مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 مطالعے کا مضمون نمبر 5

ہم اِجلاسوں میں کیوں جاتے ہیں؟‏

ہم اِجلاسوں میں کیوں جاتے ہیں؟‏

‏”‏آپ مالک کی موت کا اِعلان کرتے ہیں جب تک کہ وہ آ نہ جائیں۔‏“‏‏—‏1-‏کُر 11:‏26‏۔‏

گیت نمبر 18‏:‏ فدیے کے لیے شکرگزار

مضمون پر ایک نظر *

1‏،‏ 2.‏ ‏(‏الف)‏ جب یہوواہ اُن لاکھوں لوگوں کو دیکھتا ہے جو یادگاری تقریب میں آتے ہیں تو اُس کا دھیان کس چیز پر ہوتا ہے؟‏ (‏سرِورق کی تصویر کو دیکھیں۔‏)‏ (‏ب)‏ اِس مضمون میں ہم کس بات پر غور کریں گے؟‏

آپ کے خیال میں جب یہوواہ دُنیا بھر میں اُن لاکھوں لوگوں کو دیکھتا ہوگا جو یادگاری تقریب میں آتے ہیں تو اُس کی توجہ کس چیز پر ہوتی ہوگی؟‏ بےشک یہوواہ صرف یہ نہیں دیکھتا کہ اُس تقریب میں کتنے لوگ حاضر ہوئے ہیں،‏ اُس کا دھیان تو وہاں آئے ہوئے ہر شخص پر ہوتا ہے،‏ مثلاً ایسے لوگوں پر جو ہر سال یادگاری تقریب میں آتے ہیں۔‏ اِن میں وہ اشخاص بھی شامل ہوتے ہیں جنہیں اذیت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔‏ اِس کے علاوہ یہوواہ کا دھیان اُن لوگوں پر ہوتا ہے جو شاید تجسّس کی وجہ سے پہلی بار یادگاری تقریب میں آتے ہیں اور اُن لوگوں پر بھی جو اِجلاسوں میں تو باقاعدگی سے نہیں آتے لیکن یادگاری تقریب میں آنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔‏

2 یہوواہ کو یہ دیکھ کر یقیناً بڑی خوشی ہوتی ہوگی کہ اِتنے سارے لوگ یادگاری تقریب میں حاضر ہوتے ہیں۔‏ (‏لُو 22:‏19‏)‏ لیکن یہوواہ کا خاص دھیان لوگوں کی تعداد کی بجائے اِس بات پر ہوتا ہے کہ وہ لوگ اِس تقریب میں کیوں آئے ہیں۔‏ یہوواہ ہمیشہ اِس چیز کو اہم خیال کرتا ہے کہ ہم فلاں کام کس نیت سے کرتے ہیں۔‏ اِس مضمون میں ہم اِس اہم سوال پر غور کریں گے:‏ ہم یادگاری تقریب کے ساتھ ساتھ ہفتہ‌وار اِجلاسوں میں بھی کیوں حاضر ہوتے ہیں جن کا بندوبست یہوواہ اپنے بندوں کے لیے کرتا ہے؟‏

دُنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کا مسیح کی موت کی یادگاری تقریب پر خیرمقدم کِیا جا رہا ہے۔‏ (‏پیراگراف نمبر 1،‏ 2 کو دیکھیں۔‏)‏

اِجلاسوں میں حاضر ہونا خاکساری کا ثبوت

3‏،‏ 4.‏ ‏(‏الف)‏ ہم اِجلاسوں میں کیوں حاضر ہوتے ہیں؟‏ (‏ب)‏ جب ہم اِجلاسوں میں جاتے ہیں تو اِس سے ہمارے بارے میں کیا ظاہر ہوتا ہے؟‏ (‏ج)‏ 1-‏کُرنتھیوں 11:‏23-‏26 کو اِستعمال کرتے ہوئے بتائیں کہ ہمیں یادگاری تقریب سے غیرحاضر کیوں نہیں رہنا چاہیے؟‏

