مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

‏’‏ہر طرح کے لوگوں‘‏ کے لیے ہمدردی پیدا کریں

‏’‏ہر طرح کے لوگوں‘‏ کے لیے ہمدردی پیدا کریں

جب یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں کو خوش‌خبری کی مُنادی کرنی سکھائی تو اُنہوں نے شاگردوں کو خبردار کِیا کہ سب لوگ اُن کے پیغام کو قبول نہیں کریں گے۔‏ (‏لُوقا 10:‏3،‏ 5،‏ 6‏)‏ آج مُنادی کے دوران ہمارے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے۔‏ شاید ہماری ملاقات ایسے لوگوں سے ہو جو ہمارے ساتھ سخت لہجے میں بات کریں یا ہم پر بھڑک اُٹھیں۔‏ ایسی صورت میں لوگوں کے ساتھ ہمدردی سے پیش آنا اور اپنے دل میں اُنہیں گواہی دینے کی خواہش کو برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔‏

ایک ہمدرد شخص دوسروں کی ضرورتوں اور مسئلوں کو سمجھتا ہے،‏ اُن کے دُکھ کو محسوس کرتا ہے اور اُن کی مدد کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔‏ لیکن اگر ہمارے دل میں اُن لوگوں کے لیے ہمدردی ختم ہو جاتی ہے جنہیں ہم مُنادی کرتے ہیں تو لوگوں کو گواہی دینے کے لیے ہمارا جوش ٹھنڈا پڑ جائے گا اور ہم اُن کی مدد نہیں کر پائیں گے۔‏ اِس سلسلے میں ہم اپنے جوش کو آگ سے تشبیہ دے سکتے ہیں۔‏ اگر ہم چاہتے ہیں کہ آگ جلتی رہے تو ہمیں اِس میں مسلسل لکڑیاں ڈالتے رہنا چاہیے۔‏ اِسی طرح اگر ہم مُنادی کے کام کے لیے اپنے جوش کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے اندر ہمدردی کی خوبی پیدا کرنی چاہیے۔‏—‏1-‏تھسلُنیکیوں 5:‏19‏۔‏

ہم اُس صورت میں بھی لوگوں کے لیے ہمدردی کیسے ظاہر کر سکتے ہیں جب ہمارے لیے ایسا کرنا مشکل ہوتا ہے؟‏ آئیں،‏ اِس حوالے سے یہوواہ خدا،‏ یسوع مسیح اور پولُس رسول کی مثال پر غور کریں۔‏

یہوواہ خدا کی طرح ہمدرد بنیں

صدیوں سے یہوواہ کے بارے میں جھوٹی باتیں پھیلائی جا رہی ہیں۔‏ پھر بھی ”‏وہ ناشکروں اور بُرے لوگوں کے ساتھ مہربانی سے پیش آتا ہے۔‏“‏ (‏لُوقا 6:‏35‏)‏ یہوواہ مہربانی کیسے ظاہر کرتا ہے؟‏ وہ سب کے ساتھ صبر سے پیش آتا ہے۔‏ وہ چاہتا ہے کہ ”‏ہر طرح کے لوگ“‏ نجات پائیں۔‏ (‏1-‏تیمُتھیُس 2:‏3،‏ 4‏)‏ اگرچہ اُسے بُرائی سے نفرت ہے لیکن وہ اِنسانوں کی زندگی کو بیش‌قیمت خیال کرتا ہے اور نہیں چاہتا کہ کوئی بھی شخص اپنی جان گنوا دے۔‏—‏2-‏پطرس 3:‏9‏۔‏

یہوواہ جانتا ہے کہ شیطان نے کتنی مہارت سے لوگوں کی آنکھوں پر جھوٹ کا پردہ ڈالا ہوا ہے۔‏ (‏2-‏کُرنتھیوں 4:‏3،‏ 4‏)‏ بہت سے لوگوں کو بچپن سے خدا کے بارے میں جھوٹی باتیں سکھائی جاتی ہیں۔‏ ایسی باتوں کا اُن کی سوچ اور احساسات پر اِتنا گہرا اثر ہوتا ہے کہ اُن کے لیے سچائی کو قبول کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔‏ لیکن یہوواہ ایسے لوگوں کی مدد کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔‏ ہم یہ کیسے جانتے ہیں؟‏

