مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

روحانی کھانے سے بھرپور فائدہ حاصل کریں

روحانی کھانے سے بھرپور فائدہ حاصل کریں

‏”‏مَیں ہی [‏یہوواہ]‏ تیرا خدا ہوں جو تجھے مفید تعلیم دیتا ہوں۔‏“‏—‏یسع 48:‏17‏۔‏

گیت:‏ 20،‏ 37

1،‏ 2.‏ ‏(‏الف)‏ یہوواہ کے گواہ بائبل کے بارے میں کیسے احساسات رکھتے ہیں؟‏ (‏ب)‏ آپ کو بائبل کا کون سا حصہ سب سے زیادہ پسند ہے؟‏

یہوواہ کے گواہ بائبل سے محبت کرتے ہیں۔‏ ہمیں اِس سے اچھی ہدایتیں ملتی ہیں اور اِسے پڑھ کر ہمیں تسلی اور اُمید بھی ملتی ہے۔‏ (‏روم 15:‏4‏)‏ ہم بائبل کو ”‏اِنسانوں کا کلام سمجھ کر نہیں بلکہ خدا کا کلام سمجھ کر قبول“‏ کرتے ہیں۔‏—‏1-‏تھس 2:‏13‏۔‏

2 بِلا‌شُبہ ہم میں سے ہر ایک کو بائبل کا کوئی نہ کوئی حصہ بہت ہی زیادہ پسند ہے۔‏ کچھ لوگوں کو اناجیل بہت اچھی لگتی ہیں جن میں یسوع مسیح نے اپنی باتوں اور کاموں سے یہوواہ خدا کی شخصیت کا عکس پیش کِیا۔‏ (‏یوح 14:‏9‏)‏ دوسروں کو بائبل کے وہ حصے اچھے لگتے ہیں جن میں پیش‌گوئیاں درج ہیں،‏ جیسا کہ مکا‌شفہ کی کتاب جس میں اُن باتوں کے بارے میں بتایا گیا ہے ”‏جو جلد ہونے والی ہیں۔‏“‏ (‏مکا 1:‏1‏)‏ اور ہم سب نے وقتاًفوقتاً زبوروں کو پڑھ کر تسلی پائی ہے یا پھر امثال کی کتاب کے مشوروں سے فائدہ اُٹھایا ہے۔‏ واقعی بائبل ہر طرح کے لوگوں کے لیے فائدہ‌مند ہے۔‏

3،‏ 4.‏ ‏(‏الف)‏ آپ ہماری تنظیم کی مطبوعات کے بارے میں کیسا محسوس کرتے ہیں؟‏ (‏ب)‏ ہمیں جو مطبوعات ملتی ہیں،‏ وہ کس کس کے لیے ہوتی ہیں؟‏

3 چونکہ ہمیں بائبل سے محبت ہے اِس لیے ہمیں اُن مطبوعات سے بھی محبت ہے جو ہماری تنظیم  فراہم کرتی ہے۔‏ ہمیں جتنی بھی  کتابیں،‏  رسالے،‏  ویڈیوز وغیرہ ملتی ہیں،‏ وہ بائبل پر مبنی ہوتی ہیں اور یہوواہ خدا کی طرف سے ہوتی ہیں۔‏ اِس روحانی کھانے کے ذریعے ہم چوکس رہتے ہیں،‏ یہوواہ خدا کے اَور قریب ہو جاتے ہیں اور ہمارا ایمان زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے۔‏—‏طط 2:‏2‏۔‏

4 ہمیں کچھ  ایسی  مطبوعات  ملتی  ہیں  جو  تمام  یہوواہ  کے گواہوں کے لیے ہوتی ہیں۔‏ لیکن ہماری کچھ مطبوعات کسی مخصوص گروہ یا عمر کے لوگوں کے لیے ہوتی ہیں،‏ مثلاً بچوں یا نوجوانوں کے لیے یا پھر والدین کے لیے۔‏ اور ہماری ویب‌سائٹ پر زیادہ‌تر مواد ایسے لوگوں کے لیے ہوتا ہے جو یہوواہ کے گواہ نہیں ہیں۔‏ روحانی کھانے کی اِس کثرت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہوواہ خدا نے اپنے وعدے کے عین مطابق ”‏سب قوموں کے لئے فربہ چیزوں سے ایک ضیافت تیار“‏ کی ہے۔‏—‏یسع 25:‏6‏۔‏