3 ہمارے اِجلاسوں میں حاضر ہونے کی سب سے خاص وجہ یہ ہے کہ اِجلاس ہماری عبادت کا حصہ ہیں۔‏ ہم اِس لیے بھی اِجلاسوں میں جاتے ہیں کیونکہ وہاں ہمیں یہوواہ سے تعلیم ملتی ہے۔‏ مغرور  لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اُنہیں دوسروں سے تعلیم پانے کی ضرورت نہیں ہے۔‏ (‏3-‏یوح 9‏)‏ اِس کے برعکس ہم بڑے شوق کے ساتھ یہوواہ اور اُس کی تنظیم سے تعلیم‌وتربیت حاصل کرتے ہیں۔‏—‏یسع 30:‏20؛‏ یوح 6:‏45‏۔‏

4 جب ہم اِجلاسوں میں جاتے ہیں تو اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم خاکسار اور تعلیم پانے کے لیے تیار ہیں۔‏ اور ہم یادگاری تقریب میں بھی صرف اِس لیے حاضر نہیں ہوتے کہ ہم ایسا کرنے کو اپنا فرض سمجھتے ہیں بلکہ اِس لیے بھی کیونکہ ہم خاکساری سے یسوع کے اِس حکم پر عمل کرنا چاہتے ہیں:‏ ”‏میری یاد میں ایسا کِیا کریں۔‏“‏ ‏(‏1-‏کُرنتھیوں 11:‏23-‏26 کو پڑھیں۔‏)‏ اِس خاص اِجلاس کے ذریعے مستقبل کے حوالے سے ہماری اُمید پکی ہوتی ہے اور ہمیں یہ یاد دِلایا جاتا ہے کہ یہوواہ ہم سے کتنا پیار کرتا ہے۔‏ لیکن یہوواہ جانتا ہے کہ ہمیں سال میں ایک سے زیادہ بار حوصلہ‌افزائی کی ضرورت ہے۔‏ اِس لیے وہ ہر ہفتے اِجلاسوں کا بندوبست کرتا ہے اور ہمیں یہ نصیحت کرتا ہے کہ ہم اِن میں حاضر ہوں۔‏ اور خاکساری ہمیں یہوواہ کی اِس ہدایت پر عمل کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔‏ ہم ہر ہفتے اِجلاسوں کی تیاری کرنے اور اِن میں حاضر ہونے کے لیے کئی گھنٹے صرف کرتے ہیں۔‏

5.‏ خاکسار لوگ یہوواہ سے تعلیم پانے کی دعوت پر اچھا ردِعمل کیوں دِکھاتے ہیں؟‏

5 یہوواہ لوگوں کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ اُس سے تعلیم حاصل کریں اور ہر سال بہت سے خاکسار لوگ اُس کی اِس دعوت کو قبول کرتے ہیں۔‏ (‏یسع 50:‏4‏)‏ عام طور پر وہ لوگ پہلے یادگاری تقریب میں آتے ہیں اور پھر دوسرے اِجلاسوں میں بھی آنا شروع کر دیتے ہیں۔‏ (‏زک 8:‏20-‏23‏)‏ وہاں ’‏ہمارے مددگار اور چھڑانے والے‘‏ یہوواہ خدا سے تعلیم اور رہنمائی حاصل کر کے وہ بھی ویسی ہی خوشی محسوس کرتے ہیں جیسی ہمیں ہوتی ہے۔‏ (‏زبور 40:‏17‏)‏ اور واقعی اِس سے بڑی اور خوشی کی بات اَور کوئی نہیں ہو سکتی کہ ہمیں یہوواہ خدا اور اُس کے عزیز بیٹے سے تعلیم پانے کا موقع ملے۔‏—‏متی 17:‏5؛‏ 18:‏20؛‏ 28:‏20‏۔‏

