مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

‏”‏تیرے ہاتھ ڈھیلے نہ ہوں“‏

‏”‏تیرے ہاتھ ڈھیلے نہ ہوں“‏

‏”‏تیرے ہاتھ ڈھیلے نہ ہوں۔‏“‏‏—‏صفن 3:‏16‏۔‏

گیت:‏ 54،‏  32

1،‏ 2.‏ ‏(‏الف)‏ آج‌کل ہمیں کس طرح کی مشکلا‌ت کا سامنا ہے اور اِس کا کیا نتیجہ ہوتا ہے؟‏ (‏ب)‏ یسعیاہ 41:‏10،‏ 13 میں ہمیں کس بات کا یقین دِلایا گیا ہے؟‏

ایک پہل‌کار بہن جس کا شوہر بزرگ ہے،‏ کہتی ہے:‏ ”‏مَیں نے عبادت کا اچھا معمول قائم کِیا ہے لیکن اِس کے باوجود مَیں بہت سالوں سے افسردگی کا شکا‌ر ہوں۔‏ اِس وجہ سے میری نیند خراب ہوتی ہے،‏ میری صحت پر بُرا اثر پڑتا ہے اور مَیں بہت چڑچڑی رہتی ہوں۔‏ کبھی کبھار تو میرا دل کرتا ہے کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کہیں دُور بھاگ جاؤں۔‏“‏

2 کیا آپ اِس بہن کے احساسات کو سمجھ سکتے ہیں؟‏ افسوس کی بات ہے کہ شیطان کی دُنیا میں ہمیں بہت سی مشکلا‌ت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کی وجہ سے ہم پریشانیوں کے بوجھ تلے دب کر رہ جاتے ہیں۔‏ یہ بوجھ ہمیں آگے نہیں بڑھنے دیتے،‏ بالکل جیسے ایک لنگر کشتی کو آگے نہیں بڑھنے دیتا۔‏ (‏امثا 12:‏25‏)‏ ہم کس طرح کی مشکلا‌ت سے دوچار ہیں؟‏ شاید ہمارا کوئی عزیز فوت ہو گیا ہے،‏ ہم کسی سنگین بیماری میں مبتلا ہیں،‏ ہم مہنگا‌ئی یا بےروزگاری کا شکا‌ر ہیں یا پھر ہمیں مخالفت کا سامنا ہے۔‏ ہو سکتا ہے کہ اِن مشکلا‌ت کی وجہ سے ہم شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا ہو جائیں،‏ ہماری ہمت جواب دے جائے اور ہماری خوشی ماند پڑ جائے۔‏ لیکن یہ کبھی نہ بھولیں کہ یہوواہ کا دہنا ہاتھ ہمیں سنبھالنے کے لیے ہر وقت موجود ہے۔‏‏—‏یسعیاہ 41:‏10،‏ 13 کو پڑھیں۔‏

3،‏ 4.‏ ‏(‏الف)‏ بائبل میں لفظ ”‏ہاتھ“‏ کس طرح سے اِستعمال ہوا ہے؟‏ (‏ب)‏ ہمارے ہاتھ ڈھیلے کیسے پڑ سکتے ہیں؟‏

 3 بائبل میں کسی خوبی،‏ کام یا عمل کی طرف اِشارہ کرنے کے لیے اکثر جسم کے اعضا اِستعمال کیے گئے ہیں۔‏ مثال کے طور پر اِس میں لفظ ”‏ہاتھ“‏ کا ذکر سینکڑوں بار آتا ہے اور اِس کے فرق فرق مطلب ہیں،‏ مثلاً اِصطلا‌ح ”‏ہاتھ مضبوط کرنے“‏ کا مطلب یہ ہے:‏ کسی کا حوصلہ بڑھانا،‏ اُسے طاقت بخشنا یا اُسے کسی کام کے لیے تیار کرنا۔‏—‏1-‏سمو 23:‏16؛‏ نحم 2:‏18‏۔‏