ذرا غور کریں کہ یہوواہ شہر نینوہ میں رہنے والے لوگوں کے بارے میں کیسا محسوس کرتا تھا۔‏ حالانکہ وہ لوگ بہت تشددپسند تھے پھر بھی یہوواہ نے یُوناہ نبی سے کہا:‏ ”‏کیا مجھے لازم نہ تھا کہ مَیں اِتنے بڑے شہر نینوؔہ کا خیال کروں جس میں ایک لاکھ بیس ہزار سے زیادہ ایسے ہیں جو اپنے دہنے اور بائیں ہاتھ میں اِمتیاز نہیں کر سکتے؟‏“‏ (‏یُوناہ 4:‏11‏)‏ یہوواہ کو نینوہ کے لوگوں پر ترس آیا جو کہ اُس کے بارے میں سچائی نہیں جانتے تھے۔‏ اِس لیے اُس نے یُوناہ کو اُن لوگوں کے پاس بھیجا تاکہ وہ اُنہیں خبردار کریں۔‏

ہم بھی لوگوں کے بارے میں ویسے ہی احساسات رکھتے ہیں جیسے یہوواہ رکھتا ہے۔‏ ہماری نظر میں بھی لوگوں کی زندگیاں بیش‌قیمت ہیں۔‏ یہوواہ کی طرح ہم بھی سچائی سیکھنے میں سب لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں،‏ اُن لوگوں کی بھی جن کے بارے میں یہ لگتا ہے کہ وہ سچائی کو قبول نہیں کریں گے۔‏

یسوع مسیح کی طرح ہمدرد بنیں

اپنے باپ کی طرح یسوع کو بھی لوگوں پر ترس آیا ”‏کیونکہ وہ ایسی بھیڑوں کی طرح تھے جن کا کوئی چرواہا نہیں تھا یعنی وہ بےبس تھے اور اُن کو تنگ کِیا جا رہا تھا۔‏“‏ (‏متی 9:‏36‏)‏ یسوع مسیح اِس بات کو سمجھتے تھے کہ لوگوں کی ایسی حالت کیوں ہے۔‏ دراصل اُن کے مذہبی رہنما اُن سے بُرا سلوک کرتے تھے اور اُنہیں جھوٹی باتیں سکھاتے تھے۔‏ اگرچہ یسوع جانتے تھے کہ جو لوگ اُن کی تعلیمات سننے آتے ہیں،‏ اُن میں سے بہت سے مختلف وجوہات کی بِنا پر اُن کے پیروکار نہیں بنیں گے پھر بھی وہ اُنہیں ”‏بہت سی باتیں“‏ سکھاتے تھے۔‏—‏مرقس 4:‏1-‏9‏۔‏

اگر کوئی شخص پہلی ملاقات پر آپ کا پیغام نہیں سنتا تو بےحوصلہ نہ ہوں۔‏

لوگوں کے حالات بدلنے سے ہمارے پیغام کے لیے اُن کا ردِعمل بھی بدل سکتا ہے۔‏

جب لوگ ہمارے پیغام کے لیے اچھا ردِعمل نہیں دِکھاتے تو ہمیں یہ سمجھنے کی  کوشش کرنی چاہیے کہ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔‏ ہو سکتا ہے کہ وہ اِس لیے بائبل اور مسیحیوں کے بارے میں منفی سوچ رکھتے ہوں کیونکہ اُنہوں نے ایسے لوگوں کو بُرے کام کرتے دیکھا ہو جو مسیحی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔‏ یا پھر ممکن ہے کہ اُنہیں ہمارے عقیدوں کے بارے میں غلط معلومات دی گئی ہو۔‏ بعض لوگ شاید اِس ڈر کی وجہ سے ہمارا پیغام سننے سے اِنکار کر دیں کہ اُن کے رشتےدار یا برادری کے لوگ اُنہیں طنزومذاق کا نشانہ بنائیں گے۔‏

شاید کچھ لوگ اِس لیے بھی ہمارے پیغام کو سننا نہ چاہیں کیونکہ وہ اپنی زندگی میں ہونے والے افسوس‌ناک واقعات کی وجہ سے جذباتی طور پر ٹوٹ چُکے ہوں۔‏ کیم نامی ایک مشنری کہتی ہیں:‏ ”‏جن علاقوں میں ہم مُنادی کرتے ہیں،‏ اُن میں سے ایک علاقہ ایسا ہے جہاں جنگ کے متاثرین رہتے ہیں۔‏ وہ لوگ جنگ میں اپنا سارا مال اسباب کھو بیٹھے ہیں۔‏ اُن کے پاس مستقبل کے سلسلے میں کوئی اُمید نہیں ہے۔‏ وہ بہت مایوس رہتے ہیں اور کسی پر بھروسا نہیں کرتے۔‏ اُس علاقے میں ہمارا آمناسامنا اکثر ایسے لوگوں سے ہوتا ہے جو ہماری مخالفت کرتے ہیں۔‏ ایک مرتبہ تو مُنادی کے دوران مجھ پر حملہ بھی کِیا گیا۔‏“‏

