مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

‏’‏یہوواہ ہمارا خدا ایک ہی یہوواہ ہے‘‏

‏’‏یہوواہ ہمارا خدا ایک ہی یہوواہ ہے‘‏

‏”‏سُن اَے اؔسرائیل!‏ [‏یہوواہ]‏ ہمارا خدا ایک ہی [‏یہوواہ]‏ ہے۔‏“‏‏—‏اِست 6:‏4‏۔‏

گیت:‏ 1،‏  2

1،‏ 2.‏ ‏(‏الف)‏ اِستثنا 6:‏4 کے الفاظ آج تک مشہور کیوں ہیں؟‏ (‏ب)‏ موسیٰ نے اِس آیت میں درج بات کیوں کہی؟‏

یہودی لوگ صدیوں سے اِستثنا 6:‏4 کے الفاظ کو صبح اور شام ایک دُعا کے طور پر دُہراتے آ رہے ہیں۔‏ اِس دُعا کو ”‏شماع“‏ کہا جاتا ہے جو کہ عبرانی زبان میں اِس آیت کا پہلا لفظ ہے۔‏ یہودی اِس دُعا کو یہ ظاہر کرنے کے لیے دُہراتے ہیں کہ وہ صرف ایک ہی خدا کی عبادت کرتے ہیں۔‏

2 دراصل یہ الفاظ اُس تقریر کا حصہ ہیں جو موسیٰ نے 1473 قبل‌ازمسیح میں  موآب  کے  میدانوں میں دی تھی۔‏ اُنہوں نے 40 سال بنی‌اِسرائیل کی رہنمائی کی تھی اور اب وہ وقت آ گیا تھا کہ بنی‌اِسرائیل دریائےاُردن کے پار جا کر ملک کنعان پر قبضہ کریں۔‏ (‏اِست 6:‏1‏)‏ موسیٰ چاہتے تھے کہ بنی‌اِسرائیل آنے والی مشکلوں کا دلیری سے مقابلہ کریں،‏ یہوواہ اپنے خدا پر بھروسا رکھیں اور اُس کے وفادار رہیں۔‏ بِلا‌شُبہ اُن کی اِس تقریر نے بنی‌اِسرائیل پر گہرا اثر چھوڑا ہوگا۔‏ پہلے تو موسیٰ نے شریعت میں موجود دس حکموں اور کچھ اَور حکموں کا ذکر کِیا اور پھر اُنہوں نے وہ بات کہی جو اِستثنا 6:‏4،‏ 5 میں درج ہے۔‏ ‏(‏اِن آیتوں کو پڑھیں۔‏)‏

3.‏ اِس مضمون میں ہم کن سوالوں پر غور کریں گے؟‏

3 مگر بنی‌اِسرائیل تو اِس بات سے خوب واقف تھے کہ ’‏یہوواہ اُن کا خدا ایک ہی  یہوواہ  ہے۔‏‘‏  وہ  صرف یہوواہ اپنے خدا ہی کی عبادت کرتے تھے جو  اُن  کے باپ‌دادا ابراہام،‏ اِضحاق اور یعقوب کا خدا تھا۔‏ تو پھر موسیٰ نے اُنہیں اِس بات کی یاد کیوں دِلائی کہ ’‏یہوواہ اُن کا خدا ایک ہی یہوواہ ہے‘‏؟‏ اور اِس کا 5 آیت سے کیا تعلق ہے جہاں موسیٰ نے کہا کہ بنی‌اِسرائیل کو اپنے سارے دل،‏ اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت سے یہوواہ سے محبت کرنی چاہیے؟‏ اِس مضمون میں ہم اِن سوالوں پر غور کریں گے اور یہ بھی دیکھیں گے کہ اِستثنا 6:‏4،‏ 5 میں درج بات ہمارے لیے کیا اہمیت رکھتی ہے۔‏

‏’‏ایک ہی یہوواہ‘‏

4،‏ 5.‏ ‏(‏الف)‏ اِصطلا‌ح ’‏ایک ہی یہوواہ‘‏ کا کیا مطلب ہے؟‏ (‏ب)‏ یہوواہ خدا قوموں کے دیوتاؤں سے کیسے فرق ہے؟‏

