مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

اچھائی—‏ہم اِس خوبی کو کیسے نکھار سکتے ہیں؟‏

اچھائی—‏ہم اِس خوبی کو کیسے نکھار سکتے ہیں؟‏

ہم سب چاہتے ہیں کہ لوگ ہمیں ایک اچھے شخص کے طور پر جانیں۔‏ لیکن آج کے دَور میں اچھائی سے کام لینا بہت مشکل ہے۔‏ اِس کی ایک وجہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ ”‏نیکی کے دُشمن“‏ ہیں۔‏ (‏2-‏تیم 3:‏3‏)‏ وہ صحیح اور غلط کے سلسلے میں اپنے معیاروں پر چلتے ہیں اور ”‏بدی کو نیکی اور نیکی کو بدی کہتے ہیں۔‏“‏ (‏یسع 5:‏20‏)‏ ایک اَور وجہ یہ ہے کہ ہم سب خطاکار ہیں۔‏ اِس کے علاوہ شاید ہم پر ماضی کی تلخ یادوں کا بُرا اثر ہو۔‏ ہو سکتا ہے کہ ہم بھی بہن کرسٹین * کی طرح محسوس کریں جو کئی سال سے یہوواہ کی خدمت کر رہی ہیں۔‏ وہ تسلیم کرتی ہیں:‏ ”‏مجھے ابھی بھی خود کو یقین دِلانا پڑتا ہے کہ مَیں ایک اچھی اِنسان بن سکتی ہوں۔‏“‏

خوشی کی بات ہے کہ ہم سب اچھائی کی خوبی پیدا کر سکتے ہیں۔‏ یہ خوبی خدا کی پاک روح کے پھل کا حصہ ہے۔‏ پاک روح دُنیا کے بُرے اثر اور ہماری کمزوریوں سے کہیں زیادہ طاقت‌ور ہے۔‏ آئیں،‏ غور کریں کہ اچھائی کیا ہے اور ہم اِس خوبی کو بہتر طور پر کیسے ظاہر کر سکتے ہیں۔‏

اچھائی کیا ہے؟‏

اچھائی کا تعلق نیکی،‏ بھلائی اور پاکیزگی سے ہے۔‏ یہ ہر قسم کی بُرائی اور غلاظت سے پاک ہوتی ہے۔‏ یہ ایک ایسی خوبی ہے جو دوسروں کے فائدے کے لیے کام کرنے سے ظاہر کی جاتی ہے۔‏

آپ نے دیکھا ہوگا کہ کچھ لوگ بڑی خوشی سے اپنے گھر والوں اور دوستوں کے لیے اچھے کام کرتے ہیں۔‏ لیکن کیا اِن لوگوں میں واقعی اچھائی کی خوبی ہوتی ہے؟‏ یہ سچ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی ہر وقت اِس خوبی کو مکمل طور پر ظاہر نہیں کر سکتا۔‏ بائبل میں اِس سلسلے میں لکھا ہے:‏ ”‏زمین پر کوئی ایسا راست‌باز اِنسان نہیں کہ نیکی ہی کرے اور خطا نہ کرے۔‏“‏ (‏واعظ 7:‏20‏)‏ پولُس رسول نے اِس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا:‏ ”‏مَیں جانتا ہوں کہ مجھ میں .‏ .‏ .‏ کوئی اچھی چیز نہیں ہے۔‏“‏ (‏روم 7:‏18‏)‏ اِس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اگر ہم اچھائی کی خوبی پیدا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اچھائی کے سرچشمے یعنی یہوواہ کی مدد کی ضرورت ہے۔‏

یہوواہ اچھائی کا خدا ہے

یہوواہ خدا نے اچھائی کے سلسلے میں معیار قائم کیے ہیں۔‏ پاک کلام میں اُس کے بارے میں لکھا ہے:‏ ”‏تُو بھلا ہے اور بھلائی کرتا ہے۔‏ مجھے اپنے آئین سکھا۔‏“‏ (‏زبور 119:‏68‏)‏ آئیں،‏ یہوواہ کی اچھائی کے دو پہلوؤں پر غور کرتے ہیں جن کا اِس آیت میں ذکر ہوا ہے۔‏

