مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

بپتسمہ—‏مسیح کا شاگرد بننے کے لیے لازمی قدم

بپتسمہ—‏مسیح کا شاگرد بننے کے لیے لازمی قدم

‏”‏بپتسمہ بھی .‏ .‏ .‏ آپ کو بچا رہا ہے۔‏“‏‏—‏1-‏پطرس 3:‏21‏۔‏

گیت:‏ 7،‏  6

1،‏ 2.‏ ‏(‏الف)‏ کچھ والدین کے ذہن میں اُس وقت کون سے سوال آتے ہیں جب اُن کا بچہ بپتسمہ لینا چاہتا ہے؟‏ (‏ب)‏ بپتسمے کے اُمیدواروں سے یہ سوال کیوں پوچھا جاتا ہے کہ کیا اُنہوں نے خود کو یہوواہ کے لیے وقف کر دیا ہے؟‏ (‏اِس مضمون کی پہلی تصویر کو دیکھیں۔‏)‏

ماریہ کے ماں باپ بڑی خوشی سے اپنی نوجوان بیٹی کو دیکھ رہے تھے جو بپتسمے کے اُمیدواروں کے ساتھ کھڑی تھی۔‏ پھر مقرر نے اُمیدواروں سے دو سوال پوچھے۔‏ ماریہ نے بلند آواز میں اِن سوالوں کے جواب دیے اور اِس کے تھوڑی دیر بعد اُس کا بپتسمہ ہو گیا۔‏

2 ماریہ کے والدین بہت خوش تھے کہ اُن کی بیٹی نے یہوواہ کے لیے اپنی زندگی وقف کرنے اور بپتسمہ لینے کا فیصلہ کِیا۔‏ لیکن تھوڑی دیر پہلے ماریہ کی ماں کے دل میں کچھ خدشے تھے۔‏ وہ سوچ رہی تھی:‏ ”‏کیا ماریہ کو اِتنی چھوٹی عمر میں بپتسمہ لینا چاہیے؟‏ کیا وہ یہ بات اچھی طرح سے سمجھتی ہے کہ یہوواہ کے لیے اپنی زندگی کو وقف کرنا کتنی سنجیدہ اور اہم ذمےداری ہے؟‏ کیا اُسے بپتسمہ لینے کے لیے کچھ اَور اِنتظار کرنا چاہیے؟‏“‏ بہت سے والدین کے ذہن میں بھی شاید اُس وقت ایسے ہی سوال آئیں جب اُن کا بیٹا یا بیٹی بپتسمہ لینے کی خواہش ظاہر کرتا ہے۔‏ (‏واعظ 5:‏5‏)‏ دیکھا جائے تو اِس میں حیرانی کی کوئی بات بھی نہیں کیونکہ  یہوواہ کے لیے اپنی زندگی کو وقف کرنا اور بپتسمہ لینا زندگی کا سب سے اہم فیصلہ ہوتا ہے۔‏—‏بکس ”‏ کیا آپ نے اپنی زندگی یہوواہ کے لیے وقف کر دی ہے؟‏‏“‏ کو دیکھیں۔‏

3،‏ 4.‏ ‏(‏الف)‏ پطرس رسول نے بپتسمہ لینے کی اہمیت کو کیسے واضح کِیا؟‏ (‏ب)‏ پطرس رسول نے بپتسمے کا ذکر کرتے وقت نوح کی کشتی کی مثال کیوں دی؟‏

3 پطرس رسول نے بپتسمے کا ذکر کرتے وقت نوح کی کشتی کی مثال دی۔‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏بپتسمہ بھی [‏نوح کی کشتی کی]‏ طرح ہے اور آپ کو بچا رہا ہے۔‏“‏ ‏(‏1-‏پطرس 3:‏20،‏ 21 کو پڑھیں۔‏)‏ نوح کی کشتی اِس بات کا جیتا جاگتا ثبوت تھی کہ نوح پورے دل سے یہوواہ کی مرضی پر چلنا چاہتے تھے۔‏ نوح یہوواہ پر مضبوط ایمان رکھتے تھے اِس لیے اُنہوں نے اُس کام کو پورا کِیا جو یہوواہ نے اُنہیں سونپا تھا۔‏ نوح کے ایمان کی بدولت ہی یہوواہ نے اُنہیں اور اُن کے گھر والوں کو طوفان سے بچا لیا۔‏ لیکن پطرس رسول نوح کی کشتی کی مثال دے کر کیا بات سمجھانا چاہتے تھے؟‏

