مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

خدا کی خوشنودی حاصل کرنے میں ناکام بادشاہ

خدا کی خوشنودی حاصل کرنے میں ناکام بادشاہ

ہم یہوواہ کی خدمت کرتے ہیں اور اُس کی خوشنودی اور برکتیں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔‏ لیکن خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ہمیں کیا کرنا ہوگا؟‏ قدیم زمانے میں کچھ لوگ ایسے تھے جنہوں نے سنگین گُناہ کیے مگر پھر اُنہوں نے دل سے توبہ کی اور دوبارہ سے خدا کی خوشنودی حاصل کر لی۔‏ بعض لوگ ایسے بھی تھے جن میں خوبیاں تو تھیں لیکن وہ خدا کی خوشنودی کھو بیٹھے۔‏ اِس لیے ہمارے ذہن میں یہ سوال آ سکتا ہے:‏ ”‏خدا ہم سے کیا چاہتا ہے؟‏“‏ اِس سوال کا جواب ہمیں یہوداہ کے بادشاہ رحبُعام کی مثال پر غور کرنے سے مل سکتا ہے۔‏

رحبُعام کی سمجھ‌داری کا اِمتحان

رحبُعام سلیمان کے بیٹے تھے۔‏ سلیمان نے 40 سال تک اِسرائیل پر حکومت کی اور پھر وہ 997 قبل‌ازمسیح میں فوت ہو گئے۔‏ (‏1-‏سلاطین 11:‏42‏)‏ اپنے والد کی وفات کے بعد رحبُعام یروشلیم سے سِکم گئے تاکہ وہاں اُنہیں بادشاہ کے طور پر مسح کِیا جائے۔‏ (‏2-‏تواریخ 10:‏1‏)‏ جب سلیمان حکومت کر رہے تھے تو وہ اپنی دانش‌مندی کے لیے جانے جاتے تھے۔‏ اِس لیے شاید رحبُعام یہ سوچ کر گھبرا رہے ہوں کہ کیا وہ اپنے باپ جیسے بن پائیں گے۔‏ دراصل بہت جلد رحبُعام کے سامنے ایک ایسا مسئلہ کھڑا ہونے والا تھا جس سے پتہ چل جانا تھا کہ وہ کتنے دانش‌مند ہیں۔‏

بنی‌اِسرائیل کو لگ رہا تھا کہ اُن پر بڑا ظلم ہو رہا ہے۔‏ اِس لیے اُنہوں نے اپنے کچھ نمائندوں کو رحبُعام کے پاس بھیجا اور یہ مطالبہ کِیا:‏ ”‏تیرے باپ نے ہمارا جؤا سخت کر رکھا تھا۔‏ سو اب تُو اپنے باپ کی اُس سخت خدمت کو اور اُس بھاری جُوئے کو جو اُس نے ہم پر ڈال رکھا تھا کچھ ہلکا کر دے اور ہم تیری خدمت کریں گے۔‏“‏—‏2-‏تواریخ 10:‏3،‏ 4‏۔‏

رحبُعام نے سوچا ہوگا کہ وہ بُری طرح پھنس گئے ہیں۔‏ اگر وہ لوگوں کی بات مان لیتے تو اُنہیں،‏ اُن کے گھر والوں اور محل کے دیگر لوگوں کو اپنی کچھ آسائشیں قربان کرنی پڑتیں جن کے وہ عادی ہو چُکے تھے۔‏ اور اگر وہ لوگوں کی درخواست کو ٹھکرا دیتے تو لوگ اُن کے خلاف بغاوت کر سکتے تھے۔‏ رحبُعام نے کیا کِیا؟‏ اُنہوں نے پہلے تو اُن بزرگ آدمیوں سے بات کی جن سے اُن کے والد صلاح مشورہ کِیا کرتے تھے۔‏ اُنہوں نے رحبُعام کو مشورہ دیا کہ وہ لوگوں کی بات مان لیں۔‏ لیکن پھر رحبُعام نے اپنے ہم‌عمروں سے صلاح لی اور اُن کی صلاح پر عمل کرتے ہوئے لوگوں کے ساتھ سختی سے پیش آنے کا فیصلہ کِیا۔‏ اُنہوں نے لوگوں سے کہا:‏ ”‏میرے باپ نے تمہارا جؤا بھاری کِیا پر مَیں اُس کو اَور بھی بھاری کروں گا۔‏ میرے باپ نے تُم کو کوڑوں سے ٹھیک کِیا پر مَیں تُم کو بچھوؤں سے ٹھیک کروں گا۔‏“‏—‏2-‏تواریخ 10:‏6-‏14‏۔‏

