مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

ایک ہوں جس طرح یہوواہ اور یسوع ایک ہیں

ایک ہوں جس طرح یہوواہ اور یسوع ایک ہیں

‏”‏مَیں .‏ .‏ .‏ درخواست کر رہا ہوں .‏ .‏ .‏ تاکہ وہ سب ایک ہوں جس طرح تُو،‏ اَے باپ،‏ میرے ساتھ متحد ہے۔‏“‏‏—‏یوحنا 17:‏20،‏ 21‏۔‏

گیت:‏ 16،‏  31

1،‏ 2.‏ ‏(‏الف)‏ یسوع نے اپنے شاگردوں کے ساتھ آخری بار کھانا کھاتے وقت کس بارے میں دُعا کی؟‏ (‏ب)‏ یسوع غالباً اپنے شاگردوں کے آپسی اِتحاد کے حوالے سے فکرمند کیوں تھے؟‏

اپنے رسولوں کے ساتھ آخری بار کھانا کھاتے وقت یسوع مسیح اُن کے آپسی اِتحاد کے حوالے سے فکرمند تھے۔‏ جب وہ رسولوں کے ساتھ دُعا کر رہے تھے تو اُنہوں نے یہ درخواست کی کہ جس طرح وہ اور اُن کا آسمانی باپ متحد ہیں اُسی طرح اُن کے شاگرد بھی متحد ہوں۔‏ ‏(‏یوحنا 17:‏20،‏ 21 کو پڑھیں۔‏)‏ یسوع کے شاگردوں کے آپسی اِتحاد سے دوسروں پر یہ ثابت ہو جانا تھا کہ یہوواہ نے یسوع کو زمین پر بھیجا تھا۔‏ یسوع اپنے شاگردوں کو ایک دوسرے سے محبت کرنے کی نصیحت بھی کر چُکے تھے۔‏ اِس محبت نے سچے مسیحیوں کی پہچان بن جانا تھا اور اُن کے اِتحاد کو مضبوط کرنا تھا۔‏—‏یوحنا 13:‏34،‏ 35‏۔‏

2 اِس بات کو سمجھنا مشکل نہیں کہ یسوع نے اُس رات اِتحاد کی اہمیت پر اِتنا زور کیوں دیا۔‏ دراصل اُنہوں نے دیکھا تھا کہ اُن کے شاگرد پوری طرح متحد نہیں تھے۔‏ شاگرد پہلے بھی یہ بحث کر چُکے تھے کہ ”‏اُن میں سے کس کو سب سے بڑا سمجھا جاتا ہے“‏ اور اُس رات دوبارہ سے اُن کے درمیان اِس بات پر بحث ہو رہی تھی۔‏ (‏لُوقا 22:‏24-‏27؛‏ مرقس 9:‏33،‏ 34‏)‏ ایک اَور موقعے پر یسوع کے دو شاگردوں یعقوب اور یوحنا نے اُن سے یہ فرمائش کی تھی کہ وہ اُنہیں اپنی آسمانی بادشاہت میں اپنی دائیں اور بائیں طرف بیٹھنے کا شرف عطا کریں۔‏—‏مرقس 10:‏35-‏40‏۔‏

3.‏ ‏(‏الف)‏ یسوع کے شاگردوں کا اِتحاد کن وجوہات کی بِنا پر خطرے میں تھا؟‏ (‏ب)‏ اِس مضمون میں ہم کن سوالوں کے جواب حاصل کریں گے؟‏

 3 یسوع کے شاگردوں کا اِتحاد صرف اِس وجہ سے ہی خطرے میں نہیں تھا کیونکہ وہ اعلیٰ مرتبہ اور اِختیار حاصل کرنے کی خواہش رکھتے تھے۔‏ اُس زمانے میں نفرت اور تعصب نے بھی لوگوں کو ایک دوسرے سے جُدا کِیا ہوا تھا۔‏ یسوع کے شاگردوں کو ایسے احساسات پر قابو پانے کی ضرورت تھی۔‏ اِس مضمون میں ہم اِن تین سوالوں پر غور کریں گے:‏ یسوع مسیح نے تعصب کے مسئلے کے حوالے سے کیا کِیا؟‏ اُنہوں نے اپنے پیروکاروں کو سب لوگوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرنا اور اِتحاد سے رہنا کیسے سکھایا؟‏ اور یسوع کی تعلیمات پر عمل کرنے سے ہم اپنے اِتحاد کو کیسے برقرار رکھ پاتے ہیں؟‏