4 ہاتھ ڈھیلے یا کمزور ہونے کا مطلب بےحوصلہ ہونا،‏ اُمید  کا دامن چھوڑ دینا یا ہمت ہارنا ہے۔‏ (‏2-‏توا 15:‏7؛‏ عبر 12:‏12‏)‏ کیا آپ کسی ایسی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں جس کی وجہ سے آپ ذہنی دباؤ یا شدید جسمانی تھکا‌وٹ کا شکا‌ر ہیں،‏ یہاں تک کہ آپ کو خدا کی خدمت بوجھ لگ رہی ہے؟‏ تو پھر آپ کیا کر سکتے ہیں تاکہ آپ کی ہمت جواب نہ دے جائے،‏ آپ کی خوشی برقرار رہے اور آپ کو ثابت‌قدم رہنے کا حوصلہ ملے؟‏

‏’‏یہوواہ کا ہاتھ چھوٹا نہیں کہ بچا نہ سکے‘‏

5.‏ ‏(‏الف)‏ مشکلا‌ت کا سامنا کرتے وقت ہمارے ہاتھ کیسے ڈھیلے پڑ سکتے ہیں لیکن ہمیں کیا یاد رکھنا چاہیے؟‏ (‏ب)‏ اِس مضمون میں ہم کس بات پر غور کریں گے؟‏

5 صفنیاہ 3:‏16،‏ 17 کو پڑھیں۔‏ مشکلا‌ت کا سامنا کرتے وقت اگر ہم خوف‌زدہ یا بےحوصلہ ہو جائیں گے تو یہ ایسے ہوگا جیسے ہمارے ہاتھ ڈھیلے پڑ گئے ہوں۔‏ اِس کی بجائے ہمیں اپنی ساری پریشانیاں اپنے آسمانی باپ یہوواہ پر ڈال دینی چاہئیں۔‏ (‏1-‏پطر 5:‏7‏)‏ یاد رکھیں کہ اُس کو ہماری اُتنی ہی فکر ہے جتنی کہ بنی‌اِسرائیل کی۔‏ آج بھی ”‏[‏یہوواہ]‏ کا ہاتھ چھوٹا نہیں ہو گیا کہ بچا نہ سکے۔‏“‏ (‏یسع 59:‏1‏)‏ یہوواہ خدا مصیبت کے وقت اپنے بندوں کی مدد کرنا چاہتا ہے اور وہ ایسا کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔‏ آئیں،‏ اِس سلسلے میں تین لوگوں کی زندگی پر غور کریں جن کی یہوواہ خدا نے مدد کی اور دیکھیں کہ اِن کی مثال سے آپ کو کیسے ہمت مل سکتی ہے۔‏

6،‏ 7.‏ جس طرح سے بنی‌اِسرائیل،‏ عمالیقیوں پر غالب آئے،‏ اِس سے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

6 اِسرائیلیوں کو مصر سے رِہا ہوئے تھوڑا ہی عرصہ ہوا تھا  کہ  اُن پر عمالیقیوں نے حملہ کر دیا۔‏ اِس پر موسیٰ نے یشوع سے کہا کہ وہ جنگ میں اِسرائیل کی پیشوائی کریں۔‏ پھر جب بنی‌اِسرائیل جنگ لڑنے کے لیے جا رہے تھے تو موسیٰ نے ہارون اور حور کو اپنے ساتھ لیا اور ایسے پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے جہاں سے وہ میدانِ‌جنگ کو دیکھ سکتے تھے۔‏ کیا یہ تینوں ڈر کے مارے میدانِ‌جنگ پر نہیں گئے؟‏ ہرگز نہیں۔‏

