مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

ہیروں سے بھی زیادہ قیمتی

ہیروں سے بھی زیادہ قیمتی

ہیروں کو بہت ہی قیمتی خیال کِیا جاتا ہے اور کچھ تو لاکھوں ڈالر میں بکتے ہیں۔‏ لیکن کیا کوئی ایسی چیز ہے جو ہیروں سے بھی  زیادہ قیمتی ہے؟‏

 ہائیکا‌نوش اور اُن کے شوہر ملک آرمینیا میں رہتے ہیں  اور  دونوں غیربپتسمہ‌یافتہ مبشر ہیں۔‏ ایک دن ہائیکا‌نوش کو اپنے گھر کے قریب ایک پاسپورٹ ملا جس میں ڈیبٹ کارڈز کے علا‌وہ بہت زیادہ پیسے بھی تھے۔‏ اُنہوں نے جا کر اپنے شوہر کو یہ پاسپورٹ دِکھایا۔‏

حالانکہ اُن کو پیسوں کی بڑی تنگی تھی اور اُنہیں  کچھ  قرض  بھی  ادا کرنے تھے لیکن اُنہوں نے پاسپورٹ اور پیسے لوٹانے کا فیصلہ کِیا۔‏ پاسپورٹ میں دیے گئے پتے کو دیکھ کر وہ اُس آدمی کے گھر گئے جس کا یہ پاسپورٹ تھا۔‏ وہ آدمی اور اُس کے گھر والے بہت ہی حیران ہوئے اور ہائیکا‌نوش اور اُن کے شوہر کی ایمان‌داری سے بہت متاثر بھی ہوئے۔‏ ہائیکا‌نوش اور اُن کے شوہر نے اُس آدمی کو بتایا کہ وہ بائبل کی تعلیمات پر عمل کرنا چاہتے ہیں اور اِس لیے ایمان‌دار ہیں۔‏ پھر اُنہوں نے اُس آدمی اور اُس کے گھر والوں کو یہوواہ کے گواہوں کے بارے میں بتایا اور اُنہیں ہماری کچھ مطبوعات بھی دیں۔‏

وہ آدمی اور اُس کے گھر والے پاسپورٹ ملنے پر اِتنے شکرگزار تھے کہ وہ ہائیکا‌نوش کو اِنعام کے طور پر کچھ پیسے دینا چاہتے تھے لیکن ہائیکا‌نوش نے اِنہیں لینے سے اِنکا‌ر کر دیا۔‏ اگلے دن اُس آدمی کی بیوی ہائیکا‌نوش کے گھر آئی اور اُنہیں ہیرے کی ایک انگوٹھی دے گئی جسے ہائیکا‌نوش نے بڑے اِصرار کے بعد قبول کر لیا۔‏

سچ تو یہ ہے کہ بہت سے لوگ ہائیکا‌نوش اور  اُن  کے  شوہر  کی ایمان‌داری کے بارے میں سُن کر حیران ہوئے ہوں گے۔‏ لیکن کیا یہوواہ  خدا بھی حیران ہوا؟‏ اُس نے اُن کی ایمان‌داری کو دیکھ کر کیسا محسوس کِیا؟‏

خوبیاں جو ہیروں سے بھی زیادہ قیمتی ہیں

اِن سوالوں کا جواب دینا مشکل نہیں۔‏ ہم جانتے ہیں کہ یہوواہ خدا کی سوچ اِنسانوں کی سوچ سے بہت فرق ہے۔‏ (‏یسع 55:‏8،‏ 9‏)‏ وہ چاہتا ہے کہ اُس کے بندے اُس جیسی خوبیاں ظاہر کریں۔‏ یہ اُس کی نظر میں ہیرے جواہرات سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔‏ اُس کے بندوں کے نزدبھی اِس سے زیادہ قیمتی اَور کوئی چیز نہیں کہ وہ اُس جیسی خوبیاں ظاہر کرنے کی بھرپور کوشش کریں۔‏

غور کریں کہ امثال 3:‏13-‏15 میں لکھا ہے کہ ”‏مبارک ہے  وہ  جو حکمت پاتا ہے،‏ جسے سمجھ حاصل ہوتی ہے۔‏ کیونکہ حکمت چاندی سے کہیں زیادہ سودمند ہے،‏ اور اُس سے سونے سے کہیں زیادہ قیمتی چیزیں حاصل ہوتی ہیں۔‏ حکمت موتیوں سے زیادہ نفیس ہے،‏ تیرے تمام خزانے اُس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔‏“‏ ‏(‏اُردو جیو ورشن)‏ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہوواہ خدا حکمت اور سمجھ جیسی خوبیوں کو سونے چاندی سے کہیں زیادہ قیمتی خیال کرتا ہے۔‏

