مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

محبت ظاہر کرتے ہوئے اِختلا‌فات کو ختم کریں

محبت ظاہر کرتے ہوئے اِختلا‌فات کو ختم کریں

‏”‏ایک دوسرے کے ساتھ صلح صفائی سے رہیں۔‏“‏—‏مر 9:‏50‏۔‏

گیت:‏ 39،‏ 35

1،‏ 2.‏ ‏(‏الف)‏ پیدایش کی کتاب میں کن لڑائی جھگڑوں کا ذکر ہوا ہے؟‏ (‏ب)‏ بائبل میں لڑائی جھگڑوں کا ذکر کیوں کِیا گیا ہے؟‏

بائبل میں بہت سے ایسے واقعات کا ذکر ہے جن میں لوگوں نے لڑائی جھگڑا کِیا۔‏ پیدایش  کی  کتاب کے پہلے کچھ ابواب ہی کو لیجئے۔‏ قائن نے ہابل کو قتل کِیا۔‏ (‏پید 4:‏3-‏8‏)‏ لمک نے ایک جوان کو مار ڈالا جس نے اُنہیں زخمی کِیا تھا۔‏ (‏پید 4:‏23‏)‏ ابراہام (‏ابرام)‏ اور لُوط کے چرواہوں میں جھگڑا ہوا۔‏ (‏پید 13:‏5-‏7‏)‏ ہاجرہ نے سارہ (‏ساری)‏ کو حقیر جانا اور سارہ،‏ ابراہام سے ناراض ہوئیں۔‏ (‏پید 16:‏3-‏6‏)‏ اِسمٰعیل کا ہاتھ سب کے خلا‌ف تھا اور سب کے ہاتھ اُن کے خلا‌ف تھے۔‏—‏پید 16:‏12‏۔‏

2 لیکن بائبل میں لڑائی جھگڑوں کا ذکر کیوں کِیا گیا ہے؟‏ ایک وجہ تو یہ ہے  کہ  گُناہ‌گار  اِنسان ایک دوسرے کے ساتھ امن سے رہنے کی اہمیت کو سمجھ جائیں۔‏ اِن واقعات پر غور کرنے سے ہم آپس کے اِختلا‌فات کو ختم کرنا بھی سیکھ سکتے ہیں۔‏ صلح کرنے کے اچھے نتائج پر غور کرنے سے ہمیں خود بھی صلح کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔‏ اور جھگڑالو لوگوں کی زندگی پر غور کرنے سے ہم اُن کی غلطیوں کو دُہرانے سے بچ سکتے ہیں۔‏—‏روم 15:‏4‏۔‏

3.‏ اِس مضمون میں کن باتوں پر غور کِیا جائے گا؟‏

3 اِس مضمون میں بتایا جائے گا کہ یہوواہ کے خادموں کو آپس کے اِختلا‌فات  کیوں  ختم  کرنے چاہئیں اور وہ اِنہیں کیسے دُور کر سکتے ہیں۔‏ اِس کے علا‌وہ اِس میں بائبل کے کچھ ایسے اصولوں کا  ذکر کِیا  جائے گا جو جھگڑوں کو سلجھانے،‏ دوسروں کے ساتھ صلح صفائی سے رہنے اور یہوواہ کی قربت میں رہنے کے سلسلے میں ہمارے کام آئیں گے۔‏

