مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

ایرک اور ایمی

اُنہوں نے اپنے آپ کو خوشی سے پیش کِیا—‏گھانا میں

اُنہوں نے اپنے آپ کو خوشی سے پیش کِیا—‏گھانا میں

کیا آپ کسی ایسے بہن یا بھائی کو جانتے ہیں جو مُنادی کا کام کرنے کے لیے کسی ایسے ملک چلا گیا جہاں مبشر کم ہیں؟‏ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ”‏کس بات سے اُسے وہاں جانے کی ترغیب ملی؟‏“‏ ”‏اُس نے وہاں جانے سے پہلے کون کون سی تیاریاں کیں؟‏“‏ اور ”‏کیا مَیں بھی کسی دوسرے ملک جا کر مُنادی کے کام میں ہاتھ بٹا سکتا ہوں؟‏“‏ ایسے سوالوں کے جواب اُن بہن بھائیوں سے بات کر کے ہی مل سکتے ہیں۔‏ تو پھر کیوں نہ اُنہی سے پوچھیں۔‏

اُنہیں وہاں جانے کی ترغیب کیسے ملی؟‏

کس بات سے آپ کو یہ ترغیب ملی کہ آپ کسی ایسے ملک میں جا کر خدمت کریں جہاں مبشر کم ہیں؟‏ ایمی تقریباً 35 سال کی ہیں اور اُن کا تعلق ریاستہائے متحدہ امریکہ سے ہے۔‏ اُنہوں نے بتایا:‏ ”‏مَیں کئی سالوں سے کسی دوسرے ملک جا کر خدمت کرنے کے بارے میں سوچ رہی تھی مگر مجھے لگتا تھا کہ مَیں کبھی ایسا نہیں کر پاؤں گی۔‏“‏ اُن کی سوچ کیسے بدل گئی؟‏ اُنہوں نے بتایا:‏ ”‏ملک بیلیز میں ایک جوڑا پہل‌کار کے طور پر خدمت کر رہا تھا۔‏ 2004ء میں اُنہوں نے مجھ سے کہا کہ مَیں ایک مہینے کے لیے اُن کے پاس آؤں اور اُن کے ساتھ مل کر پہل‌کار کے طور پر خدمت کروں۔‏ مَیں وہاں گئی اور مجھے مُنادی کے کام میں بہت مزہ آیا۔‏ ایک سال بعد مَیں گھانا چلی گئی اور پہل‌کار کے طور پر خدمت کرنے لگی۔‏“‏

ایرن اور سٹےفنی

سٹےفنی کا تعلق بھی ریاستہائے متحدہ امریکہ سے ہے اور اُن کی عمر تقریباً 28 سال ہے۔‏ اُنہوں نے اپنے حالات کا جائزہ لینے کے بعد سوچا:‏ ”‏نہ تو مَیں بیمار ہوں اور نہ ہی مجھ پر کسی کی ذمےداری ہے۔‏ اِس لیے مجھے یہوواہ خدا کی اَور زیادہ خدمت کرنی چاہیے۔‏“‏ لہٰذا اچھی طرح سوچ‌بچار کرنے کے بعد وہ گھانا چلی گئیں تاکہ وہ مُنادی کے کام میں بہن بھائیوں کا ہاتھ بٹا سکیں۔‏ فلپ اور اِیڈا کی عمریں 50 سال کے آس‌پاس ہیں اور وہ ڈنمارک کے رہنے والے ہیں۔‏ اِس پہل‌کار جوڑے کا ہمیشہ سے یہی خواب تھا کہ وہ کسی ایسے ملک میں جا کر مُنادی کا کام کریں جہاں زیادہ مبشر نہیں ہیں۔‏ اُنہوں نے اپنا یہ خواب سچ کرنے کے بہت سے طریقوں پر غور کِیا۔‏ فلپ نے کہا:‏ ”‏جب ہمیں ایسا کرنے کا موقع ملا تو ہمیں لگا جیسے یہوواہ ہم سے کہا رہا ہو کہ ”‏جاؤ اور کرو اپنی خواہش پوری۔‏“‏“‏ 2008ء میں وہ دونوں گھانا چلے گئے اور وہاں تین سال سے زیادہ عرصے تک خدمت کی۔‏

