مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

روح ہماری روح کے ساتھ مل کر گواہی دیتی ہے

روح ہماری روح کے ساتھ مل کر گواہی دیتی ہے

‏”‏روح خود ہماری روح کے ساتھ مل کر گواہی دیتا ہے کہ ہم خدا کے فرزند ہیں۔‏“‏—‏روم 8:‏16‏۔‏

گیت:‏ 5‏،‏ 14

1-‏3.‏ عیدِپنتِکُست کے دن کون سے خاص واقعات پیش آئے؟‏ اور اِن واقعات سے کون سی پیش‌گوئی پوری ہوئی؟‏ (‏اِس مضمون کی پہلی تصویر کو دیکھیں۔‏)‏

یہ 33ء کی بات تھی۔‏ اِتوار کا دن تھا اور صبح کے نو بج رہے تھے۔‏ یروشلیم کے لوگوں کے لیے یہ دن بہت ہی خاص تھا کیونکہ یہ عیدِپنتِکُست کا دن تھا۔‏ سردار کاہن ہیکل میں معمول کے مطابق قربانی پیش کر چُکا تھا۔‏ پھر جب اُس نے ہلا‌نے کی قربانی کے طور پر دو خمیری روٹیاں پیش کیں تو فضا میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔‏ یہ روٹیاں گیہوں کی کٹائی کے ’‏پہلے پھلوں‘‏ سے بنائی گئی تھیں۔‏ (‏احبا 23:‏15-‏20‏)‏ اِس لیے یہ قربانی اِس بات کا نشان تھی کہ گیہوں کی کٹائی کا موسم شروع ہو گیا ہے۔‏

2 سینکڑوں سال سے سردار کاہن ہر سال ہلا‌نے کی قربانی پیش کرتے آ رہے تھے۔‏ یہ قربانی اُن اہم واقعات کی طرف اِشارہ کرتی تھی جو 33ء کی عیدِپنتِکُست پر پیش آئے۔‏ اُس وقت یسوع مسیح کے 120 شاگرد یروشلیم میں ایک گھر میں جمع تھے اور ”‏دُعا میں مشغول“‏ تھے۔‏ (‏اعما 1:‏13-‏15‏)‏ اِس دوران اِن شاگردوں کے ساتھ جو ہوا،‏ اُس کے بارے میں یوایل نبی نے 800 سال پہلے پیش‌گوئی کی تھی۔‏ (‏یوایل 2:‏28-‏32؛‏ اعما 2:‏16-‏21‏)‏ آئیں،‏ دیکھیں کہ اُس وقت کیا ہوا اور یہ واقعہ اِتنا اہم کیوں ہے۔‏

 3 اعمال 2:‏2-‏4 کو پڑھیں۔‏ خدا نے اپنی روح 120 شاگردوں پر نازل کی۔‏ (‏اعما 1:‏8‏)‏ اِس پر یہ شاگرد لوگوں کو خدا کے اُن شان‌دار کاموں کے بارے میں گواہی دینے لگے جو اُنہوں نے دیکھے اور سنے تھے۔‏ جلد ہی لوگوں کی بِھیڑ جمع ہو گئی اور پطرس اُن کو بتانے لگے کہ یہ سب کیوں ہوا اور یہ اِتنا اہم کیوں ہے۔‏ اِس کے بعد اُنہوں نے لوگوں سے کہا:‏ ”‏توبہ کرو اور تُم میں سے ہر ایک اپنے گُناہوں کی معافی کے لئے یسوؔع مسیح کے نام پر بپتسمہ لے تو تُم روحُ‌القدس اِنعام میں پاؤ گے۔‏“‏ اُسی دن تقریباً 3000 لوگوں نے بپتسمہ لیا اور پاک روح حاصل کی۔‏—‏اعما 2:‏37،‏ 38،‏ 41‏۔‏

