مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

یہوواہ اپنے وفادار بندوں کو اجر دیتا ہے

یہوواہ اپنے وفادار بندوں کو اجر دیتا ہے

‏”‏جو شخص خدا کی عبادت کرتا ہے،‏ اُس کو ایمان رکھنا ہوگا کہ وہ ہے اور اُن سب کو اجر دے گا جو لگن سے اُس کی خدمت کرتے ہیں۔‏“‏‏—‏عبر 11:‏6‏۔‏

گیت:‏ 26‏،‏ 55

1،‏ 2.‏ ‏(‏الف)‏ محبت اور ایمان کا آپس میں کیا تعلق ہے؟‏ (‏ب)‏ اِس مضمون میں ہم کن سوالوں پر غور کریں گے؟‏

ہم یہوواہ خدا سے محبت کرتے ہیں ”‏کیونکہ پہلے اُس نے ہم سے محبت کی۔‏“‏ (‏1-‏یوح 4:‏19‏)‏ یہوواہ خدا اپنی محبت اِس طرح سے بھی ظاہر کرتا ہے کہ اُس نے اپنے وفادار بندوں کو اجر دینے کا وعدہ کِیا ہے۔‏ ہمارے دل میں یہوواہ خدا کے لیے جتنی زیادہ محبت ہوگی،‏ اُتنا ہی زیادہ ہمارا ایمان مضبوط ہوگا اور اِس بات پر ہمارا یقین بڑھے گا کہ وہ اُن لوگوں کو اجر دیتا ہے جن سے وہ محبت کرتا ہے۔‏—‏عبرانیوں 11:‏6 کو پڑھیں۔‏

2 یہوواہ خدا کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کو اجر دینے کی دلی خواہش رکھتا ہے۔‏ اگر ہم اِس بات پر پکا یقین نہیں رکھتے تو ہمارا ایمان مکمل نہیں ہے۔‏ ایسا کیوں ہے؟‏ کیونکہ پاک کلام میں لکھا ہے:‏ ”‏ایمان اِس بات کی ضمانت ہے کہ ہماری اُمید ضرور پوری ہوگی۔‏“‏ (‏عبر 11:‏1‏)‏ جو شخص خدا پر ایمان رکھتا ہے،‏ اُسے پکا یقین ہوتا ہے کہ خدا اپنے وفادار خادموں کو برکت دے گا۔‏ لیکن اجر کی اُمید رکھنے سے ہمیں کون سے فائدے ہوتے ہیں؟‏ یہوواہ خدا نے ماضی میں اور حال میں اپنے خادموں کو کس طرح کے اجر دیے ہیں؟‏ آئیں،‏ دیکھتے ہیں۔‏

 یہوواہ خدا کا وعدہ

3.‏ ملاکی 3:‏10 میں یہوواہ نے کیا پیشکش کی ہے؟‏

3 یہوواہ خدا نے زبان دی ہے۔‏ اُس نے ہمیں یہ پیشکش کی ہے کہ اگر ہم پوری لگن سے اُس کی خدمت کریں گے تو وہ ہم پر ’‏آسمان کے دریچوں کو کھول کر برکت برسائے گا،‏ یہاں تک کہ ہمارے پاس اُس کے لئے جگہ نہ رہے گی۔‏‘‏ (‏ملا 3:‏10‏)‏ خدا کی اِس پیشکش کو قبول کرنے سے ہم شکرگزاری ظاہر کرتے ہیں۔‏

4.‏ ہم متی 6:‏33 میں لکھی بات پر بھروسا کیوں رکھ سکتے ہیں؟‏

4 یسوع مسیح نے اپنے پیروکاروں سے وعدہ کِیا تھا کہ اگر وہ خدا کی بادشاہت کو اپنی زندگی میں پہلا درجہ دیں گے تو خدا اُن کا خیال رکھے گا۔‏ ‏(‏متی 6:‏33 کو پڑھیں۔‏)‏ یسوع مسیح یہ وعدہ کیوں کر سکتے تھے؟‏ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہوواہ اپنے وعدوں کا پکا ہے۔‏ (‏یسع 55:‏11‏)‏ یہوواہ خدا نے اپنے بندوں سے یہ وعدہ کِیا ہے کہ ”‏مَیں تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا۔‏ مَیں تمہیں کبھی ترک نہیں کروں گا۔‏“‏ (‏عبر 13:‏5‏)‏ لہٰذا اگر ہم اُس پر مضبوط ایمان رکھتے ہیں تو ہمیں کوئی شک نہیں ہوگا کہ متی 6:‏33 میں لکھی بات بھی پوری ہوگی۔‏