آپ کے خیال میں اِس میں ہمارے لیے کون سا سبق پایا جاتا ہے؟‏ آج‌کل بھی ہمارے بیچ بڑی عمر کے ایسے بہن بھائی ہیں جو کئی سال سے خدا کی خدمت کر رہے ہیں اور زندگی کا کافی تجربہ رکھتے ہیں۔‏ وہ ہمیں اچھے مشورے دے سکتے ہیں اِس لیے ہمیں اُن کے مشوروں کو ماننا چاہیے۔‏—‏ایوب 12:‏12‏۔‏

‏’‏اُنہوں نے یہوواہ کی بات مانی‘‏

رحبُعام نے بغاوت کا سر کچلنے کے لیے اپنی فوج کو اِکٹھا کِیا۔‏ لیکن یہوواہ نے سمعیاہ نبی کو اُن کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا:‏ ”‏تُم چڑھائی نہ کرو اور نہ اپنے بھائیوں  بنی‌اِسرائیل سے لڑو بلکہ ہر شخص اپنے گھر کو لوٹے کیونکہ یہ بات میری طرف سے ہے۔‏“‏—‏1-‏سلاطین 12:‏21-‏24‏۔‏ *

کیا رحبُعام کے لیے یہوواہ کے فیصلے کو قبول کرنا آسان تھا؟‏ ہو سکتا ہے کہ وہ سوچ رہے ہوں کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو لوگ اُن کے بارے میں کیا سوچیں گے۔‏ وہ تو لوگوں سے کہہ چُکے تھے کہ وہ اُنہیں ”‏بچھوؤں سے“‏ سزا دیں گے مگر اب لوگوں کی بغاوت پر بھی اُنہیں کوئی قدم نہیں اُٹھانا تھا۔‏ (‏2-‏تواریخ 13:‏7 پر غور کریں۔‏)‏ بہرحال بادشاہ اور اُن کی فوج نے ”‏[‏یہوواہ]‏ کی بات مانی اور [‏یہوواہ]‏ کے حکم کے مطابق لوٹے اور اپنا راستہ لیا۔‏“‏

اِس سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟‏ ہمیں ہمیشہ یہوواہ کی فرمانبرداری کرنی چاہیے پھر چاہے ایسا کرنے پر ہمیں لوگوں کی طرف سے طنز کا نشانہ کیوں نہ بنایا جائے۔‏ اگر ہم خدا کا کہنا مانیں گے تو وہ ہمیں اِس کا اجر ضرور دے گا۔‏—‏اِستثنا 28:‏2‏۔‏

کیا رحبُعام کو بھی خدا کی بات ماننے کا صلہ ملا؟‏ رحبُعام اب بھی اُن علاقوں پر حکومت کر رہے تھے جن میں یہوداہ اور بنیمین کے قبیلے رہتے تھے۔‏ اُنہوں نے اپنی سلطنت میں نئے شہر بنانے کا فیصلہ کِیا۔‏ اِس کے علاوہ اُنہوں نے بعض شہروں کو ”‏نہایت ہی مضبوط کر دیا۔‏“‏ (‏2-‏تواریخ 11:‏5-‏12‏)‏ سب سے بڑھ کر کچھ عرصے کے لیے وہ یہوواہ کے حکموں پر چلتے رہے۔‏ چونکہ دس قبیلوں پر مشتمل اِسرائیل کی سلطنت میں بُتوں کی پرستش پھیل گئی تھی اِس لیے وہاں سے بہت سے لوگ یروشلیم آ کر رحبُعام کا ساتھ دینے اور یہوواہ کی عبادت کی حمایت کرنے لگے۔‏ (‏2-‏تواریخ 11:‏16،‏ 17‏)‏ لہٰذا رحبُعام کو یہوواہ کی فرمانبرداری کرنے کا صلہ یہ ملا کہ اُن کی حکومت مضبوط ہوتی گئی۔‏

