مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 مطالعے کا مضمون نمبر 26

پریشانیوں سے نمٹنے میں دوسروں کی مدد کریں

پریشانیوں سے نمٹنے میں دوسروں کی مدد کریں

‏”‏آپ سب میں اِتفاق ہو،‏ ایک دوسرے کے دُکھ سُکھ میں شریک ہوں،‏ دوسروں سے شفقت اور ہمدردی سے پیش آئیں اور خاکساری سے کام لیں۔‏“‏‏—‏1-‏پطر 3:‏8‏۔‏

گیت نمبر 50‏:‏ محبت کی راہ

مضمون پر ایک نظر *

1.‏ ہم اپنے شفیق آسمانی باپ یہوواہ کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟‏

یہوواہ خدا ہم سے بےحد محبت کرتا ہے۔‏ (‏یوح 3:‏16‏)‏ ہم اپنے شفیق آسمانی باپ کی مثال پر عمل کرنا چاہتے ہیں۔‏ اِسی لیے ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم سب لوگوں کے ساتھ اور ’‏خاص طور پر اپنے ہم‌ایمان‘‏ بہن بھائیوں کے ساتھ ”‏شفقت اور ہمدردی سے پیش آئیں“‏ اور اُن کے ”‏دُکھ سُکھ میں شریک ہوں۔‏“‏ (‏1-‏پطر 3:‏8؛‏ گل 6:‏10‏)‏ جب ہمارا کوئی مسیحی بہن یا بھائی مسئلوں سے دوچار ہوتا ہے تو ہم اُس کی مدد کے لیے ہاتھ بڑھانا چاہتے ہیں۔‏

2.‏ اِس مضمون میں ہم کن باتوں پر غور کریں گے؟‏

2 یہوواہ کے خاندان میں شامل ہر فرد کو کبھی نہ کبھی پریشان‌کُن صورتحال سے گزرنا پڑے گا۔‏ (‏مر 10:‏29،‏ 30‏)‏ جوں‌جوں اِس دُنیا کا خاتمہ نزدیک آ رہا ہے،‏ ہماری مشکلات میں اِضافہ ہونے کا اِمکان زیادہ ہے۔‏ ہم ایک دوسرے کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟‏ آئیں،‏ لُوط،‏ ایوب اور نعومی کی زندگی میں ہونے والے کچھ واقعات پر غور کریں اور دیکھیں کہ ہم اِن سے کیا سیکھتے ہیں۔‏ اِس کے علاوہ کچھ ایسے مسئلوں پر بھی غور کریں جن کا سامنا آج ہمارے بہن بھائیوں کو کرنا پڑ رہا ہے اور دیکھیں کہ ہم مشکلات کو برداشت کرنے میں اُن کی مدد کیسے کر سکتے ہیں۔‏

صبر سے کام لیں

3.‏ دوسرا پطرس 2:‏7،‏ 8 کی روشنی میں بتائیں کہ لُوط نے کون سا غلط فیصلہ کِیا اور اِس کا کیا نتیجہ نکلا۔‏

3 لُوط نے شہر سدوم کے بدکار لوگوں کے بیچ رہنے کا فیصلہ کر کے بہت بڑی غلطی کی۔‏ ‏(‏2-‏پطرس 2:‏7،‏ 8 کو پڑھیں۔‏)‏ سچ ہے کہ یہ علاقہ بہت خوش‌حال تھا لیکن لُوط کو وہاں بسنے کی بھاری قیمت چُکانی پڑی۔‏ (‏پید 13:‏8-‏13؛‏ 14:‏12‏)‏ غالباً لُوط کی بیوی کا دل اُس شہر یا وہاں کے کچھ لوگوں سے اِتنا جُڑ گیا تھا کہ اُس نے یہوواہ کے حکم پر عمل نہیں کِیا۔‏ پھر جب خدا نے آسمان سے آگ اور گندھک کی بارش برسائی تو وہ  اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔‏ اور ذرا لُوط کی دو بیٹیوں کے بارے میں بھی سوچیں۔‏ اُن کی منگنی سدوم میں رہنے والے جن دو آدمیوں سے ہوئی تھی،‏ وہ وہیں آفت میں مارے گئے۔‏ لُوط اپنا گھر اور مال‌واسباب سب کھو بیٹھے اور سب سے دردناک بات تو یہ کہ وہ اپنی بیوی کو ہی گنوا بیٹھے۔‏ (‏پید 19:‏12-‏14،‏ 17،‏ 26‏)‏ کیا اِس پریشان‌کُن صورتحال میں یہوواہ نے لُوط کے ساتھ پیش آتے وقت صبر کا دامن چھوڑ دیا؟‏ بالکل نہیں۔‏

