مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 مطالعے کا مضمون نمبر 24

خدا کے علم کے خلاف کھڑی ہر غلط سوچ کو رد کریں

خدا کے علم کے خلاف کھڑی ہر غلط سوچ کو رد کریں

‏”‏ہم ہر طرح کی غلط سوچ کو اور ہر اُس دیوار کو ڈھا دیتے ہیں جو خدا کے علم کے خلاف کھڑی کی جاتی ہے۔‏“‏‏—‏2-‏کُر 10:‏5‏۔‏

گیت نمبر 18‏:‏ یہوواہ خدا کی شفقت

مضمون پر ایک نظر *

1.‏ پولُس رسول نے اپنے زمانے کے مسح‌شُدہ مسیحیوں کو کیا نصیحت کی؟‏

‏”‏اِس زمانے کے طورطریقوں کی نقل کرنا چھوڑ دیں۔‏“‏ (‏روم 12:‏2‏)‏ پولُس رسول نے یہ الفاظ پہلی صدی کے مسیحیوں کو لکھے۔‏ لیکن اُنہوں نے اِن مسیحیوں کو یہ نصیحت کیوں کی جبکہ وہ تو پہلے سے ہی اپنی زندگی یہوواہ کے لیے وقف کر چُکے تھے اور پاک روح سے مسح تھے؟‏—‏روم 1:‏7‏۔‏

2،‏ 3.‏ ‏(‏الف)‏ شیطان ہمیں یہوواہ سے دُور کرنے کی کوشش کیسے کرتا ہے؟‏ (‏ب)‏ ہم اپنے دل سے غلط خواہشات اور خیالات کی مضبوط دیواروں کو کیسے ڈھا سکتے ہیں؟‏

2 پولُس رسول یہ دیکھ کر فکرمند ہو گئے تھے کہ کچھ مسیحی شیطان کی دُنیا کی دانش‌مندی اور غلط سوچ سے متاثر ہو گئے ہیں۔‏ (‏اِفس 4:‏17-‏19‏)‏ ایسا ہم میں سے کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔‏ اِس دُنیا کا حکمران شیطان ہمیں یہوواہ سے دُور کرنے کی سر توڑ کوشش کر رہا ہے اور ایسا کرنے کے لیے وہ ہم پر طرح طرح کے حربے اِستعمال کرتا ہے۔‏ مثال کے طور پر اگر ہم میں خود کو دوسروں سے بڑا بنانے کا رُجحان ہے تو وہ اِس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ہمیں یہوواہ سے الگ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔‏ شیطان تو ہمارے پس‌منظر،‏ ہماری ثقافت اور ہماری تعلیم کو ہی ہتھیار بنا کر ہماری سوچ کو اپنی سوچ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے۔‏

3 لیکن کیا ایسی خواہشات اور خیالات کی دیواروں کو ڈھانا ممکن ہے جو ہمارے دل میں ”‏بڑی مضبوطی سے قائم ہیں؟‏“‏ (‏2-‏کُر 10:‏4‏)‏ اِس سوال کے جواب کے لیے ذرا پولُس کی بات پر غور کریں۔‏ اُنہوں نے لکھا:‏ ”‏ہم ہر طرح کی غلط سوچ کو اور ہر اُس دیوار کو ڈھا دیتے ہیں جو خدا کے علم کے خلاف  کھڑی کی جاتی ہے اور ہر نظریے پر غالب آ کر اُسے مسیح کے تابع کر دیتے ہیں۔‏“‏ (‏2-‏کُر 10:‏5‏)‏ واقعی یہوواہ کی مدد سے ہم اپنی ہر غلط سوچ پر قابو پا سکتے ہیں۔‏ خدا کا کلام ایک لحاظ سے دوائی کی طرح ہے۔‏ جس طرح دوائی زہر کے اثر کو ختم کرنے کی طاقت رکھتی ہے اُسی طرح خدا کا کلام ہمارے دل‌ودماغ سے شیطان کی دُنیا کے زہرآلود اثر کو ختم کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔‏

‏’‏اپنی سوچ کا رُخ موڑ لیں‘‏

4.‏ جب ہم نے سچائی سیکھی تھی تو ہم میں سے کئی کو خود میں کون سی تبدیلیاں لانی پڑیں؟‏