6.‏ ایک شخص کو یادگاری تقریب میں حاضر ہونے کی ترغیب کیوں ملی؟‏

6 ہر سال ہم یہ کوشش کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مسیح کی موت کی یادگاری تقریب میں آنے کی دعوت دیں۔‏ بہت سے خاکسار لوگوں کو ہماری یہ دعوت قبول کرنے سے فائدہ ہوا ہے۔‏ اِس حوالے سے ایک مثال پر غور کریں۔‏ کئی سال پہلے ایک بھائی نے ایک شخص کو یادگاری تقریب کا دعوت‌نامہ دیا لیکن اُس شخص نے بھائی سے کہا کہ وہ نہیں آ سکے گا۔‏ مگر یادگاری تقریب والی شام بھائی یہ دیکھ کر بڑا خوش ہوا کہ وہ شخص کنگڈم ہال میں آیا ہے۔‏ جس طریقے سے بہن بھائی اُس شخص کو ملے،‏ اُس کا اُس پر اِتنا گہرا اثر ہوا کہ وہ ہمارے ہفتہ‌وار اِجلاسوں میں بھی آنے لگا۔‏ اُس نے پورے سال میں صرف تین اِجلاس چھوڑے۔‏ دراصل اُس شخص میں ایک خاص خوبی تھی جس کی بِنا پر اُس نے اِتنا اچھا ردِعمل دِکھایا۔‏ شروع میں تو اُس نے یادگاری تقریب میں آنے کی دعوت کو قبول نہیں کِیا لیکن بعد میں اُس نے خاکساری سے اپنا اِرادہ بدل لیا۔‏ جس بھائی نے اُسے دعوت‌نامہ دیا تھا،‏ اُس نے کہا:‏ ”‏وہ بڑا خاکسار بندہ ہے۔‏“‏ بےشک یہوواہ نے ہی جو ”‏فروتنوں کو بچاتا ہے،‏“‏ اُس شخص کو اپنی طرف کھینچا تھا۔‏ (‏2-‏سمو 22:‏28‏،‏ نیو اُردو بائبل ورشن؛‏ یوح 6:‏44‏)‏ اب وہ شخص ایک بپتسمہ‌یافتہ بھائی ہے۔‏

7.‏ ہم اِجلاسوں اور بائبل سے جو کچھ سیکھتے ہیں،‏ اُس سے ہمیں خاکسار بننے میں کیسے مدد ملتی ہے؟‏

7 ہم اِجلاسوں سے جو کچھ سیکھتے ہیں اور بائبل میں جو کچھ پڑھتے ہیں،‏ اُس کے ذریعے ہم میں خاکساری پیدا ہوتی ہے۔‏ یادگاری تقریب سے پہلے والے چند ہفتوں کے دوران ہمارے اِجلاسوں میں اِس بات پر توجہ دِلائی جاتی ہے کہ یسوع نے کیسی مثال قائم کی اور اپنی جان کا فدیہ دے کر کتنی خاکساری دِکھائی۔‏ اور یادگاری تقریب سے پہلے والے دنوں میں ہماری یہ حوصلہ‌افزائی کی جاتی ہے کہ ہم یسوع کی موت اور جی اُٹھنے کے آس‌پاس ہونے والے واقعات کے بارے میں پڑھیں۔‏ بائبل میں درج اِن واقعات اور اِجلاسوں کے ذریعے ہم ایسی باتیں سیکھتے ہیں جن کی بدولت ہمارے دل میں یسوع کی قربانی کے لیے شکرگزاری بڑھتی ہے۔‏ یوں ہمیں یہ ترغیب ملتی ہے کہ ہم اُس وقت بھی یسوع جیسی خاکساری دِکھائیں اور یہوواہ کی مرضی پر چلیں جب ہمارے لیے ایسا کرنا مشکل ہوتا ہے۔‏—‏لُو 22:‏41،‏ 42‏۔‏