4 جب لوگوں نے نوح کی کشتی کو دیکھا تو وہ جان گئے کہ نوح خدا پر مضبوط ایمان رکھتے ہیں۔‏ اِسی طرح جب لوگ کسی کو بپتسمہ لیتے ہوئے دیکھتے ہیں تو وہ جان جاتے ہیں کہ اُس شخص نے یسوع مسیح پر مضبوط ایمان رکھنے کی وجہ سے اپنی زندگی یہوواہ کے لیے وقف کر دی ہے۔‏ جو لوگ بپتسمہ لیتے ہیں،‏ وہ بھی نوح کی طرح خدا کے حکموں کو مانتے ہیں اور اُس کام کو پورا کرتے ہیں جو یہوواہ نے اُنہیں سونپا ہے۔‏ جس طرح یہوواہ نے نوح کو طوفان سے بچایا تھا اُسی طرح وہ اپنے بپتسمہ‌یافتہ خادموں کو اِس بُری دُنیا کے خاتمے سے بچائے گا۔‏ (‏مرقس 13:‏10؛‏ مکاشفہ 7:‏9،‏ 10‏)‏ لہٰذا یہ بہت ضروری ہے کہ ہم یہوواہ کے لیے اپنی زندگی وقف کریں اور بپتسمہ لیں۔‏ اگر کوئی شخص بپتسمہ لینے میں دیر کرتا ہے تو ہمیشہ کی زندگی پانے کا موقع اُس کے ہاتھ سے جا سکتا ہے۔‏

5.‏ اِس مضمون میں ہم کن سوالوں پر غور کریں گے؟‏

 5 اب جبکہ ہم سمجھ گئے ہیں کہ بپتسمہ لینا ایک سنجیدہ قدم ہے تو آئیں،‏ اِن تین سوالوں پر غور کریں:‏ بائبل میں بپتسمے کے بارے میں کیا بتایا گیا ہے؟‏ بپتسمہ لینے سے پہلے ایک شخص کو کون سے قدم اُٹھانے چاہئیں؟‏ اور اپنے بچوں اور بائبل کورس کرنے والے لوگوں کو تعلیم دیتے وقت ہمیں بپتسمے کی اہمیت کیوں یاد رکھنی چاہیے؟‏

بائبل میں بپتسمے کے بارے میں کیا بتایا گیا ہے؟‏

6،‏ 7.‏ ‏(‏الف)‏ یوحنا لوگوں کو کس مقصد سے بپتسمہ دے رہے تھے؟‏ (‏ب)‏ کس کا بپتسمہ دوسرے لوگوں کے بپتسموں سے فرق تھا اور کیوں؟‏

6 بائبل میں ہم پڑھتے ہیں کہ یوحنا بپتسمہ دینے والے وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے لوگوں کو بپتسمہ دیا۔‏ (‏متی 3:‏1-‏6‏)‏ لیکن لوگ یوحنا کے پاس بپتسمہ لینے کیوں آتے تھے؟‏ بپتسمہ لینے سے یہ لوگ ظاہر کرتے تھے کہ اُنہوں نے اپنے اُن گُناہوں سے توبہ کر لی ہے جو اُنہوں نے موسیٰ کی شریعت کے خلاف کیے تھے۔‏ لیکن یوحنا نے جو بپتسمے دیے،‏ اُن میں سے ایک بپتسمہ بہت ہی خاص تھا اور اِس کا توبہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔‏ یوحنا کو یہ اعزاز ملا کہ وہ خدا کے بےعیب بیٹے یسوع کو بپتسمہ دیں۔‏ (‏متی 3:‏13-‏17‏)‏ یسوع مسیح نے کوئی گُناہ نہیں کِیا تھا اور اِس لیے اُنہیں توبہ کی ضرورت نہیں تھی۔‏ (‏1-‏پطرس 2:‏22‏)‏ تو پھر یسوع مسیح نے بپتسمہ کیوں لیا؟‏ اُنہوں نے یہ ظاہر کرنے کے لیے بپتسمہ لیا کہ وہ خود کو خدا کی مرضی پر چلنے کے لیے پیش کر رہے ہیں۔‏—‏عبرانیوں 10:‏7‏۔‏