ہمیں آپس کے اِختلا‌فات کیوں ختم کرنے چاہئیں؟‏

4.‏ شیطان نے کس سوچ کو فروغ دیا اور اِس کا کیا نتیجہ نکلا؟‏

4 دُنیا میں اِختلا‌فات اور لڑائی جھگڑوں کا سلسلہ شیطان  سے شروع ہوا۔‏ اُس نے باغِ‌عدن میں دعویٰ کِیا کہ اِنسانوں کو خدا کی مرضی پر چلنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ اچھائی اور بُرائی کیا ہے۔‏ (‏پید 3:‏1-‏5‏)‏ اِس دعوے نے ایک ایسی سوچ کو جنم دیا جس کے بہت بُرے نتائج نکلے۔‏ آج دُنیا میں ایسے لوگوں کی بہتات ہے جو مغرور اور خودپرست ہیں اور اپنی من‌مانی کرنے پر تُلے رہتے ہیں۔‏ وہ صرف اپنے فائدے کا سوچتے ہیں،‏ چاہے دوسروں کو اُن کی وجہ سے کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہو۔‏ ایسے رویے کی وجہ سے لڑائی جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔‏ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ”‏قہرآلودہ آدمی فتنہ برپا کرتا ہے اور غضب‌ناک [‏آدمی]‏ گُناہ میں زیادتی کرتا ہے۔‏“‏—‏امثا 29:‏22‏۔‏

5.‏ یسوع نے اِختلا‌فات کو ختم کرنے کے سلسلے میں کون سی ہدایتیں دیں؟‏

5 اِس کے برعکس یسوع مسیح نے لوگوں کو تعلیم دی کہ اُنہیں صلح کرنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے،‏ خواہ اُنہیں اِس وجہ سے نقصان کیوں نہ اُٹھانا پڑے۔‏ مثال کے طور پر اُنہوں نے پہاڑی وعظ میں اِختلا‌فات کو ختم کرنے کے سلسلے میں عمدہ ہدایتیں دیں۔‏ اُنہوں نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ وہ نرم‌مزاج اور صلح‌پسند بنیں،‏ اپنے دل سے غصہ دُور کریں،‏ اِختلا‌فات کو جلد سلجھائیں اور اپنے دُشمنوں سے محبت کریں۔‏—‏متی 5:‏5،‏ 9،‏ 22،‏ 25،‏ 44‏۔‏

6،‏ 7.‏ ‏(‏الف)‏ دوسروں کو جلد سے جلد معاف کرنا اہم کیوں ہے؟‏ (‏ب)‏ یہوواہ کے خادموں کو خود سے کون سے سوال پوچھنے چاہئیں؟‏

6 چاہے ہم جتنی بھی دُعائیں کریں،‏ جتنی باقاعدگی سے اِجلا‌سوں پر جائیں،‏ مُنادی کے کام میں جتنا بھی وقت صرف کریں،‏ لیکن اگر ہم دوسروں کو معاف کرنے کو تیار نہیں ہوں گے تو خدا ہماری عبادت کو قبول نہیں کرے گا۔‏ (‏مر 11:‏25‏)‏ خدا صرف ایسے لوگوں کو اپنے دوست کے طور پر قبول کرتا ہے جو دوسروں کو دل سے معاف کرتے ہیں۔‏‏—‏لُوقا 11:‏4؛‏ اِفسیوں 4:‏32 کو پڑھیں۔‏

7 ہر مسیحی کو معاف کرنے اور دوسروں کے ساتھ  امن  سے  رہنے کے حوالے سے اپنا جائزہ لینا چاہیے۔‏ خود سے پوچھیں:‏ ”‏کیا مَیں اپنے بہن بھائیوں کو دل سے معاف کرتا ہوں؟‏ کیا مَیں شوق سے ایسے بہن بھائیوں کے ساتھ وقت گزارتا ہوں جنہوں نے ماضی میں مجھے ٹھیس پہنچائی تھی؟‏“‏ یہوواہ خدا اپنے خادموں سے یہ توقع کرتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو معاف کریں۔‏ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کو اِس سلسلے میں بہتری لانے کی ضرورت ہے تو یہوواہ خدا سے مدد مانگیں۔‏ ہمارا آسمانی باپ آپ کی ضرور سنے گا۔‏—‏1-‏یوح 5:‏14،‏ 15‏۔‏