4.‏ ‏(‏الف)‏ عیدِپنتِکُست پر ہونے والے واقعات ہمارے لیے خاص معنی کیوں رکھتے ہیں؟‏ (‏ب)‏ عیدِپنتِکُست کی تاریخ پر صدیوں پہلے شاید کون سا اہم واقعہ ہوا تھا؟‏ (‏فٹ‌نوٹ کو دیکھیں۔‏)‏

4 سردار کاہن اور عیدِپنتِکُست پر پیش کی جانے والی قربانی کس کی طرف اِشارہ کرتی ہے؟‏ سردار کاہن یسوع مسیح کی طرف اِشارہ کرتا ہے اور روٹیاں مسح‌شُدہ شاگردوں کی طرف اِشارہ کرتی ہیں جنہیں گُناہ‌گار اِنسانوں میں سے چُنا گیا ہے۔‏ اِس لیے یہ ”‏پہلے پھل“‏ کہلا‌تے ہیں۔‏ (‏یعقو 1:‏18‏)‏ خدا نے اُنہیں اپنے بیٹوں کے طور پر قبول کِیا ہے اور اِنہیں اپنی آسمانی بادشاہت میں مسیح کے ساتھ حکمرانی کرنے کے لیے چُنا ہے۔‏ (‏1-‏پطر 2:‏9‏)‏ اِس بادشاہت کے ذریعے خدا اپنے وفادار بندوں کو ڈھیروں برکتیں دے گا۔‏ لہٰذا چاہے ہم آسمان پر مسیح کے ساتھ حکمرانی کرنے کی اُمید رکھتے ہوں یا فردوس میں ہمیشہ کی زندگی پانے کی،‏ ہم سب کے لیے 33ء کی عیدِپنتِکُست بہت خاص معنی رکھتی ہے۔‏  ‏[‏1]‏

مسح ہونے پر ایک شخص کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟‏

5.‏ ہم کیسے جانتے ہیں کہ سب ممسوح مسیحیوں کو ایک ہی طریقے سے مسح نہیں کِیا جاتا ہے؟‏

5 اگر آپ اُن 120 شاگردوں میں سے ایک ہوتے جن کے سروں پر آگ کے شعلوں جیسا کچھ دِکھائی دیا اور جو فرق فرق زبانیں بولنے لگے تو یقیناً آپ ساری عمر اُس دن کو یاد رکھتے۔‏ (‏اعما 2:‏6-‏12‏)‏ آپ کو اِس بات پر ذرا بھی شک نہ ہوتا کہ آپ کو پاک روح سے مسح کِیا گیا ہے۔‏ لیکن کیا تمام ممسوح مسیحیوں کو اِسی حیرت‌انگیز طریقے سے مسح کِیا جاتا ہے؟‏ نہیں۔‏ غور کریں کہ باقی لوگ جنہیں اُس دن یروشلیم میں مسح کِیا گیا،‏ اُن کے سروں پر آگ کے شعلوں جیسا کچھ دِکھائی نہیں دیا بلکہ اُنہیں بپتسمہ لیتے وقت مسح کِیا گیا۔‏ (‏اعما 2:‏38‏)‏ ایسا بھی نہیں کہ تمام ممسوح مسیحیوں کو بپتسمے کے وقت مسح کِیا جاتا ہے۔‏ مثال کے طور پر سامریوں کو بپتسمہ لینے کے کچھ عرصے بعد مسح کِیا گیا۔‏ (‏اعما 8:‏14-‏17‏)‏ اور کُرنیلیُس اور اُن کے گھر والوں کو تو بپتسمے سے پہلے مسح کِیا گیا حالانکہ یہ ایک غیرمعمولی واقعہ تھا۔‏—‏اعما 10:‏44-‏48‏۔‏