5.‏ یہوواہ خدا کس بات سے خوش ہوتا ہے؟‏

5 بےشک ہم سب بہت مصروف ہیں۔‏ لیکن جب ہم بائبل کو پڑھنے اور اِس کا مطالعہ کرنے سے ”‏اپنے وقت کا بہترین اِستعمال“‏ کرتے ہیں تو یہوواہ خدا خوش ہوتا ہے۔‏ (‏اِفس 5:‏15،‏ 16‏)‏ سچ تو یہ ہے کہ ہمارے پاس اِتنی زیادہ مطبوعات ہیں کہ اِن سب کا گہرائی سے مطالعہ کرنا مشکل ہوتا ہے۔‏ اِس سلسلے میں ہمیں ایک خطرے سے آگاہ رہنا چاہیے۔‏ یہ کون سا خطرہ ہے؟‏

6.‏ ہم خود کو فائدہ‌مند معلومات سے محروم رکھنے کے خطرے میں کیسے پڑ سکتے ہیں؟‏

6 ہو سکتا ہے کہ ہم سوچنے لگیں کہ فلا‌ں مضمون یا  کتاب  میں پائی جانے والی معلومات مجھ پر لاگو نہیں ہوتی۔‏ مثال کے طور پر شاید ہمیں لگے کہ بائبل کے ایک حصے کا ہماری صورتحال سے کوئی تعلق نہیں۔‏ یا پھر شاید ہم اُن لوگوں میں شامل نہیں ہیں جن کے لیے ایک مضمون یا کتاب لکھی گئی ہے۔‏ اگر ایسا ہے تو کیا ہم اُس معلومات کو بس سرسری طور پر پڑھتے ہیں یا پھر بالکل ہی نہیں پڑھتے؟‏ ایسا کرنے سے ہم خود کو ایسی معلومات سے محروم رکھیں گے جو ہمارے لیے بہت فائدہ‌مند ہو سکتی ہے۔‏ ہم اِس خطرے سے کیسے بچ سکتے ہیں؟‏ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری تنظیم جو بھی سہولتیں مہیا کرتی ہے،‏ وہ سب یہوواہ خدا کی طرف سے ہیں۔‏ یہوواہ نے یسعیاہ نبی کے ذریعے کہا:‏ ”‏مَیں ہی [‏یہوواہ]‏ تیرا خدا ہوں جو تجھے مفید تعلیم دیتا ہوں۔‏“‏ (‏یسع 48:‏17‏)‏ لیکن ہم اُن تمام سہولتوں سے بھرپور فائدہ کیسے اُٹھا سکتے ہیں جو ہمیں یہوواہ خدا سے ملتی ہیں؟‏ آئیں،‏ اِس سلسلے میں تین مشوروں پر غور کریں۔‏

فائدہ‌مند باتیں تلا‌ش کرنے کے لیے تین مشورے

7.‏ ہمیں بائبل کو پڑھتے وقت نئی باتیں سیکھنے کے لیے تیار کیوں رہنا چاہیے؟‏

7 نئی باتیں سیکھنے کے لیے تیار رہیں۔‏ یاد  رکھیں  کہ  ”‏پاک  صحیفوں میں جو کچھ بھی لکھا ہے،‏ وہ خدا کے اِلہام سے ہے۔‏“‏ (‏2-‏تیم 3:‏16‏)‏ یہ سچ ہے کہ بائبل کے کچھ حصے کسی ایک شخص،‏ قوم یا گروہ کے لیے لکھے گئے تھے لیکن ہم بھی اُن سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔‏ ایک بھائی کہتا ہے:‏ ”‏بائبل کو پڑھتے وقت مَیں اِس بات کو ذہن میں رکھتا ہوں کہ ایک ہی حصے سے کئی سبق سیکھے جا سکتے ہیں۔‏ اِس لیے مَیں ایسی باتوں کی تلا‌ش میں رہتا ہوں جو شاید آنکھوں کے سامنے نہ ہوں۔‏“‏ لہٰذا ہمیں خدا کے کلام کو پڑھنے سے پہلے دانش‌مندی کے لیے دُعا کرنی چاہیے تاکہ ہم اِس میں چھپے  سبق  بھی بھانپ سکیں۔‏—‏عز 7:‏10؛‏ یعقوب 1:‏5 کو پڑھیں۔‏