کیا آپ درگزر کر سکتے ہیں؟‏

8،‏ 9.‏ جب ہمیں ٹھیس پہنچائی جاتی ہے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟‏

8 سب اِنسان عیب‌دار ہیں اِس لیے وقتاًفوقتاً کوئی نہ کوئی آپ کو ٹھیس پہنچائے گا۔‏ (‏واعظ 7:‏20؛‏ متی 18:‏7‏)‏ اِس پر آپ کا ردِعمل کیا ہوگا؟‏ آئیں،‏ ایک واقعے پر غور کریں جس سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔‏ دو بھائی ایک تقریب پر گئے جہاں اُن کی ملا‌قات ایک بہن سے ہوئی۔‏ اُس بہن نے اُن سے کوئی ایسی بات کہی جو اُن میں سے ایک بھائی کو بُری لگی۔‏ جب وہ بہن چلی گئی تو اُس بھائی نے اپنی ناراضگی ظاہر کی۔‏ لیکن دوسرے بھائی نے اُسے یاد دِلایا کہ یہ بہن مشکل صورتحال کے باوجود 40 سال سے وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کر رہی ہے۔‏ اُسے یقین تھا کہ اِس بہن نے اُن کو ٹھیس پہنچانے کی نیت سے یہ بات نہیں کہی تھی۔‏ پہلے بھائی نے اُس کی بات پر کچھ لمحے غور کِیا اور پھر کہا:‏ ”‏آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔‏“‏ یوں بات وہیں ختم ہو گئی۔‏

9 ہم اِس واقعے سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏ ایسی صورتحال ضرور پیدا ہوں گی جن میں ہمیں ٹھیس پہنچ سکتی ہے۔‏ لیکن  اِس  پر  ہمارا  ردِعمل کیا ہوگا،‏ یہ ہمارے بس میں ہے۔‏ جو شخص دوسروں سے محبت کرتا  ہے،‏ وہ اُن کی چھوٹی موٹی غلطیوں کو خاطر میں نہیں لاتا۔‏  ‏(‏امثال 10:‏12؛‏ 1-‏پطرس 4:‏8 کو پڑھیں۔‏)‏ یہوواہ کے نزدیک اِس میں آپ کی شان ہے کہ آپ دوسروں کی ”‏خطا سے درگذر“‏ کریں۔‏ (‏امثا 19:‏11؛‏ واعظ 7:‏9‏)‏ لہٰذا اگر کوئی آپ سے سختی سے پیش آئے یا آپ کی بےعزتی کرے تو خفا ہونے سے پہلے خود سے پوچھیں:‏ ”‏کیا مَیں درگزر کر سکتا ہوں؟‏ کیا یہ واقعی اِتنا بڑا معاملہ ہے کہ مَیں اِس کی وجہ سے مسئلہ کھڑا کر دوں؟‏“‏

10.‏ ‏(‏الف)‏ جب ایک بہن کی نکتہ‌چینی کی گئی تو شروع میں اُس کا ردِعمل کیا تھا؟‏ (‏ب)‏ اُس بہن کو بائبل کے کس صحیفے کو پڑھ کر تسلی ملی؟‏