یہوواہ بھلا ہے۔‏ اچھائی یہوواہ کی نمایاں خوبی ہے۔‏ دراصل یہوواہ کی باقی تمام خوبیوں کا تعلق اِسی خوبی سے ہے۔‏ ذرا غور کریں کہ اُس وقت کیا ہوا جب یہوواہ نے موسیٰ سے کہا کہ ”‏مَیں اپنی ساری نیکی [‏یعنی اچھائی]‏ تیرے سامنے ظاہر کروں گا۔‏“‏ یہوواہ نے موسیٰ کو اپنی شان دِکھائی جس میں اُس کی اچھائی بھی شامل تھی۔‏ اور پھر موسیٰ نے یہ الفاظ سنے:‏ ”‏[‏یہوواہ یہوواہ]‏ خدایِ‌رحیم اور مہربان قہر کرنے میں دھیما اور شفقت اور وفا میں غنی۔‏ ہزاروں پر فضل کرنے والا۔‏ گُناہ اور تقصیر اور خطا کا بخشنے والا لیکن وہ مُجرم کو ہرگز بَری نہیں کرے گا۔‏“‏ (‏خر 33:‏19؛‏ 34:‏6،‏ 7‏)‏ اِس سے ہم سمجھ جاتے ہیں کہ یہوواہ کی ذات کے ہر پہلو سے اُس کی اچھائی جھلکتی ہے۔‏ حالانکہ یسوع مسیح نے اِنسان کے طور پر اچھائی کی کامل مثال قائم کی لیکن اُنہوں نے کہا:‏ ”‏کوئی اچھا نہیں سوائے خدا کے۔‏“‏—‏لُو 18:‏19‏۔‏

یہوواہ کی بنائی ہوئی چیزوں سے اُس کی اچھائی صاف نظر آتی ہے۔‏

یہوواہ بھلائی کرتا ہے۔‏ یہوواہ کے ہر کام سے اُس کی اچھائی صاف دِکھائی دیتی ہے۔‏ پاک کلام میں لکھا ہے:‏ ”‏رب سب کے ساتھ بھلائی کرتا ہے،‏ وہ اپنی تمام مخلوقات پر رحم کرتا ہے۔‏“‏ (‏زبور 145:‏9‏،‏ اُردو جیو ورشن‏)‏ یہوواہ تمام لوگوں کے لیے اچھائی ظاہر کرتا ہے۔‏ وہ سب اِنسانوں کو زندگی دیتا ہے اور وہ نعمتیں عطا کرتا ہے  جو زندہ رہنے کے لیے ضروری ہیں۔‏ (‏اعما 14:‏17‏)‏ اُس کی اچھائی اِس سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ وہ ہمیں معاف کرتا ہے۔‏ اِس سلسلے میں زبورنویس نے لکھا:‏ ‏”‏تُو یا رب [‏یہوواہ!‏]‏ نیک اور معاف کرنے کو تیار ہے۔‏“‏ (‏زبور 86:‏5‏)‏ ہم یقین رکھ سکتے ہیں کہ وہ اپنے وفادار بندوں کو ”‏کسی بھی اچھی چیز سے محروم نہیں“‏ رکھے گا۔‏—‏زبور 84:‏11‏،‏ اُردو جیو ورشن۔‏

‏”‏نیکوکاری سیکھو“‏

خدا نے ہمیں اپنی صورت پر بنایا ہے اِس لیے ہم میں اچھا بننے اور اچھے کام کرنے کی صلاحیت ہے۔‏ (‏پید 1:‏27‏)‏ لیکن ہم میں اچھائی کی خوبی خودبخود پیدا نہیں ہو جائے گی۔‏ پاک کلام میں ہمیں یہ نصیحت کی گئی ہے کہ ”‏نیکوکاری سیکھو۔‏“‏ (‏یسع 1:‏17‏)‏ لیکن ہم اِس خوبی کو کیسے نکھار سکتے ہیں؟‏ آئیں،‏ اِس سلسلے میں تین طریقوں پر غور کریں۔‏