یسوع اور اُن کے پیروکار تعصب کے نشانے پر

4.‏ کچھ مثالیں دے کر بتائیں کہ یسوع کو کس طرح تعصب کا نشانہ بنایا گیا۔‏

4 یسوع کو خود بھی تعصب کا سامنا کرنا پڑا۔‏ جب فِلپّس نے نتن‌ایل کو بتایا کہ اُنہیں مسیح مل گیا ہے تو نتن‌ایل نے کہا:‏ ”‏بھلا ناصرت سے بھی کوئی اچھی چیز آ سکتی ہے؟‏“‏ (‏یوحنا 1:‏46‏)‏ بِلاشُبہ نتن‌ایل میکاہ 5:‏2 میں درج پیش‌گوئی سے واقف تھے جس کے مطابق مسیح کو بیت‌لحم میں پیدا ہونا تھا۔‏ شاید اُن کا خیال تھا کہ ناصرت جیسا معمولی شہر مسیح کا آبائی شہر نہیں ہو سکتا۔‏ اِس کے علاوہ یہوداہ کے کچھ بااثر لوگ یسوع کو حقیر خیال کرتے تھے کیونکہ یسوع گلیل سے تھے۔‏ (‏یوحنا 7:‏52‏)‏ دراصل یہوداہ کے رہنے والے بہت سے لوگ گلیل کے لوگوں کو کم‌تر سمجھتے تھے۔‏ بعض یہودی،‏ یسوع کو سامری کہہ کر بھی اُن کی بےعزتی کرنے کی کوشش کرتے تھے۔‏ (‏یوحنا 8:‏48‏)‏ سامری ایک الگ قوم تھے اور اُن کا مذہب یہودیوں کے مذہب سے فرق تھا۔‏ یہوداہ اور گلیل کے لوگ سامریوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے اور اُن سے دُور رہتے تھے۔‏—‏یوحنا 4:‏9‏۔‏

یسوع کے شاگردوں کو متحد رہنے کے لیے اپنی سوچ کو تبدیل کرنا تھا۔‏

5.‏ یسوع کے شاگردوں کو کس طرح کے تعصب کا سامنا کرنا پڑا؟‏

5 یہودی مذہبی رہنما یسوع کے پیروکاروں کو بھی نیچا دِکھانے کی کوشش کرتے تھے۔‏ فریسی اُنہیں ”‏لعنتی“‏ کہتے تھے۔‏ (‏یوحنا 7:‏47-‏49‏)‏ دراصل فریسیوں کی نظر میں ہر وہ شخص معمولی اور بےکار تھا جس نے یہودیوں کے مدرسوں سے تعلیم حاصل نہیں کی ہوتی تھی یا جو اُن کی روایتوں کے مطابق نہیں چلتا تھا۔‏ (‏اعمال 4:‏13‏،‏ فٹ‌نوٹ)‏ جن لوگوں نے یسوع اور اُن کے شاگردوں سے تعصب برتا،‏ اُنہیں اپنے مذہب،‏ سماجی مرتبے اور نسل پر بڑا فخر تھا۔‏ تعصب کی اِس وبا کا اثر یسوع کے شاگردوں پر بھی ہوا تھا۔‏ لہٰذا متحد رہنے کے لیے اُنہیں اپنی سوچ کو تبدیل کرنا تھا۔‏