4 واحد اور منفرد خدا۔‏ اِصطلا‌ح ’‏ایک ہی یہوواہ‘‏ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہوواہ خدا واحد،‏ منفرد اور سب سے الگ  ہے۔‏  دراصل موسیٰ نے یہ اِصطلا‌ح تثلیث کے جھوٹے عقیدے کو غلط ثابت کرنے کے لیے نہیں اِستعمال کی بلکہ وہ یہ ظاہر کرنا چاہتے تھے کہ یہوواہ خدا زمین اور آسمان کا خالق اور کُل کائنات کا حاکم ہے۔‏ اُس کے سوا کوئی سچا خدا نہیں اور اُس کی مانند اَور کوئی نہیں۔‏ (‏2-‏سمو 7:‏22‏)‏ موسیٰ بنی‌اِسرائیل سے یہ کہہ رہے تھے کہ اُنہیں صرف اور صرف یہوواہ خدا کی عبادت کرنی چاہیے۔‏ اُنہیں اپنے اِردگِرد رہنے والی قوموں کی طرح مختلف دیوی دیوتاؤں کی پوجا نہیں کرنی چاہیے۔‏ اِن قوموں کا خیال تھا کہ ہر دیوی اور دیوتا فرق فرق چیزوں پر اِختیار رکھتا ہے۔‏

5 مثال کے طور پر قدیم مصر کے لوگ رع کو  سورج  کا  دیوتا،‏ نُوت کو آسمان کی دیوی،‏ گب کو زمین کا دیوتا اور ہاپی کو دریائےنیل کا دیوتا مانتے تھے۔‏ اِس کے علا‌وہ وہ بہت سے جانوروں کی بھی پوجا کرتے تھے۔‏ جب یہوواہ خدا مصر پر دس آفتیں لایا تو اُس نے اِن میں سے کئی جھوٹے معبودوں کو مات دی۔‏ کنعانیوں کا سب سے اہم دیوتا بعل تھا جسے زرخیزی،‏ آسمان،‏ بارش اور طوفان کا دیوتا خیال کِیا جاتا تھا۔‏ بہت سے علا‌قوں کا اپنا اپنا بعل ہوتا تھا جس سے لوگ حفاظت کے لیے آس لگا‌تے تھے۔‏ (‏گن 25:‏3‏)‏ اِس صورتحال کی وجہ سے اِسرائیلیوں کو یاد رکھنا تھا کہ ”‏ایک ہی [‏یہوواہ]‏ ہے“‏ اور ”‏اُس کے سوا اَور کوئی ہے ہی نہیں۔‏“‏—‏اِست 4:‏35،‏ 39‏۔‏

6،‏ 7.‏ ‏(‏الف)‏ اِصطلا‌ح ’‏ایک ہی یہوواہ‘‏ کا ایک اَور مطلب کیا ہے؟‏ (‏ب)‏ یہوواہ خدا نے کیسے ظاہر کِیا کہ وہ ’‏ایک ہی یہوواہ‘‏ ہے؟‏

6 لاتبدیل اور وفادار خدا۔‏ اِصطلا‌ح ’‏ایک ہی یہوواہ‘‏ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یہوواہ خدا لاتبدیل اور قابلِ‌بھروسا ہے۔‏ اُس کی قدروں اور معیاروں میں کبھی تبدیلی نہیں آتی۔‏ وہ وفادار خدا ہے اور ہمیشہ اپنی بات کا پکا رہتا ہے۔‏ مثال کے طور پر اُس نے ابراہام سے وعدہ کِیا تھا کہ وہ اُن کی اولاد کو ملک کنعان ورثے میں دے گا۔‏ حالانکہ 430 سال بیت گئے لیکن یہوواہ خدا کو یہ وعدہ یاد رہا اور اُس نے بڑے بڑے معجزے کر کے اِسے پورا کِیا۔‏—‏پید 12:‏1،‏ 2،‏ 7؛‏ خر 12:‏40،‏ 41‏۔‏

7 صدیوں بعد یہوواہ خدا نے بنی‌اِسرائیل کو اپنے گواہ  کہا  اور اُنہیں بتایا کہ ”‏مَیں وہی ہوں۔‏ مجھ سے پہلے کوئی خدا نہ ہوا اور میرے بعد بھی کوئی نہ ہوگا۔‏“‏ (‏یسع 43:‏10؛‏ 44:‏6؛‏ 48:‏12‏)‏ جب یہوواہ نے کہا کہ ”‏مَیں وہی ہوں“‏ تو وہ ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ وہ کبھی نہیں بدلتا۔‏ یہ بنی‌اِسرائیل کے لیے کتنا بڑا شرف تھا کہ وہ اُس خدا کے خادم تھے جو لاتبدیل اور وفادار ہے۔‏ آج ہمیں بھی یہ شرف حاصل ہے۔‏—‏ملا 3:‏6؛‏ یعقو 1:‏17‏۔‏