لیکن یہوواہ خدا ایمان‌داری کی خوبی کی کتنی قدر کرتا ہے؟‏

یہوواہ ایمان‌دار خدا ہے۔‏ وہ ”‏جھوٹ نہیں بول سکتا۔‏“‏  (‏طط 1:‏2‏)‏ اُسی کے اِلہام سے پولُس رسول نے پہلی صدی کے مسیحیوں کو لکھا:‏ ”‏ہمارے لیے دُعا کِیا کریں کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ ہمارا ضمیر صاف ہے اور ہم ہر بات میں ایمان‌داری سے کام لینا چاہتے ہیں۔‏“‏—‏عبر 13:‏18‏۔‏

یسوع مسیح نے بھی ایمان‌داری  کی  اچھی  مثال  قائم  کی۔‏  جب کاہنِ‌اعظم کائفا نے اُن سے کہا کہ ”‏مَیں تمہیں زندہ خدا کی قسم دیتا ہوں،‏ بتاؤ کہ تُم خدا کے بیٹے یعنی مسیح ہو یا نہیں“‏ تو اُنہوں نے سچ سچ بتا دیا کہ وہ ہی مسیح ہیں حالانکہ وہ جانتے تھے کہ اِس اِقرار سے وہ اپنے مخالفوں کو موقع دے رہے ہیں کہ وہ اُن پر کفر بکنے کا اِلزام لگا‌ئیں اور اُنہیں سزائےموت سنائیں۔‏—‏متی 26:‏63-‏67‏۔‏

کیا ہم بھی ہر بات میں ایمان‌داری سے کام لیتے ہیں؟‏ اگر کچھ باتوں کو چھپانے سے یا بات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے سے ہمیں مالی فائدہ ہو سکتا ہے تو ہم کیا کریں گے؟‏

 ایمان‌دار ہونا اِتنا مشکل کیوں ہے؟‏

سچ ہے کہ اِس آخری زمانے میں ایمان‌دار ہونا آسان نہیں کیونکہ بہت سے لوگ ’‏خود غرض اور پیسے سے پیار کرنے والے‘‏ ہیں۔‏ (‏2-‏تیم 3:‏2‏)‏ مالی مشکلا‌ت اور بڑھتی ہوئی بےروزگاری کی وجہ سے لوگوں کو لگتا ہے کہ چوری کرنا،‏ دھوکا دینا وغیرہ غلط نہیں،‏ یہاں تک کہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ مالی فائدہ حاصل کرنے کے لیے بےایمانی کرنی ہی پڑتی ہے۔‏ افسوس کی بات ہے کہ یہوواہ کے کچھ خادموں نے بھی اِس سوچ کو اپنا لیا ہے اور ”‏اپنا فائدہ حاصل کرنے“‏ کے لیے بےایمانی کرنے پر اُتر آئے ہیں جس کی وجہ سے کلیسیا میں اُن کی نیک‌نامی پر داغ لگا ہے۔‏—‏1-‏تیم 3:‏8؛‏ طط 1:‏7‏۔‏

لیکن یہوواہ کے زیادہ‌تر خادم یسوع مسیح کی مثال پر عمل کرتے ہیں۔‏ وہ جانتے ہیں کہ خدا جیسی خوبیاں ظاہر کرنا دولت یا فائدہ حاصل کرنے سے زیادہ اہم ہے۔‏ اِس وجہ سے مسیحی نوجوان اِمتحان کے دوران نقل نہیں کرتے۔‏ (‏امثا 20:‏23‏)‏ یہ سچ ہے کہ ایمان‌داری کا ہمیشہ ایسا اِنعام نہیں ملتا جیسا کہ ہائیکا‌نوش کو ملا تھا لیکن جب ہم ایمان‌دار ہوتے ہیں تو یہوواہ خدا ہم سے خوش ہوتا ہے اور ہمارا ضمیر پاک رہتا ہے۔‏ بھلا اِس سے زیادہ قیمتی چیز اَور کیا ہو سکتی ہے؟‏

یہی گاجک نامی آدمی کا تجربہ رہا۔‏ وہ کہتے ہیں:‏  ”‏یہوواہ  کا  گواہ بننے سے پہلے مَیں ایک بہت بڑی کمپنی کے لیے کام کرتا تھا۔‏ اِس کمپنی کا مالک ٹیکس کے فارم پُر کرتے وقت کمپنی کے منافع کا صرف تھوڑا سا حصہ لکھتا تھا تاکہ اُسے زیادہ ٹیکس ادا نہ کرنا پڑے۔‏ مَیں اِس کمپنی کا ڈائریکٹر تھا اور اِس لیے مجھے ٹیکس وصول کرنے والے افسر کی مٹھی گرم کرنی پڑتی تھی تاکہ وہ ہماری بےایمانی کو نظرانداز کر دے۔‏ اِس وجہ سے مَیں ایک بےایمان آدمی کے طور پر مشہور ہو گیا۔‏ پھر جب مَیں سچائی میں آیا تو مَیں نے وہ ملا‌زمت چھوڑ دی حالانکہ مجھے بہت اچھی تنخواہ ملتی تھی۔‏ مَیں نے اپنی کمپنی کھول لی اور  اِسے رجسٹر  کرایا  اور  پوری ایمان‌داری سے ٹیکس ادا کرنے لگا۔‏“‏—‏2-‏کُر 8:‏21‏۔‏