 اِجلاسوں میں حاضر ہونا دلیری کا ثبوت

8.‏ یسوع نے دلیری کیسے دِکھائی؟‏

8 ہم دلیری کے سلسلے میں بھی یسوع کی مثال پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‏ ذرا سوچیں کہ اپنی موت سے پہلے والے دنوں میں یسوع نے کتنی دلیری ظاہر کی۔‏ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ اُن کے دُشمن اُن کی بےعزتی کریں گے،‏ اُنہیں ماریں پیٹیں گے اور اُن کی جان لے لیں گے۔‏ (‏متی 20:‏17-‏19‏)‏ پھر بھی وہ یہ سب کچھ سہنے کو تیار تھے۔‏ جب اُن کی موت کا وقت قریب آیا تو اُنہوں نے اپنے وفادار رسولوں سے جو اُن کے ساتھ گتسمنی باغ میں موجود تھے،‏ کہا:‏ ”‏اُٹھیں،‏ چلیں!‏ دیکھیں،‏ وہ شخص نزدیک آ گیا ہے جو مجھے پکڑوائے گا۔‏“‏ (‏متی 26:‏36،‏ 46‏)‏ اور پھر جب ہتھیاروں سے لیس بِھیڑ یسوع کو پکڑنے آئی تو وہ آگے بڑھے اور اپنی پہچان کرواتے ہوئے کہنے لگے کہ سپاہی اُن کے رسولوں کو جانے دیں۔‏ (‏یوح 18:‏3-‏8‏)‏ یسوع نے واقعی زبردست طریقے سے دلیری دِکھائی۔‏ آج بھی مسح‌شُدہ مسیحی اور اَور بھی بھیڑوں میں شامل اشخاص یسوع جیسی دلیری ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‏ آئیں،‏ دیکھیں کیسے۔‏

جب آپ دلیری ظاہر کرتے ہوئے اِجلاسوں میں جاتے ہیں تو دوسروں کو یہ دیکھ کر بڑی ہمت ملتی ہے۔‏ (‏پیراگراف نمبر 9 کو دیکھیں۔‏)‏ *

9.‏ ‏(‏الف)‏ ہمیں باقاعدگی سے اِجلاسوں میں حاضر ہونے کے لیے دلیری کی ضرورت کیوں ہو سکتی ہے؟‏ (‏ب)‏ ہماری مثال کا اُن بہن بھائیوں پر کیا اثر ہو سکتا ہے جو اپنے ایمان کی وجہ سے قید میں ہیں؟‏

9 مشکل حالات میں بھی باقاعدگی سے اِجلاسوں میں حاضر ہونے کے لیے ہمیں دلیری کی ضرورت ہو سکتی ہے۔‏ ہمارے کچھ بہن بھائی غم کے بوجھ تلے دبے ہیں،‏ بےحوصلہ ہیں یا صحت کے مسائل سے دوچار ہیں۔‏ لیکن وہ پھر بھی اِجلاسوں میں آتے ہیں۔‏ کچھ بہن بھائیوں کو اپنے گھر والوں یا اِختیار والوں کی طرف سے شدید مخالفت کا سامنا ہے۔‏ لیکن وہ بھی دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اِجلاسوں میں حاضر ہوتے رہتے ہیں۔‏ اور ذرا سوچیں کہ جب ہم ایسی مشکلات کے باوجود اِجلاسوں میں جانا نہیں چھوڑتے تو اِس کا اُن بہن بھائیوں پر کیا اثر پڑتا ہے جو اپنے ایمان کی وجہ سے قید میں ہیں۔‏ (‏عبر 13:‏3‏)‏ جب وہ سنتے ہیں کہ ہم زندگی کی مشکلات میں بھی وفاداری سے یہوواہ کی خدمت جاری رکھے ہوئے ہیں تو اُنہیں ایمان،‏ دلیری اور وفاداری ظاہر کرتے رہنے کی ترغیب ملتی ہے۔‏ پولُس رسول کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔‏ جب وہ روم میں قید تھے تو اُنہیں یہ سُن کر بڑی خوشی ہوتی تھی کہ بہن بھائی وفاداری سے خدا کی خدمت کر رہے ہیں۔‏ (‏فل 1:‏3-‏5،‏ 12-‏14‏)‏ پولُس نے قید سے رِہا ہونے سے تھوڑا عرصہ پہلے یا تھوڑے عرصے بعد عبرانیوں کے نام خط لکھا۔‏ اُس خط میں اُنہوں نے اُن مسیحیوں کی حوصلہ‌افزائی کی کہ وہ ”‏ایک دوسرے سے بہن بھائیوں کی طرح پیار کرتے رہیں“‏ اور آپس میں جمع ہونا نہ چھوڑیں۔‏—‏عبر 10:‏24،‏ 25؛‏ 13:‏1‏۔‏