8،‏ 9.‏ ‏(‏الف)‏ یہوواہ خدا اپنے خادموں سے کس بات کی توقع کرتا ہے؟‏ (‏ب)‏ یسوع مسیح نے اِستثنا 6:‏5 میں پائے جانے والے حکم کی اہمیت کو کیسے اُجاگر کِیا؟‏

8 موسیٰ نے اپنی تقریر میں بنی‌اِسرائیل کو یاد دِلایا کہ یہوواہ خدا کی محبت اور شفقت میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔‏ لہٰذا بنی‌اِسرائیل کو بھی اپنے سارے دل،‏ جان اور طاقت سے اُس سے محبت کرنی چاہیے اور صرف اُسی کی عبادت کرنی چاہیے۔‏ اِس کے علا‌وہ موسیٰ  نے والدین سے کہا کہ اُنہیں یہ بات اپنے بچوں کو بھی ہر موقعے پر سکھانی چاہیے تاکہ وہ بھی یہوواہ خدا سے محبت کریں اور صرف اُسی کی عبادت کریں۔‏—‏اِست 6:‏6-‏9‏۔‏

9 چونکہ یہوواہ خدا لاتبدیل ہے اِس لیے اُس کے معیار  بھی  نہیں بدلتے۔‏ اگر ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہماری عبادت قبول کرے تو بنی‌اِسرائیل کی طرح ہمیں بھی صرف اُسی کی عبادت کرنی ہوگی اور اپنے سارے دل،‏ اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت سے اُس سے محبت کرنی ہوگی۔‏ یسوع مسیح کے مطابق یہی شریعت کا سب سے اہم حکم تھا۔‏ ‏(‏مرقس 12:‏28-‏31 کو پڑھیں۔‏)‏ آئیں،‏ دیکھتے ہیں کہ ہم کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ ہم واقعی یہوواہ اپنے خدا کو ’‏ایک ہی یہوواہ‘‏ مانتے ہیں۔‏

صرف یہوواہ خدا کی عبادت کریں

10،‏ 11.‏ ‏(‏الف)‏ ہم کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ ہم صرف یہوواہ کی بندگی کرتے ہیں؟‏ (‏ب)‏ شہر بابل میں چار عبرانی نوجوانوں نے کیسے ظاہر کِیا کہ وہ صرف یہوواہ خدا کی بندگی کرتے ہیں؟‏

10 اگر ہم یہوواہ کو اپنا خدا مانتے ہیں تو ہمیں صرف  اُسی  کی بندگی کرنی چاہیے۔‏ ہمیں اُس کی عبادت میں جھوٹے مذاہب کے طورطریقے اور عقیدے شامل نہیں کرنے چاہئیں اور نہ ہی اُس کی عبادت میں کسی اَور کو شریک کرنا چاہیے۔‏ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہوواہ خدا بس بہت سے خداؤں میں سے ایک نہیں بلکہ صرف وہ ہی سچا خدا ہے اور صرف وہ ہی ہماری عبادت کا حق‌دار ہے۔‏‏—‏مکا‌شفہ 4:‏11 کو پڑھیں۔‏

11 دانی‌ایل کی کتاب میں چار عبرانی نوجوانوں یعنی دانی‌ایل،‏ حننیاہ،‏ میساایل اور عزریاہ کے بارے میں بتایا گیا ہے جنہوں نے یہوواہ خدا کی بندگی کرنے کی عمدہ مثال قائم کی۔‏ اُنہوں نے ناپاک کھانوں کو کھانے سے اِنکا‌ر کِیا اور بادشاہ نبوکدنضر کے سونے کی  مورت کے سامنے سجدہ کرنے سے بھی اِنکا‌ر کر دیا۔‏ یوں اُنہوں نے ظاہر کِیا کہ وہ صرف یہوواہ خدا کی بندگی کرتے ہیں اور اُس  کی  عبادت میں کسی کو شریک نہیں کرتے۔‏—‏دان 2:‏1–‏3:‏30‏۔‏