بروک اور ہانز

ہانز اور بروک کی عمریں تقریباً 37 سال ہیں اور اُن کا تعلق ریاستہائے متحدہ امریکہ  سے ہے۔‏ اِس جوڑے نے 2005ء میں طوفان کترینا کے بعد اِمدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔‏ پھر اُنہوں نے ہماری تنظیم کے تعمیراتی منصوبوں میں حصہ لینے کی درخواست دی مگر اُن کی درخواست منظور نہ ہوئی۔‏ ہانز نے بتایا:‏ ”‏ایک اِجتماع پر ایک تقریر میں بتایا گیا کہ داؤد نے یہ حکم مان لیا تھا کہ وہ ہیکل کو تعمیر نہیں کریں گے۔‏ لہٰذا اُنہوں نے کسی اَور طریقے سے اِس کام کی حمایت کرنے کے بارے میں سوچا۔‏ اِس بات سے ہم یہ سمجھ گئے کہ خدا کی خدمت کے حوالے سے اگر ہمارا ایک منصوبہ پورا نہیں ہوتا تو ہم کسی اَور طریقے سے اُس کی خدمت کرنے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔‏“‏ (‏1-‏توا 17:‏1-‏4،‏ 11،‏ 12؛‏ 22:‏5-‏11‏)‏ بروک نے بھی کہا:‏ ”‏یہوواہ چاہتا تھا کہ ہم کسی اَور طریقے سے اُس کی خدمت کریں۔‏“‏

ہانز اور بروک نے اِس سلسلے میں اپنے اُن  دوستوں  سے بات کی جو کسی دوسرے ملک میں خدمت کر رہے تھے۔‏ اُن کے حوصلہ‌افزا تجربوں کو سُن کر ہانز اور بروک نے بھی کسی ایسے ملک میں جا کر پہل‌کاروں کے طور پر خدمت کرنے کا فیصلہ کِیا جہاں زیادہ مبشروں کی ضرورت ہے۔‏ وہ 2012ء میں گھانا چلے گئے اور وہاں اِشاروں کی زبان والی کلیسیا کے ساتھ 4 مہینے خدمت کی۔‏ حالانکہ وہ ریاستہائے متحدہ امریکہ واپس چلے گئے پھر بھی گھانا میں خدمت کرنے سے اُن کی یہ خواہش اَور گہری ہو گئی کہ وہ بادشاہت کی مُنادی کو اپنی زندگی میں پہلا مقام دیں گے۔‏ تب سے وہ مائکرونیشیا میں ہماری تنظیم کی عمارتیں بنانے میں حصہ لے رہے ہیں۔‏

اُنہوں نے کون سی تیاریاں کیں؟‏

آپ نے وہاں جانے سے پہلے کون کون سی تیاریاں کیں؟‏ سٹےفنی نے بتایا:‏ ”‏مَیں نے مینارِنگہبانی میں ایسے بہن بھائیوں کے بارے میں پڑھا جنہوں نے اُن ملکوں میں جا کر خدمت کی جہاں مبشر کم ہیں۔‏ * مَیں نے کلیسیا کے بزرگوں،‏ حلقے کے نگہبان اور اُس کی بیوی کو بھی بتایا کہ مَیں کسی دوسرے ملک جا کر خدمت کرنا چاہتی ہوں۔‏ سب سے اہم بات یہ تھی کہ مَیں اکثر یہوواہ خدا کو اپنی اِس خواہش کے بارے میں بتاتی تھی۔‏“‏ اِس کے ساتھ ساتھ سٹےفنی نے اپنی زندگی کو بھی سادہ رکھا تاکہ وہ کچھ بچت کر سکیں اور جس بھی ملک جائیں وہاں اپنی ضروریات پوری کر سکیں۔‏