7 پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ کر موسیٰ نے اپنے ہاتھوں میں خدا کی لاٹھی لی اور ہاتھوں کو اُوپر اُٹھائے رکھا۔‏ جب تک موسیٰ کے ہاتھ اُوپر کی طرف ہوتے،‏ یہوواہ خدا اِسرائیلیوں کی مدد کرتا اور وہ جنگ جیتنے لگتے۔‏ لیکن جونہی موسیٰ کے بازو تھک جاتے اور وہ ہاتھ نیچے کرتے،‏ عمالیقی جیتنے لگتے۔‏ یہ دیکھ کر ہارون اور حور نے ”‏ایک پتھر لے کر موسیٰؔ کے نیچے رکھ دیا اور وہ اُس پر بیٹھ گیا اور ہارؔون اور حوؔر ایک اِدھر سے دوسرا اُدھر سے اُس کے ہاتھوں کو سنبھالے رہے۔‏ تب اُس کے ہاتھ آفتاب کے غروب ہونے تک مضبوطی سے اُٹھے رہے۔‏“‏ یوں بنی‌اِسرائیل یہوواہ کے قوی ہاتھ کی مدد سے جنگ جیت گئے۔‏—‏خر 17:‏8-‏13‏۔‏

8.‏ ‏(‏الف)‏ جب کوشی فوج یہوداہ سے جنگ کرنے کے لیے آئی تو بادشاہ آسا نے کیا کِیا؟‏ (‏ب)‏ ہم آسا کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟‏

8 بادشاہ آسا کے دنوں میں بھی یہوواہ خدا نے ثابت کِیا کہ اُس کا ”‏ہاتھ چھوٹا نہیں ہو گیا۔‏“‏ خدا کے کلام میں بہت سی جنگوں کا ذکر آیا ہے۔‏ لیکن سب سے بڑی فوج جو بنی‌اِسرائیل کے خلا‌ف لڑنے آئی،‏ وہ زارح کوشی کی فوج تھی جس میں 10 لاکھ جنگجو تھے۔‏ اِن کی تعداد آسا کے فوجیوں سے تقریباً دُگنی تھی۔‏ کیا یہ دیکھ کر آسا خوف‌زدہ ہو گئے اور اُن کے ہاتھ ڈھیلے پڑ گئے؟‏ نہیں بلکہ اُنہوں نے فوراً یہوواہ خدا کے سامنے مدد کے لیے ہاتھ پھیلا‌ئے۔‏ اگر اِنسانی نقطۂ‌نظر سے سوچا جائے تو اِس کا کوئی اِمکا‌ن نہیں تھا کہ  بنی‌اِسرائیل جنگ جیتیں۔‏ لیکن ”‏خدا کے لیے سب کچھ ممکن  ہے۔‏“‏ (‏متی 19:‏26‏)‏ اُس نے اپنی زبردست طاقت سے ”‏آؔسا .‏ .‏ .‏ کے آگے کوشیوں کو مارا“‏ کیونکہ ”‏آؔسا کا دل عمر بھر [‏یہوواہ]‏ کے ساتھ کامل رہا۔‏“‏—‏2-‏توا 14:‏8-‏13؛‏ 1-‏سلا 15:‏14‏۔‏

9.‏ ‏(‏الف)‏ نحمیاہ باقی یہودیوں کی طرح بےحوصلہ کیوں نہیں ہو گئے؟‏ (‏ب)‏ خدا نے نحمیاہ کی دُعا کا کیسے جواب دیا؟‏