یسوع مسیح نے اپنے پیروکاروں سے کہا کہ اگر وہ خدا کی خاطر قربانیاں دیں گے تو اُن کو ضرور اجر ملے گا۔‏ (‏پیراگراف 5 کو دیکھیں۔‏)‏

5.‏ یسوع مسیح نے پطرس رسول کو جو جواب دیا،‏ وہ ہم سب کے لیے حوصلہ‌افزا کیوں ہے؟‏

5 ایک موقعے پر پطرس رسول نے یسوع مسیح سے پوچھا:‏ ”‏ہم نے سب کچھ چھوڑ دیا ہے اور آپ کے پیروکار بن گئے ہیں۔‏ ہمیں کیا ملے گا؟‏“‏ (‏متی 19:‏27‏)‏ کیا یسوع مسیح نے پطرس کو ایسا سوال کرنے پر ٹوکا؟‏ نہیں بلکہ اُنہوں نے اپنے پیروکاروں سے کہا کہ وہ خدا کی خاطر جتنی بھی قربانیاں دیتے ہیں،‏ اُن کو مستقبل میں  اِس کا اجر ضرور ملے گا۔‏ رسولوں اور باقی مسح‌شُدہ مسیحیوں کا اجر یہ ہے کہ وہ یسوع مسیح کے ساتھ آسمان پر حکمرانی کریں۔‏ لیکن یسوع مسیح نے یہ بھی کہا کہ خدا کے خادموں کو ابھی بھی اجر ملتا ہے۔‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏جس شخص نے میری خاطر گھر،‏ بہن بھائی،‏ ماں باپ،‏ بچے یا زمینیں چھوڑ دی ہیں،‏ اُسے سو گُنا زیادہ ملے گا اور اُسے ورثے میں ہمیشہ کی زندگی بھی ملے گی۔‏“‏ (‏متی 19:‏29‏)‏ یسوع مسیح کے تمام پیروکاروں کو کلیسیا میں ایسے مسیحی مل سکتے ہیں جو اُن کے لیے ماں باپ،‏ بہن بھائی یا بچوں کی طرح ہیں۔‏ اِس کے پیشِ‌نظر وہ قربانیاں تو کچھ بھی نہیں جو ہم خدا کی راہ میں دیتے ہیں۔‏

‏”‏اُمید ہماری جانوں کے لیے ایک لنگر کی طرح ہے“‏

6.‏ یہوواہ خدا نے ہمیں اجر دینے کا وعدہ کیوں کِیا ہے؟‏

6 یہوواہ خدا نے ہمیں اجر دینے کا وعدہ اِس لیے بھی کِیا ہے تاکہ ہم مشکل وقت میں ثابت‌قدم رہ سکیں۔‏ ہم اُن شان‌دار برکتوں کا شدت سے اِنتظار کر رہے ہیں جو وہ ہمیں مستقبل میں دے گا۔‏ (‏1-‏تیم 4:‏8‏)‏ اِس اُمید کی بدولت ہم مسئلوں اور آزمائشوں کا سامنا کرتے وقت بھی ثابت‌قدم رہنے کے قابل ہوتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ یہوواہ خدا ”‏اُن سب کو اجر دے گا جو لگن سے اُس کی خدمت کرتے ہیں۔‏“‏—‏عبر 11:‏6‏۔‏

7.‏ ہماری اُمید ایک لنگر کی طرح کیوں ہے؟‏

7 یسوع مسیح نے پہاڑی وعظ میں کہا:‏ ”‏لوگوں نے .‏ .‏ .‏ اُن نبیوں کو بھی اذیت پہنچائی جو آپ سے پہلے آئے تھے۔‏ اِس لیے خوش ہوں اور خوشی سے جھومیں کیونکہ آپ کو آسمان میں بڑا اجر ملے گا۔‏“‏ (‏متی 5:‏12‏)‏ خدا کے تمام خادم واقعی خوش ہو سکتے اور خوشی سے جھوم سکتے ہیں کیونکہ اُنہیں یا تو آسمان پر اجر ملے گا یا پھر زمین پر فردوس میں ہمیشہ کی زندگی ملے گی۔‏ (‏زبور 37:‏11؛‏ لُو 18:‏30‏)‏ ”‏یہ اُمید ہماری جانوں کے لیے ایک لنگر کی طرح ہے۔‏ یہ مضبوط اور قابلِ‌بھروسا ہے۔‏“‏ (‏عبر 6:‏17-‏20‏)‏ جس طرح ایک لنگر جہاز کو طوفان میں محفوظ رکھتا ہے اِسی طرح ہماری اُمید ہمیں حد سے زیادہ پریشان ہونے سے محفوظ رکھتی ہے۔‏ اِس کی بدولت ہمیں مشکل وقت میں بھی ثابت‌قدم رہنے کی ہمت ملتی ہے۔‏