یہوواہ خدا نے لُوط اور اُن کے گھر والوں کے لیے مہربانی دِکھاتے ہوئے اپنے فرشتوں کو اُنہیں بچانے کے لیے بھیجا۔‏ (‏پیراگراف نمبر 4 کو دیکھیں۔‏)‏

4.‏ یہوواہ لُوط کے ساتھ صبر سے کیسے پیش آیا؟‏ (‏سرِورق کی تصویر کو دیکھیں۔‏)‏

4 حالانکہ لُوط نے سدوم میں رہنے کا اِنتخاب کر کے غلط کِیا لیکن یہوواہ نے اُن کے لیے مہربانی دِکھاتے ہوئے اپنے فرشتوں کو اُن کے پاس بھیجا تاکہ وہ لُوط اور اُن کے گھر والوں کو بچا سکیں۔‏ لیکن فرشتے کی آگاہی پر فوراً عمل کرنے کی بجائے لُوط نے سدوم سے نکلنے میں ”‏دیر لگائی۔‏“‏ اِس پر فرشتوں نے لُوط کا ہاتھ پکڑ کر اُنہیں اور اُن کے گھر والوں کو شہر سے نکلنے میں مدد کی۔‏ (‏پید 19:‏15،‏ 16‏)‏ پھر فرشتوں نے لُوط سے کہا کہ وہ اپنی جان بچانے کے لیے پہاڑوں پر بھاگ جائیں۔‏ لیکن یہوواہ کے اِس حکم پر عمل کرنے کی بجائے لُوط نے نزدیک کے شہر میں جانے کی مِنت کی۔‏ (‏پید 19:‏17-‏20‏)‏ یہوواہ نے تحمل سے لُوط کی بات سنی اور اُنہیں اُس شہر میں جانے کی اِجازت دے دی۔‏ لیکن بعد میں لُوط کو اُس شہر میں رہنے سے ڈر لگنے لگا اور آخرکار وہ اُسی پہاڑ میں جا کر رہنے لگے جہاں یہوواہ نے اُنہیں پہلے جانے کو کہا تھا۔‏ (‏پید 19:‏30‏)‏ واقعی یہوواہ نے صبر سے پیش آنے کی شان‌دار مثال قائم کی!‏ ہم یہوواہ کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟‏

5،‏ 6.‏ یہوواہ کی مثال پر عمل کرتے وقت ہم 1-‏تھسلُنیکیوں 5:‏14 میں درج نصیحت کو کیسے لاگو کر سکتے ہیں؟‏

5 لُوط کی طرح شاید کلیسیا کا کوئی بہن یا بھائی غلط فیصلہ کرے اور اِس کے نتیجے میں اُسے بھاری نقصان اُٹھانا پڑے۔‏ ایسی صورت میں ہمارا ردِعمل کیا ہوگا؟‏ شاید ہم کہیں کہ وہ وہی کاٹ رہا ہے جو اُس نے اپنے لیے بویا ہے جو کہ سچ بھی ہے۔‏ (‏گل 6:‏7‏)‏ لیکن کیا ایسی بات کہنے سے بہتر یہ نہیں ہوگا کہ ہم اُس کی ویسے ہی مدد کریں جیسے یہوواہ نے لُوط کی تھی؟‏ ہم ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟‏

6 یہوواہ نے اپنے فرشتوں کو لُوط کے پاس صرف اِس لیے نہیں بھیجا تھا تاکہ وہ اُنہیں آنے والی تباہی کے بارے میں بتائیں بلکہ اُس نے اُنہیں اُن کی مدد کرنے کے لیے بھی بھیجا تھا تاکہ لُوط اور اُن کے گھر والے اپنی جان بچا سکیں۔‏ اِسی طرح اگر ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارا کوئی بہن یا بھائی غلط راہ کی طرف قدم بڑھا رہا ہے تو ہمیں اُسے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔‏ لیکن ہمیں بس اِسی بات پر مطمئن نہیں ہو جانا چاہیے بلکہ سیدھی راہ پر چلنے میں اُس کی مدد بھی کرنی چاہیے۔‏ اگر وہ بائبل سے ملنے والی مشورت پر عمل کرنے میں دیر بھی لگاتا ہے تو ہمیں تب بھی صبر سے کام لینے کی ضرورت ہے۔‏ اُن دو فرشتوں کی طرح بنیں جنہوں نے لُوط کو بچایا تھا۔‏ ہمت ہارنے اور اپنے بھائی سے دُور ہو جانے کی بجائے ہمیں ایسے طریقے تلاش کرنے چاہئیں جن سے ہم اُس کی مدد کر سکتے ہیں۔‏ (‏1-‏یوح 3:‏18‏)‏ ایک طرح سے ہمیں اُس کا ہاتھ پکڑ لینے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اُن اچھے مشوروں پر عمل کرنے میں اُس کی مدد کریں جو اُسے ملے ہیں۔‏‏—‏1-‏تھسلُنیکیوں 5:‏14 کو پڑھیں۔‏

7.‏ یہوواہ نے جس نظر سے لُوط کو دیکھا،‏ اُس سے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

7 یہوواہ چاہتا تو وہ لُوط کی خامیوں پر توجہ دے سکتا تھا۔‏ مگر اِس کی بجائے اُس نے بعد میں پطرس رسول کو یہ اِلہام بخشا کہ وہ لُوط کا ذکر ایک نیک آدمی کے طور پر کریں۔‏ ہم یہوواہ کے کتنے شکرگزار ہیں کہ وہ ہماری غلطیوں کو خاطر میں نہیں لاتا!‏ (‏زبور 130:‏3‏)‏ کیا ہم اپنے بہن بھائیوں کو اُسی نظر سے دیکھتے ہیں جس نظر سے خدا نے لُوط کو دیکھا؟‏ اگر ہم اپنے بہن بھائیوں کی خوبیوں پر غور کریں گے تو ہم اُن کے ساتھ اَور زیادہ صبر سے پیش آنے کے قابل ہوں گے۔‏ یوں اُن کے لیے ہماری مدد کو قبول کرنا قدراً آسان ہو جائے گا۔‏