رحبُعام کا گُناہ اور توبہ

جب رحبُعام کی حکومت کی جڑیں مضبوط ہو گئیں تو وہ بدل گئے۔‏ اُنہوں نے یہوواہ کے حکموں پر چلنا چھوڑ دیا اور جھوٹے معبودوں کی پرستش میں پڑ گئے۔‏ ایسا کیوں ہوا؟‏ ہم یقین سے تو نہیں کہہ سکتے مگر شاید اِس کی وجہ یہ تھی کہ اُن کی ماں نے جو کہ عمونی تھی،‏ اُن پر ایسا کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔‏ (‏1-‏سلاطین 14:‏21‏)‏ بہرحال رحبُعام خدا سے پھر گئے اور اُن کی رعایا بھی اُن کے پیچھے لگ کر جھوٹے معبودوں کو پوجنے لگی۔‏ اِس وجہ سے یہوواہ نے مصر کے بادشاہ سیسق کو یہوداہ کی سلطنت پر حملہ کرنے کی چُھوٹ دے دی۔‏ حالانکہ رحبُعام نے یہوداہ کے شہروں کو بہت مضبوط کِیا ہوا تھا پھر بھی سیسق نے کئی شہروں پر قبضہ کر لیا۔‏—‏1-‏سلاطین 14:‏22-‏24؛‏ 2-‏تواریخ 12:‏1-‏4‏۔‏

صورتحال اُس وقت اَور سنگینی اِختیار کر گئی جب سیسق اور اُس کی فوج یروشلیم تک آ پہنچی جہاں سے رحبُعام حکومت کرتے تھے۔‏ اُس وقت خدا نے سمعیاہ نبی کو رحبُعام اور اُن کے اُمرا کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا:‏ ”‏تُم نے مجھ کو ترک کِیا اِسی لئے مَیں نے بھی تُم کو سیسقؔ کے ہاتھ میں چھوڑ دیا ہے۔‏“‏ خدا کی طرف سے اِصلاح ملنے پر رحبُعام نے کیسا ردِعمل دِکھایا؟‏ بائبل میں لکھا ہے:‏ ”‏اِؔسرائیل کے اُمرا نے اور بادشاہ نے اپنے کو خاکسار بنایا اور کہا کہ [‏یہوواہ]‏ صادق ہے۔‏“‏ لہٰذا یہوواہ نے رحبُعام کی جان بچائی اور یروشلیم کو تباہ نہیں ہونے دیا۔‏—‏2-‏تواریخ 12:‏5-‏7،‏ 12‏۔‏

اِس کے بعد رحبُعام یہوداہ کی سلطنت پر حکومت کرتے رہے۔‏ اپنی موت سے پہلے اُنہوں نے اپنے بیٹوں کو بہت سے تحفے دیے۔‏ دراصل رحبُعام نے اپنے بیٹے ابیاہ کو اپنا جانشین مقرر کِیا تھا۔‏ لہٰذا اُنہوں نے اپنے دوسرے بیٹوں کو تحفے غالباً اِس لیے دیے تاکہ وہ بعد میں اپنے بھائی ابیاہ کے خلاف سر نہ اُٹھائیں۔‏ (‏2-‏تواریخ 11:‏21-‏23‏)‏ رحبُعام نے اُس وقت تو سمجھ‌داری کا مظاہرہ نہیں کِیا تھا جب وہ بادشاہ بنے تھے لیکن اِس موقعے پر اُنہوں نے سمجھ‌داری کا ثبوت دیا۔‏

کیا رحبُعام کو خدا کی خوشنودی حاصل تھی؟‏

یہ سچ ہے کہ رحبُعام نے کچھ اچھے کام کیے لیکن بائبل میں اُن کے دَورِحکومت کا خلاصہ اِن لفظوں میں بیان کِیا گیا ہے:‏ ”‏اُس نے بدی کی۔‏“‏ ایسا اِس لیے تھا ”‏کیونکہ اُس نے [‏یہوواہ]‏ کی تلاش میں اپنا دل نہ لگایا۔‏“‏ لہٰذا رحبُعام یہوواہ کی خوشنودی حاصل کرنے میں ناکام رہ گئے۔‏—‏2-‏تواریخ 12:‏14‏۔‏