10 جب لوگ ہماری نکتہ‌چینی کرتے ہیں تو اُن کی  باتوں  کو  نظرانداز کرنا آسان نہیں ہوتا۔‏ اِس سلسلے میں ایک پہل‌کار کی مثال پر غور کریں جس کا نام لُوسی ہے۔‏ کچھ بہن بھائیوں نے مُنادی کے کام کے سلسلے میں اُن کی نکتہ‌چینی کی جس کی وجہ سے وہ بہت دُکھی ہوئیں۔‏ اِس لیے لُوسی نے بزرگوں سے بات کی۔‏ وہ کہتی ہیں:‏ ”‏بزرگوں نے مجھے بائبل کی ایسی آیتیں دِکھائیں جن سے مَیں سمجھ گئی کہ دوسروں کی باتوں کو خاطر میں لانے کی بجائے مجھے کائنات کی سب سے اہم ہستی یہوواہ خدا کی رائے پر توجہ دینی چاہیے۔‏“‏ لُوسی کو متی 6:‏1-‏4 پڑھ کر بہت تسلی ملی۔‏ ‏(‏اِن آیتوں کو پڑھیں۔‏)‏ اِن آیتوں سے اُن کو احساس ہوا کہ یہوواہ خدا کو خوش کرنا ہی سب سے اہم بات ہوتی ہے۔‏ اِس لیے اُنہوں نے فیصلہ کِیا کہ وہ اُن بہن بھائیوں کی باتوں کو نظرانداز کریں گی۔‏ وہ کہتی ہیں:‏ ”‏اب اگر دوسرے میرے بارے میں باتیں بناتے بھی ہیں تو مَیں اِنہیں دل پر نہیں لیتی کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ مَیں یہوواہ خدا کو خوش کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہوں۔‏“‏

اگر آپ معاملے کو نظرانداز نہیں کر سکتے

11‏،‏ 12.‏ ‏(‏الف)‏ اگر ایک مسیحی کو لگتا ہے کہ ’‏اُس کا بھائی اُس سے ناراض ہے‘‏ تو اُسے کیا کرنا چاہیے؟‏ (‏ب)‏ ابراہام نے جھگڑے کو سلجھانے کے لیے جو کچھ کِیا،‏ اِس سے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏ (‏اِس مضمون کی پہلی تصویر کو دیکھیں۔‏)‏

11 ‏”‏ہم سب بار بار غلطی کرتے ہیں۔‏“‏ (‏یعقو 3:‏2‏)‏ فرض کریں کہ آپ کو پتہ چلتا ہے کہ ایک مسیحی کو آپ کی کسی بات یا کام کی وجہ سے ٹھیس پہنچی ہے۔‏ ایسی صورتحال میں آپ کیا کر سکتے ہیں؟‏ یسوع مسیح نے یہ ہدایت دی:‏ ”‏اگر آپ قربان‌گاہ پر نذرانہ پیش کرنے جا رہے ہوں اور آپ کو یاد آئے کہ آپ کا بھائی آپ سے ناراض ہے تو اپنا نذرانہ وہیں قربان‌گاہ کے آگے چھوڑ دیں۔‏ پہلے جا کر اپنے بھائی سے صلح کریں اور پھر واپس آ کر نذرانہ پیش کریں۔‏“‏ (‏متی 5:‏23،‏ 24‏)‏ یسوع مسیح کی اِس ہدایت کے مطابق آپ کو اِس مسیحی سے بات کرنی چاہیے۔‏ لیکن آپ کا مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ آپ اُسے اُس کی غلطی تسلیم کرنے پر مجبور کریں بلکہ آپ کو اپنی غلطی تسلیم کرنی چاہیے اور اُس کے ساتھ صلح کرنی چاہیے۔‏ ایک دوسرے کے ساتھ صلح صفائی سے رہنا سب سے اہم بات ہوتی ہے۔‏