6.‏ مثالوں سے واضح کریں کہ تعصب کا ہم پر کیا اثر ہو سکتا ہے۔‏

6 اِس دُنیا میں ہر جگہ تعصب پایا جاتا ہے۔‏ ہو سکتا ہے کہ لوگ ہم سے تعصب برتیں یا شاید ہمارے دل میں کسی کے لیے تعصب ہو۔‏ اِس سلسلے میں آسٹریلیا کی رہنے والی ایک بہن کی مثال پر غور کریں جو اب ایک پہل‌کار ہے۔‏ اُس کا تعلق آسٹریلیا کے قدیم باشندوں کی نسل سے ہے۔‏ وہ کہتی ہے:‏ ”‏یہ سوچ سوچ کر کہ ماضی میں اور اب آسٹریلیا کے قدیم باشندوں کے ساتھ کتنی نااِنصافی کی گئی ہے،‏ میرے دل میں سفیدفام لوگوں کے نفرت بڑھ گئی۔‏ اور جب مجھے بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا تو اِس نفرت کو اَور ہوا ملی۔‏“‏ کینیڈا میں رہنے والا ایک بھائی کہتا ہے:‏ ”‏مَیں فرانسیسی زبان بولنے والوں کو سب سے بہتر خیال کرتا تھا اور انگریزی بولنے والوں کو اپنے دُشمن سمجھتا تھا۔‏“‏

7.‏ یسوع مسیح نے تعصب کے مسئلے کے حوالے سے کیا کِیا؟‏

7 یسوع کے زمانے کی طرح آج بھی لوگوں کے دلوں میں تعصب کی  جڑیں بہت مضبوط ہو سکتی ہیں اور اِنہیں اُکھاڑنا کافی مشکل ہو سکتا ہے۔‏ یسوع مسیح نے تعصب کے مسئلے کے حوالے سے کیا کِیا؟‏ پہلی بات یہ ہے کہ اُنہوں نے تعصب کو اپنے دل میں جڑ نہیں پکڑنے دی اور ہمیشہ غیرجانب‌داری کا مظاہرہ کِیا۔‏ اُنہوں نے امیروں اور غریبوں،‏ فریسیوں اور سامریوں،‏ یہاں تک کہ ٹیکس وصول کرنے والوں اور گُناہ‌گاروں کو بھی مُنادی کی۔‏ دوسری بات یہ ہے کہ یسوع نے اپنی مثال اور تعلیمات کے ذریعے اپنے شاگردوں کو یہ سکھایا کہ اُنہیں دوسروں کے بارے میں منفی رائے قائم نہیں کرنی چاہیے اور اُن سے تعصب نہیں برتنا چاہیے۔‏

محبت اور خاکساری تعصب پر غالب آتی ہے

8.‏ یسوع نے اپنے پیروکاروں کو کون سی اہم بات سکھائی جو اُن کے اِتحاد کی بنیاد ہے؟‏ وضاحت کریں۔‏

8 یسوع نے اپنے پیروکاروں کو ایک اہم بات سکھائی جو اُن کے اِتحاد کی بنیاد ہے۔‏ اُنہوں نے اپنے شاگردوں سے کہا:‏ ”‏آپ سب بھائی ہیں۔‏“‏ ‏(‏متی 23:‏8،‏ 9 کو پڑھیں۔‏)‏ یہ سچ ہے کہ ہم سب آدم کی اولاد ہونے کے ناتے ”‏بھائی“‏ ہیں۔‏ (‏اعمال 17:‏26‏)‏ لیکن یسوع نے واضح کِیا کہ اُن کے پیروکار اِس لیے بھی بہن بھائی تھے کیونکہ اُنہوں نے یہوواہ کو اپنا آسمانی باپ تسلیم کر لیا تھا۔‏ (‏متی 12:‏50‏)‏ اِس کے علاوہ وہ خدا کے خاندان کا حصہ بن گئے تھے اور محبت اور ایمان کی بنیاد پر متحد تھے۔‏ یہی وجہ ہے کہ رسولوں نے اپنے خطوں میں اکثر اپنے ہم‌ایمانوں کو بہن بھائی کہا۔‏—‏رومیوں 1:‏13؛‏ 1-‏پطرس 2:‏17‏،‏ فٹ‌نوٹ؛‏ 1-‏یوحنا 3:‏13‏۔‏ *

9،‏ 10.‏ ‏(‏الف)‏ یہودیوں کے پاس اپنی نسل پر غرور کرنے کی کوئی وجہ کیوں نہیں تھی؟‏ (‏ب)‏ یسوع نے یہ کیسے سکھایا کہ دوسری نسل کے لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھنا غلط ہے؟‏ (‏مضمون کے شروع میں دائیں ہاتھ والی تصویر کو دیکھیں۔‏)‏

