مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

کیا آپ خدا کے کلام کا احترام کرتے ہیں؟‏

کیا آپ خدا کے کلام کا احترام کرتے ہیں؟‏

‏”‏جب ہم نے آپ کو خدا کا کلام سنایا تو آپ نے اِسے .‏ .‏ .‏ خدا کا کلام سمجھ کر قبول کِیا۔‏ اور یہ واقعی خدا کا کلام ہے۔‏“‏‏—‏1-‏تھس 2:‏13‏۔‏

گیت:‏ 37،‏  29

1‏-‏3.‏ یُوؤدیہ اور سِنتخے میں اَن‌بن کیوں ہوئی ہوگی؟‏ اور ہم کیا کر سکتے ہیں تاکہ ایسے مسئلے پیدا ہی نہ ہوں؟‏ (‏اِس مضمون کی پہلی تصویر کو دیکھیں۔‏)‏

یہوواہ کے خادم اُس کے کلام کا بڑا احترام کرتے ہیں۔‏ ہم بائبل میں درج ہدایتوں کی مدد سے سیدھی راہ پر رہ سکتے ہیں۔‏ مگر گُناہ‌گار ہونے کے ناتے ہم سب کو وقتاًفوقتاً اِصلا‌ح کی ضرورت ہوتی ہے۔‏ جب بائبل کی بِنا پر ہماری اِصلا‌ح کی جاتی ہے تو ہمارا کیا ردِعمل ہوتا ہے؟‏ اِس سلسلے میں ایک صورتحال پر غور کریں جو پہلی صدی عیسوی میں پیدا ہوئی۔‏ یُوؤدیہ اور سِنتخے دو مسح‌شُدہ بہنیں تھیں جن میں اَن‌بن ہو گئی تھی۔‏ بائبل میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اُن میں اَن‌بن کیوں ہوئی تھی لیکن ذرا اِس فرضی صورتحال کا تصور کریں۔‏

2 فرض کریں کہ یُوؤدیہ نے کچھ بہن بھائیوں کو اپنے گھر دعوت پر بلا‌یا لیکن اُنہوں نے سِنتخے کو نہیں بلا‌یا۔‏ بعد میں جب سِنتخے کو یہ پتہ چلا تو اُنہیں بڑی ٹھیس پہنچی اور اُنہوں نے سوچا:‏ ”‏یُوؤدیہ نے مجھے دعوت پر نہیں بلا‌یا۔‏ وہ کیسی سہیلی ہے؟‏“‏ اِس واقعے کی وجہ سے وہ یُوؤدیہ سے بدگمان ہو گئیں۔‏ اُنہوں نے اپنی بہن سے بدلہ لینے کے لیے اُنہی بہن بھائیوں کو اپنے ہاں بلا‌یا جنہیں یُوؤدیہ نے بھی اپنے گھر بلا‌یا تھا لیکن اُنہوں نے یُوؤدیہ کو نہیں بلا‌یا۔‏ اِن دو بہنوں میں جو مسئلہ کھڑا ہو گیا تھا،‏ اِس سے  کلیسیا کا امن برباد ہو سکتا تھا۔‏ پولُس رسول نے اِن دونوں کی اِصلا‌ح کی اور اُنہیں صلح کرنے کی ہدایت دی۔‏ یقیناً اِن بہنوں نے پولُس رسول کی بات پر عمل کِیا ہوگا۔‏—‏فل 4:‏2،‏ 3‏۔‏

3 آج بھی اِس طرح کی صورتحال کی وجہ سے کبھی کبھار کلیسیاؤں میں مسئلے کھڑے ہو جاتے ہیں۔‏ لیکن اگر ہم خدا کے کلام میں پائی جانے والی ہدایتوں پر عمل کریں گے تو ایسے مسئلے کم ہی پیدا ہوں گے اور اِن کو آسانی سے حل کِیا جا سکے گا۔‏ یاد رکھیں کہ خدا کے کلام کا احترام کرنے کا مطلب ہے کہ ہم اِس کی ہدایتوں پر عمل کریں۔‏—‏زبور 27:‏11‏۔‏