پہلا طریقہ یہ ہے کہ ہم پاک روح کے لیے دُعا کریں جس کی رہنمائی سے ہم خدا کی نظر میں اچھے بن سکتے ہیں۔‏ (‏گل 5:‏22‏)‏ خدا کی پاک روح کی مدد سے ہم اچھائی سے محبت رکھنا اور بُرائی سے کنارہ کرنا سیکھ سکتے ہیں۔‏ (‏روم 12:‏9‏)‏ پاک کلام میں بتایا گیا ہے کہ یہوواہ ہمیں مضبوط بنا سکتا ہے تاکہ ہم ”‏ہمیشہ اچھی باتیں کہیں اور اچھے کام کریں۔‏“‏—‏2-‏تھس 2:‏16،‏ 17‏۔‏

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ہم خدا کا کلام پڑھیں۔‏ اگر ہم ایسا کریں گے تو یہوواہ ہمیں ’‏ہر اچھی راہ کو سمجھا سکے گا‘‏ اور ہمیں ”‏ہر اچھے کام کے لیے تیار“‏ کر پائے گا۔‏ (‏امثا 2:‏9؛‏ 2-‏تیم 3:‏17‏)‏ جب ہم بائبل کو پڑھتے ہیں اور اِس میں لکھی باتوں پر سوچ بچار کرتے ہیں تو ہم اپنے دل کو خدا اور اُس کی مرضی سے منسلک اچھی چیزوں سے بھرتے ہیں۔‏ یوں ہم اپنے دل کے خزانے میں نئی چیزیں ذخیرہ کرتے ہیں جو بعد میں ہمارے کام آ سکتی ہیں۔‏—‏لُو 6:‏45؛‏ اِفس 5:‏9‏۔‏

تیسرا طریقہ یہ ہے کہ ہم ”‏اچھی مثالوں پر عمل“‏ کرنے کی پوری کوشش کریں۔‏ ‏(‏3-‏یوح 11‏)‏ اور بائبل ایسی شان‌دار مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔‏ بِلاشُبہ سب سے بہترین مثال یہوواہ خدا اور یسوع مسیح کی ہے۔‏ لیکن ہم ایسے لوگوں کی مثالوں پر بھی غور کر سکتے ہیں جو اپنی اچھائی کے لیے جانے جاتے تھے۔‏ اچھائی کا لفظ سُن کر شاید ہمارے ذہن میں تبیتا اور برنباس آئیں۔‏ (‏اعما 9:‏36؛‏ 11:‏22-‏24‏)‏ اِن لوگوں کی مثال پر غور کرنے سے آپ کو بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔‏ بائبل میں اِن دونوں کے بارے میں پڑھتے وقت غور کریں کہ اُنہوں نے دوسروں کی مدد کیسے کی۔‏ پھر سوچیں کہ آپ اپنے گھر کے افراد یا کلیسیا کے بہن بھائیوں کی مدد کرنے میں پہل کیسے کر سکتے ہیں۔‏ تبیتا اور برنباس کے بارے میں پڑھتے وقت اِس بات پر بھی غور کریں کہ اُن کی اچھائی کی وجہ سے اُن کے ساتھ کون سی اچھی باتیں پیش آئیں۔‏ اگر آپ بھی دوسروں کی بھلائی کے لیے کام کریں گے تو آپ کو بھی اِس کا صلہ ملے گا۔‏

ہم جدید زمانے میں رہنے والے خدا کے اُن بندوں کی مثال پر بھی غور کر سکتے ہیں جو دوسروں کے لیے اچھائی ظاہر کرتے ہیں۔‏ مثال کے طور پر ذرا اُن محنتی بزرگوں کے بارے میں سوچیں جو ”‏اچھائی سے پیار“‏ کرتے ہیں۔‏ اِس کے علاوہ اُن وفادار بہنوں کو بھی یاد رکھیں جو اپنی باتوں اور مثال سے دوسروں کو ’‏اچھی باتیں سکھاتی‘‏ ہیں۔‏ (‏طط 1:‏8؛‏ 2:‏3‏)‏ ذرا بہن روسلین کی بات پر غور کریں جو کہتی ہیں:‏ ”‏میری دوست  کلیسیا میں دوسروں کی مدد اور حوصلہ‌افزائی کرنے کے لیے اَن‌تھک کوشش کرتی ہے۔‏ وہ لوگوں کی صورتحال کے بارے میں سوچتی ہے اور اُس حساب سے اُن کے لیے کچھ کرتی ہے۔‏ وہ اکثر اُنہیں کوئی چھوٹا تحفہ دیتی ہے یا کسی اَور عملی طریقے سے اُن کی مدد کرتی ہے۔‏ وہ واقعی اچھائی کی جیتی جاگتی مثال ہے!‏“‏