رحبُعام یہوواہ کے قریبی دوست نہیں تھے جیسے داؤد تھے۔‏

رحبُعام کی مثال میں ہمارے لیے عبرت پائی جاتی ہے۔‏ اُنہوں نے کبھی کبھار خدا کی بات مانی۔‏ اِس کے علاوہ اُنہوں نے خدا کے بندوں کی بھلائی کے لیے کچھ کام بھی کیے۔‏ لیکن اُن کی خدا کے ساتھ دوستی نہیں تھی اور اُن کے دل میں اُسے خوش کرنے کی خواہش نہیں تھی۔‏ اِس لیے اُنہوں نے اچھے کام کرنے چھوڑ دیے اور بُتوں کو پوجنا شروع کر دیا۔‏ شاید آپ سوچیں کہ جب رحبُعام نے یہوواہ کی طرف سے اِصلاح کو قبول کِیا تو کیا اِس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے گُناہوں پر دل سے شرمندہ تھے اور خدا کو خوش کرنا چاہتے تھے؟‏ یا کیا اُنہوں نے محض دوسروں کے کہنے پر ایسا کِیا تھا؟‏ (‏2-‏تواریخ 11:‏3،‏ 4؛‏ 12:‏6‏)‏ کچھ عرصہ خدا کی فرمانبرداری کرنے کے بعد وہ پھر سے بُرے کاموں میں پڑ گئے۔‏ وہ اپنے دادا داؤد سے بالکل فرق تھے۔‏ سچ ہے کہ داؤد سے بھی سنگین گُناہ ہوئے لیکن اُنہوں نے دل سے توبہ کی۔‏ وہ ساری زندگی خدا سے محبت کرتے رہے اور اُس کی عبادت میں مشغول رہے۔‏—‏1-‏سلاطین 14:‏8؛‏ زبور 51:‏1،‏ 17؛‏ 63:‏1‏۔‏

ہم رحبُعام کی زندگی سے اہم سبق سیکھتے ہیں۔‏ یہ اچھی بات ہے کہ ہم اپنے گھر  والوں کی ضروریات پوری کرنے اور لوگوں کی بھلائی کے لیے کام کرنے کی کوشش کریں۔‏ لیکن صرف اِتنا کافی نہیں ہے۔‏ اگر ہم خدا کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو یہ ضروری ہے کہ ہم اُس کی مرضی کے مطابق اُس کی عبادت کریں اور اُس کے ساتھ اپنی دوستی مضبوط کریں۔‏

ہم ایسا اُسی صورت میں کر پائیں گے اگر ہمارے دل خدا کے لیے محبت سے بھرے ہوں گے۔‏ جس طرح لکڑی ڈالنے سے آگ جلتی رہتی ہے اُسی طرح خدا کے لیے ہماری محبت تبھی قائم رہے گی جب ہم باقاعدگی سے اُس کے کلام کا مطالعہ کریں گے،‏ اِس پر سوچ بچار کریں گے اور دُعا کرنے میں لگے رہیں گے۔‏ (‏زبور 1:‏2؛‏ رومیوں 12:‏12‏)‏ خدا کے لیے محبت ہمارے دل میں یہ خواہش پیدا کرے گی کہ ہم ایسے کام کریں جن سے وہ خوش ہو۔‏ اِس کے علاوہ جب ہم سے کوئی گُناہ ہو جائے گا تو یہ محبت ہمیں ترغیب دے گی کہ ہم توبہ کریں اور خدا سے معافی مانگیں۔‏ پھر ہم رحبُعام کی طرح نہیں بنیں گے بلکہ وفاداری سے یہوواہ کی عبادت کرتے رہیں گے۔‏—‏یہوداہ 20،‏ 21‏۔‏

^ پیراگراف 9 چونکہ سلیمان یہوواہ کے وفادار نہیں رہے تھے اِس لیے یہوواہ پہلے ہی یہ کہہ چُکا تھا کہ اِسرائیل کی سلطنت کا بٹوارا ہو جائے گا۔‏—‏1-‏سلاطین 11:‏31‏۔‏