9 اپنے پیروکاروں کو یہ بات سکھانے کے بعد کہ اُنہیں ایک دوسرے کو بہن بھائی سمجھنا چاہیے،‏ یسوع نے خاکساری کی اہمیت پر زور دیا۔‏ ‏(‏متی 23:‏11،‏ 12 کو پڑھیں۔‏)‏ جیسا کہ ہم نے پہلے دیکھا ہے،‏ غرور کی وجہ سے شاگردوں میں کبھی کبھار اِختلافات پیدا ہو گئے۔‏ اور یسوع کے زمانے میں لوگ اپنی نسل پر بڑا غرور کرتے تھے۔‏ بہت سے یہودی یہ سمجھتے تھے کہ وہ ابراہام کی اولاد ہونے کی وجہ سے دوسروں سے افضل ہیں۔‏ لیکن یوحنا بپتسمہ دینے والے نے اُن سے کہا:‏ ”‏خدا اِن پتھروں سے بھی ابراہام کے لیے اولاد پیدا کر سکتا ہے۔‏“‏—‏لُوقا 3:‏8‏۔‏

10 یسوع مسیح نے یہ واضح کِیا کہ اپنی نسل پر غرور کرنا غلط ہے۔‏ اُنہوں نے ایسا تب کِیا جب شریعت کے ایک عالم نے اُن سے یہ سوال پوچھا:‏ ”‏میرا پڑوسی ہے کون؟‏“‏ اِس سوال کے جواب میں یسوع نے ایک کہانی سنائی۔‏ اُنہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ ایک یہودی کہیں جا رہا تھا کہ ڈاکوؤں نے اُسے مارا پیٹا اور ادھ‌مؤا چھوڑ کر چلے گئے۔‏ وہاں سے کچھ یہودی گزرے لیکن اُنہوں نے اُس شخص کی مدد نہیں کی۔‏ لیکن ایک سامری کو اُس پر ترس آیا اور اُس نے اُس کی دیکھ‌بھال کی۔‏ کہانی کے آخر میں یسوع نے شریعت کے عالم سے کہا کہ اُسے اُس سامری کی طرح بننا چاہیے۔‏ (‏لُوقا 10:‏25-‏37‏)‏ اِس طرح یسوع نے واضح کِیا کہ یہودی ایک سامری کی مثال سے یہ سیکھ سکتے ہیں کہ اپنے پڑوسی کے لیے حقیقی محبت رکھنے کا کیا مطلب ہے۔‏

11.‏ یہ کیوں ضروری تھا کہ یسوع کے شاگرد سب لوگوں کو ایک نظر سے دیکھیں اور یسوع نے اِس بات کو سمجھنے میں اُن کی مدد کیسے کی؟‏

11 آسمان پر جانے سے پہلے یسوع نے اپنے شاگردوں کو کہا کہ وہ ”‏سارے یہودیہ اور سامریہ میں اور زمین کی اِنتہا تک“‏ اُن کے بارے میں  گواہی دیں۔‏ (‏اعمال 1:‏8‏)‏ اِس ذمےداری کو پورا کرنے کے لیے یہ ضروری تھا کہ یسوع کے شاگرد اپنے دل سے ہر قسم کے غرور اور تعصب کو نکال ڈالیں۔‏ یسوع نے اکثر اپنے شاگردوں کے سامنے ایسے لوگوں کی خوبیاں بیان کیں جن کا تعلق غیرقوموں سے تھا۔‏ اِس طرح یسوع نے اُنہیں سب قوموں کے لوگوں کو گواہی دینے کے لیے تیار کِیا۔‏ مثال کے طور پر یسوع نے غیرقوم کے ایک فوجی افسر کی تعریف کی کیونکہ اُس نے بہت مضبوط ایمان ظاہر کِیا تھا۔‏ (‏متی 8:‏5-‏10‏)‏ جب یسوع اپنے آبائی شہر ناصرت میں تھے تو اُنہوں نے بتایا کہ خدا نے کس طرح غیرقوموں کے لوگوں،‏ مثلاً صارپت کی غریب بیوہ اور سُوریہ کے نعمان کوڑھی پر نظرِکرم کی تھی۔‏ (‏لُوقا 4:‏25-‏27‏)‏ اِس کے علاوہ یسوع نے سامری عورت کو تعلیم دی اور صرف اِتنا ہی نہیں بلکہ سامریہ میں دو دن بھی گزارے کیونکہ وہاں کے لوگوں نے اُن کے پیغام میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔‏—‏یوحنا 4:‏21-‏24،‏ 40‏۔‏

