مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

یہوواہ کی نظر میں آپ کی ”‏آمین“‏ کی اہمیت

یہوواہ کی نظر میں آپ کی ”‏آمین“‏ کی اہمیت

یہوواہ خدا اِس بات کی بڑی قدر کرتا ہے کہ ہم اُس کی عبادت کرتے ہیں۔‏ وہ اپنے بندوں کی باتوں کو ”‏متوجہ ہو کر“‏ سنتا ہے اور اُن کے ہر اُس کام کی قدر کرتا ہے جو وہ اُس کی بڑائی کرنے کے لیے کرتے ہیں پھر چاہے وہ کام کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو۔‏ (‏ملا 3:‏16‏)‏ مثال کے طور پر ذرا اُس لفظ پر غور کریں جو غالباً ہم لاتعداد بار اِستعمال کرتے ہیں۔‏ یہ لفظ ”‏آمین“‏ ہے۔‏ کیا یہوواہ خدا کی نظر میں اِس چھوٹے سے لفظ کی کوئی اہمیت ہے؟‏ جی بالکل۔‏ یہ جاننے کے لیے کہ وہ اِس لفظ کو اِتنا اہم کیوں خیال کرتا ہے،‏ آئیں،‏ غور کریں کہ اِس لفظ کا مطلب کیا ہے اور بائبل میں اِسے کس طرح اِستعمال کِیا گیا ہے۔‏

‏”‏سب لوگ کہیں آمین“‏

لفظ ”‏آمین“‏ کا مطلب ہے:‏ ”‏یقیناً“‏ یا ”‏ایسا ہی ہو۔‏“‏ یہ ایک ایسے عبرانی لفظ سے نکلا ہے جس کا مطلب ”‏وفادار ہونا“‏ اور ”‏قابلِ‌بھروسا ہونا“‏ ہے۔‏ بعض اوقات اِس لفظ کو قانونی معاملات کے سلسلے میں بھی اِستعمال کِیا جاتا تھا۔‏ جب ایک شخص قسم کھاتا تھا تو آخر میں آمین کہہ کر وہ یہ تصدیق کرتا تھا کہ جو کچھ بھی اُس نے کہا ہے،‏ وہ بالکل سچ ہے اور وہ اُن نتائج کو بھگتنے کو تیار ہے جو قسم توڑنے سے نکلیں گے۔‏ (‏گن 5:‏22‏)‏ اور جب وہ لوگوں کے سامنے قسم کھانے کے بعد آمین کہتا تو اُسے اپنے وعدے کا پاس رکھنے کی اَور بھی زیادہ ترغیب ملتی تھی۔‏—‏نحم 5:‏13‏۔‏

لفظ ”‏آمین“‏ کے اِستعمال کی ایک مثال اِستثنا 27 باب میں ملتی ہے۔‏ جب بنی‌اِسرائیل وعدہ کیے ہوئے ملک میں پہنچ گئے تو اِس کے تھوڑی دیر بعد اُنہیں کوہِ‌عیبال اور کوہِ‌گرزیم کے بیچ جمع ہونے کو کہا گیا تاکہ وہ شریعت کو سُن سکیں۔‏ وہ وہاں صرف شریعت کو سننے کے لیے ہی جمع نہیں ہوئے تھے بلکہ اُنہیں یہ اِقرار بھی کرنا تھا کہ اُنہوں نے شریعت کو قبول کِیا ہے۔‏ اُنہوں نے اِس بات کا اِقرار کیسے کِیا؟‏ جب اُنہیں شریعت کی خلاف‌ورزی کرنے کے نتائج کے بارے میں پڑھ کر سنایا گیا تو اُن سب نے جواب میں ”‏آمین“‏ کہا۔‏ (‏اِست 27:‏15-‏26‏)‏ ذرا اُن ہزاروں مردوں،‏ عورتوں اور بچوں کا تصور کریں جنہوں نے بلند آواز میں یہ جواب دیا تھا۔‏ (‏یشو 8:‏30-‏35‏)‏ بِلاشُبہ وہ اپنے اُن الفاظ کو کبھی نہیں بھولے جو اُنہوں نے اُس دن کہے تھے۔‏ اِتنا ہی نہیں یہ اِسرائیلی اپنی بات پر قائم بھی رہے کیونکہ بائبل میں ہم پڑھتے ہیں:‏ ”‏اِسرائیلی [‏یہوواہ]‏ کی پرستش یشوؔع کے جیتے جی اور اُن بزرگوں کے جیتے جی کرتے رہے جو یشوؔع کے بعد زندہ رہے اور [‏یہوواہ]‏ کے سب کاموں سے جو اُس نے اِسرائیلیوں کے لئے کئے واقف تھے۔‏“‏—‏یشو 24:‏31‏۔‏