9 ذرا سوچیں کہ نحمیاہ پر اُس وقت کیا  گزری  ہوگی  جب  اُنہوں نے یروشلیم پہنچ کر دیکھا کہ شہر کی دیواریں ملبے کا ڈھیر ہیں۔‏ دراصل یہودیوں نے آس‌پاس کی قوموں کی دھمکیوں کی وجہ سے دیواروں کو بنانا چھوڑ دیا تھا اور وہ سخت بےحوصلہ تھے۔‏ یہ سب کچھ دیکھ کر کیا نحمیاہ کے ہاتھ بھی ڈھیلے پڑ گئے؟‏ نہیں۔‏ موسیٰ،‏ آسا اور یہوواہ کے دیگر وفادار بندوں کی طرح نحمیاہ بھی خدا پر مکمل بھروسا رکھتے تھے اور اِس بار بھی اُنہوں نے خدا سے مدد کی اِلتجا کی۔‏ خدا نے اُن کی سنی اور ”‏اپنی بڑی قدرت اور قوی ہاتھ“‏ سے اِسرائیلیوں کے ہاتھوں کو مضبوط کِیا جس کے نتیجے میں وہ دوبارہ سے یروشلیم کی دیواریں بنانے لگے۔‏ ‏(‏نحمیاہ 1:‏10؛‏ 2:‏17-‏20؛‏ 6:‏9 کو پڑھیں۔‏)‏ کیا آپ کو یقین ہے کہ یہوواہ خدا آج بھی ”‏اپنی بڑی قدرت اور قوی ہاتھ“‏ سے اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے؟‏

یہوواہ آپ کے ہاتھوں کو بھی مضبوط کرے گا

10،‏ 11.‏ ‏(‏الف)‏ شیطان ہمارے ہاتھوں کو ڈھیلا کرنے کی کوشش کیسے کرتا ہے؟‏ (‏ب)‏ یہوواہ خدا نے ہمارے ہاتھوں کو مضبوط کرنے کے لیے کیا کچھ فراہم کِیا ہے؟‏ (‏ج)‏ آپ کو خدا کی طرف سے ملنے والی تعلیم‌وتربیت سے کیا فائدہ ہوا ہے؟‏

10 شیطان چاہتا ہے کہ ہم خدا کی خدمت کرنا چھوڑ دیں اور وہ اِس سلسلے میں اپنے ہاتھ پاؤں مارتا رہے گا۔‏ وہ حکومتوں،‏ مذہبی پیشواؤں اور خدا سے برگشتہ لوگوں کے ذریعے ہمارے بارے میں جھوٹ پھیلا‌تا ہے اور ہمیں دھمکیاں دیتا ہے۔‏ وہ چاہتا ہے کہ ہم بادشاہت کی خوش‌خبری سنانے سے ہاتھ کھینچ لیں۔‏ لیکن یہوواہ خدا اپنی پاک روح کے ذریعے ہمیں زور بخشتا ہے تاکہ ہم ایسی مخالفت سے نمٹ سکیں۔‏ (‏1-‏توا 29:‏12‏)‏ لہٰذا یہ بہت اہم ہے کہ ہم اُس سے پاک روح مانگیں تاکہ ہم شیطان اور اُس کی دُنیا کی طرف سے آنے والی ہر رُکاوٹ کو عبور کر سکیں۔‏ (‏زبور 18:‏39؛‏ 1-‏کُر 10:‏13‏)‏ اِس جنگ کو لڑنے میں خدا کا کلام بھی ہمارے بہت کام آتا ہے۔‏ کیا آپ اُس توانائی‌بخش روحانی کھانے کے لیے شکرگزار نہیں جو ہمیں ہر مہینے ملتا ہے؟‏ جب یروشلیم میں ہیکل دوبارہ تعمیر کی جا رہی تھی تو یہوواہ نے وہ بات کہی جو زکریاہ 8:‏9،‏ 13 میں درج ہے۔‏ ‏(‏اِن آیتوں کو پڑھیں۔‏)‏ اِس بات کو پڑھ کر ہم آج بھی حوصلہ پاتے ہیں۔‏