8.‏ خدا کے وعدوں پر اُمید رکھنے سے ہماری پریشانی کم کیوں ہو جاتی ہے؟‏

8 اگر ہم کسی نہ کسی وجہ سے پریشان ہیں تو خدا کے وعدوں پر اُمید رکھنے سے یہ پریشانی کم ہو سکتی ہے۔‏ جس طرح مرہم سے زخم کو آرام ملتا ہے اُسی طرح خدا کے وعدوں سے ہمارے پریشان دل کو آرام مل سکتا ہے۔‏ ہمیں یہ جان کر تسلی ملتی ہے کہ اگر ہم ”‏اپنا بوجھ [‏یہوواہ]‏ پر ڈال“‏ دیں گے تو وہ ہمیں سنبھالے گا۔‏ (‏زبور 55:‏22‏)‏ ہم پکا یقین رکھ سکتے ہیں کہ وہ ”‏ہمارے لیے اُس سے کہیں زیادہ کر سکتا ہے جو ہم تصور کرتے یا مانگتے ہیں۔‏“‏ (‏اِفس 3:‏20‏)‏ یہ کتنی حوصلہ‌افزا بات ہے کہ خدا ہمیں صرف وہی نہیں دے گا جو ہم مانگتے ہیں بلکہ اِس سے کہیں زیادہ دے گا!‏

9.‏ اگر ہم یہوواہ سے اجر پانا چاہتے ہیں تو ہمیں کیا کرنا ہوگا؟‏

9 اگر ہم یہوواہ سے اجر پانا چاہتے ہیں تو ہمیں اُس پر مضبوط ایمان رکھنا ہوگا اور اُس کا فرمانبردار رہنا ہوگا۔‏ موسیٰ نے بنی‌اِسرائیل سے کہا:‏ ”‏[‏یہوواہ]‏ تجھ کو اِس ملک میں ضرور برکت بخشے گا جسے خود [‏یہوواہ]‏ تیرا خدا میراث کے طور پر تجھ کو قبضہ کرنے کو دیتا ہے بشرطیکہ تُو [‏یہوواہ]‏ اپنے خدا کی بات مان کر اِن سب احکام پر چلنے کی احتیاط رکھے جو مَیں آج تجھ کو دیتا ہوں کیونکہ [‏یہوواہ]‏ تیرا خدا جیسا اُس نے تجھ سے وعدہ کِیا ہے تجھ کو برکت بخشے گا۔‏“‏ (‏اِست 15:‏4-‏6‏)‏ کیا آپ واقعی اِس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ یہوواہ آپ کی وفاداری کا اجر دے گا؟‏ ہمارے پاس اِس بات پر یقین رکھنے کی ٹھوس وجوہات ہیں۔‏

وفاداری کا اجر

10،‏ 11.‏ یہوواہ خدا نے یوسف کو اُن کی وفاداری کا کیا اجر دیا؟‏

10 پاک کلام میں خدا کے بہت سے وفادار خادموں کا ذکر ہے جن کو خدا کی طرف سے اجر ملا تھا۔‏ (‏روم 15:‏4‏)‏ اِس سلسلے میں یوسف کی زندگی پر غور کریں۔‏ اُن کے بھائیوں نے اُن کو غلام  کے طور پر بیچ دیا۔‏ پھر جب یوسف مصر میں تھے تو اُن کے آقا کی بیوی نے اُن پر جھوٹے اِلزام لگائے جس کی وجہ سے اُنہیں قید میں ڈال دیا گیا۔‏ کیا یہوواہ نے اِس مشکل گھڑی میں اُن کا ساتھ چھوڑ دیا؟‏ ہرگز نہیں۔‏ پاک کلام میں لکھا ہے:‏ ”‏[‏یہوواہ]‏ یوؔسف کے ساتھ تھا۔‏ .‏ .‏ .‏ اور جو کچھ وہ کرتا [‏یہوواہ]‏ اُس میں اِقبال‌مندی بخشتا تھا۔‏“‏ (‏پید 39:‏21-‏23‏)‏ اِس مشکل وقت میں بھی یوسف نے اُمید کا دامن نہیں چھوڑا اور وہ اپنے خدا کے وفادار رہے۔‏