4 ذرا اُس وقت کو یاد کریں جب آپ نے سچائی سیکھی تھی اور یہوواہ کی خدمت کرنے کا فیصلہ کِیا تھا۔‏ ایسا کرنے کے لیے آپ کو خود میں کون سی تبدیلیاں لانی پڑیں؟‏ ہم میں سے بہت سے بہن بھائیوں نے اپنی کسی بُری عادت کو ترک کر دیا۔‏ (‏1-‏کُر 6:‏9-‏11‏)‏ کیا ہم یہوواہ کے شکرگزار نہیں کہ اُس نے بُری عادتوں سے چھٹکارا پانے میں ہماری مدد کی؟‏

5.‏ رومیوں 12:‏2 کے مطابق ہمیں کون سے دو کام کرنے کی ضرورت ہے؟‏

5 البتہ ہمیں کبھی یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ اب ہمیں اپنے اندر تبدیلیاں لانے کی ضرورت نہیں رہی۔‏ سچ ہے کہ اب ہم نے وہ سنگین گُناہ کرنے چھوڑ دیے ہیں جو ہم بپتسمہ لینے سے پہلے کِیا کرتے تھے۔‏ لیکن ہمیں ابھی بھی ہر اُس چیز سے کنارہ کرنے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے ہم ماضی کے گُناہ دُہرانے کے خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔‏ اِس سلسلے میں پولُس رسول نے کہا:‏ ”‏اِس زمانے کے طورطریقوں کی نقل کرنا چھوڑ دیں بلکہ اپنی سوچ کا رُخ موڑ کر خود کو مکمل طور پر بدل لیں۔‏“‏ (‏روم 12:‏2‏)‏ غور کریں کہ اِس آیت میں دو کاموں کا ذکر کِیا گیا ہے۔‏ پہلا تو یہ کہ ہمیں دُنیا کے ”‏طورطریقوں کی نقل کرنا“‏ چھوڑنا ہوگا اور دوسرا یہ کہ ہمیں ’‏اپنی سوچ کا رُخ موڑ کر خود کو مکمل طور پر بدلنا‘‏ ہوگا۔‏

6.‏ متی 12:‏43-‏45 میں درج یسوع مسیح کی بات سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟‏

6 جب پولُس رسول نے خود کو بدلنے کی بات کی تو اُن کے ذہن میں صرف ظاہری حُلیے کو بدلنے کا ہی خیال نہیں تھا۔‏ دراصل وہ یہ کہہ رہے تھے کہ خود کو بدلنے میں اپنی ذات کے ہر پہلو کو بدلنا بھی شامل  ہے۔‏ (‏بکس ”‏ مکمل طور پر بدلنا یا رُوپ دھارنا؟‏‏“‏ کو دیکھیں۔‏)‏ اِس کے لیے ہمیں اپنی سوچ کا رُخ موڑنے کی ضرورت ہے یعنی ہمیں اپنے احساسات اور رُجحانات کو بدلنے کی ضرورت ہے۔‏ لہٰذا ہم سب کو خود سے پوچھنا چاہیے:‏ ”‏کیا مَیں نے ایک بہتر مسیحی بننے کا محض نقاب اوڑھا ہوا ہے یا کیا مَیں واقعی اپنے اندر تبدیلیاں لا رہا ہوں؟‏“‏ اِن دو باتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔‏ اِس سلسلے میں متی 12:‏43-‏45 میں درج یسوع مسیح کے الفاظ قابلِ‌غور ہیں۔‏ ‏(‏اِن آیتوں کو پڑھیں۔‏)‏ اِن آیتوں میں یسوع مسیح نے ایک اہم سچائی کو اُجاگر کِیا۔‏ اور وہ سچائی یہ ہے کہ اپنے ذہن سے صرف غلط سوچ کو نکالنا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ اِس کی جگہ ہمیں ایسی سوچ کو اپنانے کی ضرورت ہوتی ہے جو خدا کو پسند ہے۔‏