ہمدردی ظاہر کریں

8.‏ ہمدردی کا جذبہ ہمیں کیا کرنے کی ترغیب دے گا؟‏

8 لُوط کے برعکس ایوب پر جو مصیبتیں آئیں،‏ وہ کسی غلط فیصلے کا نتیجہ نہیں تھیں۔‏ لیکن پھر بھی ایوب کو کٹھن مصیبتوں سے گزرنا پڑا۔‏ مثال کے طور پر اُن کا مال‌واسباب چھن گیا،‏ اُنہوں نے معاشرے میں اپنا رُتبہ کھو دیا اور وہ سنگین بیماری میں مبتلا ہو گئے۔‏ سب سے بُرا تو اُن کے ساتھ یہ ہوا کہ اُنہوں نے اپنے سارے بچے کھو دیے۔‏ ایوب کے تین برائےنام دوستوں نے بھی اُن پر اِلزامات لگائے۔‏ یہ دوست اُن کے لیے ہمدردی ظاہر کرنے میں ناکام کیوں رہے؟‏ اِس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ اُنہوں نے ایوب کی صورتحال کو  صرف اُن باتوں کی بِنا پر پرکھا جو اُنہیں دِکھائی دے رہی تھیں اور اِسی لیے اُنہوں نے ایوب کے بارے میں غلط رائے قائم کر کے اُنہیں قصوروار ٹھہرایا۔‏ ہم ایسی غلطی کرنے سے کیسے بچ سکتے ہیں؟‏ اِس بات کو تسلیم کریں کہ صرف یہوواہ ہی ایک شخص کی صورتحال سے پوری طرح واقف ہے۔‏ اِس کے علاوہ پریشانی میں مبتلا بہن یا بھائی کی باتوں کو دھیان سے سنیں۔‏ صرف اُس کے مُنہ سے نکلے لفظوں پر ہی دھیان نہ دیں بلکہ اُس کے درد کو بھی محسوس کرنے کی کوشش کریں۔‏ تبھی آپ اُس کے لیے حقیقی ہمدردی ظاہر کر پائیں گے۔‏

9.‏ ہمدردی کی خوبی کی وجہ سے ہم کیا نہیں کریں گے اور کیوں؟‏

9 ہمدردی کی خوبی کی وجہ سے ہم اپنے بہن بھائیوں کی پریشانیوں کو دوسروں کے سامنے نہیں اُچھالیں گے۔‏ یاد رکھیں کہ افواہ پھیلانے والا شخص کلیسیا کے ارکان کا حوصلہ بڑھانے کی بجائے اِسے پست کرتا ہے۔‏ (‏امثا 20:‏19؛‏ روم 14:‏19‏)‏ ایسا شخص مہربانی ظاہر نہیں کرتا بلکہ وہ اپنی بِلاسوچے سمجھے کی گئی باتوں سے تکلیف میں مبتلا شخص کو مزید ٹھیس پہنچاتا ہے۔‏ (‏امثا 12:‏18؛‏ اِفس 4:‏31،‏ 32‏)‏ کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ ہم پریشان حال شخص کی خوبیوں پر دھیان دیں اور اِس بارے میں سوچیں کہ ہم مشکلات سے نمٹنے میں اُس کی مدد کیسے کر سکتے ہیں۔‏

اگر کوئی بہن یا بھائی پریشانی کی حالت میں بِلاسوچے سمجھے کوئی بات کہہ جاتا ہے تو صبر سے اُس کی بات سنیں اور صحیح وقت دیکھ کر اُسے تسلی دیں۔‏ (‏پیراگراف نمبر 10،‏ 11 کو دیکھیں۔‏)‏ *

10.‏ ایوب 6:‏2،‏ 3 میں درج بات سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟‏

10 ایوب 6:‏2،‏ 3 کو پڑھیں۔‏ مصیبت کے وقت ایوب کچھ ’‏بےتاملی کی باتیں‘‏ یعنی بِلاسوچے سمجھے باتیں کہہ گئے۔‏ لیکن بعد میں اُنہوں نے یہ تسلیم کِیا کہ اُن کی کچھ باتیں بالکل غلط تھیں اور اِسی لیے اُنہوں نے کہا کہ ”‏مَیں اپنی باتیں مسترد کرتا“‏ ہوں۔‏ (‏ایو 42:‏6‏،‏ اُردو جیو ورشن‏)‏ ایوب کی طرح شاید آج بھی پریشانی میں مبتلا کوئی شخص بِلاسوچے سمجھے ایسی باتیں کہہ جائے جن پر بعد میں اُسے پچھتاوا ہو۔‏ ایسی صورتحال میں ہمارا ردِعمل کیا ہونا چاہیے؟‏ ہمیں اُس پر تنقید کرنے کی بجائے اُس کے لیے ہمدردی ظاہر کرنی چاہیے۔‏ یاد رکھیں کہ جب یہوواہ نے اِنسان کو بنایا تو اُس کا یہ مقصد نہیں تھا کہ اُنہیں زندگی میں مشکلیں اور پریشانیاں جھیلنی پڑیں۔‏ لہٰذا ہم اُس وقت حیران نہیں ہوتے جب خدا کا کوئی وفادار بندہ پریشانی کی حالت میں  بِلاسوچے سمجھے کچھ کہہ جاتا ہے۔‏ ہمیں تو اُس وقت بھی جلدی سے غصے میں نہیں آنا چاہیے یا اُس شخص پر تنقید نہیں کرنی چاہیے جب وہ یہوواہ یا ہمارے بارے میں کوئی غلط بات بول دیتا ہے۔‏—‏امثا 19:‏11‏۔‏