10،‏ 11.‏ ‏(‏الف)‏ ہمیں کن کو یادگاری تقریب میں آنے کی دعوت دینی چاہیے؟‏ (‏ب)‏ اِفسیوں 1:‏7 کی روشنی میں بتائیں کہ ہمیں دوسروں کو یادگاری تقریب میں آنے کی دعوت کیوں دینی چاہیے؟‏

10 جب ہم اپنے رشتےداروں،‏ اپنے ساتھ کام کرنے والوں اور اپنے پڑوسیوں کو یادگاری تقریب میں آنے کی دعوت دیتے ہیں تو ہم دلیری ظاہر کرتے ہیں۔‏ دراصل ہم یہوواہ اور یسوع کی محبت کے لیے اِتنے شکرگزار ہیں کہ ہم ہر قسم کی جھجک پر قابو پا کر دوسروں کو یادگاری تقریب میں آنے کی دعوت دیتے ہیں۔‏ ہم چاہتے ہیں کہ اُنہیں بھی یہ سیکھنے کا موقع ملے کہ وہ فدیے کے ذریعے یہوواہ کی عظیم رحمت سے کیسے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔‏‏—‏اِفسیوں 1:‏7 کو پڑھیں؛‏ مکا 22:‏17‏۔‏

11 ہم اِجلاسوں میں حاضر ہونے سے دلیری کے ساتھ ساتھ ایک اَور خوبی بھی ظاہر کرتے ہیں۔‏ یہ وہ خوبی ہے جس کا مظاہرہ یہوواہ اور اُس کے بیٹے نے بڑے شان‌دار طریقوں سے کِیا ہے۔‏

 اِجلاسوں میں حاضر ہونا محبت کا ثبوت

12.‏ ‏(‏الف)‏ اِجلاسوں کے ذریعے یہوواہ اور یسوع کے لیے ہماری محبت کیسے بڑھتی ہے؟‏ (‏ب)‏ 2-‏کُرنتھیوں 5:‏14،‏ 15 کے مطابق ہمیں یسوع کی مثال پر عمل کرتے ہوئے کیا کرنا چاہیے؟‏