12.‏ ہمیں کس پھندے میں پڑنے سے خبردار رہنا چاہیے؟‏

12 صرف یہوواہ خدا کی عبادت کرنے میں یہ بھی شامل  ہے  کہ ہم اپنی زندگی میں اُسے سب سے زیادہ اہم خیال کریں اور کسی بھی چیز کو اُس جتنی اہمیت نہ دیں۔‏ یہ کون سی چیزیں ہو سکتی ہیں؟‏ دس حکموں میں یہوواہ خدا نے بنی‌اِسرائیل کو صاف صاف بتایا کہ اُنہیں اَور معبودوں کی عبادت نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی کسی قسم کی بُت‌پرستی کرنی چاہیے۔‏ (‏اِست 5:‏6-‏10‏)‏ آج بُت‌پرستی طرح طرح کی شکلیں اِختیار کرتی ہے اور کبھی کبھار اِسے پہچاننا مشکل ہوتا ہے۔‏ مگر یہوواہ کے معیار نہیں بدلے ہیں۔‏ وہ آج بھی ’‏ایک ہی یہوواہ‘‏ ہے اور چاہتا ہے کہ ہم اُسی کی عبادت کریں۔‏ آئیں،‏ دیکھتے ہیں کہ ہم بُت‌پرستی کے پھندے سے کیسے بچ سکتے ہیں۔‏

13.‏ کون سی چیزیں ہمارے دل میں یہوواہ خدا کی جگہ لے سکتی ہیں؟‏

13 مسیحیوں کو کُلسّیوں 3:‏5 میں ایسے کاموں  سے  خبردار  کِیا  گیا ہے جن سے وہ یہوواہ خدا سے دُور ہو سکتے ہیں۔‏ ‏(‏اِس آیت کو  پڑھیں۔‏)‏ غور کریں کہ اِس آیت میں کہا گیا ہے کہ لالچ،‏ بُت‌پرستی کے برابر ہے۔‏ اِس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے دل میں کسی چیز کی خواہش اِتنا زور پکڑ سکتی ہے کہ وہ ہمارے نزدیک ایک خدا کا درجہ اِختیار کر لیتی ہے۔‏ اگر ہم پوری آیت پر غور کرتے ہیں تو ظاہر ہو جاتا ہے کہ اِس میں جن باقی کاموں کا ذکر ہے،‏ اُن سب کا تعلق بھی لالچ سے ہے۔‏ اِس لیے یہ کام بھی ایک طرح کی بُت‌پرستی ہیں۔‏ ایسے کاموں کی خواہش ہمارے دل میں یہوواہ خدا کی جگہ لے سکتی ہے۔‏ لہٰذا کسی بھی چیز کو خود پر اِس حد تک حاوی نہ ہونے دیں کہ آپ اِس کی وجہ سے یہوواہ کی عبادت کو کم اہم خیال کرنے لگیں۔‏

14.‏ یوحنا رسول نے مسیحیوں کو کس بات سے آگاہ کِیا؟‏

14 یوحنا رسول نے بھی مسیحیوں کو اِس بات سے آگاہ کِیا کہ جو  شخص دُنیا کی چیزوں سے محبت کرتا ہے،‏ ”‏وہ باپ سے  محبت  نہیں کرتا۔‏“‏ دُنیا کی چیزوں میں ”‏جسم کی خواہش اور آنکھوں کی خواہش اور مال‌ودولت کا دِکھاوا“‏ شامل ہیں۔‏ (‏1-‏یوح 2:‏15،‏ 16‏)‏ یہ بہت ضروری ہے کہ ہم بار بار اپنا جائزہ لیں۔‏ کیا ہمارے دل میں غلط طرح کی تفریح یا نامناسب بناؤسنگھار اور فیشن کی خواہش اُبھر رہی ہے؟‏ کیا دُنیا کے لوگ ہم پر بُرا اثر ڈال رہے ہیں؟‏ کیا ہم دُنیا میں ”‏بڑی کامیابی حاصل کرنے“‏ کی کوشش کر رہے ہیں،‏ مثلاً اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے؟‏ (‏یرم 45:‏4،‏ 5‏،‏ اُردو جیو ورشن‏)‏ ہم آنے والی نئی دُنیا کی دہلیز پر کھڑے ہیں۔‏ اِس لیے یہ بہت اہم ہے کہ ہم موسیٰ کی یہ بات یاد رکھیں کہ ”‏[‏یہوواہ]‏ ہمارا خدا ایک ہی [‏یہوواہ]‏ ہے۔‏“‏ اگر ہم اِن الفاظ پر پورا یقین رکھتے ہیں اور اِن کی اہمیت کو سمجھتے ہیں تو ہم پورے دل سے یہوواہ خدا کی عبادت کریں گے اور یوں اُس کی خوشنودی حاصل کریں گے۔‏—‏عبر 12:‏28،‏ 29‏۔‏

