مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

قارئین کے سوال

قارئین کے سوال

خدا کے بندے کب سے کب تک بابلِ‌عظیم کے قبضے میں رہے؟‏

وہ تقریباً 100ء سے لے کر 1919ء تک بابلِ‌عظیم کے قبضے میں رہے۔‏ یہ نئی وضاحت ہے۔‏ مگر ہماری وضاحت میں تبدیلی کیوں آئی ہے؟‏

اِس کے بہت ثبوت ہیں کہ 1919ء میں مسح‌شُدہ مسیحیوں کو بابلِ‌عظیم  کے قبضے سے چھڑایا گیا اور اُنہیں ایک ایسی کلیسیا میں جمع کِیا گیا جسے پاک صاف کِیا گیا تھا۔‏ ذرا اِن حقائق پر غور کریں:‏ جونہی خدا کی بادشاہت 1914ء میں آسمان پر حکمرانی کرنے لگی،‏ خدا کے بندوں کو پرکھا گیا اور اُنہیں آہستہ آہستہ جھوٹے مذاہب کے عقیدوں سے پاک کِیا گیا۔‏ * (‏ملا 3:‏1-‏4‏)‏ پھر 1919ء میں یسوع مسیح نے ”‏وفادار اور  سمجھ‌دار غلا‌م“‏ کو مقرر کِیا تاکہ وہ خدا کے بندوں کو ”‏صحیح وقت پر کھانا دے۔‏“‏  (‏متی 24:‏45-‏47‏)‏ اُسی سال میں خدا کے بندے مجازی معنوں میں بابلِ‌عظیم  کے  قبضے سے آزاد کیے گئے۔‏ (‏مکا 18:‏4‏)‏ لیکن وہ بابلِ‌عظیم کے قبضے میں کب آئے تھے؟‏

ماضی میں ہمارا خیال تھا کہ خدا کے بندے 1918ء میں بابلِ‌عظیم کے قبضے میں آئے اور تھوڑے ہی عرصے کے لیے اِس کے قبضے میں رہے۔‏ مینارِنگہبانی،‏ 1 ستمبر 1992ء میں لکھا تھا کہ جس طرح اِسرائیلی قوم کو اسیر کر کے شہر بابل میں لے جایا گیا اُسی طرح یہوواہ کے خادم 1918ء میں بابلِ‌عظیم کے قبضے میں آ گئے۔‏ لیکن مزید تحقیق کرنے کے بعد پتہ چلا ہے کہ خدا کے بندے 1918ء سے صدیوں پہلے بابلِ‌عظیم کے قبضے میں آ چُکے تھے۔‏

حِزقی‌ایل 37:‏1-‏14 میں پیش‌گوئی کی گئی کہ خدا کے بندے اپنے دُشمنوں  کے قبضے میں آئیں گے اور پھر آزاد کیے جائیں گے۔‏ حِزقی‌ایل نبی نے ایک رویا میں ایک وادی دیکھی جہاں ہر طرف ہڈیاں ہی ہڈیاں تھیں۔‏ یہوواہ خدا نے اُن سے کہا:‏ ”‏یہ ہڈیاں تمام بنی‌اِسرائیل ہیں۔‏“‏ یہ پیش‌گوئی نہ صرف اِسرائیلی قوم کے بارے میں تھی بلکہ ”‏خدا کے اِسرائیل“‏ یعنی مسح‌شُدہ مسیحیوں کے بارے میں بھی تھی۔‏ (‏گل 6:‏16؛‏ اعما 3:‏21‏)‏ حِزقی‌ایل نبی نے دیکھا کہ ہڈیوں میں جان آئی اور وہ ایک بہت بڑا لشکر بن گئیں۔‏ اِس رویا سے ظاہر ہوا کہ خدا کے بندوں کو مجازی معنوں میں کیسے زندہ کِیا گیا اور آخرکار 1919ء میں بابلِ‌عظیم کے قبضے سے کیسے آزاد کِیا گیا۔‏ آئیں،‏ دیکھتے ہیں کہ ہم اِس رویا سے یہ نتیجہ کیوں نکا‌ل سکتے ہیں کہ خدا کے بندے لمبے عرصے کے لیے بابلِ‌عظیم کے قبضے میں رہے تھے۔‏

