ورشن‏)‏ صرف خدا ہی یہ جانتا اور پوری طرح سمجھ سکتا ہے کہ ہماری جینیاتی بناوٹ کیسی ہے اور زندگی کے کن حالات اور تجربات نے ہماری شخصیت کو ڈھالا ہے۔‏ خدا ہمیں اور ہماری جینیاتی بناوٹ کو جتنی اچھی طرح جانتا ہے،‏ اُس سے ہمیں یقین ہوتا ہے کہ وہ ہماری ہر تفصیل سے واقف ہے۔‏

پاک کلام سے خدا کی دانش‌مندی کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟‏

داؤد نبی نے خدا سے یہ دُعا کی:‏ ”‏اَے [‏یہوواہ]‏!‏ تُو نے مجھے جانچ لیا اور پہچان لیا۔‏ تُو میرا اُٹھنا بیٹھنا جانتا ہے۔‏ تُو میرے خیال کو دُور سے سمجھ لیتا ہے۔‏ دیکھ!‏ میری زبان پر کوئی ایسی بات نہیں جسے تُو اَے [‏یہوواہ]‏!‏ پورے طور پر نہ جانتا ہو۔‏“‏ (‏زبور 139:‏1،‏ 2،‏ 4‏)‏ اِس کے علاوہ یہوواہ خدا ہمارے سب سے گہرے احساسات کو بھی جانتا ہے،‏ یہاں تک کہ ”‏جو کچھ [‏ہمارے]‏ خیال میں آتا ہے اُسے پہچانتا ہے۔‏“‏ (‏1-‏تواریخ 28:‏9؛‏ 1-‏سموئیل 16:‏6،‏ 7‏)‏ اِن آیتوں سے ہمیں خدا کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟‏

ہو سکتا ہے کہ ہم دُعا کرتے وقت اپنے تمام جذبات اور احساسات کو لفظوں میں بیان نہ کر پائیں لیکن ہمارا خالق نہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ ہم کیا کرتے ہیں بلکہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ ہم ایسا کیوں کرتے ہیں۔‏ وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ ہم کون سے اچھے کام کرنا چاہتے ہیں،‏ چاہے ہم اپنے حالات اور کمزوریوں کی وجہ سے ایسا نہ بھی کر پائیں۔‏ چونکہ خدا ہی نے ہمارے دل میں محبت ڈالی ہے اِس لیے وہ ہمارے محبت بھرے خیالوں اور اِرادوں کو دیکھنے اور سمجھنے کو تیار ہے بلکہ ایسا کرنے کی شدید خواہش رکھتا ہے۔‏—‏1-‏یوحنا 4:‏7-‏10‏۔‏

بےشک کوئی بھی چیز خدا کی نظروں سے چھپی نہیں ہے۔‏ وہ اُس وقت بھی ہماری مشکلات سے واقف ہوتا ہے اور ہمیں سمجھتا ہے جب دوسرے ہماری مشکلات سے ناواقف ہوں یا اِنہیں پوری طرح نہ سمجھتے ہوں۔‏

 کچھ تسلی‌بخش آیتیں

  • ”‏یہوواہ کی آنکھیں نیک لوگوں پر ہیں اور اُس کے کان اُن کی اِلتجاؤں کو سنتے ہیں۔‏“‏‏—‏1-‏پطرس 3:‏12‏۔‏

  • خدا نے وعدہ کِیا ہے:‏ ”‏مَیں تجھے تعلیم دوں گا اور جس راہ پر تجھے چلنا ہوگا تجھے بتاؤں گا۔‏ مَیں تجھے صلاح دوں گا۔‏ میری نظر تجھ پر ہوگی۔‏“‏‏—‏زبور 32:‏8‏۔‏

خدا بڑا شفیق ہے

کیا یہ جاننے سے کہ خدا ہمارے حالات اور احساسات کو سمجھتا ہے،‏ ہمیں مشکلات سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے؟‏ ذرا غور کریں کہ نائیجیریا میں رہنے والی اینا کو کن مشکلات سے گزرنا پڑا۔‏ وہ کہتی ہیں:‏ ”‏اپنی مشکلات کی وجہ سے مَیں سوچتی تھی کہ کیا جینے کا کوئی فائدہ ہے۔‏ مَیں بیوہ تھی اور اکیلے اپنی بیٹی کی دیکھ‌بھال کر رہی تھی۔‏ اُس کے دماغ میں پانی بھر گیا تھا جس کی وجہ سے وہ ہسپتال میں داخل تھی۔‏ اِس دوران مجھے پتہ چلا کہ مجھے چھاتی کا کینسر ہے اِس لیے مجھے آپریشن کرانا پڑے گا اور دوائیوں اور شعاعوں کے ذریعے علاج کرانا پڑے گا۔‏ یہ میرے لیے بہت ہی مشکل وقت تھا کیونکہ اپنی بیمار بچی کے ساتھ مجھے بھی ہسپتال میں داخل ہونا تھا۔‏“‏

اینا اِن مشکلات سے کیسے نمٹ پائیں؟‏ وہ بتاتی ہیں:‏ ”‏مَیں نے پاک کلام کی کچھ آیتوں جیسے کہ فِلپّیوں 4:‏6،‏ 7 پر سوچ بچار کی جہاں لکھا ہے کہ ”‏خدا آپ کو وہ اِطمینان دے گا جو سمجھ سے باہر ہے اور یہ اِطمینان .‏ .‏ .‏ آپ کے دل اور سوچ کو محفوظ رکھے گا۔‏“‏ جب بھی مجھے یہ آیت یاد آتی،‏ مجھے لگتا کہ یہوواہ خدا میرے بہت قریب ہے کیونکہ مَیں جانتی تھی کہ وہ مجھے مجھ سے بھی زیادہ اچھی طرح سمجھتا ہے۔‏ مجھے اپنی کلیسیا (‏یعنی جماعت)‏ کے ارکان کی طرف سے بھی بہت حوصلہ ملا جو مجھ سے پیار کرتے ہیں۔‏

مَیں ابھی بھی اپنی بیماری سے لڑ رہی ہوں لیکن میری اور میری بیٹی کی صورتحال بہتر ہو گئی ہے۔‏ چونکہ یہوواہ خدا ہمارے ساتھ ہے اِس لیے ہم نے سیکھ لیا ہے کہ مشکلات کا سامنا کرتے وقت ہم اپنی سوچ کو منفی نہیں ہونے دیں گے۔‏ یعقوب 5:‏11 میں ہمیں یقین دِلایا گیا ہے:‏ ”‏ہم اُن لوگوں کو بابرکت سمجھتے ہیں جو ثابت‌قدم رہے ہیں۔‏ آپ نے ایوب کی ثابت‌قدمی کے بارے میں سنا ہے اور یہ بھی دیکھا ہے کہ یہوواہ نے اُن کو اجر دیا۔‏ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہوواہ بہت ہی شفیق [‏یا ”‏ہمدرد،‏“‏ فٹ‌نوٹ]‏ اور رحیم ہے۔‏“‏ “‏ یہوواہ خدا اپنے بندے ایوب کی صورتحال کو بڑی اچھی طرح سمجھتا تھا اِس لیے ہم بھی یہ یقین رکھ سکتے ہیں کہ وہ ہماری بھی اُن مشکلات کو سمجھتا ہے جن کا ہم سامنا کرتے ہیں۔‏

^ پیراگراف 3 مماثل جُڑواں بچے وہ ہوتے ہیں جن کی جینیاتی خصوصیات حتیٰ کہ جنس بھی ایک جیسی ہوتی ہے۔‏