کیا آپ بائبل کو پڑھتے وقت فائدہ‌مند باتیں تلا‌ش کرتے ہیں؟‏ (‏پیراگراف 7 کو دیکھیں۔‏)‏

8،‏ 9.‏ ‏(‏الف)‏ بائبل کو پڑھتے وقت ہم خود سے کون سے سوال پوچھ سکتے ہیں؟‏ (‏ب)‏ کلیسیا کے بزرگوں کے لیے دیے گئے معیاروں پر غور کرنے سے ہم یہوواہ خدا کے بارے میں کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

8 سوال پوچھیں۔‏ بائبل کے کسی حصے  کو  پڑھتے  وقت  سوچ بچار کرنے کے لیے بھی وقت نکا‌لیں۔‏ خود سے ایسے سوال پوچھیں:‏ ”‏مَیں اِن آیتوں سے یہوواہ خدا کے بارے میں کیا  سیکھ  سکتا ہوں؟‏ مَیں اِن سے اپنے لیے کون سے سبق نکا‌ل سکتا ہوں؟‏ مَیں اِنہیں دوسروں کی مدد کرنے کے لیے کیسے اِستعمال کر سکتا ہوں؟‏“‏ اِس طرح کے سوالوں پر سوچ بچار کرنے سے ہمیں بائبل کو پڑھتے وقت زیادہ فائدہ ہوگا۔‏ اِس سلسلے میں ایک مثال پر غور کریں۔‏ بائبل میں کچھ ایسے معیار بتائے گئے ہیں جن پر کلیسیا کے بزرگوں کو پورا اُترنا پڑتا ہے۔‏ ‏(‏1-‏تیمُتھیُس 3:‏2-‏7 کو پڑھیں۔‏)‏ ہم میں سے زیادہ‌تر لوگ کلیسیا کے بزرگوں کے طور پر خدمت نہیں کر رہے ہیں۔‏ اِس لیے شاید ہم سوچیں کہ ہمیں اِن آیتوں پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں۔‏ لیکن اگر ہم اِن آیتوں کے سلسلے میں اُن سوالوں پر غور کریں گے جن کا اِس پیراگراف میں ذکر ہوا ہے تو ظاہر ہو جائے گا کہ ہم سب اِن سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔‏

9 مَیں اِن آیتوں سے یہوواہ خدا کے بارے  میں  کیا سیکھ سکتا ہوں؟‏ یہوواہ خدا نے کلیسیا کی پیشوائی کرنے والوں کے لیے اُونچے معیار قائم کیے ہیں۔‏ وہ اُن سے توقع کرتا ہے کہ وہ اچھی مثال قائم کریں اور کلیسیا کے ساتھ اچھا سلوک کریں کیونکہ اُس نے کلیسیا کو ”‏اپنے بیٹے کے خون سے خریدا ہے۔‏“‏ (‏اعما 20:‏28‏)‏ یہوواہ چاہتا ہے کہ ہم خود کو کلیسیا کے بزرگوں کے سائے میں محفوظ خیال کریں۔‏ (‏یسع 32:‏1،‏ 2‏)‏ لہٰذا ہم اِن آیتوں سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہوواہ خدا کو ہماری کتنی فکر ہے۔‏

10،‏ 11.‏ ‏(‏الف)‏ کلیسیا کے بزرگوں کے لیے دیے گئے معیاروں پر غور کرنے سے ہم اپنے لیے کون سے سبق نکا‌ل سکتے ہیں؟‏ (‏ب)‏ ہم 1-‏تیمُتھیُس 3:‏2-‏7 میں دی گئی معلومات کو دوسروں کی مدد کرنے کے لیے کیسے اِستعمال کر سکتے ہیں؟‏