لوگوں کے بُرے سلوک کے باوجود کیم اُن کے لیے ہمدردی کے جذبات کو کیسے برقرار رکھ پاتی ہیں؟‏ وہ کہتی ہیں:‏ ”‏جب لوگ میرے ساتھ بُری طرح پیش آتے ہیں تو مَیں امثال 19:‏11 کو یاد رکھتی ہوں جس میں لکھا ہے:‏ ”‏آدمی کی تمیز اُس کو قہر کرنے میں دھیما بناتی ہے۔‏“‏ اپنے علاقے کے لوگوں کے پس‌منظر کو ذہن میں رکھنے سے مَیں اپنے دل میں اُن کے لیے ہمدردی پیدا کر پاتی ہوں۔‏ دراصل ہمیں ملنے والا ہر شخص ہماری مخالفت نہیں کرتا۔‏ اُسی علاقے میں ہماری بڑی اچھی واپسی ملاقاتیں ہیں۔‏“‏

ہم خود سے پوچھ سکتے ہیں:‏ ”‏اگر مَیں سچائی سے واقف نہ ہوتا اور یہوواہ کے گواہ مجھے پیغام سنانے آتے تو مَیں کیسا ردِعمل دِکھاتا؟‏“‏ مثال کے طور پر اگر ہمیں گواہوں کے بارے میں بہت سی جھوٹی باتیں بتائی گئی ہوتیں تو شاید ہم بھی اُن کے پیغام کو قبول نہ کرتے۔‏ ایسی صورت میں یہ ضروری ہوتا کہ وہ ہمارے ساتھ ہمدردی سے پیش آئیں۔‏ یسوع نے کہا کہ ہمیں دوسروں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرنا چاہیے جیسا ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ کریں۔‏ لہٰذا ہمیں لوگوں کے احساسات کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے اور تب بھی اُن کے ساتھ تحمل سے پیش آنا چاہیے جب ہمارے لیے ایسا کرنا مشکل ہوتا ہے۔‏—‏متی 7:‏12‏۔‏

پولُس رسول کی طرح ہمدرد بنیں

پولُس رسول نے اُن لوگوں کے لیے بھی ہمدردی ظاہر کی جنہوں نے اُن کے پیغام کو سُن کر اُن پر تشدد کِیا۔‏ پولُس ایسا کرنے کے قابل کیسے ہوئے؟‏ دراصل اُنہوں نے اپنے ماضی کو یاد رکھا۔‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏مَیں پہلے کفر بکتا تھا،‏ لوگوں کو اذیت پہنچاتا تھا اور بہت بدتمیز تھا۔‏ اِس کے باوجود مجھ پر رحم کِیا گیا کیونکہ مَیں نے جو کچھ کِیا،‏ وہ جہالت اور ایمان کی کمی کی وجہ سے کِیا۔‏“‏ (‏1-‏تیمُتھیُس 1:‏13‏)‏ پولُس جانتے تھے کہ یہوواہ اور یسوع نے اُن پر بڑا رحم کِیا ہے۔‏ وہ اُن لوگوں کے جذبات کو سمجھ سکتے تھے جو اُنہیں مُنادی کرنے سے روکنا چاہتے تھے کیونکہ وہ کبھی خود بھی ایسے ہی ہوا کرتے تھے۔‏

کبھی کبھار پولُس کی ملاقات ایسے لوگوں سے بھی ہوئی جن کے دل‌ودماغ پر جھوٹی تعلیمات کا گہرا اثر تھا۔‏ یہ جان کر پولُس کو کیسا لگا؟‏ اعمال 17:‏16 میں بتایا گیا ہے کہ جب پولُس ایتھنز میں تھے تو ”‏اُنہوں نے دیکھا کہ پورا شہر بُتوں سے  بھرا ہے جس پر اُنہیں بہت غصہ آیا۔‏“‏ پولُس کو جس چیز پر غصہ آیا،‏ اُسی کو بنیاد بنا کر اُنہوں نے لوگوں کو تعلیم دی۔‏ (‏اعمال 17:‏22،‏ 23‏)‏ اُنہوں نے اپنے مُنادی کرنے کے طریقے میں ردوبدل کِیا اور فرق فرق پس‌منظر سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے فرق فرق طریقے سے بات کی تاکہ وہ ”‏کسی نہ کسی طرح کچھ لوگوں کو بچا“‏ لیں۔‏—‏1-‏کُرنتھیوں 9:‏20-‏23‏۔‏