11 ذرا اُن اِجلا‌سوں،‏ اِجتماعوں اور سکولوں کے بارے میں بھی سوچیں جو ہماری تنظیم منعقد کرتی ہے۔‏ اِن سب کے ذریعے یہوواہ خدا ہمیں تعلیم دیتا ہے اور ہمارا ایمان مضبوط کرتا ہے۔‏ اِس تعلیم‌وتربیت کی مدد سے ہم صحیح نیت سے خدا کی عبادت کرتے ہیں،‏ اُس کی خدمت کے سلسلے میں منصوبے بناتے ہیں اور مسیحیوں کے طور پر اپنی ذمےداریاں نبھاتے ہیں۔‏ (‏زبور 119:‏32‏)‏ کیا آپ اِس تعلیم سے بھرپور فائدہ اُٹھا رہے ہیں؟‏

12.‏ ہمیں کیا کرنا چاہیے تاکہ ہمارے ہاتھ مضبوط رہیں؟‏

12 یہوواہ خدا نے بنی‌اِسرائیل کو عمالیقیوں اور کوشیوں پر جیت دی اور نحمیاہ اور اُن کے ساتھیوں کو تعمیراتی کام جاری رکھنے کی طاقت دی۔‏ اِسی طرح وہ ہمیں بھی طاقت بخشے گا تاکہ ہم مخالفت،‏ پریشانیوں اور لوگوں کی ناقدری کے باوجود مُنادی کے کام کو جاری رکھ سکیں۔‏ (‏1-‏پطر 5:‏10‏)‏ لیکن یہوواہ خدا ہماری مدد کرنے کے لیے کوئی معجزہ نہیں کرے گا بلکہ ہمیں بھی کچھ کرنا ہوگا۔‏ ہمیں اُن سہولتوں کا بھرپور فائدہ اُٹھانا ہوگا جو یہوواہ خدا نے ہمارے ہاتھوں کو مضبوط کرنے کے لیے فراہم کی ہیں۔‏ اِس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اُس کے کلام کو ہر روز پڑھیں،‏ اِجلا‌سوں کے لیے تیاری کریں،‏ باقاعدگی سے اِن پر جائیں،‏ خاندانی عبادت کریں،‏ ذاتی طور پر بائبل کا مطالعہ کریں اور دُعا کریں۔‏ ہمیں کبھی اپنے مشغلوں  یا کاموں میں اِتنا مگن نہیں ہونا چاہیے کہ ہم اِن سب سہولتوں سے فائدہ حاصل کرنا چھوڑ دیں۔‏ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کو اِس سلسلے میں بہتری لانے کی ضرورت ہے تو یہوواہ خدا سے مدد مانگیں۔‏ پھر آپ دیکھیں گے کہ وہ آپ کو کیسے ”‏توانائی بخشتا ہے تاکہ آپ میں ایسے کام کرنے کی خواہش اور طاقت پیدا ہو جو اُسے پسند ہیں۔‏“‏ (‏فل 2:‏13‏)‏ آئیں،‏ اب دیکھتے ہیں کہ ہم دوسروں کے ہاتھوں کو مضبوط کرنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔‏

کمزور ہاتھوں کو مضبوط کریں

13،‏ 14.‏ ‏(‏الف)‏ جب ایک بھائی مشکلوں سے دوچار تھا تو اُس  کی حوصلہ‌افزائی کیسے ہوئی؟‏ (‏ب)‏ ہم ایک دوسرے کے ہاتھوں کو کیسے مضبوط کر سکتے ہیں؟‏