11 کچھ سال بعد فرعون نے یوسف کو قید سے رِہا کر دیا اور اُنہیں سُرخ‌رو کر دیا۔‏ اب یہ خاکسار شخص ایک غلام نہیں رہا بلکہ فرعون کے بعد مصر کا سب سے بڑا حاکم بن گیا۔‏ (‏پید 41:‏1،‏ 37-‏43‏)‏ جب یوسف کے دو بیٹے ہوئے تو اُنہوں نے ”‏پہلوٹھے کا نام منسیؔ یہ کہہ کر رکھا کہ خدا نے میری اور میرے باپ کے گھر کی سب مشقت مجھ سے بُھلا دی۔‏ اور دوسرے کا نام اؔفرائیم یہ کہہ کر رکھا کہ خدا نے مجھے میری مصیبت کے ملک میں پھل‌دار کِیا۔‏“‏ (‏پید 41:‏51،‏ 52‏)‏ یہوواہ خدا نے یوسف کو اُن کی وفاداری کا اجر دیا جس کے نتیجے میں اُنہیں قحط کے دوران مصریوں اور اِسرائیلیوں کی جانیں بچانے کا شرف بھی ملا۔‏ یوسف جانتے تھے کہ یہ سب کچھ یہوواہ کی برکتوں کی وجہ سے ہی ہوا۔‏—‏پید 45:‏5-‏9‏۔‏

12.‏ یسوع مسیح آزمائشوں کا سامنا کرتے وقت خدا کے وفادار کیوں رہ پائے؟‏

12 یہوواہ خدا نے یسوع مسیح کو بھی اجر دیا کیونکہ وہ آزمائشوں کا سامنا کرتے وقت وفادار رہے تھے۔‏ مگر یسوع مسیح وفادار کیوں رہ پائے؟‏ خدا کے کلام میں لکھا ہے:‏ ”‏اُنہوں نے اُس خوشی کی خاطر جو اُن کو ملنی تھی،‏ سُولی کی تکلیف سہی [‏اور]‏ بےعزتی کی پرواہ نہیں کی۔‏“‏ (‏عبر 12:‏2‏)‏ یسوع مسیح کو اِس بات سے بڑی خوشی ملی کہ اُن کی وفاداری کی وجہ سے خدا کا نام پاک ٹھہرا۔‏ اجر کے طور پر اُنہیں خدا کی خوشنودی حاصل ہوئی اور بہت سے شان‌دار شرف بھی ملے۔‏ بائبل میں لکھا ہے کہ وہ ”‏خدا کے تخت کی دائیں طرف جا بیٹھے“‏ اور ”‏خدا نے اُن کو پہلے سے زیادہ اُونچا مرتبہ دیا اور مہربانی سے وہ نام دیا جو باقی سب ناموں سے اعلیٰ ہے۔‏“‏—‏فل 2:‏9‏۔‏

یہوواہ ہماری محنت کو نہیں بھولے گا

13،‏ 14.‏ یہوواہ ہماری خدمت کے بارے میں کیسا محسوس کرتا ہے؟‏

13 یہوواہ ہماری خدمت کی بڑی قدر کرتا ہے۔‏ وہ جانتا ہے کہ اُس کے کچھ خادموں میں اِعتماد کی کمی ہے۔‏ جب ہم اپنی ضروریاتِ‌زندگی اور ملازمت کے حوالے سے پریشان ہوتے ہیں تو وہ ہمیں سنبھالتا ہے۔‏ اور جب ہم شدید افسردگی یا بیماری کی وجہ سے پہلے کی طرح اُس کی خدمت نہیں کر سکتے تو وہ ہمیں سمجھتا ہے۔‏ وہ تو اِس بات کی بڑی قدر کرتا ہے کہ ہم مشکلات اور مسئلوں کے باوجود اُس کے وفادار رہتے ہیں۔‏‏—‏عبرانیوں 6:‏10،‏ 11 کو پڑھیں۔‏