جذبات پر قابو رکھنے کے متعلق خدا کے کلام کی ہدایات

4،‏ 5.‏ خدا کے کلام میں جذبات کو قابو میں رکھنے کے سلسلے میں کون سی ہدایتیں دی گئی ہیں؟‏

4 اگر ہم سے نااِنصافی کی جائے یا پھر ہمیں ٹھیس پہنچائی جائے تو اپنے جذبات کو قابو میں رکھنا آسان نہیں ہوتا۔‏ مثال کے طور پر جب کوئی شخص ہماری قومیت،‏ رنگت یا کسی اَور وجہ سے ہم سے تعصب کرتا ہے یا ہمارا مذاق اُڑاتا ہے تو ہمیں بہت چوٹ لگتی ہے۔‏ اور اگر یہ شخص ہمارا مسیحی بھائی یا بہن ہے تو ہمیں اَور بھی زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔‏ ایسی صورتحال میں خدا کے کلام کی کون سی ہدایتیں ہمارے کام آ سکتی ہیں؟‏

5 یہوواہ خدا جانتا ہے کہ جب ہم اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھتے تو اِس کے کتنے بُرے نتائج نکل سکتے ہیں۔‏ مثال کے طور پر جب ہمیں غصہ آتا ہے تو شاید ہم ایسی باتیں کہیں یا ایسے کام کریں جن پر بعد میں ہمیں پچھتاوا ہو۔‏ اِس لیے بائبل میں خدا کے خادموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے غصے پر قابو پائیں اور جلد خفا نہ ہوں۔‏ ‏(‏امثال 16:‏32؛‏ واعظ 7:‏9 کو پڑھیں۔‏)‏ بِلا‌شُبہ ہم سب اِس معاملے میں بہتری لا سکتے ہیں۔‏ اِس کے ساتھ ساتھ ہمیں ایک دوسرے کو جلد معاف کرنے کو تیار ہونا چاہیے کیونکہ یسوع مسیح نے کہا تھا کہ اگر ہم دوسروں کو معاف نہیں کریں گے تو یہوواہ خدا ہمیں بھی معاف نہیں کرے گا۔‏ (‏متی 6:‏14،‏ 15‏)‏ کیا آپ کو اِس سلسلے میں بہتری لانے کی ضرورت ہے؟‏

6.‏ ہمیں اپنے دل سے رنجش اور نفرت جیسے احساسات کو کیوں دُور کرنا چاہیے؟‏

6 اگر ہم اپنے جذبات پر قابو رکھنے کی کوشش نہیں کرتے تو ہمارے دل میں رنجش پیدا ہو سکتی ہے اور شاید ہم اُس شخص سے نفرت بھی کرنے لگیں جس نے ہمیں ٹھیس پہنچائی ہے۔‏ اِس سے کلیسیا پر بُرا اثر پڑ سکتا ہے۔‏ سچ تو یہ ہے کہ نفرت اور رنجش جیسے احساسات چھپائے نہیں چھپتے۔‏ اِس وجہ سے شاید ہمارے مسیحی بہن بھائی ہم سے کنارہ کرنے لگیں۔‏ (‏امثا 26:‏24-‏26‏)‏ بزرگ اُن مسیحیوں کی مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں جن کے دل میں خفگی،‏ نفرت اور رنجش جیسے احساسات ہیں۔‏ بائبل میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ خدا کے خادموں کو اپنے دل سے ایسے احساسات کو دُور کرنا چاہیے۔‏ (‏احبا 19:‏17،‏ 18؛‏ روم 3:‏11-‏18‏)‏ کیا آپ خدا کے کلام کی اِس ہدایت پر عمل کرتے ہیں؟‏

یہوواہ ہماری رہنمائی کیسے کرتا ہے؟‏

7،‏ 8.‏ ‏(‏الف)‏ یہوواہ خدا اپنی تنظیم کے زمینی حصے کی رہنمائی کیسے کرتا ہے؟‏ (‏ب)‏ کچھ ایسی ہدایتوں کا ذکر کریں جو بائبل میں درج ہیں اور بتائیں کہ ہمیں اِن پر عمل کیوں کرنا چاہیے۔‏