ہانز نے بتایا:‏ ”‏ہم نے یہوواہ سے دُعا کی کہ ہم وہیں خدمت کرنا چاہتے ہیں جہاں وہ ہمیں بھیجنا چاہتا ہے۔‏ ہم نے  اُسے یہ بھی بتایا کہ ہم کس تاریخ سے اپنے منصوبے کے مطابق کام کرنا چاہتے ہیں۔‏“‏ ہانز اور بروک نے چار ملکوں کی برانچوں کو خط لکھے۔‏ اُنہیں گھانا میں خدمت کرنے کے لیے بلا لیا گیا۔‏ اُنہوں نے سوچا تھا کہ وہ وہاں صرف دو مہینے رہیں گے۔‏ ہانز نے کہا:‏ ”‏ہمیں وہاں خدمت کر کے اِتنا مزہ آیا کہ ہم وہاں دو مہینے سے بھی زیادہ ٹھہرے۔‏“‏

اڈریا اور جارج

جارج اور اڈریا کی عمریں تقریباً 38 سال ہیں اور وہ کینیڈا کے رہنے والے ہیں۔‏ وہ یہ اچھی طرح سمجھتے تھے کہ یہوواہ اچھے اِرادوں کی قدر کرتا ہے مگر وہ اچھے فیصلوں کی اَور بھی قدر کرتا ہے۔‏ لہٰذا اُنہوں نے کچھ عملی قدم اُٹھائے تاکہ وہ کسی ایسے ملک میں جا کر خدمت کر سکیں جہاں زیادہ مبشر نہیں ہیں۔‏ اُنہوں نے گھانا میں ایک بہن سے رابطہ کِیا اور اُس سے بہت سے سوال پوچھے۔‏ اُنہوں نے کینیڈا برانچ اور گھانا برانچ کو خط بھی لکھے۔‏ اڈریا نے کہا:‏ ”‏ہم نے اپنی زندگی کو پہلے ہی سادہ کر لیا تھا مگر ہم نے اِسے اَور بھی سادہ بنانے کی کوشش کی۔‏“‏ ایسے اچھے فیصلوں کی بدولت وہ 2004ء میں گھانا چلے گئے۔‏

وہ مشکلوں سے کیسے نمٹے؟‏

آپ کو وہاں کون سی مشکلات کا سامنا ہوا اور آپ اُن سے کیسے نمٹے؟‏ ایمی کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ اُنہیں اپنے گھر کی بہت یاد آتی تھی۔‏ اُنہوں نے بتایا:‏ ”‏میرے ملک کے حساب سے گھانا میں سب کچھ بہت فرق تھا۔‏“‏ کس چیز نے اِس مشکل پر قابو پانے میں ایمی کی مدد کی؟‏ اُنہوں نے بتایا:‏ ”‏میرے گھر والے اکثر مجھے فون پر بتایا کرتے تھے کہ وہ اِس بات سے بہت خوش ہیں کہ مَیں گھانا میں خدمت کر رہی ہوں۔‏ اِس سے مجھے اپنی خدمت جاری رکھنے کا حوصلہ ملا۔‏ بعد میں ہم ویڈیو کال بھی کرنے لگے۔‏ اب چونکہ ہم ایک دوسرے کو دیکھ سکتے تھے اِس لیے مجھے لگا کہ میرے گھر والے مجھ سے دُور نہیں ہیں۔‏“‏ ایمی کی دوستی ایک مقامی بہن سے ہو گئی جس نے وہاں کے رسم‌ورواج کو سمجھنے میں اُن کی بڑی مدد کی۔‏ ایمی نے کہا:‏ ”‏جب بھی مجھے لوگوں کے رویوں یا کاموں کو سمجھنے میں مشکل ہوتی تو مَیں اُس بہن کے پاس جاتی۔‏ اُس سے مَیں نے سیکھا کہ مجھے فلا‌ں  صورتحال میں کیا کرنا چاہیے اور کیا  نہیں۔‏ اِس سے مجھے بہت فائدہ ہوا اور مَیں وہاں خوشی سے خدمت کرتی رہی۔‏“‏