11.‏ کسی کو مشورہ دیتے وقت بزرگ اِلیہو کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟‏

11 کبھی کبھار پریشانی سے دوچار شخص کو بھی مشورے یا اِصلاح کی ضرورت ہوتی ہے۔‏ (‏گل 6:‏1‏)‏ بزرگوں کو ایسے شخص کی اِصلاح کرتے وقت کیا کرنا چاہیے؟‏ اُنہیں اِلیہو کی مثال پر عمل کرنا چاہیے جنہوں نے ایوب کے لیے ہمدردی ظاہر کرتے ہوئے اُن کی بات سنی۔‏ (‏ایو 33:‏6،‏ 7‏)‏ اِلیہو نے تبھی ایوب کی سوچ کو درست کِیا جب وہ اُن کے احساسات اور خیالات کو اچھی طرح سمجھ گئے۔‏ جو بزرگ اِلیہو کی مثال پر عمل کرتے ہیں،‏ وہ مصیبت‌زدہ شخص کی بات کو دھیان سے سنتے ہیں اور اُس کی صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔‏ یوں جب وہ اُسے کوئی مشورہ دیتے ہیں تو اُن کے لیے اُس شخص کے دل تک پہنچنے کا اِمکان زیادہ ہوتا ہے۔‏

تسلی دیں

12.‏ نعومی پر اپنے شوہر اور دونوں بیٹوں کی موت کا کیا اثر ہوا؟‏

12 آئیں،‏ اب نعومی کی مثال پر غور کرتے ہیں۔‏ وہ یہوواہ کی وفادار بندی تھیں اور اُس سے بہت محبت کرتی تھیں۔‏ لیکن جب اُن کے شوہر اور دونوں بیٹے فوت ہو گئے تو وہ اپنا نام نعومی سے بدل کر مارہ رکھنا چاہتی تھیں جس کا مطلب ”‏تلخ“‏ ہے۔‏ (‏رُوت 1:‏3،‏ 5،‏ 20،‏ 21‏)‏ نعومی کی بہو رُوت اُن کے مشکل وقت میں اُن کے ساتھ ساتھ رہیں۔‏ رُوت نے نہ صرف نعومی کی ضروریات پوری کیں بلکہ اُنہوں نے اپنی باتوں سے بھی اُنہیں تسلی دی۔‏ رُوت نے سادہ الفاظ میں اور دل سے نعومی کے لیے اپنی محبت کا اِظہار کِیا۔‏—‏رُوت 1:‏16،‏ 17‏۔‏

13.‏ جن لوگوں کا جیون ساتھی فوت ہو جاتا ہے،‏ اُنہیں سہارے کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟‏

13 جب ہمارے کسی بہن یا بھائی کا جیون ساتھی فوت ہو جاتا ہے تو اُسے ہمارے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔‏ میاں بیوی کو دو ایسے درختوں سے تشبیہ دی جا سکتی ہے جو ایک ساتھ بڑھتے ہیں۔‏ سالوں کے دوران اِن دونوں درختوں کی جڑیں آپس میں مل کر ایک ہو جاتی ہیں۔‏ جب اِن میں سے ایک درخت کو اُکھاڑ دیا جاتا ہے تو ساتھ والا درخت بُری طرح سے متاثر ہوتا ہے۔‏ اِسی طرح جب ایک شخص کا جیون ساتھی موت کے مُنہ میں چلا جاتا ہے تو اُس کے بچھڑنے کا غم کافی سالوں تک اُس کے ساتھ رہتا ہے۔‏ ذرا بہن پاؤلا * کی مثال پر غور کریں جن کے شوہر اچانک فوت ہو گئے۔‏ وہ کہتی ہیں:‏ ”‏میری دُنیا بالکل اُجڑ گئی۔‏ مَیں خود کو بہت بےبس محسوس کر رہی تھی۔‏ مَیں نے اپنا سب سے بہترین دوست کھو دیا تھا۔‏ مَیں اپنے شوہر سے ہر بات کِیا کرتی تھی۔‏ وہ میرے ہر دُکھ سُکھ کے ساتھی تھے جن کے کندھے پر مَیں سر رکھ کر رویا کرتی تھی۔‏ مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی نے مجھے چیر کر رکھ دیا ہو۔‏“‏

ہم اُن لوگوں کو سہارا کیسے دے سکتے ہیں جن کا جیون ساتھی فوت ہو گیا ہے؟‏ (‏پیراگراف نمبر 14،‏ 15 کو دیکھیں۔‏)‏ *

14،‏ 15.‏ ہم اُس شخص کو تسلی کیسے دے سکتے ہیں جس کا جیون ساتھی فوت ہو گیا ہے؟‏

14 ہم اُس شخص کو تسلی کیسے دے سکتے ہیں جس کا جیون ساتھی فوت ہو گیا ہے؟‏ سب سے پہلے تو ہمیں اُس شخص سے بات کرنی چاہیے پھر چاہے ہمیں ایسا کرنا مشکل ہی کیوں نہ لگے یا یہ سمجھ نہ آئے کہ ہم اُس سے کیا کہیں گے۔‏ بہن پاؤلا جن کا پہلے بھی ذکر ہوا ہے،‏ کہتی ہیں:‏ ”‏مَیں سمجھ سکتی ہوں کہ کسی سوگوار شخص کو تسلی دینا آسان نہیں ہوتا۔‏ شاید تسلی دینے والے شخص کو یہ فکر ہو کہ اُس کی کسی بات سے سوگوار شخص کو ٹھیس نہ پہنچ جائے۔‏ لیکن یقین مانیں کہ اگر آپ کوئی غلط بات کہہ دیتے ہیں تو یہ اِتنا بُرا نہیں ہے جتنا یہ کہ آپ بالکل ہی کچھ نہ کہیں۔‏“‏ غالباً ایک سوگوار شخص کو ہم سے یہ توقع نہیں ہوتی کہ ہم اُس سے بڑی گہری باتیں کہیں۔‏ بہن پاؤلا کہتی ہیں:‏ ”‏میرے لیے تو بس اپنے دوستوں کے مُنہ سے اِتنا سننا ہی کافی تھا کہ اُنہیں میرے شوہر کی موت کا بڑا دُکھ ہے۔‏“‏

15 ذرا بھائی ولیم کی بات پر بھی غور کریں جن کی بیوی کچھ سال پہلے فوت ہو گئیں۔‏ وہ کہتے ہیں:‏ ”‏مجھے اُس وقت بڑی تسلی ملتی ہے جب دوسرے میری بیوی کو اچھے لفظوں میں یاد کرتے ہیں۔‏ اِس سے مجھے اَور زیادہ یقین ہو جاتا ہے کہ وہ لوگ اُس سے پیار کرتے تھے اور اُس کی عزت کرتے تھے۔‏ اِس احساس سے مجھے سکون ملتا ہے کیونکہ میری بیوی مجھے بہت عزیز تھی اور میری زندگی کا اہم حصہ تھی۔‏“‏ بیانکا نامی بہن جو کہ ایک بیوہ ہیں،‏ کہتی ہیں:‏ ”‏مجھے اُس وقت بہت تسلی ملتی ہے جب دوسرے میرے  ساتھ مل کر دُعا کرتے ہیں اور مجھے بائبل سے ایک یا دو آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں۔‏ مجھے اُس وقت بھی بہت چین ملتا ہے جب وہ میرے شوہر کے بارے میں بات کرتے ہیں یا جب وہ میری اُن باتوں کو سنتے ہیں جو مَیں اُنہیں اپنے شوہر کے بارے میں بتاتی ہوں۔‏“‏