14 یاد رکھیں کہ یہوواہ ’‏دُعا کا سننے والا‘‏ ہے۔‏ اِس لیے ہم پورا یقین رکھ سکتے ہیں کہ وہ ہماری سنے گا۔‏ (‏زبور 65:‏2‏)‏ یہوواہ ”‏عظیم رحمتوں کا باپ ہے اور بڑی تسلی بخشتا ہے۔‏“‏ (‏2-‏کُر 1:‏3‏)‏ وہ مشکل وقت میں ہمیں سہارا دیتا ہے تاکہ ہم اُس سے دُور نہ ہو جائیں۔‏ کبھی کبھار تو وہ ہمارے مسیحی بہن بھائیوں کے ذریعے ایسا کرتا ہے۔‏ وہ چاہتا ہے کہ ہم بھی دوسروں کی مدد کریں۔‏ اُس کے کلام میں لکھا ہے:‏ ”‏جو مسکینوں پر رحم کرتا ہے [‏یہوواہ]‏ کو قرض دیتا ہے اور وہ اپنی نیکی کا بدلہ پائے گا۔‏“‏ (‏امثا 19:‏17؛‏ متی 6:‏3،‏ 4‏)‏ لہٰذا جب ہم فراخ‌دلی سے اپنے بہن بھائیوں کی مدد کرتے ہیں تو یہ بالکل ایسے ہے جیسے کہ ہم یہوواہ خدا کو قرض دے رہے ہوں۔‏ اور اُس نے وعدہ کِیا ہے کہ وہ ہمیں اِس کا اجر ضرور دے گا۔‏

اجر—‏اب اور مستقبل میں

15.‏ آپ مستقبل میں کن برکات کو پانے کے مشتاق ہیں؟‏ (‏اِس مضمون کی پہلی تصویر کو دیکھیں۔‏)‏

15 مسح‌شُدہ مسیحی یسوع مسیح سے اِنعام میں ”‏نیکی کا تاج“‏ پانے کی اُمید رکھتے ہیں۔‏ (‏2-‏تیم 4:‏7،‏ 8‏)‏ لیکن اگر آپ آسمان پر جانے کی اُمید نہیں رکھتے تو کیا اِس کا مطلب ہے کہ خدا کی نظر میں آپ  کی قدر کم ہے؟‏ بالکل نہیں۔‏ یسوع مسیح کی لاکھوں ’‏اَور بھی بھیڑوں‘‏ کو بھی اِنعام ملے گا۔‏ وہ بےتابی سے اُس وقت کا اِنتظار کر رہی ہیں جب اُنہیں فردوس میں ہمیشہ کی زندگی ملے گی جہاں وہ ”‏سلامتی کی فراوانی سے شادمان رہیں“‏ گی۔‏—‏یوح 10:‏16؛‏ زبور 37:‏11‏۔‏

16.‏ پہلا یوحنا 3:‏19،‏ 20 ہمارے لیے تسلی کا باعث کیوں ہے؟‏

16 کبھی کبھار ہمیں لگتا ہے کہ ہم یہوواہ کے لیے زیادہ کچھ نہیں کر رہے یا پھر ہم سوچتے ہیں کہ وہ ہماری خدمت سے خوش نہیں ہے۔‏ کچھ بہن بھائیوں کو تو لگتا ہے کہ وہ اِس لائق ہی نہیں کہ اُنہیں خدا کی طرف سے اجر ملے۔‏ لیکن ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ”‏خدا ہمارے دل سے بڑا ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔‏“‏ ‏(‏1-‏یوحنا 3:‏19،‏ 20 کو پڑھیں۔‏)‏ جب ہم محبت اور ایمان کی بِنا پر یہوواہ کی خدمت کرتے ہیں تو وہ ہمیں ضرور اجر دے گا،‏ چاہے ہم اُس کی خدمت میں زیادہ کچھ نہ کر پائیں۔‏—‏مر 12:‏41-‏44‏۔‏

17.‏ ہمیں اِس آخری زمانے میں خدا کی طرف سے کون سے اجر مل رہے ہیں؟‏

17 یہوواہ خدا اِس آخری زمانے میں بھی اپنے بندوں کو طرح طرح کے اجر دیتا ہے۔‏ مثال کے طور پر وہ ہمیں کثرت سے تعلیم دیتا ہے جس کی وجہ سے ہم روحانی فردوس کا لطف اُٹھا رہے ہیں۔‏ (‏یسع 54:‏13‏)‏ جیسا کہ یسوع مسیح نے وعدہ کِیا تھا،‏ یہوواہ خدا نے ہمیں پوری دُنیا میں ایسے بہن بھائی عطا کیے ہیں جو دل سے ہم سے محبت کرتے ہیں۔‏ (‏مر 10:‏29،‏ 30‏)‏ اِس کے علاوہ خدا اُن سب کو سکون،‏ اِطمینان اور بہت سی خوشیوں سے نوازتا ہے جو لگن سے اُس کی خدمت کرتے ہیں۔‏—‏فل 4:‏4-‏7‏۔‏