13 یہوواہ خدا نے ہمیں پوری دُنیا میں بہن بھائی دیے ہیں جو ہماری مدد کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔‏ پولُس رسول نے لکھا:‏ ”‏کمزور ہاتھوں اور لرزتے گھٹنوں کو مضبوط کریں اور سیدھی راہ پر چلتے رہیں۔‏“‏ (‏عبر 12:‏12،‏ 13‏)‏ پہلی صدی میں مسیحیوں نے ایک دوسرے کی مدد کی اور آج بھی ایسا ہی ہے۔‏ ایک بھائی جس کی بیوی فوت ہو گئی اور جسے اَور بھی بہت سی مشکلا‌ت کا سامنا کرنا پڑا،‏ کہتا ہے:‏ ”‏مَیں نے دیکھا ہے کہ ہم اِس بات کا اِنتخاب نہیں کر سکتے کہ ہم پر کون سی اور کتنی مصیبتیں آئیں گی اور یہ کب آئیں گی۔‏ جب مَیں اپنی مشکلا‌ت کے سمندر میں ڈوبنے والا تھا تو دُعا اور بائبل کا مطالعہ کرنا میرے لیے ایک لائف جیکٹ کی طرح رہا۔‏ میرے مسیحی بہن بھائیوں نے بھی مجھے بہت تسلی دی۔‏ مَیں سمجھ گیا ہوں کہ اِس سے پہلے کہ ہم پر مصیبت آئے،‏ ہمیں یہوواہ خدا کے ساتھ اپنی دوستی کو مضبوط کرنا چاہیے۔‏“‏

ہم سب کو ایک دوسرے کی مدد اور حوصلہ‌افزائی کرنی چاہیے۔‏ (‏پیراگراف 14 کو دیکھیں۔‏)‏

14 ہارون اور حور نے موسیٰ کے بازوؤں کو سہارا  دیا۔‏  ہم  بھی اپنے بہن بھائیوں کو سہارا دینے اور اُن کی مدد کرنے کے موقعے تلا‌ش کر سکتے ہیں۔‏ مثال کے طور پر ہم عمررسیدہ،‏ بیمار یا تنہائی کا شکا‌ر بہن بھائیوں کی مدد کو آ سکتے ہیں۔‏ ہم اُن بہن بھائیوں کا حوصلہ بھی بڑھا سکتے ہیں جن کو رشتےداروں کی طرف  سے  مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا جن کا کوئی عزیز فوت ہو گیا ہے۔‏ ہم اُن نوجوانوں کے ہاتھوں کو بھی مضبوط کر سکتے ہیں جن پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ کوئی غلط کام کریں،‏ اعلیٰ تعلیم حاصل کریں یا بہت سا پیسہ کمائیں۔‏ (‏1-‏تھس 3:‏1-‏3؛‏ 5:‏11،‏ 14‏)‏ جب آپ کنگڈم ہال میں،‏ مُنادی کے دوران،‏ کسی دعوت پر یا پھر فون پر اپنے بہن بھائیوں سے بات کرتے ہیں تو یہ بھانپنے کی کوشش کریں کہ آپ کن طریقوں سے اُن کی مدد کر سکتے ہیں۔‏

15.‏ ہماری حوصلہ‌افزا باتوں سے دوسرے مسیحیوں پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟‏

15 بادشاہ آسا کی شان‌دار جیت کے بعد عزریاہ نبی نے اُن سے اور اُن کی رعایا سے کہا:‏ ”‏تُم مضبوط بنو اور تمہارے ہاتھ ڈھیلے نہ ہونے پائیں کیونکہ تمہارے کام کا اجر ملے گا۔‏“‏ (‏2-‏توا 15:‏7‏)‏ یہ سُن کر بادشاہ آسا کو اِتنا حوصلہ ملا کہ اُنہوں نے ملک میں بہت سی تبدیلیاں کیں تاکہ خدا کی عبادت صحیح طریقے سے کی جائے۔‏ اِسی طرح آپ کی حوصلہ‌افزا باتوں سے بھی دوسروں پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے اور وہ اَور بھی دل لگا کر یہوواہ خدا کی خدمت کرنے کی ترغیب پا سکتے ہیں۔‏ (‏امثا 15:‏23‏)‏ یہ بھی یاد رکھیں کہ اِجلا‌سوں پر تسلی‌بخش تبصرے دینے سے بھی ہم دوسروں کی ہمت بڑھا سکتے ہیں۔‏