10 مَیں اِن آیتوں سے اپنے لیے کون سے سبق نکال سکتا ہوں؟‏ وقتاًفوقتاً ہر بزرگ کو 1-‏تیمُتھیُس 3:‏2-‏7 میں  بتائے گئے معیاروں پر سوچ بچار کرنی چاہیے تاکہ وہ دیکھ سکے کہ وہ کن حلقوں میں بہتری لا سکتا ہے۔‏ جو بھائی ”‏نگہبان بننے کی کوشش“‏ کر رہے ہیں،‏ اُنہیں اِن معیاروں پر غور کرنا چاہیے اور اِن پر پورا اُترنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔‏ (‏1-‏تیم 3:‏1‏)‏ دراصل تمام مسیحی اِن آیتوں سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں کیونکہ اِن میں سے زیادہ‌تر معیار سب مسیحیوں پر لاگو ہوتے ہیں۔‏ مثال کے طور پر تمام مسیحیوں کو سمجھ‌دار ہونا چاہیے۔‏ (‏فل 4:‏5؛‏ 1-‏پطر 4:‏7‏)‏ جب کلیسیا کے بزرگ ”‏گلّے کے لیے مثال“‏ قائم کرتے ہیں تو ہم اُن سے سیکھ سکتے ہیں اور ”‏اُن جیسا ایمان پیدا“‏ کر سکتے ہیں۔‏—‏1-‏پطر 5:‏3؛‏ عبر 13:‏7‏۔‏

 11 مَیں اِن آیتوں کو دوسروں کی مدد کرنے  کے  لیے کیسے اِستعمال کر سکتا ہوں؟‏ ہم یہ آیتیں اُن لوگوں کو دِکھا سکتے ہیں جنہیں ہم بائبل کورس کرا رہے ہیں تاکہ وہ دیکھ سکیں کہ یہوواہ کے گواہوں کے پیشواؤں اور مسیحی فرقوں کے پیشواؤں میں کتنا فرق ہے۔‏ اِس کے علا‌وہ اِن معیاروں کے بارے میں پڑھتے وقت ہم سوچ بچار کر سکتے ہیں کہ ہماری کلیسیا کے بزرگ ہماری خاطر کتنی محنت کر رہے ہیں۔‏ یوں ہمارے دل میں اُن کے لیے عزت بڑھے گی۔‏ (‏1-‏تھس 5:‏12‏)‏ اور جب ہم بزرگوں کے لیے عزت ظاہر کریں گے تو وہ اَور بھی زیادہ خوشی سے ہماری دیکھ‌بھال کریں گے۔‏—‏عبر 13:‏17‏۔‏

12،‏ 13.‏ ‏(‏الف)‏ بائبل کو پڑھتے وقت ہم کس طرح کی تحقیق کر سکتے ہیں؟‏ (‏ب)‏ مثال دے کر بتائیں کہ تحقیق کرنے سے آنکھوں سے چھپے سبق کیسے سامنے آ سکتے ہیں۔‏

12 تحقیق کریں۔‏ یہوواہ کی تنظیم نے تحقیق کرنے  کے  لیے بہت سی سہولتیں فراہم کی ہیں۔‏ اِن کا بھرپور اِستعمال کر کے ایسے سوالوں کے جواب حاصل کریں:‏

  • بائبل کا یہ حصہ کس نے لکھا؟‏

  • یہ کہاں اور کب لکھا گیا؟‏

  • جس وقت بائبل کی یہ کتاب لکھی گئی،‏ تاریخ میں کون سے اہم واقعات پیش آئے؟‏

اِس طرح کی معلومات کے ذریعے ہم ایسے سبق بھی بھانپ سکتے ہیں جو شاید فوراً ذہن میں نہ آئیں۔‏

13 اِس سلسلے میں ذرا حِزقی‌ایل 14:‏13،‏ 14 پر  غور  کریں  جہاں لکھا ہے:‏ ”‏جب کوئی ملک سخت خطا کر کے میرا گنہگا‌ر ہو اور مَیں اپنا ہاتھ اُس پر چلاؤں اور اُس کی روٹی کا عصا توڑ ڈالوں اور اُس میں قحط بھیجوں اور اُس کے اِنسان اور حیوان کو ہلا‌ک کروں تو اگرچہ یہ تین شخص نوؔح اور دانیؔ‌ایل اور اؔیوب اُس میں موجود ہوں تو بھی [‏یہوواہ]‏ فرماتا ہے کہ وہ اپنی صداقت سے فقط اپنی ہی جان بچائیں گے۔‏“‏ تھوڑی سی تحقیق کرنے  سے  ہمیں پتہ چلتا ہے کہ حِزقی‌ایل کی کتاب کا یہ حصہ 612 قبل‌ازمسیح میں لکھا گیا۔‏ اُس وقت نوح اور ایوب کو فوت ہوئے صدیاں بیت چُکی تھیں لیکن خدا اُن کی وفاداری کو نہیں بھولا تھا۔‏ مگر دلچسپی کی بات ہے کہ دانی‌ایل ابھی زندہ تھے۔‏ ہو سکتا ہے کہ اُن کی عمر 20 سال کے لگ بھگ تھی لیکن یہوواہ خدا نے اُنہیں نوح اور ایوب جتنا صادق خیال کِیا۔‏ اِس سے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏ چاہے خدا کے بندے بوڑھے ہوں یا جوان،‏ یہوواہ اُن کی وفاداری کو دیکھ کر  خوش ہوتا ہے اور اِسے کبھی نہیں بھولتا۔‏—‏زبور 148:‏12-‏14‏۔‏