یسوع کے شاگردوں نے دل سے تعصب نکال ڈالا

12،‏ 13.‏ ‏(‏الف)‏ جب یسوع ایک سامری عورت کو تعلیم دے رہے تھے تو اُنہیں دیکھ کر رسولوں نے کیسا ردِعمل دِکھایا؟‏ (‏مضمون کے شروع میں درمیان والی تصویر کو دیکھیں۔‏)‏ (‏ب)‏ یہ کیسے ظاہر ہوا کہ یعقوب اور یوحنا اُس اہم بات کو پوری طرح نہیں سمجھے تھے جو یسوع اُنہیں سکھانا چاہتے تھے؟‏

12 یسوع کے شاگردوں کے لیے اپنے دل سے تعصب ختم کرنا آسان نہیں تھا۔‏ اُنہیں اُس وقت بڑی حیرت ہوئی جب اُنہوں نے یسوع کو ایک سامری عورت کو تعلیم دیتے ہوئے دیکھا۔‏ (‏یوحنا 4:‏9،‏ 27‏)‏ اِس کی وجہ شاید یہ تھی کہ یہودی مذہبی رہنما سرِعام کسی عورت سے بات نہیں کرتے تھے۔‏ اور اِس بات کا تو سوال ہی نہیں اُٹھتا تھا کہ وہ کسی سامری عورت سے بات کرتے اور وہ بھی ایسی عورت سے جس کے کردار پر لوگ اُنگلی اُٹھاتے تھے۔‏ رسولوں نے یسوع کو کھانا کھانے کے لیے کہا لیکن یسوع کے لیے اُس عورت کو تعلیم دینا اِس قدر اہم تھا کہ اُنہوں نے کھانا کھانے کی بھی پرواہ نہیں کی۔‏ خدا نے یسوع کو مُنادی کرنے کے لیے زمین پر بھیجا تھا اور یسوع کے لیے اپنے باپ کی مرضی پوری کرنا کھانا کھانے جیسا تھا۔‏ اِسی لیے وہ سب لوگوں،‏ یہاں تک کہ ایک سامری عورت کو بھی مُنادی کرنے کو اِتنا اہم خیال کرتے تھے۔‏—‏یوحنا 4:‏31-‏34‏۔‏

13 یعقوب اور یوحنا اُس اہم بات کو نہیں سمجھے تھے جو یسوع مسیح اپنے شاگردوں کو سمجھانا چاہتے تھے۔‏ ایک مرتبہ جب شاگرد یسوع کے ساتھ سفر کرتے کرتے سامریہ پہنچے تو اُنہوں نے سامریہ کے ایک گاؤں میں رات گزارنے کے لیے کوئی جگہ دیکھنی شروع کی۔‏ لیکن سامریوں نے اُنہیں وہاں رُکنے کی اِجازت نہیں دی۔‏ اِس پر یعقوب اور یوحنا اِتنے آگ‌بگولا ہو گئے کہ اُنہوں نے یسوع سے کہا:‏ ”‏مالک،‏ کیا ہم آسمان سے آگ نازل کروائیں تاکہ یہ لوگ راکھ ہو جائیں؟‏“‏ یسوع نے یعقوب اور یوحنا کی سختی سے اِصلاح کی۔‏ (‏لُوقا 9:‏51-‏56‏)‏ اگر یہ واقعہ یعقوب اور یوحنا کے اپنے علاقے گلیل میں ہوا ہوتا تو شاید وہ اِتنے غصے میں نہ آتے۔‏ اُن کے طیش میں آنے کی وجہ غالباً یہ تھی کہ اُن کے دل میں تعصب تھا۔‏ بعد میں جب یوحنا نے سامریوں کو مُنادی کی اور بہت سے لوگوں نے اُن کے پیغام میں دلچسپی دِکھائی تو اُنہیں اپنے اِس رویے پر شرمندگی ہوئی ہوگی۔‏—‏اعمال 8:‏14،‏ 25‏۔‏