جارج اور اڈریا نے بتایا کہ جب وہ گھانا پہنچے تو اُنہیں لگا  کہ  جیسے  وہ  کئی  سال  پیچھے چلے گئے ہیں۔‏ اڈریا نے کہا:‏ ”‏ہم مشین سے نہیں بلکہ ہاتھوں سے کپڑے دھوتے تھے۔‏ کھانا پکا‌نے میں اب ہمیں پہلے سے دس گُنا زیادہ وقت لگتا تھا۔‏ لیکن کچھ عرصے بعد یہ مشکلیں،‏ مشکلیں نہ رہیں کیونکہ ہم سمجھ گئے کہ کسی بھی نئی جگہ کا عادی ہونے میں وقت لگتا ہے۔‏“‏ بروک نے بھی کہا:‏ ”‏ہمیں مشکلوں کا سامنا تو ہوتا ہے مگر ہماری زندگی بہت اِطمینان‌بخش ہے۔‏ جب ہم مُنادی میں پیش آنے والے خوش‌گوار واقعات کو اِکٹھا کرتے ہیں تو حسین یادوں کا ایک ایسا گلدستہ بن جاتا ہے جو ہمارے لیے نہایت بیش‌قیمت ہوتا ہے۔‏“‏

اُنہیں کون سی خوشیاں ملیں؟‏

آپ کے خیال میں دوسروں کو بھی ایسے ملک میں جا کر خدمت کیوں کرنی چاہیے جہاں مبشر کم ہیں؟‏ سٹےفنی نے کہا:‏ ”‏کسی ایسے علا‌قے میں مُنادی کا کام کرنے سے بڑی خوشی ملتی ہے جہاں لوگوں میں سچائی سیکھنے کا اِتنا شوق ہو کہ وہ ہر روز آپ سے ملنا چاہیں اور سیکھنا چاہیں۔‏ گھانا میں خدمت کرنے کا فیصلہ میری زندگی کا بہت اچھا فیصلہ ثابت ہوا ہے۔‏“‏ 2014ء میں سٹےفنی کی شادی ایرن سے ہو گئی اور اب وہ دونوں گھانا برانچ میں کام کر رہے ہیں۔‏

جرمنی کی رہنے والی کرسٹین ایک پہل‌کار ہیں اور اُن کی عمر تقریباً 33 سال ہے۔‏ وہ گھانا جانے سے پہلے بولیویا میں خدمت کرتی تھیں۔‏ اُنہوں نے بتایا:‏ ”‏مجھے گھانا میں خدمت کرنے کا بہت مزہ آ رہا ہے۔‏ گو میرے گھر والے مجھ سے دُور ہیں مگر یہوواہ تو ہمیشہ میرے ساتھ ہے۔‏ وہ میرے لیے پہلے سے بھی زیادہ حقیقی بن گیا ہے۔‏ مَیں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ یہوواہ کے بندوں میں جیسا اِتحاد پایا جاتا ہے،‏ ویسا کسی اَور میں نہیں۔‏ مَیں نے محسوس کِیا ہے کہ ایسے ملکوں میں خدمت کرنے سے جہاں مبشر کم ہیں،‏ میری زندگی خوشیوں سے بھر گئی ہے۔‏“‏ حال ہی میں کرسٹین کی شادی گڈیون سے ہو گئی اور وہ دونوں گھانا میں خدمت کر رہے ہیں۔‏