اِتحاد کو فروغ دیں

15.‏ پولُس رسول نے پہلی صدی کے مسیحیوں کو کیوں یاد دِلایا کہ اُن کا صرف ایک ہی خدا ہے؟‏

15 اِصطلا‌ح ’‏ایک ہی یہوواہ‘‏ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یہوواہ خدا چاہتا ہے کہ اُس کے خادموں میں اِتحاد ہو۔‏ پہلی صدی میں مسیحی کلیسیا میں بہت سی قوموں کے لوگ تھے،‏ مثلاً یہودی،‏ یونانی،‏ رومی وغیرہ۔‏ یہ لوگ مسیحی بننے سے پہلے مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے تھے اور اُن کی ثقافت،‏ طورطریقے اور رواج ایک دوسرے سے فرق تھے۔‏ اِن میں سے کچھ مسیحیوں کو اپنے مذہبی طورطریقوں کو چھوڑنا اور خدا کی عبادت کرنے کا نیا طریقہ اپنانا بہت مشکل لگ رہا تھا۔‏ اِس لیے پولُس رسول نے اُنہیں یاد دِلایا کہ مسیحیوں کا صرف ایک ہی خدا ہے اور وہ یہوواہ ہے۔‏‏—‏1-‏کُرنتھیوں 8:‏5،‏ 6 کو پڑھیں۔‏

16،‏ 17.‏ ‏(‏الف)‏ ہمارے زمانے میں کون سی پیش‌گوئی پوری ہو رہی ہے اور اِس وجہ سے ہماری کلیسیاؤں میں کون سی صورتحال پائی جاتی ہے؟‏ (‏ب)‏ کلیسیا کا اِتحاد کیسے داؤ پر لگ سکتا ہے؟‏

 16 آج‌کل مسیحی کلیسیا میں کون سی صورتحال  پائی  جاتی  ہے؟‏ یسعیاہ نبی نے پیش‌گوئی کی کہ ”‏آخری دنوں میں“‏ بہت سی قوموں کے لوگ یہوواہ خدا کی عبادت کرنے کے لیے اِکٹھے ہوں گے۔‏ وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ ”‏[‏یہوواہ]‏ اپنی راہیں ہم کو بتائے گا اور ہم اُس کے راستوں پر چلیں گے۔‏“‏ (‏یسع 2:‏2،‏ 3‏)‏ آج یہ پیش‌گوئی ہماری آنکھوں کے سامنے پوری ہو رہی ہے۔‏ حالانکہ ہم سب مختلف نسلوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھتے ہیں اور فرق فرق زبانیں بولتے ہیں لیکن ہم مل کر یہوواہ خدا کی بڑائی کرتے ہیں۔‏ البتہ مختلف پس‌منظر رکھنے کی وجہ سے کلیسیا میں کچھ مسائل بھی کھڑے ہو سکتے ہیں۔‏

کیا آپ کلیسیا میں اِتحاد کو فروغ دیتے ہیں؟‏ (‏پیراگراف 16-‏19 کو دیکھیں۔‏)‏

17 مثال کے طور پر اُن بہن بھائیوں کے  بارے  میں  آپ  کے احساسات کیا ہیں جن کی ثقافت آپ کی ثقافت سے فرق ہے؟‏ شاید آپ کو اُن کی زبان،‏ اُن کا لباس،‏ اُن کے طورطریقے اور کھانے عجیب لگیں۔‏ کیا آپ اِن بہن بھائیوں سے میل جول رکھنے سے کتراتے ہیں؟‏ کیا آپ صرف ایسے مسیحیوں سے دوستی کرتے ہیں جو آپ جیسا پس‌منظر رکھتے ہیں؟‏ آپ اپنی کلیسیا یا حلقے کے اُن بزرگوں کو کیسا خیال کرتے ہیں جو آپ سے کم‌عمر ہیں یا کسی اَور نسل یا قوم سے تعلق رکھتے ہیں؟‏ کیا آپ ایسی باتوں کی وجہ سے یہوواہ کے خادموں کے اِتحاد کو داؤ پر لگا دیں گے؟‏