یسوع مسیح نے بھی اپنی بات کی صداقت کو ظاہر کرنے کے لیے لفظ ”‏آمین“‏ اِستعمال کِیا۔‏ لیکن اُنہوں نے بڑے فرق طریقے سے ایسا کِیا۔‏ اُنہوں نے کسی بات کے جواب میں ”‏آمین“‏ نہیں کہا۔‏ اِس کی بجائے وہ کسی سچائی کو بیان کرنے سے  پہلے ”‏آمین“‏ کہا کرتے تھے۔‏ (‏اُردو میں اِس کا ترجمہ ”‏میں آپ سے سچ کہتا ہوں“‏ سے کِیا گیا ہے۔‏)‏ بعض اوقات یسوع مسیح نے دو بار ”‏آمین آمین“‏ کہا۔‏ (‏متی 5:‏18؛‏ یوح 1:‏51‏)‏ یوں اُنہوں نے اپنے سامعین کو یقین دِلایا کہ اُن کا کہا ہوا ایک ایک لفظ بالکل سچ ہے۔‏ یسوع مسیح اِتنے یقین اور اِعتماد سے اِس لیے بات کر سکتے تھے کیونکہ وہی وہ شخص تھے جسے خدا کے تمام وعدے پورے کرنے کا اِختیار دیا گیا تھا۔‏—‏2-‏کُر 1:‏20؛‏ مکا 3:‏14‏۔‏

‏”‏سب لوگ بول اُٹھے آمین اور اُنہوں نے [‏یہوواہ]‏ کی ستایش کی“‏

بنی‌اِسرائیل یہوواہ کی بڑائی کرتے اور اُس سے دُعا کرتے وقت بھی لفظ ”‏آمین“‏ اِستعمال کِیا کرتے تھے۔‏ (‏نحم 8:‏6؛‏ زبور 41:‏13‏)‏ دُعا کے آخر میں ”‏آمین“‏ کہنے سے وہ لوگ ظاہر کرتے تھے کہ وہ دُعا میں کہی باتوں سے متفق ہیں۔‏ یوں تمام لوگ یہوواہ کی عبادت میں حصہ لینے کے قابل ہوتے تھے جس سے اُن کی خوشی بڑھ جاتی تھی۔‏ ایسا ہی کچھ اُس وقت ہوا جب بادشاہ داؤد عہد کا صندوق یروشلیم لائے۔‏ صندوق کے آنے کی خوشی میں لوگوں نے جشن منایا اور اِس دوران داؤد نے گیت کی صورت میں ایک بہت ہی دل گرما دینے والی دُعا کی جو 1-‏تواریخ 16:‏8-‏36 میں درج ہے۔‏ جو لوگ اِس موقعے پر حاضر تھے،‏ وہ اِس دُعا کو سُن کر اِتنے جوش سے بھر گئے کہ وہ سب ”‏بول اُٹھے آمین اور اُنہوں نے [‏یہوواہ]‏ کی ستایش کی۔‏“‏ مل کر یہوواہ کی بڑائی کرنے سے اُن کی خوشی دوبالا ہو گئی۔‏

پہلی صدی عیسوی کے مسیحی بھی یہوواہ کی بڑائی کرتے وقت لفظ ”‏آمین“‏ اِستعمال کِیا کرتے تھے۔‏ بائبل کو تحریر کرنے والوں نے اکثر اپنے خطوں میں اِس لفظ کو اِستعمال کِیا۔‏ (‏روم 1:‏25؛‏ 16:‏27؛‏ 1-‏پطر 4:‏11‏)‏ مکاشفہ کی کتاب میں تو آسمان کا ایک ایسا منظر بتایا گیا ہے جہاں روحانی مخلوق یہوواہ کی بڑائی کرتے ہوئے کہہ رہی ہیں:‏ ”‏آمین!‏ یاہ کی بڑائی ہو!‏“‏ (‏مکا 19:‏1،‏ 4‏)‏ اِبتدائی مسیحی،‏ اِجلاس میں کی جانے والی دُعاؤں کے آخر میں عموماً ”‏آمین“‏ کہا کرتے تھے۔‏ (‏1-‏کُر 14:‏16‏)‏ لیکن یہ کوئی رٹارٹایا لفظ نہیں تھا۔‏