جب ہم ایسے لوگوں سے ملتے ہیں جو ہمارے پیغام کے لیے منفی ردِعمل دِکھاتے ہیں یا جھوٹے عقیدوں کو مانتے ہیں تو ہم پولُس کی مثال پر عمل کر سکتے ہیں۔‏ ہم اُن لوگوں کے بارے میں جو کچھ جانتے ہیں،‏ اُسے بنیاد بنا کر اُنہیں ”‏خیریت کی خبر“‏ سنا سکتے ہیں۔‏ (‏یسعیاہ 52:‏7‏)‏ ڈوروتھی نامی بہن کہتی ہیں:‏ ”‏ہمارے علاقے میں بہت سے لوگوں کو یہ سکھایا گیا ہے کہ خدا ظالم ہے اور اِنسانوں میں عیب ڈھونڈتا ہے۔‏ مَیں ایسے لوگوں کی تعریف کرتی ہوں کہ وہ خدا پر مضبوط ایمان رکھتے ہیں اور پھر بائبل سے اُن کی توجہ اِس بات پر دِلاتی ہوں کہ یہوواہ کتنا شفیق ہے اور اُس نے مستقبل کے سلسلے میں کون سے وعدے کیے ہیں۔‏“‏

‏”‏اچھائی سے بُرائی پر غالب آئیں“‏

بائبل کے مطابق جیسے جیسے اِس دُنیا کا خاتمہ نزدیک آتا جائے گا،‏ کچھ لوگوں کا رویہ ’‏بگڑتا چلا جائے گا۔‏‘‏ (‏2-‏تیمُتھیُس 3:‏1،‏ 13‏)‏ لیکن ہمیں لوگوں کے بُرے ردِعمل کی وجہ سے نہ تو اُن کے لیے ہمدردی کے جذبات کو اور نہ ہی اپنی خوشی کو کم ہونے دینا چاہیے۔‏ یہوواہ ہمیں ”‏اچھائی سے بُرائی پر غالب“‏ آنے کے لیے طاقت دے سکتا ہے۔‏ (‏رومیوں 12:‏21‏)‏ ایک پہل‌کار جس کا نام جیسیکا ہے،‏ کہتی ہے:‏ ”‏میری ملاقات اکثر ایسے لوگوں سے ہوتی ہے جو بڑے مغرور ہوتے ہیں اور ہماری اور ہمارے پیغام کی بےقدری کرتے ہیں۔‏ ہمیں ایسے لوگوں پر غصہ آ سکتا ہے۔‏ اِس لیے جب مَیں کسی شخص سے بات شروع کرتی ہوں تو مَیں دل ہی دل میں یہوواہ سے دُعا کرتی ہوں کہ مَیں اُس شخص کو اُسی نظر سے دیکھوں جس نظر سے یہوواہ دیکھتا ہے۔‏ اِس طرح مَیں جذبات میں آنے کی بجائے یہ سوچنے کے قابل ہوتی ہوں کہ مَیں اُس شخص کی مدد کیسے کر سکتی ہوں۔‏“‏

ہم ایسے لوگوں کو ڈھونڈنا نہیں چھوڑتے جو سچائی کی تلاش میں ہیں۔‏

جو لوگ شروع میں ہمارا پیغام نہیں سنتے،‏ وہ کچھ عرصے بعد ہماری مدد کو قبول کر کے سچائی سیکھ سکتے ہیں۔‏

مُنادی کرتے وقت ہمیں اپنے بہن بھائیوں کی حوصلہ‌افزائی کرنے کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔‏ جیسیکا کہتی ہیں:‏ ”‏اگر مُنادی کے دوران ہم میں سے کسی کے ساتھ کوئی بُرا تجربہ پیش آتا ہے تو مَیں اُس کے بارے میں سوچتی نہیں رہتی۔‏ اِس کی بجائے مَیں بات کا رُخ کسی خوش‌گوار موضوع کی طرف موڑ دیتی ہوں۔‏ مثال کے طور پر مَیں اِس بارے میں بات کرتی ہوں کہ لوگوں کے بُرے ردِعمل کے باوجود ہمارے مُنادی کے کام سے کتنے اچھے نتیجے نکلتے ہیں۔‏“‏

یہوواہ اِس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ کبھی کبھار ہمارے لیے مُنادی کا کام کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔‏ لیکن وہ اُس وقت بہت خوش ہوتا ہے جب ہم اُس کی طرح رحم کا مظاہرہ کرتے ہیں۔‏ (‏لُوقا 6:‏36‏)‏ بِلاشُبہ یہوواہ اِس بُری دُنیا میں ہمیشہ تک لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور تحمل سے پیش نہیں آئے گا۔‏ ہم یقین رکھ سکتے ہیں کہ وہ اپنے مقررہ وقت پر اِس دُنیا کو ختم کر دے گا۔‏ لیکن تب تک یہ بہت ضروری ہے کہ ہم مُنادی کے کام میں مشغول رہیں۔‏ (‏2-‏تیمُتھیُس 4:‏2‏)‏ لہٰذا پورے جوش‌وجذبے سے مُنادی کریں اور اپنے دل میں ’‏ہر طرح کے لوگوں‘‏ کے لیے حقیقی ہمدردی پیدا کریں۔‏