16.‏ ‏(‏الف)‏ نحمیاہ کی طرح کلیسیا کے بزرگ بہن بھائیوں کے ہاتھوں کو مضبوط کیسے کر سکتے ہیں؟‏ (‏ب)‏ بہن بھائیوں نے آپ کی مدد کیسے کی ہے؟‏

16 یہوواہ خدا کی مدد سے نحمیاہ اور اُن کے ساتھیوں نے اپنے ہاتھوں کو مضبوط کِیا اور تعمیراتی کام جاری رکھا۔‏ اِس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اُنہوں نے 52 دن کے اندر اندر ہی یروشلیم کی دیواریں کھڑی کر لیں۔‏ (‏نحم 2:‏18؛‏ 6:‏15،‏ 16‏)‏ لیکن نحمیاہ نے اِس کام کی صرف نگرانی ہی نہیں کی بلکہ خود بھی اِس میں حصہ لیا۔‏ (‏نحم 5:‏16‏)‏ نحمیاہ کی مثال پر عمل کرتے ہوئے کلیسیا کے بزرگ بھی ہمارے تعمیراتی کاموں یا کنگڈم ہال کی صفائی اور دیکھ‌بھال میں خود بھی حصہ لیتے ہیں۔‏ وہ مبشروں کے ساتھ مل کر مُنادی کرتے ہیں اور بہن  بھائیوں کی حوصلہ‌افزائی کرنے کے لیے اُن سے ملنے جاتے ہیں۔‏ اِس طرح وہ کمزور ہاتھوں اور خوف‌زدہ دلوں کو مضبوط کرتے ہیں۔‏‏—‏یسعیاہ 35:‏3،‏ 4 کو پڑھیں۔‏

‏”‏تیرے ہاتھ ڈھیلے نہ ہوں“‏

17،‏ 18.‏ جب ہمیں مشکلا‌ت یا پریشانیوں کا سامنا ہوتا ہے تو ہم کس بات پر بھروسا رکھ سکتے ہیں؟‏

17 جب ہم بہن بھائیوں کے ساتھ مل کر خدا کی خدمت کرتے ہیں تو ہم ابھی سے ہی کچھ ایسی برکتوں سے لطف اُٹھا سکتے ہیں جو ہمیں خدا کی بادشاہت میں ملیں گی۔‏ اِس کے علا‌وہ ہمارا اِتحاد بڑھتا ہے اور ہم مضبوط دوستیاں قائم کرتے ہیں۔‏ جب ہم دوسروں کے ہاتھ مضبوط کرتے ہیں تو وہ مشکل صورتحال سے نمٹنے کے قابل ہوتے ہیں اور ایک اچھے مستقبل کی اُمید باندھتے ہیں۔‏ اِس کے ساتھ ساتھ ہمارا اپنا دھیان بھی خدا کی خدمت کرنے پر رہتا ہے اور ہمارے اپنے ہاتھ بھی مضبوط ہو جاتے ہیں۔‏

18 ہم نے دیکھا ہے کہ یہوواہ نے ماضی میں اپنے خادموں کی مدد کی اور اُنہیں محفوظ رکھا۔‏ اِن خادموں کی مثالوں پر غور کرنے سے یہوواہ خدا پر ہمارا ایمان اور بھروسا مضبوط ہو جاتا ہے۔‏ لہٰذا جب آپ مصیبتوں اور دباؤ کا سامنا کرتے ہیں تو ’‏اپنے ہاتھ ڈھیلے نہ ہونے دیں۔‏‘‏ اِس کی بجائے یہوواہ خدا کے سامنے دُعا میں ہاتھ پھیلا‌ئیں۔‏ پھر اُس کا قوی ہاتھ آپ کے دہنے ہاتھ کو پکڑ کر آپ کی رہنمائی کرے گا اور آپ اُن برکتوں کو دیکھیں گے جو نئی دُنیا میں ملیں گی۔‏—‏زبور 73:‏23،‏ 24‏۔‏