16.‏ ‏(‏الف)‏ ہمیں اُن لوگوں کے لیے کیا کرنا چاہیے جن کا جیون ساتھی فوت ہو گیا ہے؟‏ (‏ب)‏ یعقوب 1:‏27 کے مطابق ہم سب کی کیا ذمےداری ہے؟‏

16 جس طرح رُوت اپنی بیوہ ساس کا سہارا بنی رہیں اُسی طرح ہمیں بھی اُن کو لوگوں سہارا دیتے رہنے کی ضرورت ہے جن کا جیون ساتھی فوت ہو گیا ہے۔‏ ذرا ایک بار پھر سے پاؤلا کی بات پر غور کریں۔‏ وہ کہتی ہیں:‏ ”‏میرے شوہر کی موت کے فوراً بعد بہت سے لوگ میری مدد کو آئے۔‏ لیکن پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ سب اپنی زندگیوں میں مصروف ہو گئے۔‏ البتہ میری زندگی بالکل بدل چُکی تھی۔‏ یقین مانیں کہ ایک سوگوار شخص اُن لوگوں کی بڑی قدر کرتا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ اُس شخص کو اپنے عزیز کی موت کے کئی مہینوں یہاں تک کہ کئی سالوں بعد بھی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔‏“‏ بِلاشُبہ ہر شخص دوسرے سے فرق ہوتا ہے۔‏ کچھ لوگ خود کو نئی صورتحال کے مطابق جلد ڈھال لیتے ہیں جبکہ دیگر کو ہر اُس کام کو کرنے سے اپنے جیون ساتھی کی یاد آتی ہے جو وہ کبھی اُس کے ساتھ مل کر کِیا کرتے تھے۔‏ لیکن ایک سوگوار شخص کی صورتحال چاہے جیسی بھی ہو،‏ اِس بات کو ہمیشہ یاد رکھیں کہ یہوواہ نے ہمیں یہ ذمےداری دی ہے کہ ہم اُن لوگوں کا خیال رکھیں جن کا جیون ساتھی فوت ہو گیا ہے۔‏ یہ محض ذمےداری ہی نہیں بلکہ ہماری عبادت کا ایک حصہ بھی ہے۔‏‏—‏یعقوب 1:‏27 کو پڑھیں۔‏

17.‏ اُس شخص کو ہمارے سہارے کی ضرورت کیوں ہے جس کا جیون ساتھی اُسے چھوڑ کر چلا گیا ہے؟‏

17 کچھ میاں بیوی کو اُس وقت سخت کرب اور پریشانی سے گزرنا پڑتا ہے جب اُن کا جیون ساتھی اُنہیں چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔‏ ذرا بہن جوئس کی مثال پر غور کریں جن کے شوہر نے اُنہیں دوسری عورت کی وجہ سے  چھوڑ دیا۔‏ بہن جوئس کہتی ہیں:‏ ”‏طلاق کا دُکھ تو اُس دُکھ سے بھی کہیں زیادہ ہے جو مجھے میرے شوہر کے مرنے پر ہوتا۔‏ اگر وہ کسی حادثے یا بیماری کی وجہ سے مر جاتا تو کم از کم مجھے یہ احساس تو ہوتا کہ اُس کا اِس صورتحال پر کوئی اِختیار نہیں تھا۔‏ لیکن میرے شوہر نے تو مجھے خود چھوڑنے کا فیصلہ کِیا ہے۔‏ مجھے بہت ذِلت محسوس ہوتی ہے۔‏“‏

18.‏ ہم اُن لوگوں کی مدد کرنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں جن کا جیون ساتھی یا تو فوت ہو گیا ہے یا اُنہیں چھوڑ کر چلا گیا ہے؟‏