7 یہوواہ خدا نے ’‏کلیسیا کے سربراہ‘‏ یسوع مسیح کے ذریعے ایک ”‏وفادار اور سمجھ‌دار غلا‌م“‏ کو مقرر کِیا ہے جو اُس کی تنظیم کے زمینی حصے کی رہنمائی کرتا ہے اور اِسے روحانی کھانا فراہم کرتا ہے۔‏ (‏اِفس 5:‏23؛‏ متی 24:‏45-‏47‏)‏ پہلی صدی عیسوی کی گورننگ باڈی کی طرح یہ غلا‌م بھی خدا کے کلام کو قبول کرتا ہے اور اِس کا احترام کرتا ہے۔‏ ‏(‏1-‏تھسلُنیکیوں 2:‏13 کو پڑھیں۔‏)‏ آئیں،‏ بائبل کی کچھ ہدایتوں پر غور کریں جو ہمارے فائدے کے لیے دی گئی ہیں۔‏

8 بائبل میں مسیحیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ باقاعدگی سے ایک دوسرے کے ساتھ جمع ہوں اور ایک جیسے عقیدوں کو مانیں۔‏ (‏عبر 10:‏24،‏ 25؛‏ 1-‏کُر 1:‏10‏)‏ مسیحیوں کو خدا کی بادشاہت کو اپنی زندگی میں پہلا درجہ دینا چاہیے۔‏ (‏متی 6:‏33‏)‏ اُنہیں یہ ذمےداری  دی گئی ہے کہ وہ گھر گھر جا کر اور عوامی جگہوں پر بادشاہت کی خوش‌خبری سنائیں اور غیرمنظم گواہی بھی دیں۔‏ (‏متی 28:‏19،‏ 20؛‏ اعما 5:‏42؛‏ 17:‏17؛‏ 20:‏20‏)‏ کلیسیا کے بزرگوں کی ذمےداری ہے کہ وہ خدا کی تنظیم کو پاک صاف رکھیں۔‏ (‏1-‏کُر 5:‏1-‏5،‏ 13؛‏ 1-‏تیم 5:‏19-‏21‏)‏ اِس کے علا‌وہ یہوواہ کے تمام خادموں کو اپنے جسم اور اپنی سوچ کو پاک رکھنا چاہیے۔‏—‏2-‏کُر 7:‏1‏۔‏

9.‏ یسوع مسیح نے اپنے پیروکاروں کو روحانی کھانا فراہم کرنے کے لیے کسے مقرر کِیا؟‏

9 کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وہ خود بائبل کی وضاحت کر سکتے ہیں،‏ اُنہیں کسی کی رہنمائی کی ضرورت نہیں۔‏ لیکن یسوع مسیح نے 1919ء میں ”‏وفادار غلا‌م“‏ کو مقرر کِیا تاکہ وہ بائبل کی سچائیوں کی وضاحت کرے اور اِس میں درج ہدایتوں پر عمل کرے۔‏ یسوع مسیح صرف اور صرف اِس غلا‌م کے ذریعے اپنے پیروکاروں کو روحانی کھانا فراہم کرتے ہیں۔‏ جب ہم خدا کے کلام میں درج ہدایتوں پر عمل کرتے ہیں تو ہم کلیسیا میں پاکیزگی،‏ امن اور اِتحاد کو فروغ دیتے ہیں۔‏ لہٰذا خود سے پوچھیں:‏ ”‏کیا مَیں اُس غلا‌م کا وفادار رہوں گا جسے یسوع مسیح نے مقرر کِیا ہے؟‏“‏

آسمانی رتھ کی رفتار اَور تیز ہو گئی ہے!‏

10.‏ حِزقی‌ایل نبی کو یہوواہ کی تنظیم کے آسمانی حصے کے بارے میں کیا رُویا دِکھائی گئی؟‏