یہوواہ اپنے بندوں کی حوصلہ‌افزائی کرتا ہے کہ وہ ”‏نیکی کے طالب [‏ہوں]‏۔‏“‏ (‏عامو 5:‏14‏)‏ اگر ہم یہوواہ کی اِس بات پر عمل کریں گے تو ہم نہ صرف اچھائی کے سلسلے میں یہوواہ کے معیاروں سے محبت کر پائیں گے بلکہ ہمیں اِن پر چلنے کی ترغیب بھی ملے گی۔‏

ہم اچھا شخص بننے اور اچھے کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‏

ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ اچھائی سے کام لینے کا مطلب یہ ہے کہ ہم دوسروں کے لیے بڑے بڑے کام کریں یا اُن کے لیے بہت بڑی قربانیاں دیں۔‏ ذرا اِس مثال پر غور کریں:‏ کیا آپ نے کبھی کوئی ایسا مُصوّر دیکھا ہے جو بس ایک یا دو بار ہی برش سے بڑے بڑے نشان مار کر شبیہ بنا لے؟‏ نہیں۔‏ اِس کی بجائے وہ کئی ہزار بار برش سے چھوٹے چھوٹے نشان بنا کر ایک خوب‌صورت تصویر بناتا ہے۔‏ اِسی طرح جب ہم کئی بار لوگوں کی چھوٹے موٹے طریقوں سے مدد کرتے ہیں تو ہماری اچھائی نظر آتی ہے۔‏

بائبل میں ہمیں ہدایت دی گئی ہے کہ ہم ”‏اچھے کام کرنے کو تیار رہیں۔‏“‏ (‏2-‏تیم 2:‏21؛‏ طط 3:‏1‏)‏ اگر ہم دوسروں کے حالات سے باخبر رہیں گے تو ہم ’‏اُن سے بھلائی کرنے اور اُن کا حوصلہ بڑھانے‘‏ کے طریقے بھانپ لیں گے۔‏ (‏روم 15:‏2‏)‏ پھر جو کچھ ہمارے بس میں ہوگا،‏ ہم کریں گے۔‏ (‏امثا 3:‏27‏)‏ شاید ہم اُن کی حوصلہ‌افزائی کرنے کے لیے اُنہیں کھانے پر بلا سکتے ہیں جو کہ ضروری نہیں کہ بہت اعلیٰ ہو۔‏ اگر ہم جانتے ہیں کہ فلاں شخص بیمار ہے تو ہم اُسے کارڈ بھیج سکتے ہیں یا اُس سے ملنے جا سکتے ہیں یا پھر فون پر اُس کا حال پوچھ سکتے ہیں۔‏ بِلاشُبہ دوسروں کے حالات سے باخبر رہنے سے ہمیں اچھی باتیں کہنے کے کئی موقعے ملیں گے جن سے ”‏دوسروں کی حوصلہ‌افزائی [‏ہوگی]‏ اور سننے والوں کو فائدہ پہنچے [‏گا]‏۔‏“‏—‏اِفس 4:‏29‏۔‏