گاجک کہتے ہیں:‏ ”‏میری آمدنی پہلے کی نسبت آدھی ہو گئی جس کی وجہ سے میرے لیے گھر کا خرچہ چلا‌نا مشکل ہو گیا۔‏ لیکن مَیں خوش ہوں کیونکہ یہوواہ کے سامنے میرا ضمیر صاف ہے۔‏ مَیں اپنے دو بیٹوں کے لیے اچھی مثال قائم کر رہا ہوں اور کلیسیا میں ذمےداریاں اُٹھانے کے لائق بن گیا ہوں۔‏ اب مَیں ٹیکس وصول کرنے والے افسروں اور اپنے گاہکوں میں ایک ایمان‌دار آدمی کے طور پر جانا جاتا ہوں۔‏“‏

یہوواہ خدا کی مدد پر بھروسا کریں

یہوواہ خدا اُن لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اُس جیسی خوبیاں ظاہر کر کے اُس کی ”‏تعلیم کی خوب‌صورتی“‏ کو سنوارتے ہیں۔‏ (‏طط 2:‏10‏)‏ اُس نے اِن لوگوں کی مدد کرنے کا وعدہ بھی کِیا ہے۔‏ داؤد بادشاہ نے خدا کے اِلہام سے لکھا:‏ ”‏مَیں جوان تھا اور اب بوڑھا ہوں تو بھی مَیں نے صادق کو بےکس اور اُس کی اولاد کو ٹکڑے مانگتے نہیں دیکھا۔‏“‏—‏زبور 37:‏25‏۔‏

اِس بات کا ثبوت رُوت کی زندگی سے ملتا ہے۔‏  اُنہوں  نے  اپنی بوڑھی ساس نعومی کا ساتھ نہیں چھوڑا بلکہ اُن کے ساتھ اِسرائیل چلی گئیں تاکہ وہ وہاں سچے خدا کی عبادت کر سکیں۔‏ (‏رُوت 1:‏16،‏ 17‏)‏ رُوت نے ایمان‌داری اور محنت سے روزی کمائی۔‏ اُنہوں نے شریعت میں دیے گئے بندوبست کے مطابق بالیں چُن کر اپنی اور اپنی ساس کی ضروریات پوری کیں۔‏ یہوواہ خدا نے اپنے وعدے کے مطابق رُوت اور نعومی کی مدد کی۔‏ (‏رُوت 2:‏2-‏18‏)‏ لیکن اُس نے رُوت کی بس ضروریات ہی پوری نہیں کیں بلکہ اُنہیں یہ شرف بھی دیا کہ اُن کے بیٹے کی نسل سے داؤد بادشاہ اور بعد میں مسیح پیدا ہوں۔‏—‏رُوت 4:‏13-‏17؛‏ متی 1:‏5،‏ 16‏۔‏

یہوواہ کے کچھ بندوں کے لیے اپنی ضروریات پوری کرنا مشکل  ہے۔‏ لیکن وہ بےایمانی کرنے کی بجائے لگن سے محنت کرتے ہیں کیونکہ اُن کے نزدیک خدا جیسی خوبیاں ظاہر کرنا کسی بھی مالی فائدے سے زیادہ قیمتی ہے۔‏—‏امثا 12:‏24؛‏ اِفس 4:‏28‏۔‏

رُوت کی طرح آج بھی سچے مسیحی اِس بات پر پکا ایمان  رکھتے  ہیں کہ یہوواہ خدا اُن کی مدد کرے گا۔‏ اُنہوں نے خدا کے اِس وعدے پر بھروسا کِیا ہے:‏ ”‏مَیں تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا۔‏ مَیں تمہیں کبھی ترک نہیں کروں گا۔‏“‏ (‏عبر 13:‏5‏)‏ یہوواہ خدا نے بار بار ثابت کِیا کہ وہ اُن لوگوں کی ضروریات پوری کرتا ہے جو ہر معاملے میں ایمان‌داری سے کام لیتے ہیں۔‏—‏متی 6:‏33‏۔‏

اِنسان تو ہیرے جواہرات کو بہت قیمتی خیال کرتے ہیں لیکن ہمارے آسمانی باپ کی نظر میں ہماری ایمان‌داری اِن سے بھی کہیں زیادہ قیمتی ہے۔‏ لہٰذا اِس انمول خوبی کو ہر صورت میں ظاہر کریں!‏

ایمان‌دار ہونے سے ہمارا ضمیر صاف رہے گا اور ہم اُن باتوں پر عمل کر رہے ہوں گے جو ہم دوسروں کو سکھاتے ہیں۔‏