حِزقی‌ایل نبی نے دیکھا کہ مُردوں کی ہڈیاں ”‏نہایت سُوکھی تھیں۔‏“‏ (‏حِز 37:‏2،‏ 11‏)‏ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لوگ بڑے عرصے سے مُردہ تھے۔‏ پھر حِزقی‌ایل  نبی نے دیکھا کہ یہ مُردے ایک دم سے نہیں بلکہ آہستہ آہستہ زندہ ہوئے۔‏ اُنہوں نے سنا کہ ”‏ایک شور ہوا اور .‏ .‏ .‏ زلزلہ آیا اور ہڈیاں آپس میں مل گئیں۔‏ ہر ایک ہڈی اپنی ہڈی سے۔‏“‏ پھر اُنہوں نے دیکھا کہ ہڈیوں پر ”‏نسیں اور گوشت“‏ چڑھ آیا۔‏ اِس کے بعد گوشت پر ’‏چمڑا‘‏ یعنی جِلد آ گئی۔‏ پھر مُردوں میں ’‏دم آیا اور وہ زندہ ہو کر اپنے پاؤں پر کھڑے ہو گئے۔‏‘‏ اِس کے بعد یہوواہ خدا نے اِن کو اِن کے ملک میں بسا دیا۔‏ ظاہر ہے کہ اِس سب میں وقت لگا۔‏—‏حِز 37:‏7-‏10،‏ 14‏۔‏

اِس پیش‌گوئی کے عین مطابق اِسرائیلی قوم بہت عرصے تک اپنے دُشمنوں کے قبضے میں رہی۔‏ یہ عرصہ 740 قبل‌ازمسیح میں شروع ہوا جب دس قبیلوں پر مشتمل اِسرائیل کی سلطنت کے بہت سے باشندوں کو اسیر کِیا گیا۔‏ پھر 607 قبل‌ازمسیح میں بابل کی فوجوں نے یروشلیم کو تباہ کر دیا اور دو قبیلوں پر مشتمل یہوداہ کی سلطنت کے باشندوں کو اسیر کر لیا۔‏ اسیری کا یہ عرصہ 537 قبل‌ازمسیح میں ختم ہو گیا جب کچھ یہودی،‏ ہیکل کو دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے یروشلیم لوٹ آئے اور وہاں یہوواہ خدا کی عبادت کرنے لگے۔‏

اِن باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسح‌شُدہ مسیحی صرف 1918ء سے 1919ء تک نہیں بلکہ بڑے عرصے تک بابلِ‌عظیم کے قبضے میں رہے۔‏ یسوع مسیح نے اِس لمبے عرصے کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ”‏زہریلے پودے“‏ یعنی جھوٹے مسیحی گندم کے پودوں یعنی ’‏بادشاہت کے بیٹوں‘‏ کے ساتھ ساتھ اُگیں گے۔‏ (‏متی 13:‏36-‏43‏)‏ اِس عرصے کے دوران صرف چند ہی سچے مسیحی زمین پر موجود تھے جبکہ زیادہ‌تر لوگ جو مسیحی ہونے کا دعویٰ کرتے تھے،‏ جھوٹی مذہبی تعلیمات کو مانتے تھے اور خدا سے برگشتہ تھے۔‏ اِسی وجہ سے کہا جا سکتا ہے کہ سچے مسیحیوں کی کلیسیا بابلِ‌عظیم کے قبضے میں تھی۔‏ یہ صورتحال 100ء کے لگ بھگ پیدا ہوئی اور آخری زمانے تک رہی جب خدا کی روحانی ہیکل کو پاک صاف کِیا گیا۔‏—‏اعما 20:‏29،‏ 30؛‏ 2-‏تھس 2:‏3،‏ 6؛‏ 1-‏یوح 2:‏18،‏ 19‏۔‏