14.‏ پہلی صدی عیسوی میں جب یونانی بولنے والی بیواؤں سے تعصب برتا گیا تو رسولوں نے اِس مسئلے کو کیسے حل کِیا؟‏

14 سن 33ء کی عیدِپنتِکُست کے تھوڑی دیر بعد کلیسیا میں اِمتیازی سلوک کا مسئلہ کھڑا ہو گیا۔‏ جب بھائی ضرورت‌مند بیواؤں کو کھانا تقسیم کرتے تھے تو وہ اُن بیواؤں کو نظرانداز کرتے تھے جو یونانی زبان بولتی تھیں۔‏ (‏اعمال 6:‏1‏)‏ اِس کی وجہ شاید یونانی زبان بولنے والوں سے تعصب تھا۔‏ رسولوں نے فوراً اِس معاملے کو حل کِیا۔‏ اُنہوں نے سات ذمےدار بھائیوں کو مقرر کِیا اور اُنہیں ہدایت دی کہ وہ سب میں برابر کھانا تقسیم کریں۔‏ اِن سب بھائیوں کے یونانی نام تھے جس کی وجہ سے یونانی بولنے والی بیواؤں کو یہ تسلی ملی ہوگی کہ آئندہ اُنہیں نظرانداز نہیں کِیا جائے گا۔‏

15.‏ پطرس نے سب لوگوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرنا کیسے سیکھا؟‏ (‏مضمون کے شروع میں بائیں ہاتھ والی تصویر کو دیکھیں۔‏)‏

 15 سن 36ء میں یسوع کے شاگردوں نے سب قوموں کے لوگوں کو گواہی دینی شروع کر دی۔‏ اِس سے پہلے پطرس رسول صرف یہودیوں کے ساتھ میل جول رکھتے تھے۔‏ لیکن پھر خدا نے اِس بات کو واضح کِیا کہ مسیحیوں کو سب قوموں کے لوگوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرنا چاہیے۔‏ اِس واقعے کے فوراً بعد پطرس نے ایک رومی سپاہی کُرنیلیُس کو گواہی دی۔‏ ‏(‏اعمال 10:‏28،‏ 34،‏ 35 کو پڑھیں۔‏)‏ بعد میں پطرس اُن غیریہودیوں کے ساتھ وقت گزارنے اور کھانا کھانے لگے جنہوں نے مسیحی مذہب اپنایا تھا۔‏ مگر کئی سال گزرنے کے بعد شہر انطاکیہ میں پطرس نے مسیحی مذہب اپنانے والے غیریہودیوں کے ساتھ کھانا پینا چھوڑ دیا۔‏ (‏گلتیوں 2:‏11-‏14‏)‏ اِس پر پولُس نے پطرس کی اِصلاح کی اور پطرس نے اِس اِصلاح کو قبول کِیا۔‏ ہم یہ کیسے جانتے ہیں؟‏ کچھ عرصے بعد پطرس نے ایشیائےکوچک میں رہنے والے مسیحیوں کے نام جن میں یہودی اور غیریہودی دونوں شامل تھے،‏ اپنا پہلا خط لکھا۔‏ اِس خط میں اُنہوں نے تمام بہن بھائیوں سے محبت کرنے کی اہمیت کو بیان کِیا۔‏—‏1-‏پطرس 1:‏1؛‏ 2:‏17‏،‏ فٹ‌نوٹ۔‏