12 اِس مضمون میں ابراہام اور لُوط کا ذکر ہو چُکا  ہے۔‏  اُن  کی زندگی میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس سے اُن کے تعلقات میں دراڑ پڑ سکتی تھی۔‏ لیکن ابراہام نے صلح صفائی کی راہ اِختیار کی۔‏ آئیں،‏ دیکھیں کہ کیا ہوا۔‏ اُن دونوں کے پاس بہت سے مویشی تھے اِس لیے اُن کے چرواہوں میں چراگاہوں کی وجہ سے جھگڑا ہوا۔‏ ابراہام نے اچھے تعلقات برقرار رکھنے کی خاطر لُوط کو وہ علا‌قہ چُننے دیا جہاں وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ آباد ہونا چاہتے تھے۔‏ (‏پید 13:‏1،‏ 2،‏ 5-‏9‏)‏ ابراہام نے کتنی عمدہ مثال قائم کی!‏ اُنہوں نے اپنے فائدے کا سوچنے کی بجائے صلح صفائی سے رہنے کو ترجیح دی۔‏ کیا اُنہیں اپنی فراخ‌دلی کی وجہ سے نقصان اُٹھانا پڑا؟‏ نہیں۔‏ اِس واقعے کے فوراً بعد یہوواہ خدا نے ابراہام سے وعدہ کِیا کہ وہ اُنہیں بہت سی برکتیں دے گا۔‏ (‏پید 13:‏14-‏17‏)‏ خدا اپنے اُن خادموں کو کبھی دائمی نقصان نہیں اُٹھانے دیتا جو اُس کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے آپس کے اِختلا‌فات کو ختم کرتے ہیں۔‏ ‏[‏1]‏ 

13.‏ ایک نگہبان نے ایک بھائی کی زہریلی باتوں پر کیا ردِعمل دِکھایا اور ہم اِس سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

13 آئیں،‏ ہمارے زمانے میں ہونے والے ایک واقعے پر غور کریں۔‏ جب ایک بھائی کو اِجتماع کے ایک شعبے کا نگہبان بنایا گیا  تو اُس نے ایک اَور بھائی کو فون کر کے پوچھا کہ کیا وہ اِس شعبے میں اُس کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہے؟‏ لیکن اُس بھائی نے کچھ زہریلی باتیں کہہ کر کال بند کر دی۔‏ دراصل ماضی میں اُس کی سابقہ نگہبان سے اَن‌بن ہو گئی تھی جس کی وجہ سے اُس کے دل میں ابھی بھی رنجش تھی۔‏ نئے نگہبان نے بھائی کی بات کا بُرا نہیں مانا لیکن وہ اِس معاملے کو نظرانداز بھی نہیں کر سکتا تھا۔‏ لہٰذا اُس نے ایک گھنٹے کے بعد اُس بھائی کو دوبارہ فون کِیا اور مل بیٹھ کر مسئلے پر بات کرنے کا مشورہ دیا۔‏ وہ دونوں ایک ہفتے کے بعد کسی کنگڈم ہال میں ملے۔‏ اُنہوں نے مل کر دُعا کی اور پھر گھنٹہ بھر بات‌چیت کی۔‏ رنجیدہ بھائی نے نگہبان کو سارا قصہ سنایا۔‏ اُس کی بات کو سننے کے بعد نگہبان نے اُس کو بائبل کی کچھ آیتیں دِکھائیں۔‏ نگہبان کے ردِعمل کی وجہ سے اُس بھائی کو تسلی ملی اور وہ پُرسکون ہو گیا۔‏ اِس کے بعد اُس نے اِجتماع کے اُس شعبے میں خدمت کی۔‏ وہ اُس نگہبان کا شکرگزار ہے کہ اُس نے نرمی اور بُردباری سے معاملے کو سلجھایا۔‏

معاملہ کب بزرگوں کے سامنے پیش کِیا جائے؟‏

14،‏ 15.‏ ‏(‏الف)‏ متی 18:‏15-‏17 میں دی گئی ہدایت کس قسم کے گُناہوں پر لاگو ہوتی ہے؟‏ (‏ب)‏ یسوع مسیح نے کن تین اِقدام کا ذکر کِیا اور اِن پر عمل کرنے میں آپ کا مقصد کیا ہونا چاہیے؟‏