آپ کا ”‏آمین“‏ کہنا اِتنا اہم کیوں ہے؟‏

یہ جاننے کے بعد کہ ماضی میں خدا کے بندے لفظ ”‏آمین“‏ کو کیسے اِستعمال کرتے تھے،‏ ہم سمجھ سکتے ہیں کہ دُعا کے آخر میں ”‏آمین“‏ کہنا کیوں مناسب  ہے۔‏ جب ہم اپنی دُعاؤں کے آخر میں ”‏آمین“‏ کہتے ہیں تو ہم ظاہر کرتے ہیں کہ ہم نے جو کچھ بھی کہا ہے،‏ دل سے کہا ہے۔‏ اور جب کوئی اَور دُعا کرتا ہے تو اُس وقت بھی اُونچی آواز میں یہاں تک کہ دل میں ”‏آمین“‏ کہنے سے ہم ظاہر کرتے ہیں کہ ہم اُس کی دُعا سے متفق ہیں۔‏ آئیں،‏ دیکھیں کہ ”‏آمین“‏ کہنا اَور کن وجوہات کی بِنا پر اہم ہے۔‏

ہمیں دُعا کو دھیان سے سننے کی ترغیب ملتی ہے۔‏ یہوواہ صرف دُعا میں کہے جانے والے الفاظ سے ہی نہیں بلکہ دُعا کے دوران ہمارے اچھے برتاؤ سے بھی خوش ہوتا ہے۔‏ چونکہ ہم دل سے ”‏آمین“‏ کہنا چاہتے ہیں اِس لیے ہم دُعا کے دوران درست رویہ رکھتے ہیں اور اِسے دھیان سے سنتے ہیں۔‏

خدا کے بندوں کے طور پر ہمارا اِتحاد بڑھتا ہے۔‏ جب کلیسیا میں دُعا کی جاتی ہے تو تمام بہن بھائیوں کا دھیان ایک ہی جیسی باتوں پر ہوتا ہے۔‏ (‏اعما 1:‏14؛‏ 12:‏5‏)‏ اور جب ہم اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ مل کر ”‏آمین“‏ کہتے ہیں تو ہم اپنے آپسی اِتحاد کو اَور زیادہ بڑھاتے ہیں۔‏ چاہے ہم اُونچی آواز میں ”‏آمین“‏ کہیں یا دل میں،‏ ہماری اِجتماعی درخواست کو سُن کر یہوواہ کو ہماری دُعا کا جواب دینے کی اَور زیادہ ترغیب ملتی ہے۔‏

ہماری ”‏آمین“‏ سے یہوواہ کی بڑائی ہوتی ہے۔‏

ہم یہوواہ خدا کی بڑائی کرتے ہیں۔‏ ہم یہوواہ کی عبادت کے حوالے سے جو کچھ بھی کرتے ہیں،‏ وہ اُس کی نظروں سے اوجھل نہیں رہتا،‏ چاہے وہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو۔‏ (‏لُو 21:‏2،‏ 3‏)‏ وہ دیکھ سکتا ہے کہ ہمارے دل میں کیا ہے۔‏ اگر کسی مجبوری کے تحت ہم فون پر اِجلاس سنتے ہیں تو بھی ہم یہ یقین رکھ سکتے ہیں کہ ہمارے ”‏آمین“‏ کہنے کو یہوواہ اَن‌سنا نہیں کرے گا۔‏ ”‏آمین“‏ کہنے سے ہم اُن لوگوں میں شامل ہو جاتے ہیں جو اِجلاس میں یہوواہ کی بڑائی کر رہے ہوتے ہیں۔‏

شاید ہمیں لگے کہ ہمارا ”‏آمین“‏ کہنا یا نہ کہنا اِتنا اہم نہیں ہے لیکن یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔‏ ایک بائبل اِنسائیکلوپیڈیا کے مطابق ”‏صرف اِس ایک لفظ کو اِستعمال کرنے سے خدا کے بندے کسی بات پر اپنے اِعتماد،‏ اپنی رضامندی اور اپنی اُمید کا اِظہار کرتے ہیں جو اُن کے دلوں میں ہے۔‏“‏ دُعا ہے کہ ہمارے مُنہ سے نکلی ہر ”‏آمین“‏ سے یہوواہ کو خوشی ملے۔‏—‏زبور 19:‏14‏۔‏