16.‏ پہلی صدی عیسوی کے مسیحی کس بات کے لیے مشہور ہو گئے؟‏

16 یسوع کی مثال کو دیکھ کر رسولوں نے ”‏ہر طرح کے لوگوں“‏ سے محبت کرنا سیکھا۔‏ (‏یوحنا 12:‏32؛‏ 1-‏تیمُتھیُس 4:‏10‏)‏ حالانکہ اِس میں وقت لگا لیکن آخرکار اُنہوں نے دوسری قوموں کے لوگوں کے بارے میں اپنی سوچ کو بدل لیا۔‏ پہلی صدی عیسوی کے مسیحی تو اِس بات کے لیے مشہور بھی ہو گئے کہ وہ ایک دوسرے سے محبت رکھتے تھے۔‏ 200ء کے لگ بھگ تاریخ‌دان طرطلیان نے بتایا کہ اُس زمانے کے لوگ مسیحیوں کے بارے میں یہ کہتے تھے:‏ ”‏وہ ایک دوسرے سے بڑی محبت کرتے ہیں .‏ .‏ .‏ اِتنی کہ وہ ایک دوسرے کی خاطر اپنی جان بھی دینے کے لیے تیار رہتے ہیں۔‏“‏ چونکہ اُن مسیحیوں نے ”‏نئی شخصیت“‏ کو پہن لیا تھا اِس لیے وہ خدا کی طرح سب لوگوں کو ایک نظر سے دیکھتے تھے۔‏—‏کُلسّیوں 3:‏10،‏ 11‏۔‏

17.‏ مثالیں دے کر بتائیں کہ ہم اپنے دل کو تعصب سے پاک کیسے کر سکتے ہیں۔‏

17 آج ہمیں بھی اپنے دل کو تعصب سے پاک کرنے میں وقت لگ سکتا ہے۔‏ فرانس سے تعلق رکھنے والی ایک بہن نے بتایا کہ اُس کے لیے ایسا کرنا کتنا مشکل رہا ہے۔‏ وہ کہتی ہے:‏ ”‏یہوواہ نے مجھے سکھایا ہے  کہ محبت ظاہر کرنے کا کیا مطلب ہے؛‏ دوسروں کے لیے فیاضی کیسے دِکھائی جاتی ہے اور ہر طرح کے لوگوں سے پیار کیسے کِیا جاتا ہے۔‏ لیکن مَیں اب بھی تعصب پر قابو پانا سیکھ رہی ہوں اور یہ آسان نہیں ہے۔‏ اِس لیے مَیں اِس بارے میں دُعا کرتی رہتی ہوں۔‏“‏ سپین کی رہنے والی ایک بہن نے بتایا:‏ ”‏کبھی کبھار میرے دل میں ایک خاص قوم کے لوگوں کے لیے تعصب کے جذبات پیدا ہو جاتے ہیں۔‏ زیادہ‌تر وقت تو مَیں ایسے جذبات پر قابو پانے میں کامیاب ہو جاتی ہوں۔‏ لیکن مَیں جانتی ہوں کہ مجھے اِن کے خلاف لڑتے رہنا ہے۔‏ مَیں یہوواہ کی شکرگزار ہوں اور بہت خوش ہوں کہ مَیں ایک متحد خاندان کا حصہ ہوں۔‏“‏ ہم سب کو بھی اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ کیا ہمیں اپنے دل سے تعصب کو نکالنے کی ضرورت تو نہیں ہے۔‏

محبت کا بیج تعصب کی جڑیں اُکھاڑ دیتا ہے

18،‏ 19.‏ ‏(‏الف)‏ ہمارے پاس سب لوگوں کو قبول کرنے کی کون سی وجوہات ہیں؟‏ (‏ب)‏ ہم ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟‏

18 ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایک وقت تھا جب ہم سب خدا سے دُور تھے۔‏ (‏اِفسیوں 2:‏12‏)‏ مگر یہوواہ نے ”‏محبت کی ڈوریوں“‏ سے ہمیں اپنی طرف کھینچ لیا۔‏ (‏ہوسیع 11:‏4؛‏ یوحنا 6:‏44‏)‏ اور مسیح نے ہمیں قبول کِیا اور ہمارے لیے یہ ممکن بنایا کہ ہم خدا کے خاندان کا حصہ بنیں۔‏ ‏(‏رومیوں 15:‏7 کو پڑھیں۔‏)‏ حالانکہ ہم عیب‌دار ہیں پھر بھی یہوواہ اور یسوع نے ہم پر مہربانی کرتے ہوئے ہمیں قبول کِیا ہے۔‏ لہٰذا ہمیں کسی شخص کو رد کرنے کا سوچنا بھی نہیں چاہیے۔‏