7 جب یسوع مسیح نے مُنادی کرنی شروع کی تو اُن کے شاگرد بھی لوگوں کو بپتسمہ دینے لگے۔‏ (‏یوحنا 3:‏22؛‏ 4:‏1،‏ 2‏)‏ یسوع مسیح کے شاگرد بھی ایسے لوگوں کو بپتسمہ دے رہے تھے جنہوں نے موسیٰ کی شریعت کے خلاف کیے ہوئے گُناہوں سے توبہ کر لی تھی۔‏ لیکن یسوع مسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد جو لوگ یسوع مسیح کے پیروکار بننا چاہتے تھے،‏ اُنہیں ایک اَور مقصد سے بپتسمہ لینا تھا۔‏

8.‏ ‏(‏الف)‏ یسوع مسیح نے مُردوں میں سے زندہ ہونے کے بعد اپنے پیروکاروں کو کون سا حکم دیا؟‏ (‏ب)‏ مسیحیوں کے لیے بپتسمہ لینا لازمی کیوں ہے؟‏

8 سن 33ء میں جب یسوع مسیح کو مُردوں میں سے زندہ کِیا گیا تو اِس کے تھوڑی دیر بعد اُنہوں نے 500 سے زیادہ لوگوں سے بات کی جن میں مرد،‏ عورتیں اور شاید بچے بھی شامل تھے۔‏ ہو سکتا ہے کہ اِسی موقعے پر یسوع مسیح نے یہ حکم بھی دیا:‏ ”‏جائیں،‏ سب قوموں کے لوگوں کو شاگرد بنائیں اور اُن کو باپ اور بیٹے اور پاک روح کے نام سے بپتسمہ دیں۔‏ اور اُن کو اُن سب باتوں پر عمل کرنا سکھائیں جن کا مَیں نے آپ کو حکم دیا ہے۔‏“‏ (‏متی 28:‏19،‏ 20؛‏ 1-‏کُرنتھیوں 15:‏6‏)‏ یسوع مسیح نے اپنے پیروکاروں کو شاگرد بنانے کا حکم دیا۔‏ جو بھی شخص اُن کا ’‏جُوا اُٹھانا‘‏ یعنی اُن کا شاگرد بننا چاہتا ہے،‏ اُس کے لیے بپتسمہ لینا لازمی ہے۔‏ (‏متی 11:‏29،‏ 30‏)‏ جو شخص یہوواہ کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتا ہے،‏ اُسے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ یسوع مسیح یہوواہ کے مقصد کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔‏ پھر ہی وہ شخص خدا کی نظر میں بپتسمہ لینے کے لائق ٹھہر سکتا ہے۔‏ بائبل میں اِس بات کے کئی ثبوت ہیں کہ یسوع مسیح کے اِبتدائی شاگرد بپتسمہ لینے کی اہمیت سے اچھی طرح واقف تھے۔‏ اُنہوں نے ایک پَل کے لیے بھی یہ نہیں سوچا کہ اُنہیں بپتسمہ لینے کے لیے تھوڑا اِنتظار کرنا چاہیے۔‏—‏اعمال 2:‏41؛‏ 9:‏18؛‏ 16:‏14،‏ 15،‏ 32،‏ 33‏۔‏

بپتسمہ لینے میں دیر نہ کریں!‏

9،‏ 10.‏ ہم ایتھیوپیائی آدمی اور ساؤل کی مثال سے کیا سیکھتے ہیں؟‏

9 اعمال 8:‏35،‏ 36 کو پڑھیں۔‏ ایک ایتھیوپیائی آدمی کی مثال پر غور کریں جس نے یہودی مذہب اپنایا تھا۔‏ وہ یروشلیم میں عبادت کرنے کے بعد اپنے گھر لوٹ رہا تھا۔‏ یہوواہ کے فرشتے نے فِلپّس سے کہا کہ وہ اِس آدمی کو خوش‌خبری سنائیں۔‏ جب فِلپّس نے اُسے ”‏یسوع کے بارے میں خوش‌خبری“‏ سنائی تو اُس آدمی کا کیا ردِعمل تھا؟‏ اُسے احساس ہوا  کہ مسیح کو مالک کے طور پر قبول کرنا بہت اہم ہے اور اُس میں ایسے کام کرنے کی خواہش پیدا ہوئی جن کی توقع یہوواہ مسیحیوں سے کرتا ہے۔‏ اِس لیے اُس نے فوراً بپتسمہ لے لیا۔‏