14 مسیحیوں کے درمیان ہونے والے زیادہ‌تر جھگڑوں کو سلجھانے کے لیے دوسروں کی مداخلت کی ضرورت نہیں ہوتی۔‏ لیکن یسوع مسیح نے کہا تھا کہ کچھ معاملوں کو سلجھانے کے لیے کلیسیا سے مدد لینے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔‏ ‏(‏متی 18:‏15-‏17 کو پڑھیں۔‏)‏ اگر گُناہ کرنے والا بھائی اُس بھائی کی نہ سنے جس کے خلا‌ف اُس نے گُناہ کِیا ہے اور گواہوں اور کلیسیا کی بھی نہ سنے تو اُس کے ساتھ کیا کِیا جانا چاہیے؟‏ یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏اُس کو غیریہودی سمجھیں اور اُسے ٹیکس وصول کرنے والے کی طرح خیال کریں“‏ یعنی اُسے کلیسیا سے خارج کِیا جانا چاہیے۔‏ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اِن آیتوں میں دو مسیحیوں کے درمیان چھوٹی موٹی اَن‌بن کے بارے میں بات نہیں ہو رہی ہے۔‏ اِن میں ایک ایسے گُناہ یعنی معاملے کے بارے  میں بات ہو رہی ہے جسے دو مسیحی آپس میں سلجھا  سکتے  ہیں  لیکن اِس کے ساتھ ساتھ یہ معاملہ اِتنا سنگین ہے کہ اگر گُناہ کرنے والا مسیحی اِسے سلجھانے کو تیار نہیں ہے تو اُسے کلیسیا سے خارج بھی کِیا جا سکتا ہے۔‏ ایسے گُناہوں میں کسی کو دھوکا دے کر اُسے مالی نقصان پہنچانا یا پھر جھوٹ بول کر کسی کو بدنام کرنا شامل ہے۔‏ یسوع مسیح نے متی 18:‏15-‏17 میں جن تین اِقدام کا ذکر کِیا ہے،‏ وہ صرف اِس قسم کے گُناہوں پر لاگو ہوتے ہیں۔‏ وہ زِناکاری،‏ ہم‌جنس‌پرستی،‏ برگشتگی اور بُت‌پرستی جیسے سنگین گُناہوں پر لاگو نہیں ہوتے کیونکہ اِس طرح کے گُناہ ہر صورت میں کلیسیا کے بزرگوں کے سامنے لائے جانے چاہئیں۔‏

ہو سکتا ہے کہ آپ کو اپنے بھائی کو سیدھی راہ پر واپس لانے کی بار بار کوشش کرنی پڑے۔‏ (‏پیراگراف 15 کو دیکھیں۔‏)‏

15 یسوع مسیح نے یہ ہدایت اِس لیے دی تاکہ ہم محبت ظاہر کرتے ہوئے اُس مسیحی کی مدد کریں جس نے ہمارے خلا‌ف گُناہ کِیا ہے۔‏ (‏متی 18:‏12-‏14‏)‏ آپ اِس ہدایت پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟‏ اگر کسی مسیحی نے آپ کے خلا‌ف گُناہ کِیا ہے تو پہلا قدم یہ ہے کہ آپ گُناہ کرنے والے بھائی سے بات کریں اور یوں معاملے کو سلجھانے کی کوشش کریں۔‏ ہو سکتا ہے کہ آپ کو اُس بھائی سے کئی بار بات کرنی پڑے۔‏ لیکن اگر معاملہ یوں حل نہیں ہوتا تو آپ کو دوسرا قدم اُٹھانا چاہیے اور کچھ اَور مسیحیوں کے ساتھ مل کر اُس بھائی سے بات کرنی چاہیے۔‏ خیال رکھا جائے کہ یہ ایسے مسیحی ہوں جنہوں نے معاملے کو اپنی آنکھوں سے ہوتے دیکھا ہو یا پھر جو اِس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آیا واقعی کوئی گُناہ کِیا گیا ہے یا نہیں۔‏ اگر اِس قدم سے معاملہ حل ہو جاتا ہے تو ”‏آپ اپنے بھائی کو سیدھی راہ پر واپس لے آئے ہیں۔‏“‏ لیکن اگر آپ کی بےشمار کوششوں کے باوجود یہ بھائی آپ کی بات نہیں مانتا تو آپ تیسرا قدم اُٹھا سکتے ہیں یعنی معاملے کو کلیسیا کے بزرگوں کے سامنے لا سکتے ہیں۔‏