اِس لمبے عرصے کے دوران چرچ کے رہنما بہت طاقت‌ور تھے۔‏ وہ نہ صرف عام لوگوں کو بلکہ حکمرانوں کو بھی اپنی مٹھی میں رکھتے تھے۔‏ وہ لوگوں کو بائبل خریدنے یا اِسے عام‌فہم زبان میں پڑھنے سے منع کرتے تھے۔‏ جو لوگ اُن کی حکم عدولی کر کے بائبل کو پڑھتے تھے،‏ اُنہیں زندہ جلا دیا جاتا تھا اور جو لوگ اُن کی تعلیمات کے خلا‌ف آواز اُٹھاتے تھے،‏ اُنہیں بڑی سخت سزائیں دی جاتی تھیں۔‏ اُس زمانے میں خدا کے کلام میں درج سچائیوں کو سیکھنا یا دوسروں کو سکھانا تقریباً ناممکن تھا۔‏

حِزقی‌ایل نبی کی رویا سے پتہ چلتا ہے کہ خدا کے بندوں کو آہستہ آہستہ زندہ کِیا گیا اور جھوٹے مذہب کے قبضے سے آزاد کِیا گیا۔‏ یہ سلسلہ کب اور کیسے شروع ہوا؟‏ حِزقی‌ایل نے دیکھا کہ ایک ”‏زلزلہ آیا۔‏“‏ یہ آخری زمانے کے کچھ  صدیوں پہلے ہوا۔‏ اُن صدیوں کے دوران کچھ لوگ سچائی کی تلا‌ش کر رہے تھے اور صحیح طریقے سے خدا کی عبادت کرنا چاہتے تھے۔‏ اُن میں سے کچھ نے خدا کے کلام کا مطالعہ کِیا اور دوسروں کو اِس میں درج سچائیوں کے بارے میں بتانے کی پوری کوشش کی۔‏  اور  کچھ نے عام لوگوں کی زبانوں میں بائبل کا ترجمہ کرنے کے لیے سرتوڑ محنت کی۔‏

پھر 1870ء کے لگ بھگ ہڈیوں پر گوشت اور جِلد آ گئی۔‏  اُس  وقت  چارلس ٹیز رسل اور اُن کے ساتھی بائبل میں درج سچائیوں کو تلا‌ش کرنے اور یہوواہ کی خدمت کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے تھے۔‏ اُنہوں نے رسالہ زائنز واچ‌ٹاور اور دوسری مطبوعات کے ذریعے یہ سچائیاں پھیلا‌ئیں۔‏ 1914ء میں ”‏فوٹو ڈرامہ آف کریئیشن“‏ اور 1917ء میں کتاب دی فِنشڈ مسٹری کے ذریعے یہوواہ کے بندوں کا ایمان اَور مضبوط کِیا گیا۔‏ آخرکار 1919ء میں خدا نے اپنے بندوں کو مجازی معنوں میں زندہ کِیا اور ایک نئے ملک میں بسایا۔‏ اِس کے کچھ عرصے بعد ایسے لوگ جو زمین پر ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنے کی اُمید رکھتے ہیں،‏ مسح‌شُدہ مسیحیوں کا ساتھ دینے لگے۔‏ یہ سب مل کر یہوواہ کی عبادت کر رہے ہیں۔‏ واقعی  وہ  ”‏ایک نہایت بڑا لشکر“‏ بن گئے ہیں!‏—‏حِز 37:‏10؛‏ زک 8:‏20-‏23‏۔‏ *