12 یہوواہ اور یسوع کی محبت ہمیں ترغیب دیتی ہے کہ ہم اِجلاسوں میں حاضر ہوں۔‏ اور پھر ہم اِجلاسوں میں جو کچھ سیکھتے ہیں،‏ اُس کے ذریعے یہوواہ اور یسوع کے لیے ہماری محبت بڑھتی ہے۔‏ اِجلاسوں میں ہمیں بار بار یہ یاد دِلایا جاتا ہے کہ یہوواہ اور اُس کے بیٹے نے ہمارے لیے کیا کچھ کِیا ہے۔‏ (‏روم 5:‏8‏)‏ خاص طور پر یادگاری تقریب ہمیں یہ یاد دِلاتی ہے کہ وہ دونوں ہم سے بلکہ اُن سے بھی جو اب تک فدیے کی اہمیت کو نہیں سمجھتے،‏ کتنی گہری محبت کرتے ہیں۔‏ یہ جان کر ہمارے دل شکرگزاری سے بھر جاتے ہیں اور پھر ہم زندگی کے ہر معاملے میں یسوع کی مثال پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‏ ‏(‏2-‏کُرنتھیوں 5:‏14،‏ 15 کو پڑھیں۔‏)‏ اِس کے علاوہ ہمیں اِس بات کے لیے یہوواہ کی ستائش کرنے کی ترغیب ملتی ہے کہ اُس نے فدیے کا بندوبست کِیا ہے۔‏ اور یہوواہ کی ستائش کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم اِجلاسوں میں دل سے جواب دیں۔‏

13.‏ ہم کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ ہمیں یہوواہ اور یسوع سے گہری محبت ہے؟‏ وضاحت کریں۔‏

13 جب ہم یہوواہ اور یسوع کو خوش کرنے کے لیے قربانیاں دینے کو تیار رہتے ہیں تو ہم ظاہر کرتے ہیں کہ ہمیں اُن سے گہری محبت ہے۔‏ اِجلاسوں میں حاضر ہونے کے لیے اکثر ہمیں فرق فرق طرح کی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔‏ بہت سی کلیسیاؤں میں ہفتے کے دوران شام کے وقت ایک اِجلاس ہوتا ہے جب ہم میں سے زیادہ‌تر کام کر کے تھکے ہوتے ہیں۔‏ اور ایک اَور اِجلاس ہفتے یا اِتوار کو منعقد ہوتا ہے جب دوسرے لوگ آرام کر رہے ہوتے ہیں۔‏ ہم یقین رکھ سکتے ہیں کہ جب ہم تھکاوٹ کے باوجود اِجلاسوں میں جاتے ہیں تو یہ بات یہوواہ کی نظر سے اوجھل نہیں رہتی۔‏ بےشک وہ اُن ساری قربانیوں کی بڑی قدر کرتا ہے جو ہم اِجلاسوں میں حاضر ہونے کے لیے دیتے ہیں۔‏—‏مر 12:‏41-‏44‏۔‏

14.‏ یسوع نے بےلوث محبت ظاہر کرنے کے سلسلے میں کیسی مثال قائم کی؟‏

14 یسوع مسیح نے بےلوث محبت ظاہر کرنے کے سلسلے میں بڑی عمدہ مثال قائم کی۔‏ اُنہوں نے نہ صرف اپنے شاگردوں کے لیے جان قربان کی بلکہ اپنی زندگی سے ہمیشہ یہ ظاہر کِیا کہ وہ اپنی ذات سے زیادہ اپنے شاگردوں کے فائدے کا سوچتے تھے۔‏ مثال کے طور پر جب وہ جذباتی اور جسمانی طور پر نڈھال تھے تو وہ اُس وقت بھی اپنے شاگردوں کو دیکھنے گئے۔‏ (‏لُو 22:‏39-‏46‏)‏ اُن کا دھیان اِس بات پر نہیں تھا کہ دوسرے اُن کے لیے کیا کر سکتے ہیں بلکہ اِس بات پر تھا کہ وہ دوسروں کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔‏ (‏متی 20:‏28‏)‏ جب ہم یہوواہ خدا اور بہن بھائیوں سے  یسوع جتنی گہری محبت رکھیں گے تو ہم یادگاری تقریب اور دیگر اِجلاسوں میں حاضر ہونے کی پوری کوشش کریں گے۔‏