18،‏ 19.‏ یہوواہ کے خادم اُن برکتوں کے بارے میں کیسا محسوس کرتے ہیں جو اُنہیں خدا سے ملی ہیں؟‏

18 پوری دُنیا میں یہوواہ کے خادموں نے دیکھا ہے کہ خدا نے اُنہیں بےشمار اجر دیے ہیں۔‏ مثال کے طور پر جرمنی میں رہنے والی بہن بیانکا کہتی ہیں:‏ ”‏مَیں یہوواہ کی بےحد شکرگزار ہوں کیونکہ وہ ہر روز میرا ساتھ دیتا ہے اور پریشانیوں سے نمٹنے میں میری مدد کرتا ہے۔‏ دُنیا میں ہر طرف بدنظمی اور تاریکی چھائی ہوئی ہے۔‏ لیکن مَیں یہوواہ کی بانہوں میں خود کو بہت محفوظ محسوس کرتی ہوں۔‏ جب بھی مَیں اُس کی خدمت کے سلسلے میں قربانیاں دیتی ہوں تو وہ مجھے اِس کا سو گُنا اجر دیتا ہے۔‏“‏

19 ذرا غور کریں کہ کینیڈا میں رہنے والی بہن پاؤلا کیا کہتی ہیں جن کی عمر 70 سال ہے اور جو ریڑھ کی ہڈی کی ایک شدید بیماری میں مبتلا ہیں۔‏ وہ کہتی ہیں:‏ ”‏حالانکہ میرے لیے ہلنا جلنا مشکل ہے لیکن اِس کا مطلب یہ نہیں کہ مَیں مُنادی نہیں کر سکتی۔‏ مَیں فون پر گواہی دیتی ہوں اور جب بھی مجھے موقعے ملتا ہے،‏ مَیں دوسروں کو بادشاہت کے بارے میں بتاتی ہوں۔‏ میرے پاس ایک نوٹ بُک ہے جس میں مَیں حوصلہ‌افزا آیتیں اور ہماری مطبوعات سے کچھ حوصلہ‌افزا باتیں لکھتی رہتی ہوں۔‏ وقتاًفوقتاً اِن پر غور کرنے سے مجھے بڑی تسلی ملتی ہے۔‏ مَیں نے دیکھا ہے کہ اگر ہم یہوواہ کے وعدوں پر اپنی پوری توجہ رکھتے ہیں تو ہم زیادہ دیر تک بےحوصلہ نہیں رہتے۔‏ چاہے ہماری صورتحال کچھ بھی ہو،‏ یہوواہ ہماری مدد کرنے کو ہر وقت تیار رہتا ہے۔‏“‏ ہو سکتا ہے کہ آپ کی صورتحال اِن دو بہنوں کی صورتحال سے بالکل فرق ہو لیکن آپ کو ایسے موقعے ضرور یاد ہوں گے جب یہوواہ خدا نے آپ کو یا کسی اَور بہن یا بھائی کو برکتیں دی تھیں۔‏ جب ہم اِس بات پر غور کرتے ہیں کہ ہمارا آسمانی باپ ہمیں ابھی کون سی برکتیں دے رہا ہے اور مستقبل میں کتنا شان‌دار اجر دے گا تو ہمیں بہت فائدہ ہوتا ہے۔‏

20.‏ جب ہم جی جان سے یہوواہ کی خدمت کرتے ہیں تو ہم کس بات پر پکا یقین رکھ سکتے ہیں؟‏

20 یاد رکھیں کہ دل سے دُعا کرنے کا ”‏بڑا اجر ہے۔‏“‏ آپ اِس بات پر پکا یقین رکھ سکتے ہیں کہ اگر آپ ’‏خدا کی مرضی پر چلتے رہیں گے تو آپ وہ سب کچھ پائیں گے جس کا اُس نے وعدہ کِیا ہے۔‏‘‏ (‏عبر 10:‏35،‏ 36‏)‏ لہٰذا آئیں،‏ اپنے ایمان کو مضبوط کرنے کی بھرپور کوشش کریں اور جی جان سے یہوواہ کی خدمت کریں کیونکہ وہ اپنے وفادار بندوں کو ضرور اجر دے گا۔‏‏—‏کُلسّیوں 3:‏23،‏ 24 کو پڑھیں۔‏