اِن سب باتوں سے واضح ہوتا ہے کہ خدا کے بندے تقریباً 100ء میں بابلِ‌عظیم کے قبضے میں آ گئے۔‏ اُس وقت بہت سے مسیحیوں نے جھوٹے مذہبی عقیدوں کو اپنا لیا،‏ سچائی کو ترک کر دیا اور سچے خدا سے برگشتہ ہو گئے۔‏ صدیوں تک یہوواہ خدا کی عبادت کرنا بہت ہی مشکل رہا،‏ بالکل جیسے اِسرائیلیوں کے لیے شہر بابل میں یہوواہ کی عبادت کرنا مشکل تھا۔‏ لیکن آج بائبل کی سچائیاں دُنیا کے کونے کونے تک پہنچائی جا رہی ہیں۔‏ یہ کتنی خوشی کی بات ہے کہ ہم اُس زمانے میں رہ رہے ہیں جب دانی‌ایل نبی کی یہ پیش‌گوئی پوری ہو رہی ہے کہ ”‏اہلِ‌دانش نُورِفلک کی مانند چمکیں گے۔‏“‏ بےشک آج ’‏بہت سے لوگ پاک کئے جا رہے ہیں‘‏ اور سچے خدا کی عبادت کر رہے ہیں۔‏—‏دان 12:‏3،‏ 10‏۔‏

جب شیطان نے یسوع مسیح کو ورغلا‌نے کی کوشش کی تو کیا وہ اُنہیں اصل میں ہیکل میں لے گیا؟‏

دراصل ہم نہیں جانتے کہ شیطان نے یسوع کو ورغلا‌نے کے لیے اُنہیں ایک رویا دِکھائی تھی یا پھر اُنہیں واقعی ہیکل میں لے گیا تھا۔‏ یہ دونوں ہی خیال وقتاًفوقتاً ہماری مطبوعات میں پیش کیے جا چُکے ہیں۔‏

آئیں،‏ پہلے دیکھتے ہیں کہ پاک کلام میں اِس واقعے کو کیسے بیان کِیا گیا ہے۔‏ متی رسول نے اپنی اِنجیل میں لکھا کہ ”‏اِس کے بعد اِبلیس [‏یسوع کو]‏ مُقدس شہر میں لے گیا اور اُنہیں ہیکل کی چھت [‏فٹ‌نوٹ:‏ ”‏فصیل؛‏ سب سے اُونچی چھت“‏]‏ پر کھڑا“‏ کِیا۔‏ (‏متی 4:‏5‏)‏ اور لُوقا کی اِنجیل میں لکھا ہے کہ ”‏اِس کے بعد اِبلیس اُنہیں یروشلیم لے گیا اور ہیکل کی چھت پر کھڑا“‏ کِیا۔‏—‏لُو 4:‏9‏۔‏

ماضی میں ہماری مطبوعات میں کبھی کبھار کہا گیا کہ اِس موقعے پر یسوع کو رویا دِکھائی گئی تھی۔‏ مثال کے طور پر دی واچ‌ٹاور،‏ 1 مارچ 1961ء میں یہ لکھا تھا:‏ ”‏ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ جس دوران شیطان نے یسوع مسیح کو ورغلا‌نے کی کوشش کی اُس دوران سب کچھ حقیقی معنوں میں ہوا تھا۔‏ ظاہری بات ہے کہ ایسا کوئی پہاڑ نہیں جس سے ”‏دُنیا کی تمام بادشاہتیں“‏ دِکھائی دیں۔‏ اِس سے ہم نتیجہ نکا‌ل سکتے ہیں کہ شیطان یسوع کو ہیکل کی چھت پر کھڑا کرنے کے لیے اُنہیں اصل میں ”‏مُقدس شہر میں“‏ نہیں لے گیا۔‏“‏ لیکن اِس کے بعد کے رسالوں میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر یسوع مسیح شیطان کی بات مان لیتے تو وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے۔‏

 بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یسوع مسیح لاوی نہیں تھے اِس لیے ہیکل کے مُقدس مقام پر جانا اُن کے لیے منع تھا اور اِسی وجہ سے وہ اصل میں نہیں بلکہ رویا میں ہیکل کی چھت پر کھڑے تھے۔‏ صدیوں پہلے حِزقی‌ایل نبی کے ساتھ ایسا ہی کچھ ہوا تھا۔‏—‏حِز 8:‏3،‏ 7-‏10؛‏ 11:‏1،‏ 24؛‏ 37:‏1،‏ 2‏۔‏

لیکن اگر شیطان نے یسوع کو محض رویا دِکھا کر ورغلا‌نے کی کوشش کی تو یہ سوال اُٹھتے ہیں:‏

  • کیا یہ یسوع کے لیے واقعی آزمائش ہوتی؟‏

  • باقی بار جب شیطان نے یسوع کو ورغلا‌نے کی کوشش کی تو اُس نے اُنہیں کہا کہ وہ اصلی پتھروں کو روٹی بنائیں اور اصل میں اُس کے سامنے گھٹنے ٹیک کر سجدہ کریں۔‏ تو پھر کیا یہ واجب نہیں کہ اِس موقعے پر بھی شیطان نے یسوع کو کہا کہ وہ اصلی ہیکل کی چھت سے چھلا‌نگ لگا دیں نہ کہ رویا میں دِکھائی گئی ہیکل کی چھت سے؟‏

لیکن اگر یسوع اصل میں ہیکل کی چھت پر کھڑے تھے تو یہ سوال اُٹھتے ہیں:‏

  • کیا یسوع شریعت کی خلا‌ف‌ورزی کرتے ہوئے مُقدس مقام کی چھت پر گئے؟‏

  • یسوع ویرانے سے یروشلیم تک کیسے پہنچے؟‏

آئیں،‏ کچھ معلومات پر غور کریں جن سے اِن دو سوالوں کے جواب مل سکتے ہیں۔‏

پروفیسر کارسن کے مطابق متی اور لُوقا کی اِن آیتوں میں جس یونانی  لفظ  کا ترجمہ ”‏ہیکل“‏ کِیا گیا ہے،‏ غالباً اُس کا اِشارہ ”‏صرف مُقدس مقام کی طرف نہیں بلکہ ہیکل کی تمام عمارتوں کی طرف ہے۔‏“‏ لہٰذا یہ لازمی نہیں کہ یسوع مسیح مُقدس مقام کی چھت پر کھڑے تھے۔‏ ہو سکتا ہے کہ وہ ہیکل کی اُس عمارت کی چھت پر کھڑے تھے جو جنوب مشرقی کونے پر واقع تھی۔‏ یہ ہیکل کی سب سے اُونچی جگہ تھی۔‏ اِس کی بیرونی دیوار اُس چٹان پر بنی تھی جو وادیِ‌قدرون پر ختم ہوتی تھی۔‏ اگر یسوع اِس عمارت پر کھڑے تھے تو وہ 140 میٹر (‏450 فٹ)‏ کی گہرائی میں جھانک سکتے تھے۔‏ تاریخ‌دان یوسیفس کا کہنا تھا کہ یہ اِتنی اُونچی جگہ تھی کہ جو شخص وہاں کھڑا ہو کر نیچے جھانکتا تھا،‏ ”‏اُس کا سر چکرا جاتا تھا۔‏“‏ اِس جگہ ایسے لوگوں کو بھی آنے کی اِجازت تھی جو لاوی نہیں تھے۔‏ لہٰذا یسوع کو وہاں کھڑا دیکھ کر کوئی اِعتراض نہ کرتا۔‏