کرسٹین اور گڈیون

فلپ اور اِیڈا نے بتایا کہ اُنہوں نے اُن لوگوں کی مدد کیسے کی جو بائبل کورس کر رہے تھے۔‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏ہم 15 یا اِس سے بھی زیادہ بائبل کورس کراتے تھے۔‏ لیکن ہم چاہتے تھے کہ ہم لوگوں کو پوری توجہ دیں اور اُنہیں اچھی طرح سکھائیں۔‏ اِس لیے ہم نے سوچا کہ ہم 10 سے زیادہ بائبل کورس نہیں کرائیں گے۔‏“‏ کیا بائبل کورس کی تعداد کم کرنے سے واقعی فائدہ ہوا؟‏ فلپ نے بتایا:‏ ”‏مَیں ایک جوان لڑکے کو بائبل کورس کراتا تھا جس کا نام مائیکل تھا۔‏ مَیں ہر روز اُس کے پاس جاتا تھا اور وہ اِتنی اچھی تیاری کرتا تھا کہ ہم نے ایک مہینے میں ہی پاک صحائف کی کتاب ختم کر ڈالی۔‏ کچھ عرصے بعد مائیکل غیربپتسمہ‌یافتہ مبشر بن گیا۔‏ جب وہ پہلے دن مُنادی کے لیے گیا تو اُس نے مجھ سے پوچھا:‏ ”‏کیا آپ کچھ لوگوں کو بائبل کورس کرانے میں میری مدد کریں گے؟‏“‏ مَیں نے بڑی حیرت سے اُس کی طرف دیکھا۔‏ اُس نے مجھے بتایا کہ اُس نے تین بائبل کورس شروع کرائے ہیں اور اِس سلسلے میں اُسے مدد چاہیے۔‏“‏ ذرا غور کریں کہ اِس ملک میں بائبل سکھانے والوں کی اِتنی ضرورت ہے کہ بائبل سیکھنے والے خود سکھانے والے بن گئے ہیں۔‏

اِیڈا اور فلپ

ایمی نے بھی بتایا کہ اُنہیں گھانا پہنچتے ہی احساس ہو گیا تھا کہ وہاں مبشروں کی کتنی زیادہ ضرورت ہے۔‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏گھانا پہنچنے کے تھوڑے ہی عرصے بعد ہم ایک گاؤں میں مُنادی کرنے گئے اور ایسے لوگوں کو ڈھونڈنے لگے جو سُن نہیں سکتے۔‏ ہمیں وہاں ایک نہیں بلکہ آٹھ ایسے لوگ ملے۔‏“‏ ایمی کی شادی ایرک سے ہو گئی ہے اور وہ دونوں خصوصی پہل‌کاروں کے طور پر خدمت کر رہے ہیں۔‏ وہ اِشاروں کی زبان والی کلیسیا میں خدمت کرتے ہیں اور 300 سے زیادہ ایسے لوگوں کی مدد کر رہے ہیں جو سُن نہیں سکتے۔‏ اِن میں سے کچھ مبشر بن چُکے ہیں اور کچھ سچائی سیکھنے میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں۔‏ جارج اور اڈریا نے گھانا میں خدمت کرتے ہوئے دیکھا کہ ایک مشنری کی زندگی کیسی ہوتی ہے۔‏ جب اُنہیں گلئیڈ سکول کی 126ویں کلاس میں آنے کی دعوت ملی تو وہ نہایت خوش ہوئے۔‏ اب وہ موزمبیق میں مشنریوں کے طور پر خدمت کر رہے ہیں۔‏

وہ محبت کی وجہ سے گئے

یہ کتنی خوشی کی بات ہے کہ مبشر اپنے اپنے ملکوں سے دوسرے ملکوں میں جا کر فصل کی کٹائی میں بہن بھائیوں کا ہاتھ بٹا رہے ہیں۔‏ (‏یوح 4:‏35‏)‏ گھانا میں ہر ہفتے اوسطاً 120 لوگ بپتسمہ لیتے ہیں۔‏ گھانا جا کر خدمت کرنے والے 17 پہل‌کاروں کے علا‌وہ بھی ہزاروں مبشر ہیں جنہوں نے یہوواہ کے لیے محبت کی بِنا پر ’‏اپنے آپ کو خوشی سے پیش کِیا ہے۔‏‘‏ وہ ایسے علا‌قوں میں جاتے ہیں جہاں زیادہ مبشروں کی ضرورت ہے۔‏ اِن مبشروں کے جذبے کو دیکھ کر یہوواہ کتنا خوش ہوتا ہوگا!‏—‏زبور 110:‏3؛‏ امثا 27:‏11‏۔‏

^ پیراگراف 9 اِس سلسلے میں بادشاہتی خدمتگزاری جولائی 2001ء میں مضمون ”‏کیا آپ زیادہ ضرورت والے علا‌قے میں خدمت کر سکتے ہیں؟‏‏“‏ اور بادشاہتی خدمتگزاری اگست 2011ء میں مضمون ”‏پار اُتر کر مکدنیہ میں آئیں‏“‏ کو دیکھیں۔‏