‏”‏اپنی سوچ کو نیا بناتے جائیں“‏

7.‏ ہم اپنی شخصیت کو مکمل طور پر کیسے بدل سکتے ہیں؟‏

7 کیا اپنی شخصیت کو مکمل طور پر بدلنا واقعی ممکن ہے؟‏ خدا کے کلام میں اِس سوال کا جواب یوں دیا گیا ہے:‏ ”‏اپنی سوچ [‏یا ”‏ذہنی رُجحان،‏“‏ فٹ‌نوٹ]‏ کو نیا بناتے جائیں اور اُس نئی شخصیت کو پہن لیں جو خدا کی مرضی کے مطابق ڈھالی گئی ہے اور حقیقی نیکی اور وفاداری پر مبنی ہے۔‏“‏ (‏اِفس 4:‏23،‏ 24‏)‏ اِس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اپنی شخصیت کو بدلنا ممکن ہے۔‏ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ایسا کرنا آسان نہیں ہے۔‏ صرف اپنی غلط خواہشوں کو دبانا یا بُرے کاموں سے باز رہنا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ ہمیں اپنے ”‏ذہنی رُجحان“‏ کو بھی بدلنے کی ضرورت ہے۔‏ اِس میں اپنی سوچ،‏ جذبات اور خواہشات کو بدلنا شامل ہے جس کے لیے مسلسل کوشش درکار ہے۔‏

8،‏ 9.‏ ایک بھائی کے تجربے سے کیسے ظاہر ہوتا ہے کہ خود کو بدلنے کے لیے اپنے ذہنی رُجحان کو نیا بنانا ضروری ہوتا ہے؟‏

8 ذرا ایک ایسے بھائی کی مثال پر غور کریں جو ماضی میں بہت پُرتشدد تھا۔‏ جب اُس نے شراب پینا اور لڑائی جھگڑا کرنا چھوڑ دیا تو وہ بپتسمہ پانے کے لائق بن گیا۔‏ اُس کی شخصیت کو بدلتا دیکھ کر اُس کے علاقے کے لوگوں کو بہت شان‌دار گواہی ملی۔‏ ابھی اُسے بپتسمہ لیے تھوڑا ہی عرصہ ہوا تھا کہ ایک شام اُس کی نرم‌مزاجی کا اِمتحان ہوا۔‏ نشے میں دُھت ایک آدمی اُس کے گھر آیا اور اُسے اپنے ساتھ لڑنے کو کہنے لگا۔‏ شروع میں تو بھائی نے اپنے جذبات پر قابو رکھتے ہوئے خود کو روکے رکھا لیکن جب وہ آدمی یہوواہ کو بُرا بھلا کہنے لگا تو ہمارے اِس نئے بپتسمہ‌یافتہ بھائی کی برداشت کی حد پار ہو گئی۔‏ وہ غصے سے باہر گیا اور اُس آدمی کو پیٹنے لگا۔‏ اُس نے ایسا ردِعمل کیوں دِکھایا؟‏ اگرچہ اُس بھائی نے خدا کے کلام کی مدد سے بات بات پر لڑنے کی خواہش کو تو دبا دیا تھا لیکن ابھی تک وہ اپنے ذہنی رُجحان کو بدل نہیں پایا تھا۔‏

9 لیکن اُس بھائی نے خود کو بدلنے میں ہمت نہیں ہاری۔‏ (‏امثا 24:‏16‏)‏ کلیسیا کے بزرگوں کی مدد سے وہ اپنی اِس خامی پر قابو پانے کی کوشش کرتا رہا۔‏ آخرکار وہ بزرگ بن گیا۔‏ پھر ایک شام کنگڈم ہال کے باہر اُسے ویسی ہی آزمائش کا سامنا ہوا جس کا اُسے کچھ سال پہلے سامنا ہوا تھا۔‏ شراب کے نشے میں ایک آدمی اُس کی کلیسیا کے ایک بزرگ کو مارنے والا تھا۔‏ اِس پر بھائی نے کیا کِیا؟‏ اُس نے بڑی نرمی اور خاکساری سے اُس آدمی کے ساتھ بات کی اور اُسے ٹھنڈا کِیا۔‏ اِتنا ہی نہیں،‏ اُس نے اُس آدمی کی گھر تک جانے میں بھی مدد کی۔‏ اِس بار یہ بھائی ایسا ردِعمل کیوں دِکھا پایا؟‏ اُس نے اپنا ذہنی رُجحان نیا بنا لیا تھا۔‏ اب یہ بھائی واقعی دل سے صلح‌پسند اور خاکسار بن گیا تھا جس سے یہوواہ کے نام کی بڑائی ہوئی۔‏