10 ذرا ساؤل نامی آدمی کی مثال پر بھی غور کریں۔‏ وہ یہودی قوم میں پیدا ہوئے جو خدا کے لیے وقف تھی۔‏ یہوواہ نے اِس قوم کو رد کر دیا تھا کیونکہ وہ اُس کی وفادار نہیں رہی تھی۔‏ لیکن ساؤل کو لگتا تھا کہ یہودی ابھی بھی صحیح طریقے سے یہوواہ کی عبادت کر رہے ہیں اِس لیے اُنہوں نے مسیحیوں کو اذیت دینی شروع کر دی۔‏ لیکن پھر ایک دن یسوع مسیح نے آسمان سے ساؤل سے بات کی جس کا ساؤل پر بڑا گہرا اثر ہوا۔‏ اُنہوں نے مسیح کے شاگرد حننیاہ کی مدد کو قبول کِیا۔‏ بائبل میں لکھا ہے:‏ ”‏پھر وہ اُٹھے اور اُنہوں نے بپتسمہ لیا۔‏“‏ (‏اعمال 9:‏17،‏ 18؛‏ گلتیوں 1:‏14‏)‏ بعد میں ساؤل،‏ پولُس رسول کے نام سے مشہور ہو گئے۔‏ غور کریں کہ جونہی ساؤل یہ سمجھ گئے کہ یہوواہ اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لیے یسوع مسیح کو اِستعمال کر رہا ہے،‏ اُنہوں نے بپتسمہ لینے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائی۔‏‏—‏اعمال 22:‏12-‏16 کو پڑھیں۔‏

جب بائبل کورس کرنے والے لوگ پاک کلام کی سچائیوں کی قدر کرتے ہیں تو اُنہیں بپتسمہ لینے کی ترغیب ملتی ہے۔‏

11.‏ ‏(‏الف)‏ بائبل کورس کرنے والے لوگ کس وجہ سے بپتسمہ لینے کا فیصلہ کرتے ہیں؟‏ (‏ب)‏ جب کوئی شخص بپتسمہ لیتا ہے تو ہم کیسا محسوس کرتے ہیں؟‏

11 آج بھی بائبل کورس کرنے والے بہت سے لوگ ایتھیوپیائی آدمی اور ساؤل کی طرح ہیں۔‏ چونکہ وہ بائبل میں درج باتوں کی قدر کرتے ہیں اور اِن پر بھروسا رکھتے ہیں اِس لیے اُنہیں اپنی زندگی یہوواہ کے لیے وقف کرنے اور بپتسمہ لینے کی ترغیب ملتی ہے۔‏ بپتسمے کی تقریر ہمارے حلقے کے اِجتماعوں اور علاقائی اِجتماعوں کا بہت ہی خاص حصہ ہوتی ہے۔‏ یہوواہ کے گواہوں کو اُس وقت بڑی خوشی ہوتی ہے جب بائبل کورس کرنے والے لوگ پاک کلام کی سچائیوں کو قبول کرتے ہیں اور بپتسمہ لینے کا فیصلہ کرتے ہیں۔‏ والدین بھی اپنے بچوں کو یہ اہم قدم اُٹھاتے دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں۔‏ 2017ء کے خدمتی سال کے دوران 2 لاکھ 84 ہزار سے زیادہ لوگوں نے بپتسمہ لے کر یہ ظاہر کِیا کہ اُنہوں نے اپنی زندگی یہوواہ کے لیے وقف کر دی ہے۔‏ (‏اعمال 13:‏48‏)‏ دراصل وہ یہ سمجھ گئے تھے کہ مسیحیوں کے لیے بپتسمہ لینا لازمی ہے۔‏ لیکن بپتسمہ لینے سے پہلے ایک شخص کو کون سے قدم اُٹھانے چاہئیں؟‏