10 یہوواہ کے کلام میں بتایا گیا ہے کہ خدا کی آسمانی مخلوق بھی منظم ہے۔‏ مثال کے طور پر حِزقی‌ایل نبی نے ایک رُویا دیکھی جس میں اُنہوں نے خدا کی تنظیم کے آسمانی حصے کو ایک رتھ کے طور پر دیکھا۔‏ (‏حِز 1:‏4-‏28‏)‏ یہوواہ خدا اِس آسمانی رتھ کو چلا رہا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُس کی تنظیم کا آسمانی حصہ اُس کی مرضی کے مطابق کام کرتا ہے۔‏ اور جس طرف آسمانی رتھ چلتا ہے،‏ اُسی طرف خدا کی تنظیم کا زمینی حصہ بھی چلتا ہے۔‏ اِس آسمانی رتھ کی رفتار بہت تیز ہو گئی ہے۔‏ ذرا سوچیں کہ پچھلے دس سال میں ہماری تنظیم کے اِنتظام میں کتنی تبدیلیاں آئی ہیں۔‏ یاد رکھیں کہ اِن سب کے پیچھے یہوواہ خدا کا ہاتھ ہے۔‏ لیکن اِس رتھ کی رفتار اِتنی تیز کیوں ہو گئی ہے؟‏ کیونکہ وہ وقت بہت نزدیک ہے جب یسوع مسیح اور اُن کے فرشتے اِس بُری دُنیا کو ختم کریں گے۔‏ تب ثابت ہو جائے گا کہ یہوواہ خدا سب سے اچھا حکمران ہے اور آخرکار اُس کا نام ہر جگہ پاک مانا جائے گا۔‏

ہم اُن رضاکاروں کے بہت شکرگزار ہیں جو ہماری تنظیم کے تعمیراتی منصوبوں کو پورا کرنے کے لیے محنت کر رہے ہیں۔‏ (‏پیراگراف 11 کو دیکھیں۔‏)‏

11،‏ 12.‏ یہوواہ خدا کی تنظیم کا زمینی حصہ کیا کچھ انجام دے رہا ہے؟‏

11 ذرا غور کریں کہ خدا کی تنظیم کے زمینی حصے نے حال ہی میں کیا کچھ انجام دیا ہے۔‏ تعمیراتی کام۔‏ سینکڑوں رضاکاروں نے امریکہ کی ریاست نیو یارک کے شہر واروِک میں ہماری تنظیم کا نیا مرکزی دفتر تعمیر کِیا ہے۔‏ ہزاروں رضاکار ڈیزائن اور تعمیر کے عالم‌گیر شعبے کی نگرانی میں دُنیا بھر میں نئے کنگڈم ہال تعمیر کر رہے ہیں اور بیت‌ایلوں کو بڑا بنا رہے ہیں۔‏ ہم اُن تمام رضاکاروں کے بہت شکرگزار ہیں جو اِن تعمیراتی منصوبوں کو پورا کرنے کے لیے دن دُونی رات چوگنی محنت کر رہے ہیں۔‏ یہ نہ بھولیں کہ یہوواہ خدا اپنے اُن تمام خادموں کو بھی برکت دیتا ہے جو دل کھول کر اِن تعمیراتی کاموں کے لیے عطیات دیتے ہیں۔‏—‏لُو 21:‏1-‏4‏۔‏

12 تعلیمی سرگرمیاں۔‏ یہوواہ خدا اپنی تنظیم کے ذریعے  اپنے بندوں کو اپنی راہوں کی تعلیم دیتا ہے۔‏ (‏یسع 2:‏2،‏ 3‏)‏ ذرا غور کریں کہ ہماری تنظیم کتنے سکول منعقد کرتی ہے،‏ مثلاً پہل‌کاروں کے لیے سکول،‏ بادشاہت کے مُنادوں کے لیے سکول،‏ گلئیڈ سکول،‏ بیت‌ایل میں خدمت شروع کرنے والوں کے لیے سکول،‏ حلقے کے نگہبانوں اور اُن کی بیویوں کے لیے سکول،‏ کلیسیا کے بزرگوں کے لیے سکول،‏ بادشاہتی خدمتی سکول اور برانچ کی کمیٹی کے رُکنوں اور اُن کی بیویوں کے لیے سکول۔‏ اِس کے علا‌وہ ہماری ویب‌سائٹ jw.org کے ذریعے بھی بائبل کی تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔‏ اِس پر سینکڑوں زبانوں میں مطبوعات دستیاب ہیں۔‏ کچھ زبانوں میں اِس ویب‌سائٹ پر بچوں‏،‏ نوجوانوں،‏ شادی‌شُدہ جوڑوں اور والدین کے لیے الگ الگ حصے بھی ہیں اور ہماری تنظیم کے متعلق خبریں بھی دی جاتی ہیں۔‏ کیا آپ مُنادی کے کام میں اور اپنی خاندانی عبادت میں ہماری ویب‌سائٹ کا بھرپور اِستعمال کر رہے ہیں؟‏