10.‏ اپنے اندر تبدیلیاں لانے کے لیے ہمیں کیا کرنا ہوگا؟‏

10 اِس طرح کی تبدیلیاں راتوں رات نہیں ہو جاتیں اور نہ ہی یہ خودبخود آ جاتی ہیں۔‏ اِس کے لیے شاید ہمیں کئی سالوں تک جان لگانی پڑے۔‏ (‏2-‏پطر 1:‏5‏)‏ ہو سکتا ہے کہ ہم کافی عرصے سے یہوواہ کی خدمت کر رہے ہیں لیکن ہم میں یہ تبدیلیاں صرف اِس بِنا پر نہیں آ جائیں گی بلکہ ہمیں خود کو بدلنے کے لیے جی‌توڑ کوشش کرنی ہوگی۔‏ ایسا کرنے کے لیے کچھ خاص اِقدام اُٹھانا ضروری ہیں۔‏ آئیں،‏ اِن میں سے چند پر غور کریں۔‏

ذہنی رُجحان کو نیا بنانے کے لیے کچھ اِقدام

11.‏ اپنے ذہنی رُجحان کو بدلنے کے لیے دُعا کرنا اہم کیوں ہے؟‏

11 سب سے پہلا قدم جو ہم اُٹھا سکتے ہیں،‏ وہ دُعا ہے۔‏ ہمیں بھی زبورنویس کی طرح یہ دُعا کرنے کی ضرورت ہے:‏ ”‏اَے خدا!‏ میرے اندر  پاک دل پیدا کر اور میرے باطن میں ازسرِنو مستقیم روح ڈال۔‏“‏ (‏زبور 51:‏10‏)‏ ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ ہمیں اپنے ذہنی رُجحان کو بدلنے کی ضرورت ہے اور اِس سلسلے میں ہمیں یہوواہ سے مدد مانگنی چاہیے۔‏ ہم یہ یقین کیوں رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ اِس سلسلے میں ہماری مدد ضرور کرے گا؟‏ ہم یہوواہ کے اُس وعدے سے حوصلہ پا سکتے ہیں جو اُس نے حِزقی‌ایل نبی کے زمانے میں رہنے والے ہٹ‌دھرم اِسرائیلیوں کے حوالے سے کِیا تھا۔‏ اُس نے کہا:‏ ”‏مَیں اُن کو نیا دل دوں گا اور نئی روح تمہارے باطن میں ڈالوں گا .‏ .‏ .‏ اور اُن کو گوشتین دل [‏یعنی ایسا دل جو خدا کی رہنمائی کے لیے حساس ہو]‏ عنایت کروں گا۔‏“‏ (‏حِز 11:‏19‏)‏ یہوواہ اُن اِسرائیلیوں کی مدد کرنے کو تیار تھا جو اپنی زندگیوں میں تبدیلیاں لانا چاہتے تھے اور وہ ہماری مدد کرنے کو بھی تیار ہے۔‏

12،‏ 13.‏ ‏(‏الف)‏ زبور 119:‏59 کے مطابق ہمیں کس چیز پر سوچ بچار کرنا چاہیے؟‏ (‏ب)‏ ہمیں خود سے کون سے سوال پوچھنے چاہئیں؟‏

12 دوسرا قدم خدا کے کلام پر سوچ بچار کرنا ہے۔‏ جب ہم ہر روز خدا کے کلام کو پڑھتے ہیں تو ہمیں اِس بات پر سوچ بچار کرنے کے لیے وقت نکالنا چاہیے کہ ہمیں اپنی سوچ اور احساسات میں کس حوالے سے تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔‏ (‏زبور 119:‏59 کو پڑھیں؛‏ عبر 4:‏12؛‏ یعقو 1:‏25‏)‏ ہمیں یہ بھانپنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ہماری سوچ اور احساسات دُنیا کی دانش‌مندی کے زیرِاثر تو نہیں۔‏ ہمیں ایمان‌داری سے اپنی خامیوں کو تسلیم کرنا چاہیے اور پھر اِن پر قابو پانے کے لیے سخت کوشش کرنی چاہیے۔‏