لیکن یسوع تو ویرانے میں تھے تو پھر وہ ہیکل میں کیسے جا پہنچے؟‏ ہم اِس کا کوئی ٹھوس جواب نہیں دے سکتے۔‏ بائبل میں اِس واقعے کے بارے میں تفصیل سے نہیں بتایا گیا ہے۔‏ اِس لیے ہم نہیں جانتے کہ اُس وقت یسوع یروشلیم سے کتنے فاصلے پر تھے یا وہاں پہنچنے میں اُنہیں کتنا وقت لگا۔‏ ہو سکتا ہے کہ وہ پیدل یروشلیم گئے جس میں کافی وقت لگتا۔‏ دراصل بائبل میں یہ نہیں کہا گیا کہ یسوع اِن تینوں آزمائشوں کے دوران ویرانے میں رہے۔‏ اِس میں بس یہ بتایا گیا ہے کہ یسوع کو ہیکل میں لے جایا گیا۔‏

ذرا اُس واقعے پر غور کریں جب شیطان نے یسوع کو ”‏دُنیا کی تمام بادشاہتیں“‏ دِکھائیں۔‏ ظاہری بات ہے کہ زمین پر ایسا کوئی پہاڑ نہیں جس سے دُنیا کی تمام بادشاہتیں دِکھائی دیں۔‏ لہٰذا شیطان نے ایک رویا کے ذریعے یسوع کو یہ بادشاہتیں دِکھائی ہوں گی۔‏ ہم بھی تو ٹی‌وی سکرین پر دُنیا کی مختلف جگہوں کا نظارہ کر سکتے ہیں۔‏ لیکن اِس میں کوئی شک نہیں کہ شیطان چاہتا تھا کہ یسوع واقعی اُس کے سامنے ’‏ایک بار سجدہ‘‏ کریں۔‏ (‏متی 4:‏8،‏ 9‏)‏ اِس سے نتیجہ اخذ کِیا جا سکتا ہے کہ شیطان کی خواہش تھی کہ یسوع واقعی ہیکل کی چھت سے چھلا‌نگ لگا‌ئیں جو اُن کے لیے اصل میں جان‌لیوا ثابت ہوتا۔‏ اگر شیطان چاہتا کہ یسوع محض رویا میں ایسا کریں تو کیا یہ یسوع کے لیے واقعی ایک آزمائش ہوتی؟‏

لہٰذا ممکن ہے کہ یسوع مسیح واقعی یروشلیم گئے تھے اور ہیکل کی  سب  سے  اُونچی عمارت پر کھڑے ہوئے تھے۔‏ لیکن جیسا کہ ہم نے اِس مضمون کے شروع میں کہا،‏ ہم یقین سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ آیا شیطان نے اِس موقعے پر یسوع کو محض رویا دِکھائی یا اصل میں ہیکل میں لے گیا۔‏ لیکن یہ بات پکی ہے کہ شیطان نے  بار  بار  یسوع کو ورغلا‌نے کی کوشش کی اور ہر بار یسوع نے اُس کو دو ٹوک جواب دیا۔‏

^ پیراگراف 2 مینارِنگہبانی،‏ 15 جولائی 2013ء،‏ صفحہ 10-‏12،‏ پیراگراف 5-‏8،‏ 12 کو دیکھیں۔‏

^ پیراگراف 1 حِزقی‌ایل 37:‏1-‏14 اور مکا‌شفہ 11:‏7-‏12 دونوں میں ایسے واقعات کا ذکر ہوا ہے جو 1919ء میں ہوئے تھے۔‏ لیکن حِزقی‌ایل نبی کی پیش‌گوئی سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کے تمام بندوں کو ایک لمبے عرصے کے بعد زندہ کِیا گیا یعنی وہ دوبارہ سے صحیح طریقے سے یہوواہ کی عبادت کرنے لگے جبکہ مکا‌شفہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسح‌شُدہ بھائیوں کے ایک چھوٹے سے گروہ کو مختصر سے عرصے کے بعد زندہ کِیا گیا یعنی اُنہیں خدا کے بندوں کی پیشوائی کرنے کے لیے مقرر کِیا گیا۔‏