یہوواہ اور اُس کی تنظیم کے وفادار رہیں

13.‏ خدا کے خادموں کے طور پر ہماری کیا ذمےداری ہے؟‏

13 ہمیں خدا کی تنظیم کے رُکن ہونے کا اعزاز ملا ہے۔‏ ہم جانتے ہیں کہ خدا کے حکم اور معیار کیا ہیں اِس لیے ہماری ذمےداری ہے کہ ہم اِن کے مطابق زندگی گزاریں اور ثابت کریں کہ یہوواہ ہی سب سے اچھا حکمران ہے۔‏ یہ دُنیا تو بُرائی کے سمندر میں ڈوبتی جا رہی ہے لیکن ہم اپنے خدا کی طرح ”‏بدی سے نفرت“‏ کرتے ہیں۔‏ (‏زبور 97:‏10‏)‏ دُنیا کے لوگ ”‏بدی کو نیکی اور نیکی کو بدی کہتے ہیں“‏ لیکن ہم ایسا کہنے سے صاف اِنکا‌ر کرتے ہیں۔‏ (‏یسع 5:‏20‏)‏ ہم خدا کو خوش کرنا چاہتے ہیں اِس لیے ہم اپنی عبادت،‏ سوچ،‏ جسم اور چال‌چلن کو پاک رکھنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔‏ (‏1-‏کُر 6:‏9-‏11‏)‏ ہم یہوواہ خدا سے محبت کرتے ہیں اور اُس پر پورا بھروسا کرتے ہیں۔‏ ہم نے اُس کے کلام میں درج معیاروں کے مطابق زندگی گزارنے کا فیصلہ کِیا ہے اور ہم اِن معیاروں پر پورا اُترنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں،‏ چاہے ہم گھر پر،‏ کلیسیا میں،‏ ملا‌زمت پر،‏ سکول میں یا کہیں بھی ہوں۔‏ یوں ہم ظاہر کرتے ہیں کہ ہم اپنے خدا کے وفادار ہیں۔‏ (‏امثا 15:‏3‏)‏ آئیں،‏ دیکھتے ہیں کہ ہم اَور کن طریقوں سے خدا کے لیے وفاداری ظاہر کر سکتے ہیں۔‏

14.‏ مسیحی والدین کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ وہ خدا کے وفادار ہیں؟‏

14 بچوں کی تربیت۔‏ جب مسیحی والدین پاک کلام کی ہدایتوں کے مطابق اپنے بچوں کی پرورش اور تربیت کرتے ہیں تو وہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ خدا کے وفادار ہیں۔‏ وہ مقامی طورطریقوں کے مطابق اپنے بچوں کی تربیت کرنے میں احتیاط برتتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اِن طورطریقوں میں دُنیا کی روح پائی جاتی ہے۔‏ (‏اِفس 2:‏2‏)‏ مثال کے طور پر ایک بپتسمہ‌یافتہ والد یہ نہیں سوچے گا کہ ”‏ہمارے ملک میں تو عورتیں بچوں کی تربیت کرتی ہیں۔‏ یہ ذمےداری میرے سر نہیں ہے۔‏“‏ خدا کے کلام میں صاف صاف کہا گیا ہے:‏ ”‏والدو،‏ .‏ .‏ .‏ یہوواہ کی طرف سے [‏اپنے بچوں]‏ کی تربیت اور رہنمائی کرتے ہوئے اُن کی پرورش کریں۔‏“‏ (‏اِفس 6:‏4‏)‏ خداپرست والدین چاہتے ہیں کہ اُن کے بچے بھی سموئیل کی طرح ہوں جن کے بارے میں بائبل میں لکھا ہے کہ ”‏[‏یہوواہ]‏ اُس کے ساتھ تھا۔‏“‏—‏1-‏سمو 3:‏19‏۔‏