13 ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے:‏ ”‏کیا میرے دل میں کسی کے لیے رتی بھر بھی حسد تو نہیں؟‏“‏ (‏1-‏پطر 2:‏1‏)‏ ”‏کیا اپنے پس‌منظر،‏ تعلیم یا مالی حیثیت کی وجہ سے مجھ میں ذرا سا بھی غرور تو نہیں؟‏“‏ (‏امثا 16:‏5‏)‏ ”‏کیا مَیں اُن لوگوں کو کم‌تر سمجھتا ہوں جن کے پاس وہ چیزیں نہیں جو میرے پاس ہیں یا جو فرق قوم سے تعلق رکھتے ہیں؟‏“‏ (‏یعقو 2:‏2-‏4‏)‏ ”‏کیا مجھے وہ چیزیں بہت پُرکشش لگتی ہیں جن کی پیشکش شیطان کی دُنیا کرتی ہے؟‏“‏ (‏1-‏یوح 2:‏15-‏17‏)‏ ”‏کیا مجھے ایسی تفریح پسند ہے جس میں تشدد اور بےحیائی پائی جاتی ہے؟‏“‏ (‏زبور 97:‏10؛‏ 101:‏3؛‏ عامو 5:‏15‏)‏ اِن سوالوں کے جواب دینے سے آپ ایسی خامیوں کو پہچان پائیں گے جن پر آپ کو قابو پانے کی ضرورت ہے۔‏ اپنے دل سے غلط سوچ اور احساسات کی مضبوط دیواروں کو ڈھانے سے آپ اپنے آسمانی باپ یہوواہ کو خوش کریں گے۔‏—‏زبور 19:‏14‏۔‏

14.‏ اچھے دوستوں کا اِنتخاب کرنا کیوں ضروری ہے؟‏

14 تیسرا قدم جو اُٹھانا بہت ضروری ہے،‏ وہ اچھے دوستوں کا اِنتخاب کرنا ہے۔‏ چاہے ہمیں اِس بات کا احساس ہو یا نہ ہو،‏ ہمارے دوست ہم پر بہت گہرا اثر رکھتے ہیں۔‏ (‏امثا 13:‏20‏)‏ سکول میں یا کام کی جگہ پر ہمارے اِردگِرد ایسے لوگ ہوتے ہیں جو خدا کی سوچ اپنانے میں ہماری مدد نہیں کرتے۔‏ لیکن ہماری کلیسیاؤں میں ہمیں بہترین دوست مل سکتے ہیں۔‏ یہی وہ جگہ ہے جہاں ہمیں ”‏محبت اور اچھے کاموں کی ترغیب“‏ مل سکتی ہے۔‏—‏عبر 10:‏24،‏ 25‏۔‏

‏”‏اپنے ایمان پر قائم رہیں“‏

15،‏ 16.‏ شیطان ہماری سوچ کو بگاڑنے کی کوشش کیسے کرتا ہے؟‏

15 یاد رکھیں کہ شیطان ہماری سوچ کو بگاڑنے پر تُلا ہوا ہے۔‏ وہ ہمارے ذہن سے پاک کلام کے اچھے اثر کو مٹانے کے لیے طرح طرح کے نظریات کو فروغ دیتا ہے۔‏

16 ایک طرح سے شیطان آج بھی وہی سوال اُٹھاتا ہے جو اُس نے باغِ‌عدن میں حوا کے سامنے اُٹھایا تھا۔‏ اُس نے کہا تھا:‏ ”‏کیا واقعی خدا نے کہا ہے کہ .‏ .‏ .‏ ؟‏“‏ (‏پید 3:‏1‏)‏ چونکہ یہ دُنیا شیطان کے زیرِاثر ہے اِس لیے ہمیں اکثر ایسے سوال سننے کو ملتے ہیں:‏ ”‏کیا واقعی خدا ہم‌جنس‌پرستوں کے بیچ ہونے والی شادی کے خلاف ہے؟‏ کیا واقعی خدا یہ نہیں چاہتا کہ آپ کرسمس اور سالگرہ منائیں؟‏ کیا واقعی آپ کا خدا آپ کو خون لگوانے سے منع کرتا ہے؟‏ کیا محبت کرنے والا خدا واقعی آپ سے توقع کرتا ہے کہ آپ اپنے خارج‌شُدہ عزیزوں سے کوئی تعلق نہ رکھیں؟‏“‏