یہوواہ کی طرح ہم بھی سب لوگوں کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتے ہیں۔‏ اِسی لیے ہم سب کے ساتھ ایک ہی طرح سے پیش آتے ہیں۔‏ ایسا کرنے کا ایک بہترین طریقہ سب لوگوں کو بادشاہت کی خوش‌خبری سنانا ہے۔‏ جیسا کہ یسوع مسیح نے کہا،‏ ہمیں سب لوگوں کے ساتھ بھلائی کرنی چاہیے،‏ یہاں تک کہ ایسے لوگوں کے ساتھ بھی جو ہم سے نفرت کرتے ہیں۔‏ (‏لُو 6:‏27‏)‏ دوسروں کے ساتھ مہربانی سے پیش آنا یا اُن کے لیے اچھے کام کرنا کبھی غلط نہیں ہوتا کیونکہ بائبل میں لکھا ہے کہ ”‏کوئی بھی شریعت اِن باتوں کے خلاف نہیں ہے۔‏“‏ (‏گل 5:‏22،‏ 23‏)‏ جب ہم اپنے مسئلوں،‏ پریشانیوں یا لوگوں کے بُرے سلوک کے باوجود اچھے کام کرتے رہتے ہیں تو اِنہیں دیکھ کر لوگ سچائی کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں اور یہوواہ کی بڑائی ہوتی ہے۔‏—‏1-‏پطر 3:‏16،‏ 17‏۔‏

اچھائی کا اجر

بائبل کی یہ بات واقعی سچ ہے:‏ ’‏نیک آدمی اپنے کام کا اجر پاتا ہے۔‏‘‏ (‏امثا 14:‏14‏)‏ اِن میں سے کچھ اجر کیا ہیں؟‏ جب ہم دوسروں کے ساتھ اچھی طرح سے پیش آتے ہیں تو اِس بات کا زیادہ اِمکان ہوتا ہے کہ بدلے میں وہ بھی ہمارے ساتھ اچھی طرح سے پیش آئیں۔‏ (‏مر 4:‏24‏)‏ لیکن اگر کچھ لوگ ایسا نہیں کرتے تو بھی ہم اُن کے لیے بھلائی ظاہر کرتے رہیں گے کیونکہ ہمارے اچھے کاموں کو دیکھ کر اُن کے دل نرم ہو سکتے ہیں اور اُن کی سخت‌مزاجی پگھل سکتی ہے۔‏—‏روم 12:‏20‏،‏ فٹ‌نوٹ۔‏

بہت سے لوگوں نے اِس بات کا تجربہ کِیا ہے کہ اُنہیں اچھے کام کرنے اور بُرے کام چھوڑنے سے بہت فائدہ ہوا ہے۔‏ ذرا بہن نینسی کے تجربے پر غور کریں۔‏ وہ کہتی ہیں:‏ ”‏جب مَیں نوجوان تھی تو مَیں بہت ہی لاپرواہ،‏ بدتمیز،‏ بدچلن اور بگڑی ہوئی تھی۔‏ لیکن جب مَیں نے اچھائی کے سلسلے میں خدا کے معیاروں کو سیکھا اور اِن کے مطابق زندگی گزارنے لگی تو مَیں پہلے سے زیادہ خوش رہنے لگی۔‏ اب میری نظروں میں میری عزت بڑھ گئی ہے۔‏“‏

اچھائی کی خوبی میں نکھار لانے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ایسا کرنے سے ہم یہوواہ کو خوش کرتے ہیں۔‏ چاہے بہت سے لوگ ہمارے اچھے کاموں کو نہ دیکھیں لیکن یہوواہ اِنہیں دیکھتا ہے۔‏ ہم یقین رکھ سکتے ہیں کہ جب بھی ہم کوئی اچھا کام کرتے ہیں یا کسی کا اچھا سوچتے ہیں تو یہوواہ خدا اِس سے واقف ہوتا ہے۔‏ (‏اِفس 6:‏7،‏ 8‏)‏ وہ ہمیں اِس کا اجر ضرور دیتا ہے۔‏ پاک کلام میں لکھا ہے:‏ ”‏نیک آدمی [‏یہوواہ]‏ کا مقبول ہوگا۔‏“‏ (‏امثا 12:‏2‏)‏ اِس لیے آئیں،‏ اچھائی کی خوبی کو نکھارتے رہیں کیونکہ یہوواہ کا وعدہ ہے کہ ”‏ہر اُس شخص کے لیے عظمت،‏ عزت اور سلامتی ہوگی جو اچھے کام کرتا ہے۔‏“‏—‏روم 2:‏10‏۔‏

^ پیراگراف 2 فرضی نام اِستعمال کِیا گیا ہے۔‏