15.‏ ہم خاص طور پر کن کی مدد کرنا چاہتے ہیں؟‏

15 ہم ایک مثالی برادری کا حصہ ہیں جس کے افراد پوری دُنیا میں موجود ہیں۔‏ ہم خوشی سے اپنا زیادہ سے زیادہ وقت نئے لوگوں کو یہ دعوت دینے میں گزارتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ مل کر عبادت کریں۔‏ لیکن ہم خاص طور پر اپنے اُن ’‏ہم‌ایمانوں‘‏ کی مدد کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے اِجلاسوں میں جانا اور مُنادی میں حصہ لینا چھوڑ دیا ہے۔‏ (‏گل 6:‏10‏)‏ ہم اُن بہن بھائیوں کے لیے اپنی محبت اُس وقت ظاہر کرتے ہیں جب ہم اُن کی حوصلہ‌افزائی کرتے ہیں کہ وہ اِجلاسوں اور خاص طور پر یادگاری تقریب میں حاضر ہوں۔‏ اور جب ایسے بہن بھائی ہمارے شفیق باپ اور چرواہے یہوواہ کے پاس لوٹ آتے ہیں تو یہوواہ اور یسوع کی طرح ہماری خوشی بھی بیان سے باہر ہوتی ہے۔‏—‏متی 18:‏14‏۔‏

16.‏ ‏(‏الف)‏ ہم ایک دوسرے کی حوصلہ‌افزائی کیسے کر سکتے ہیں اور ہمارے اِجلاسوں کے ذریعے ہمیں کیا ترغیب ملتی ہے؟‏ (‏ب)‏ ہمیں سال کے اِن دنوں میں خاص طور پر یسوع کے اُن الفاظ کو کیوں یاد رکھنا چاہیے جو اُنہوں نے یوحنا 3:‏16 میں کہے؟‏

16 آنے والے ہفتوں میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو یہ دعوت دیں کہ وہ جمعہ،‏ 19 اپریل 2019ء کو یادگاری تقریب میں آئیں۔‏ (‏بکس ”‏ دو خاص اِجلاس‏“‏ کو دیکھیں۔‏)‏ اور اِس پورے سال کے دوران باقاعدگی سے اِجلاسوں میں حاضر ہو کر بہن بھائیوں کے لیے حوصلہ‌افزائی کا باعث بنیں۔‏ جوں‌جوں اِس دُنیا کا خاتمہ نزدیک آ رہا ہے،‏ ہمارے اِجلاس ہمیں خاکساری،‏ دلیری اور محبت ظاہر کرنے کی ترغیب دیتے رہیں گے۔‏ (‏1-‏تھس 5:‏8-‏11‏)‏ آئیں،‏ اپنی باتوں اور کاموں سے یہ ظاہر کرتے رہیں کہ ہم یہوواہ اور یسوع کی بےاِنتہا محبت کے لیے دل سے اُن کے شکرگزار ہیں۔‏‏—‏یوحنا 3:‏16 کو پڑھیں۔‏

گیت نمبر 43‏:‏ آخر تک قائم رہو

^ پیراگراف 5 مسیح کی موت کی یادگاری تقریب جمعہ،‏ 19 اپریل 2019ء کو شام کے وقت منائی جائے گی۔‏ یہ سال کا سب سے اہم اِجلاس ہوگا۔‏ ہم اِس اِجلاس میں کیوں جائیں گے؟‏ ظاہری بات ہے کہ ہم یہوواہ کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔‏ اِس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ جب ہم یادگاری تقریب اور اپنے ہفتہ‌وار اِجلاسوں میں جاتے ہیں تو اِس سے ہمارے بارے میں کیا ظاہر ہوتا ہے۔‏

^ پیراگراف 52 تصویر کی وضاحت‏:‏ اپنے ایمان کی وجہ سے جیل میں قید ایک بھائی کو اُس کے گھر والوں کی طرف سے خط موصول ہوا ہے۔‏ اُسے یہ جان کر بڑی خوشی اور حوصلہ مل رہا ہے کہ اُس کا خاندان اپنے علاقے میں ہونے والے سیاسی ہنگاموں کے باوجود یہوواہ کا وفادار ہے۔‏