خدا سے ملنے والی دانش‌مندی کی بدولت ہم متحد رہتے ہیں اور ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں۔‏ (‏پیراگراف 19 کو دیکھیں۔‏)‏

19 جوں‌جوں اِس بُری دُنیا کا خاتمہ نزدیک آ رہا ہے،‏ تعصب،‏ نفرت اور جدائیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔‏ (‏گلتیوں 5:‏19-‏21؛‏ 2-‏تیمُتھیُس 3:‏13‏)‏ لیکن یہوواہ کے بندوں کے طور پر ہم اُس دانش‌مندی کے طلب‌گار ہیں جو ”‏اُوپر سے آتی ہے۔‏“‏ (‏یعقوب 3:‏17،‏ 18‏)‏ اِس دانش‌مندی کی بدولت ہم سب لوگوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرنے اور امن کو فروغ دینے کے قابل ہوتے ہیں۔‏ ہمیں دوسرے ملکوں کے لوگوں سے دوستی کر کے بہت خوشی ملتی ہے۔‏ ہم خوشی سے اُن کی ثقافت کو قبول کرتے ہیں اور کبھی کبھار تو اُن کی زبان بھی سیکھتے ہیں۔‏ جب ہم ایسا کرتے ہیں تو خدا کے بندوں کے درمیان امن اور اِنصاف فروغ پاتا ہے۔‏—‏یسعیاہ 48:‏17،‏ 18‏۔‏

20.‏ جب محبت ایک شخص کی سوچ اور احساسات کو بدل دیتی ہے تو اِس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟‏

20 آسٹریلیا میں رہنے والی جس بہن کا پہلے ذکر کِیا گیا ہے،‏ وہ بتاتی ہے کہ جب اُس نے بائبل کورس کِیا تو اُس کے دل سے تعصب اور نفرت کے جذبات آہستہ آہستہ ختم ہو گئے۔‏ اُس کی سوچ بدل گئی اور وہ دوسروں سے محبت کرنے لگی۔‏ کینیڈا سے تعلق رکھنے والا بھائی یہ سمجھ گیا کہ اکثر لوگوں کے دلوں میں دوسروں کے لیے نفرت کی وجہ بس یہ ہوتی ہے کہ وہ اُن کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں جانتے۔‏ اُس نے یہ سیکھ لیا کہ لوگوں کے اچھے یا بُرے ہونے کا تعلق اِس بات سے نہیں ہے کہ وہ کس ملک یا علاقے سے ہیں۔‏ پہلے تو وہ بھائی انگریزی بولنے والوں کو سخت ناپسند کرتا تھا مگر بعد میں اُس نے انگریزی بولنے والی ایک بہن سے شادی کی۔‏ اِن مثالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ محبت تعصب پر غالب آ جاتی ہے۔‏ یہ محبت ہمیں ایک ایسے بندھن میں باندھے رکھتی ہے جو کبھی ٹوٹ نہیں سکتا۔‏—‏کُلسّیوں 3:‏14‏۔‏

^ پیراگراف 8 اِصطلاح ”‏بھائیوں“‏ میں کلیسیا کی بہنیں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔‏ پولُس نے رومیوں کے نام خط روم میں رہنے والوں ”‏بھائیوں“‏ کو لکھا۔‏ لیکن لفظ ”‏بھائیوں“‏ سے اُن کا اِشارہ بھائیوں اور بہنوں دونوں کی طرف تھا۔‏ اِس بات کا ثبوت یہ ہے کہ اُنہوں نے اپنے خط میں کچھ بہنوں کا بنام ذکر کِیا۔‏ (‏رومیوں 16:‏3،‏ 6،‏ 12‏)‏ ‏”‏مینارِنگہبانی“‏ میں کئی سال سے کلیسیا کے ارکان کو بہن بھائی کہا جا رہا ہے۔‏