12.‏ بپتسمہ لینے سے پہلے ایک شخص کو کون سے قدم اُٹھانے چاہئیں؟‏

12 اِس سے پہلے کہ بائبل کورس کرنے والا شخص بپتسمہ لے،‏ اُسے خدا کے بارے میں صحیح علم حاصل کرنا چاہیے۔‏ اُسے یہ بھی جاننا چاہیے کہ زمین اور اِنسانوں کے سلسلے میں خدا کا کیا مقصد ہے اور اُس نے اِنسانوں کو نجات دِلانے کے لیے کون سا بندوبست کِیا ہے۔‏ (‏1-‏تیمُتھیُس 2:‏3-‏6‏)‏ پھر اُس شخص کو مضبوط ایمان پیدا کرنا چاہیے جس کی مدد سے وہ یہوواہ کے معیاروں پر چلنے اور ایسے کاموں سے دُور رہنے کے قابل ہوگا جن سے یہوواہ کو نفرت ہے۔‏ (‏اعمال 3:‏19‏)‏ ایسا کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ یہوواہ خدا ایسے شخص کو اپنے بندے کے طور پر قبول نہیں کرتا جو غلط کام کرتا رہتا ہے۔‏ (‏1-‏کُرنتھیوں 6:‏9،‏ 10‏)‏ لیکن یہوواہ کے معیاروں پر چلنا ہی کافی نہیں۔‏ جو لوگ یہوواہ کے لیے اپنی زندگی وقف کرنا چاہتے ہیں،‏ اُنہیں باقاعدگی سے اِجلاسوں میں جانا چاہیے اور مُنادی اور شاگرد بنانے کے کام میں حصہ لینا چاہیے۔‏ یسوع مسیح نے کہا کہ یہ کام اُن کے سچے پیروکار کریں گے۔‏ (‏اعمال 1:‏8‏)‏ لہٰذا ایک شخص کو بپتسمہ لینے سے پہلے یہ سارے اِقدام اُٹھانے چاہئیں۔‏ اِس کے بعد وہ دُعا میں اپنی زندگی یہوواہ کے لیے وقف کر سکتا ہے اور بپتسمہ لے سکتا ہے۔‏

 بپتسمے کی اہمیت پر زور دیں

دوسروں کو تعلیم دیتے وقت کیا آپ ہر مناسب موقعے پر اُنہیں بپتسمے کی اہمیت کے بارے میں بتاتے ہیں؟‏ (‏پیراگراف 13 کو دیکھیں۔‏)‏

13.‏ اپنے بچوں اور دوسروں کو بائبل کورس کراتے وقت ہمیں یہ کیوں یاد رکھنا چاہیے کہ مسیحیوں کے لیے بپتسمہ لینا لازمی ہے؟‏

13 ہمیں اپنے بچوں اور بائبل کورس کرنے والے لوگوں کی وہ اِقدام اُٹھانے میں مدد کرنی چاہیے جن پر ہم نے ابھی غور کِیا ہے۔‏ ایسا کرتے وقت ہمیں اِس بات کو یاد رکھنا چاہیے کہ مسیح کے سچے پیروکار بننے کے لیے بپتسمہ لینا لازمی ہے۔‏ اگر ہم اِس بات کو یاد رکھیں گے تو ہم بغیر ہچکچائے ہر مناسب وقت پر اُنہیں یہ بتائیں گے کہ یہوواہ کے لیے اپنی زندگی کو وقف کرنا اور بپتسمہ لینا کتنا ضروری ہے۔‏ یقیناً ہماری خواہش ہے کہ ہمارے بچے اور بائبل کورس کرنے والے لوگ بپتسمے کے لائق بنیں۔‏

14.‏ ہمیں بپتسمہ لینے کے لیے کسی پر دباؤ کیوں نہیں ڈالنا چاہیے؟‏

14 ہمیں اپنے بچوں اور بائبل کورس کرنے والے لوگوں پر بپتسمہ لینے کے لیے دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے۔‏ یہوواہ خدا بھی کسی کو مجبور نہیں کرتا کہ وہ اُس کی عبادت کرے۔‏ (‏1-‏یوحنا 4:‏8‏)‏ اِس کی بجائے دوسروں کو بائبل کورس کراتے وقت ہمیں اُنہیں یہ سمجھانا چاہیے کہ یہوواہ کے ساتھ گہری دوستی قائم کرنا کتنا ضروری ہے۔‏ پھر جب ایک شخص بائبل میں درج سچائیوں کی قدر کرے گا اور ہر وہ کام کرنے کو تیار ہوگا جس کی توقع مسیحیوں سے کی جاتی ہے تو اُس کے دل میں بپتسمہ لینے کی خواہش پیدا ہوگی۔‏—‏2-‏کُرنتھیوں 5:‏14،‏ 15‏۔‏

15،‏ 16.‏ ‏(‏الف)‏ کیا ایک شخص کسی خاص عمر کو پہنچ کر ہی بپتسمہ لے سکتا ہے؟‏ وضاحت کریں۔‏ (‏ب)‏ چاہے بائبل کورس کرنے والا شخص پہلے کسی اَور مذہب میں بپتسمہ لے چُکا ہو پھر بھی اُسے یہوواہ کے گواہ کے طور پر بپتسمہ کیوں لینا چاہیے؟‏