15.‏ اہم معاملوں کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت ہم کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ ہم یہوواہ کے وفادار ہیں؟‏

15 ذاتی فیصلے۔‏ جب ہمیں اہم معاملوں کے بارے میں فیصلہ کرنا پڑتا ہے تو ہم کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ ہم یہوواہ خدا کے وفادار ہیں؟‏ ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اُس کے کلام اور اُس کی تنظیم سے رہنمائی حاصل کریں۔‏ اِس سلسلے میں ایک مثال پر غور کریں۔‏ بہت سے لوگ پیسہ کمانے کی خاطر اپنا ملک چھوڑ کر کسی اَور ملک چلے جاتے ہیں۔‏ پھر جب اُن کے بچے ہوتے ہیں تو وہ اُن کو اپنے وطن میں رشتےداروں کے پاس بھیج دیتے ہیں اور خود پردیس میں پیسہ کمانے میں جٹے رہتے ہیں۔‏ یہ سچ ہے کہ یہ ایک ذاتی معاملہ ہے لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہم اپنے  فیصلوں کے لیے خدا کے حضور جواب‌دہ ہیں۔‏ ‏(‏رومیوں 14:‏12 کو پڑھیں۔‏)‏ جب ہمیں بچوں کی پرورش یا ملا‌زمت کے سلسلے میں اہم فیصلے کرنے پڑتے ہیں تو کیا یہ دانش‌مندی کی بات نہیں کہ ہم بائبل سے رہنمائی حاصل کریں؟‏ ہم خود اپنے قدموں کی رہنمائی کرنے کے قابل نہیں اِس لیے ہمیں اپنے آسمانی باپ کی رہنمائی کی اشد ضرورت ہے۔‏—‏یرم 10:‏23‏۔‏

16.‏ ایک ماں کو کیا فیصلہ کرنا پڑا اور وہ صحیح فیصلہ کیسے کر پائی؟‏

16 ایک میاں بیوی پیسہ کمانے کے لیے پردیس گئے۔‏ وہاں اُن کا بیٹا ہوا۔‏ اُن کا اِرادہ تھا کہ وہ بچے کو اپنے ملک میں اُس کے دادا دادی کے پاس بھیج دیں گے۔‏ لیکن پھر بیوی یہوواہ کے گواہوں کے ساتھ بائبل کورس کرنے لگی۔‏ اُس نے سیکھا کہ اپنے بیٹے کو یہوواہ خدا کے بارے میں سکھانا اُس کی ذمےداری ہے۔‏ (‏زبور 127:‏3؛‏ امثا 22:‏6‏)‏ اِس عورت نے یہوواہ سے اِلتجا کی کہ وہ اُسے صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق عطا کرے۔‏ (‏زبور 62:‏7،‏ 8‏)‏ اُس نے اُس بہن کو بھی اپنے مسئلے کے بارے میں بتایا جو اُسے بائبل کورس کرا رہی تھی۔‏ اِس کے علا‌وہ اُس نے کلیسیا کے بہن بھائیوں سے بھی اِس مسئلے پر بات کی۔‏ اُس کے رشتےدار اور دوست اُس پر بہت دباؤ ڈال رہے تھے کہ وہ اپنے بیٹے کو اُس کے دادا دادی کے پاس بھیج دے۔‏ لیکن اُس نے اُن کی بات نہیں مانی اور یہوواہ خدا کی رہنمائی پر عمل کرنے کا فیصلہ کِیا۔‏ جب اُس کے شوہر نے دیکھا کہ کلیسیا کے بہن بھائی اُس کے بیٹے کی دیکھ‌بھال کرنے میں اُس کی بیوی کی کتنی مدد کر رہے ہیں تو وہ بھی بائبل کورس کرنے لگا اور اِجلا‌سوں پر جانے لگا۔‏ ذرا سوچیں کہ اُس عورت کو یہ دیکھ کر کتنی خوشی ہوئی ہوگی کہ یہوواہ خدا نے اُس کی دُعاؤں کو سنا۔‏