ہر طرح کے روحانی کھانے سے فائدہ حاصل کریں

14.‏ نوجوانوں کو اُن مطبوعات سے کیا فائدہ ہوتا ہے جو اُن کے لیے شائع کی جاتی ہیں اور ہم سب اِن سے کیسے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں؟‏ (‏اِس مضمون کی پہلی تصویر کو دیکھیں۔‏)‏

14 نوجوانوں کے لیے مطبوعات۔‏ جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے،‏ ہم بائبل کے تمام حصوں سے فائدہ‌مند باتیں سیکھ سکتے ہیں۔‏ اِسی طرح ہم اُن تمام مطبوعات سے بھی فائدہ حاصل کر سکتے ہیں جو ہمیں یہوواہ خدا کی تنظیم کی طرف سے ملتی ہیں۔‏ اِس سلسلے میں کچھ مثالوں پر غور کریں۔‏ پچھلے کچھ سالوں میں نوجوانوں کے لیے بہت سی معلومات فراہم کی گئیں۔‏ اِن میں سے کچھ معلومات اِس لیے شائع کی گئی ہیں تاکہ نوجوان کامیابی سے سکول میں دباؤ کا سامنا کر سکیں اور نوجوانی کے مسئلوں سے نمٹ سکیں۔‏ لیکن ہم سب اِس طرح کی معلومات سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔‏ جب ہم اِسے پڑھتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہمارے نوجوان بہن بھائی کن مشکلا‌ت سے گزر رہے ہیں اور یوں ہم بہتر طور پر اُن کی مدد کر سکتے ہیں۔‏

15.‏ بالغ مسیحیوں کو ایسے مضامین کیوں پڑھنے چاہئیں جو خاص طور پر نوجوانوں کے لیے لکھے گئے ہیں؟‏

15 نوجوانوں کے لیے شائع ہونے والے مضامین میں اکثر  ایسے مسئلوں پر بات کی جاتی ہے جن کا دوسرے لوگ بھی سامنا کرتے ہیں۔‏ مثال کے طور پر ہم سب کو کبھی کبھار اپنے عقیدوں کا دِفاع کرنا پڑتا ہے،‏ اپنے جذبات کو قابو میں رکھنا پڑتا ہے،‏ ساتھیوں کے دباؤ کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے اور ایسے لوگوں اور تفریح سے دُور رہنا پڑتا ہے جو ہم پر بُرا اثر ڈال سکتے ہیں۔‏ کیا بالغ مسیحیوں کو سوچنا چاہیے کہ ”‏یہ مضمون تو نوجوانوں کے لیے ہے۔‏ مَیں اِسے نہیں پڑھوں گا“‏؟‏ نہیں کیونکہ اِن مضامین میں بائبل کے ایسے اصولوں پر بات کی گئی ہے جو سب پر لاگو ہوتے ہیں۔‏ لہٰذا تمام مسیحی اِن مضامین سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔‏

16.‏ ہماری مطبوعات سے نوجوانوں کو اَور کیا فائدہ ہوتا ہے؟‏

16 ہماری کچھ مطبوعات میں نوجوانوں کی مدد کی جاتی ہے تاکہ وہ یہوواہ خدا کے ساتھ اپنی دوستی کو مضبوط بنا سکیں۔‏ ‏(‏واعظ 12:‏1،‏ 13 کو پڑھیں۔‏)‏ لیکن بالغ مسیحی بھی ایسی مطبوعات سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔‏ مثال کے طور پر اپریل 2009ء کے اویک!‏ میں ایک مضمون شائع ہوا جس کا موضوع یہ تھا کہ نوجوان بائبل کو پڑھنے کا شوق کیسے پیدا کر سکتے ہیں۔‏ اِس مضمون میں مشوروں والا ایک بکس بھی تھا جس کو کاٹ کر بائبل میں رکھا جا سکتا تھا۔‏ ایک ماں کہتی ہے کہ ”‏میرا بائبل پڑھنے کو دل نہیں کرتا تھا۔‏ لیکن پھر مَیں نے اِس مضمون میں دیے گئے مشوروں پر عمل کِیا اور اُس بکس کا بھرپور اِستعمال کِیا جو اِس میں تھا۔‏ اب مَیں بڑے شوق سے بائبل پڑھتی ہوں اور دیکھ سکتی ہوں کہ بائبل کی کتابیں ایک دوسرے سے کیا تعلق رکھتی ہیں۔‏ اِن میں بتائے گئے خیالات دھاگوں کی طرح ہیں جن سے ایک خوب‌صورت قالین بنتا ہے۔‏ مَیں نے پہلے کبھی اِتنے شوق سے بائبل کو نہیں پڑھا جتنا کہ اب۔‏“‏

17،‏ 18.‏ ہم عوام کے لیے تیار کی گئی مطبوعات سے کون سے فائدے حاصل کر سکتے ہیں؟‏ اِس سلسلے میں مثال دیں۔‏

17 عوام کے لیے مطبوعات۔‏  2008ء  میں  مینارِنگہبانی کا  مطالعے کا ایڈیشن شائع ہونے لگا جو یہوواہ کے گواہوں کے لیے ہوتا ہے۔‏ لیکن ہمارے کچھ رسالے ایسے لوگوں کے لیے بھی ہیں جو یہوواہ کے گواہ نہیں ہیں۔‏ کیا ہم اِن کو پڑھنے سے بھی فائدہ حاصل کر سکتے ہیں؟‏ اِس سلسلے میں ایک مثال پر غور کریں۔‏ تصور کریں کہ آپ نے ایک شخص کو اِجلا‌س پر آنے کی دعوت دی ہے اور وہ عوامی تقریر سننے کے لیے آتا ہے۔‏ یقیناً آپ تقریر کو اُس شخص کے نقطۂ‌نظر سے سننے لگتے ہیں اور اِس طرح  اُس  تقریر  میں بتائی گئی باتوں کے لیے آپ کی قدر بڑھتی ہے۔‏

18 کچھ ایسا ہی اُس وقت بھی ہوتا ہے  جب  ہم  عوام  کے لیے لکھے جانے والے مضامین پڑھتے ہیں۔‏ مثال کے طور پر مینارِنگہبانی کے عوامی شمارے میں بائبل کی تعلیمات کو ایسے پیش کِیا جاتا ہے کہ وہ لوگ بھی اِن کو سمجھ جائیں جو یہوواہ کے گواہ نہیں ہیں۔‏ ہماری ویب‌سائٹ پر بھی بہت سے مضامین عوام کے لیے ہوتے ہیں،‏ جیسا کہ حصہ ”‏اکثر پوچھے جانے والے سوال‏“‏ میں پائے جانے والے مضامین۔‏ جب ہم اِن مضامین کو پڑھتے ہیں تو ہم بائبل کی سچائیوں کی اَور زیادہ قدر کرنے لگتے ہیں اور ہم اپنے عقیدوں کی وضاحت کرنے کے نئے طریقے سیکھتے ہیں۔‏ جاگو!‏ رسالے کے ذریعے اِس بات پر ہمارا یقین مضبوط ہو جاتا ہے کہ خدا کا وجود ہے اور ہم مؤثر طریقے سے اپنے عقیدوں کا دِفاع کرنا سیکھتے ہیں۔‏‏—‏1-‏پطرس 3:‏15 کو پڑھیں۔‏

19.‏ ہم روحانی کھانے کے لیے قدر کیسے ظاہر کر سکتے ہیں؟‏

19 یہوواہ خدا نے ہماری رہنمائی کے لیے کثرت سے روحانی کھانا فراہم کِیا ہے۔‏ (‏متی 5:‏3‏)‏ آئیں،‏ اِس کھانے سے بھرپور فائدہ حاصل کریں۔‏ یوں ہم اُس مفید تعلیم کے لیے قدر ظاہر کریں گے جو ہمیں اپنے آسمانی باپ سے ملتی ہے۔‏—‏یسع 48:‏17‏۔‏