16.‏ متی 18:‏15-‏17 میں دی گئی ہدایت پر عمل کرنا ایک معاملے کو سلجھانے اور محبت ظاہر کرنے کا بہترین طریقہ کیوں ہے؟‏

16 اکثر ایک مسیحی کو تینوں قدم اُٹھانے کی ضرورت  نہیں  پڑتی کیونکہ معاملہ پہلے یا دوسرے قدم سے حل ہو جاتا ہے۔‏ اور یہ بہت اچھی بات ہے کیونکہ جب گُناہ کرنے والا مسیحی اپنی غلطی تسلیم کر کے توبہ کر لیتا ہے تو وہ کلیسیا سے خارج ہونے سے بچ جاتا ہے۔‏ اکثر وہ مسیحی جس کے خلا‌ف گُناہ کِیا گیا ہے،‏ یہ دیکھ کر مطمئن ہو جاتا ہے کہ اُس کے بھائی نے توبہ کر لی ہے اور وہ اُسے معاف کر دیتا ہے۔‏ بہرحال ہمیں ایسا معاملہ صرف تب ہی کلیسیا کے بزرگوں کے سامنے لانا چاہیے اگر ہم نے پہلے دو قدم اُٹھا لیے ہیں اور اِس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ ہمارے خلا‌ف واقعی گُناہ کِیا گیا ہے۔‏

17.‏ اگر ہم دوسروں کے ساتھ صلح صفائی سے رہنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں کون سی برکتیں ملیں گی؟‏

17 جب تک شیطان کی دُنیا قائم ہے،‏ عیب‌دار اِنسان ایک دوسرے کو ٹھیس پہنچائیں گے۔‏ یعقوب کی یہ بات بالکل سچ ہے کہ ”‏اگر کوئی بولتے وقت غلطی نہیں کرتا تو وہ کامل شخص ہے اور اپنے پورے جسم کو بھی قابو میں رکھ سکتا ہے۔‏“‏ (‏یعقو 3:‏2‏)‏ آپس کے اِختلا‌فات کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اِس ہدایت پر عمل کریں:‏ ”‏صلح کا طالب ہو اور اُسی کی پیروی کر۔‏“‏ (‏زبور 34:‏14‏)‏ اگر ہم محبت ظاہر کرتے ہوئے اِختلا‌فات کو ختم کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے تو ہمیں بہت سی برکتیں ملیں گی۔‏ مثال کے طور پر ہم اپنے مسیحی بہن بھائیوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھیں گے اور کلیسیا کے اِتحاد کو فروغ دیں گے۔‏ (‏زبور 133:‏1-‏3‏)‏ اور سب سے بڑھ کر ہم یہوواہ خدا کو خوش کریں گے ”‏جو امن کا سرچشمہ ہے۔‏“‏—‏روم 16:‏20‏۔‏

^ ‏[‏1]‏ ‏(‏پیراگراف 12)‏ خدا کے کچھ اَور خادم جنہوں نے اِختلا‌فات کو ختم کرنے کے لیے قدم اُٹھائے،‏ یہ ہیں:‏ یعقوب نے عیسو کے ساتھ (‏پید 27:‏41-‏45؛‏ 33:‏1-‏11‏)‏،‏ یوسف نے اپنے بھائیوں کے ساتھ (‏پید 45:‏1-‏15‏)‏ اور جدعون نے اِفرائیم کے لوگوں کے ساتھ صلح کی۔‏ (‏قضا 8:‏1-‏3‏)‏ کیا آپ کو اِس سلسلے میں بائبل میں سے کچھ اَور مثالیں یاد ہیں؟‏