15 بائبل میں بپتسمہ لینے کی کوئی خاص عمر نہیں بتائی گئی۔‏ کچھ لوگ جلدی بپتسمہ پانے کے لائق بن جاتے ہیں جبکہ کچھ لوگوں کو وقت لگتا ہے۔‏ بہت سے بہن بھائی نوجوانی میں بپتسمہ لے لیتے ہیں اور بڑھاپے تک وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کرتے ہیں۔‏ بعض لوگ بڑھاپے  میں بائبل کی سچائیوں کو سیکھتے ہیں اور بپتسمہ لینے کا فیصلہ کرتے ہیں۔‏ کچھ کی عمر تو 100 سال سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔‏

16 ایک خاتون کے تجربے پر غور کریں جو ہماری بہن کے ساتھ بائبل کورس کر رہی تھی۔‏ یہ خاتون پہلے ہی کئی فرقوں کی رُکن کے طور پر بپتسمہ لے چُکی تھی۔‏ اِس لیے اُس نے بہن سے پوچھا کہ کیا یہ ضروری ہے کہ وہ پھر سے بپتسمہ لے؟‏ اُس بہن نے اِس سوال کا جواب دینے کے لیے اُس خاتون کو بائبل سے کچھ آیتیں دِکھائیں۔‏ جیسے ہی وہ خاتون سمجھ گئی کہ بائبل میں بپتسمے کے متعلق کیا بتایا گیا ہے،‏ اُس نے بپتسمہ لینے کا فیصلہ کِیا حالانکہ اُس وقت وہ تقریباً 80 سال کی تھی۔‏ ہم اِس خاتون کی مثال سے کیا سیکھتے ہیں؟‏ یہوواہ خدا اُسی صورت میں ہمارا بپتسمہ قبول کرتا ہے اگر ہم نے اُس کی مرضی کے بارے میں صحیح علم حاصل کِیا ہے۔‏ لہٰذا اگر بائبل کورس کرنے والا شخص پہلے کسی اَور مذہب میں بپتسمہ لے چُکا ہے تو بھی اُس کے لیے یہوواہ کے گواہ کے طور پر بپتسمہ لینا لازمی ہے۔‏‏—‏اعمال 19:‏3-‏5 کو پڑھیں۔‏

17.‏ بپتسمے کے دن ہمیں کس بات پر غور کرنا چاہیے؟‏

17 بِلاشُبہ جب کوئی بپتسمہ لیتا ہے تو وہ دن بڑی خوشی کا دن ہوتا ہے۔‏ لیکن اُس دن ہمیں سنجیدگی سے اِس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ یہوواہ کے لیے اپنی زندگی وقف کرنے اور بپتسمہ لینے میں کیا کچھ شامل ہے۔‏ مسیح کا پیروکار بننا آسان کام نہیں ہے اِسی لیے یسوع مسیح نے اِسے ایک جُوئے سے تشبیہ دی۔‏ مسیح کی شاگردی میں آ جانے کے بعد ہمیں ’‏اپنے لیے نہیں جینا‘‏ چاہیے بلکہ اُس کے لیے جینا چاہیے ”‏جس نے ہمارے لیے جان دے دی اور جسے بعد میں زندہ کِیا گیا۔‏“‏—‏2-‏کُرنتھیوں 5:‏15؛‏ متی 16:‏24‏۔‏

18.‏ اگلے مضمون میں ہم کن سوالوں پر غور کریں گے؟‏

18 اِس مضمون میں ہم نے دیکھا ہے کہ بپتسمہ لینا ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔‏ اِسی لیے ماریہ کی امی نے خود سے وہ سوال پوچھے جن کا مضمون کے شروع میں ذکر کِیا گیا ہے۔‏ اگر آپ کے بچے ہیں تو شاید آپ بھی سوچتے ہوں کہ ”‏کیا میرا بچہ بپتسمہ لینے کے لیے واقعی تیار ہے؟‏ کیا اُس نے یہوواہ کے بارے میں اِتنا علم حاصل کر لیا ہے کہ وہ اُس کے لیے اپنی زندگی وقف کر سکے؟‏ کیا اُسے پہلے اعلیٰ تعلیم اور اچھی ملازمت حاصل کرنی چاہیے اور پھر بپتسمے کے بارے میں سوچنا چاہیے؟‏ اگر اُس نے بپتسمہ لینے کے بعد کوئی سنگین غلطی کر دی تو کیا ہوگا؟‏“‏ اِن سوالوں پر اگلے مضمون میں بات کی جائے گی۔‏ اِس کے علاوہ ہم یہ بھی سیکھیں گے کہ مسیحی والدین اپنے بچوں کی بپتسمے کے لائق بننے میں مدد کیسے کر سکتے ہیں۔‏