18،‏ 19.‏ ‏(‏الف)‏ پولُس رسول نے اِفسیوں 4:‏1-‏3 میں کون سی ہدایتیں دیں؟‏ (‏ب)‏ ہم کلیسیا میں اِتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟‏

18 ہم کلیسیا کے اِتحاد کو کیسے برقرار رکھ سکتے  ہیں؟‏  پولُس  رسول نے شہر اِفسس کے مسیحیوں کو اِس سلسلے میں بڑی اچھی ہدایتیں دیں۔‏ ‏(‏اِفسیوں 4:‏1-‏3 کو پڑھیں۔‏)‏ وہاں کے مسیحی بھی فرق فرق ثقافتوں اور پس‌منظروں سے تعلق رکھتے تھے۔‏ غور کریں کہ پولُس رسول نے اُنہیں خاکساری،‏ نرم‌مزاجی،‏ صبر اور محبت جیسی خوبیاں ظاہر کرنے کی ہدایت دی۔‏ یہ خوبیاں  ایسے  ستونوں  کی طرح ہیں جن کی وجہ سے ایک گھر کھڑا رہتا ہے۔‏ لیکن اگر اِس گھر کی باقاعدگی سے مرمت اور دیکھ‌بھال نہ کی جائے تو وہ بوسیدہ ہو جائے گا۔‏ اِس لیے پولُس رسول نے شہر اِفسس کے مسیحیوں سے  اِلتجا  کی کہ وہ کلیسیا کے ”‏اِتحاد کو برقرار رکھنے کی پوری کوشش کریں۔‏“‏

19 کلیسیا کے اِتحاد کو برقرار رکھنا ہم میں سے ہر ایک کی ذمےداری ہے۔‏ اِس سلسلے میں ہمیں پہلے تو اپنے اندر خاکساری،‏ نرم‌مزاجی،‏ صبر اور محبت جیسی خوبیاں پیدا کرنے اور اِن میں نکھار لانے کی ضرورت ہے۔‏ پھر ہمیں ”‏صلح کے بندھن کو قائم“‏ رکھنے کی پوری کوشش کرنی چاہیے۔‏ اور اگر ہمارے اِتحاد میں دراڑ پڑ بھی جائے تو ہمیں فوراً اِس کی مرمت کرنی چاہیے۔‏ اِس طرح ہم اپنے بیش‌قیمت اِتحاد کو برقرار رکھ سکیں گے۔‏

20.‏ یہ کیسے ظاہر ہوگا کہ ہم اِس بات کی اہمیت کو سمجھتے ہیں کہ ”‏[‏یہوواہ]‏ ہمارا خدا ایک ہی [‏یہوواہ]‏ ہے“‏؟‏

20 ‏”‏[‏یہوواہ]‏ ہمارا خدا ایک ہی [‏یہوواہ]‏ ہے۔‏“‏ اِس بات میں کتنا دم ہے!‏ اِسے یاد رکھ کر بنی‌اِسرائیل دلیری سے اُن تمام مشکلوں کا مقابلہ کر پائے جن سے وہ ملک کنعان پر قبضہ کرتے وقت دوچار ہوئے۔‏ اور اگر ہم اِس بات کو یاد رکھیں گے تو ہم بھی آنے والی بڑی مصیبت کا دلیری سے سامنا کر پائیں گے اور فردوس میں امن اور اِتحاد کو فروغ دیں گے۔‏ لہٰذا آئیں،‏ دل‌وجان سے یہوواہ سے محبت کرتے رہیں اور کلیسیا کے اِتحاد کو برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کریں۔‏ یوں ہم ظاہر کریں گے کہ ہم صرف اور صرف یہوواہ خدا کی بندگی کرتے ہیں اور ہم اُن لوگوں میں شامل ہوں گے جن سے یسوع مسیح کہیں گے:‏ ”‏آپ کو میرے باپ نے برکت دی ہے۔‏ آئیں،‏ اُس بادشاہت کو ورثے میں حاصل کریں جو تب سے آپ کے لیے تیار کی گئی جب سے دُنیا کی بنیاد ڈالی گئی۔‏“‏—‏متی 25:‏34‏۔‏