18 جب ہم اُن بہن بھائیوں کے لیے چھوٹے موٹے طریقوں سے مہربانی ظاہر کرتے ہیں جن کا جیون ساتھی یا تو فوت ہو گیا ہے یا اُنہیں چھوڑ کر چلا گیا ہے تو ہم اُنہیں اپنی محبت کا یقین دِلاتے ہیں۔‏ ہمارے اِن بہن بھائیوں کو اچھے دوستوں کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔‏ (‏امثا 17:‏17‏)‏ آپ خود کو اُن کا دوست کیسے ثابت کر سکتے ہیں؟‏ آپ اُنہیں سادہ سے کھانے پر بلا سکتے ہیں؛‏ اُن کے ساتھ مل کر تفریح یا مُنادی کے کام میں کچھ وقت صرف کر سکتے ہیں یا کبھی کبھار اُنہیں اپنی خاندانی عبادت پر آنے کو بھی کہہ سکتے ہیں۔‏ ایسے کام کرنے سے آپ یہوواہ کو خوش کریں گے جو ”‏شکستہ دلوں کے نزدیک ہے“‏ اور ”‏بیواؤں کا دادرس ہے۔‏“‏—‏زبور 34:‏18؛‏ 68:‏5‏۔‏

19.‏ پہلا پطرس 3:‏8 کو ذہن میں رکھ کر بتائیں کہ آپ کا کیا عزم ہے۔‏

19 جلد ہی خدا کی بادشاہت پوری زمین پر حکمرانی شروع کرے گی اور تب ساری ”‏مصیبتیں فراموش“‏ ہو جائیں گی۔‏ ہم اُس وقت کے کتنے منتظر ہیں جب ”‏پہلی چیزوں کا پھر ذکر نہ ہوگا اور وہ خیال میں نہ آئیں گی“‏!‏ (‏یسع 65:‏16،‏ 17‏)‏ لیکن اُس وقت کے آنے تک آئیں،‏ ایک دوسرے کا سہارا بنیں اور اپنی باتوں اور کاموں سے ثابت کریں کہ آپ اپنے ہر مسیحی بھائی اور بہن سے محبت کرتے ہیں۔‏‏—‏1-‏پطرس 3:‏8 کو پڑھیں۔‏

گیت نمبر 28‏:‏ نیا گیت

^ پیراگراف 5 لُوط،‏ ایوب اور نعومی نے وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کی لیکن پھر بھی اُنہیں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔‏ اِس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ ہم اُن کی زندگی سے کیا سیکھتے ہیں۔‏ اِس کے علاوہ ہم اِس بات پر بھی غور کریں گے کہ جب ہمارے بہن بھائی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں تو اُس وقت اُن کے ساتھ صبر سے پیش آنا،‏ اُن کے لیے ہمدردی ظاہر کرنا اور اُنہیں تسلی دینا کیوں اہم ہوتا ہے۔‏

^ پیراگراف 13 اِس مضمون میں فرضی نام اِستعمال کیے گئے ہیں۔‏

^ پیراگراف 57 تصویروں کی وضاحت‏:‏ ایک بھائی پریشانی کی حالت میں بِلاسوچے سمجھے باتیں کہہ رہا ہے جبکہ بزرگ بڑے صبر سے اُس کی بات سُن رہا ہے۔‏ بعد مَیں جب اُس بھائی کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا ہے تو بزرگ اُسے بڑے پیار سے مشورہ دے رہا ہے۔‏

^ پیراگراف 59 تصویروں کی وضاحت‏:‏ ایک نوجوان شادی‌شُدہ جوڑا ایک بھائی کے ساتھ وقت گزار رہا ہے جس کی بیوی حال ہی میں فوت ہو گئی ہے۔‏ وہ کچھ تصویریں دیکھتے ہوئے اُس کی بیوی کو اچھے لفظوں میں یاد کر رہے ہیں۔‏