17.‏ اگر کوئی ہمارے ذہن میں ہمارے عقیدوں کے بارے میں شک پیدا کرتا ہے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کُلسّیوں 2:‏6،‏ 7 کے مطابق ایسا کرنے سے کیا نتیجہ نکلے گا؟‏

17 ہمیں اپنے عقیدوں پر مضبوط ایمان ہونا چاہیے۔‏ اگر ہمارے  ذہن میں اپنے کچھ عقیدوں کو لے کر سوال ہیں اور ہم اِن کے جواب حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے تو ہمارے دل میں شک گھر کر سکتے ہیں۔‏ آخرکار یہ شک ہماری سوچ کو بگاڑ سکتے ہیں اور ہمارے ایمان کا جہاز تباہ کر سکتے ہیں۔‏ ایسے انجام سے بچنے کے لیے ہم کیا کر سکتے ہیں؟‏ پاک کلام میں ہمیں اپنی سوچ کا رُخ موڑ لینے کی نصیحت کی گئی ہے ”‏تاکہ [‏ہم]‏ جان جائیں کہ خدا کی اچھی اور پسندیدہ اور کامل مرضی کیا ہے۔‏“‏ (‏روم 12:‏2‏)‏ باقاعدگی سے پاک کلام کا مطالعہ کرنے سے ہم ”‏جان جائیں“‏ گے یعنی پوری طرح اِس بات پر قائل ہو جائیں گے کہ جو سچائیاں ہم نے بائبل سے سیکھی ہیں،‏ وہ بالکل درست ہیں۔‏ ہمیں اِس بات کا بھی پکا یقین ہو جائے گا کہ یہوواہ کے معیار ہی صحیح ہیں۔‏ یوں ہم مضبوط ہوتے جائیں گے اور ”‏اپنے ایمان پر قائم رہیں“‏ گے۔‏‏—‏کُلسّیوں 2:‏6،‏ 7 کو پڑھیں۔‏

18.‏ کون سے اِقدام اُٹھانے سے ہم شیطان کی دُنیا کی زہرآلود سوچ سے چھٹکارا پا سکتے ہیں؟‏

18 صرف آپ ہی اپنے ایمان کو مضبوط کر سکتے ہیں،‏ کوئی دوسرا آپ کے لیے ایسا نہیں کر سکتا۔‏ لہٰذا اپنے ذہنی رُجحان کو نیا بنانا جاری رکھیں۔‏ ہر وقت دُعا کریں اور یہوواہ سے اُس کی پاک روح کے لیے اِلتجا کریں۔‏ خدا کے کلام پر سوچ بچار کریں اور اپنی خواہشوں اور سوچ کا جائزہ لیتے رہیں۔‏ اچھے دوستوں کا اِنتخاب کریں جو آپ کی سوچ کو خدا کے کلام کے مطابق بدلنے میں آپ کی مدد کریں۔‏ ایسے اِقدام اُٹھانے سے آپ شیطان کی دُنیا کی زہرآلود سوچ کے اثر سے چھٹکارا پا سکیں گے اور کامیابی سے ”‏ہر طرح کی غلط سوچ کو اور ہر اُس دیوار کو ڈھا [‏سکیں گے]‏ جو خدا کے علم کے خلاف کھڑی کی جاتی ہے۔‏“‏—‏2-‏کُر 10:‏5‏۔‏

گیت نمبر 48‏:‏ یہوواہ خدا کی رہنمائی پر چلو

^ پیراگراف 5 ہمارے پس‌منظر،‏ ہماری ثقافت اور ہماری تعلیم کا ہماری سوچ پر یا تو اچھا یا پھر بُرا اثر ہوتا ہے۔‏ شاید ہمیں لگے کہ کوئی غلط سوچ ہمارے دل میں جڑ پکڑ چُکی ہے۔‏ اِس مضمون میں بتایا جائے گا کہ ہم ایسی سوچ پر قابو پانے کے لیے کون سے اِقدام اُٹھا سکتے ہیں۔‏