17.‏ یہوواہ کی تنظیم نے ہمیں بائبل کورس کرانے کے سلسلے میں کون سی ہدایتیں دی ہیں؟‏

17 تنظیم کی طرف سے ہدایات۔‏ یہوواہ خدا کے لیے اپنی وفاداری ظاہر کرنے کا ایک اہم طریقہ یہ ہے کہ ہم اُس کی تنظیم کی ہدایتوں پر عمل کریں۔‏ ذرا اُن ہدایتوں پر غور کریں جو ہمیں بائبل کورس کرانے کے سلسلے میں دی گئی ہیں۔‏ ہمیں مشورہ دیا گیا کہ جب ہم ایک شخص کو کتاب پاک صحائف کی تعلیم حاصل کریں کے ذریعے بائبل کورس کرانے لگتے ہیں تو ہم ہر مطالعے کے بعد کچھ منٹ کے لیے اُسے ہماری تنظیم کے بارے میں معلومات بھی دیں۔‏ اِس سلسلے میں ہم ویڈیو ہماری عبادت‌گاہوں میں کیا ہوتا ہے؟‏ اور بروشر کون لوگ یہوواہ خدا کی مرضی پر چلتے ہیں؟‏ اِستعمال کر سکتے ہیں۔‏ جب ایک شخص کتاب پاک صحائف کی تعلیم مکمل کر لیتا ہے اور سیکھی ہوئی باتوں پر عمل بھی کرتا ہے تو ہمیں اُس کے ساتھ کتاب خدا کی محبت میں قائم رہیں کے ذریعے بائبل کورس جاری رکھنا چاہیے،‏ خواہ اُس نے بپتسمہ لے لیا ہو یا نہیں۔‏ ہماری تنظیم نے یہ ہدایت اِس لیے دی تاکہ نئے مبشر ”‏اپنے ایمان پر قائم“‏ رہ سکیں۔‏ (‏کُل 2:‏7‏)‏ کیا آپ یہوواہ کی تنظیم کی اِن ہدایتوں پر عمل کر رہے ہیں؟‏

18،‏ 19.‏ ہمیں کن باتوں کے لیے یہوواہ کا شکرگزار ہونا چاہیے؟‏

18 ہمیں یہوواہ کا بہت شکرگزار ہونا چاہیے۔‏ اُس نے ہمیں زندگی دی ہے اور اُسی کی بدولت ہم ”‏چلتے پھرتے اور موجود ہیں۔‏“‏ (‏اعما 17:‏27،‏ 28‏)‏ اُس نے ہمیں بائبل بھی دی ہے جو کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔‏ شہر تھسلُنیکے کے مسیحیوں کی طرح ہم نے بھی بائبل کو خدا کا کلام سمجھ کر قبول کِیا ہے اور ہم اِس کے لیے شکرگزار ہیں۔‏—‏1-‏تھس 2:‏13‏۔‏

19 خدا کے کلام کے ذریعے ہم یہوواہ خدا کے قریب ہو گئے ہیں اور وہ ہمارے قریب آ گیا ہے۔‏ (‏یعقو 4:‏8‏)‏ اُس نے ہمیں اپنی تنظیم کا رُکن ہونے کا شرف بھی دیا ہے۔‏ کیا ہم اِن نعمتوں کے لیے شکرگزار نہیں؟‏ یقیناً ہم زبورنویس کی طرح محسوس کرتے ہیں جس نے لکھا:‏ ”‏[‏یہوواہ]‏ کا شکر کرو کیونکہ وہ بھلا ہے کہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔‏“‏ (‏زبور 136:‏1‏)‏ زبور 136 میں 26 بار یہ جملہ دُہرایا گیا کہ ”‏اُس کی شفقت ابدی ہے۔‏“‏ اگر ہم یہوواہ اور اُس کی تنظیم کے وفادار رہیں گے تو ہم ہمیشہ تک اُس کی شفقت کے سائے میں رہیں گے۔‏