6.‏ تمام ممسوح مسیحیوں کو کیا ملتا ہے؟‏ اور اِس سے اُن پر کیا واضح ہو جاتا ہے؟‏

6 ممسوح مسیحیوں کو فرق فرق طریقے سے یہ احساس ہو جاتا ہے کہ وہ مسح‌شُدہ ہیں۔‏ بعض کو شاید ایک دم سے اِس کا پتہ چل جاتا ہے جبکہ دوسروں کو آہستہ آہستہ پتہ چلتا ہے۔‏ لیکن اِن سب کے بارے میں وہ بات سچ ہے جس کا ذکر پولُس رسول نے کِیا تھا:‏ ”‏تُم پر بھی جب تُم .‏ .‏ .‏ ایمان لائے پاک موعودہ روح کی مُہر لگی۔‏ وہی خدا کی ملکیت کی مخلصی کے لئے ہماری میراث کا بیعانہ ہے۔‏“‏ (‏اِفس 1:‏13،‏ 14‏)‏ یہوواہ خدا اپنی پاک روح کے ذریعے اُن مسیحیوں پر صاف واضح کر دیتا ہے کہ اُنہیں آسمان پر حکمرانی کرنے کے لیے چُنا گیا ہے۔‏ لہٰذا پاک روح ممسوح مسیحیوں کی ”‏میراث کا بیعانہ“‏ ہے یعنی اِس بات کی ضمانت ہے کہ اُنہیں آسمان پر جانے کی اُمید حاصل ہے۔‏‏—‏2-‏کُرنتھیوں 1:‏21،‏ 22؛‏ 5:‏5 کو پڑھیں۔‏

7.‏ ہر ممسوح مسیحی کو آسمانی میراث حاصل کرنے کے لیے کیا کرنا ہوگا؟‏

7 جب ایک مسیحی کو ”‏میراث کا بیعانہ“‏ مل جاتا ہے تو کیا اِس کا مطلب یہ ہے کہ اُسے ہر صورت میں آسمان پر زندگی ملے گی؟‏ نہیں۔‏ اُسے آسمانی زندگی حاصل کرنے کی دعوت تو مل گئی ہے  لیکن اُسے آخرکار یہ زندگی ملے گی یا نہیں،‏ یہ اِس بات پر منحصر ہے کہ وہ خدا کا وفادار رہے گا یا نہیں۔‏ پطرس رسول نے اِس سلسلے میں کہا:‏ ”‏اَے بھائیو!‏ اپنے بلا‌وے اور برگزیدگی کو ثابت کرنے کی زیادہ کوشش کرو کیونکہ اگر ایسا کرو گے تو کبھی ٹھوکر نہ کھاؤ گے بلکہ اِس سے تُم ہمارے خداوند اور مُنجی یسوؔع مسیح کی ابدی بادشاہی میں بڑی عزت کے ساتھ داخل کئے جاؤ گے۔‏“‏ (‏2-‏پطر 1:‏10،‏ 11‏)‏ لہٰذا ہر ممسوح مسیحی کو خدا کا وفادار رہنے کی بھرپور کوشش کرنی پڑے گی،‏ ورنہ اُسے آسمانی میراث نہیں ملے گی۔‏—‏عبر 3:‏1؛‏ مکا 2:‏10‏۔‏

ایک شخص کو آسمانی بلا‌وے کا کیسے پتہ چلتا ہے؟‏

8،‏ 9.‏ ‏(‏الف)‏ خدا کے زیادہ‌تر بندوں کو یہ سمجھنا مشکل کیوں لگتا ہے کہ مسح ہونے پر ایک شخص کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟‏ (‏ب)‏ ایک شخص کیسے جان جاتا ہے کہ اُسے آسمانی بلا‌وا ملا ہے؟‏

8 آج‌کل خدا کے زیادہ‌تر بندے روح سے مسح نہیں ہیں اِس لیے اُنہیں یہ سمجھنا مشکل لگتا ہے کہ مسح ہونے پر ایک شخص کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔‏ اصل میں خدا کا مقصد یہ تھا کہ اِنسان زمین پر ہمیشہ تک زندہ رہیں۔‏ (‏پید 1:‏28؛‏ زبور 37:‏29‏)‏ یہ بہت انوکھی بات ہے کہ خدا نے کچھ اِنسانوں کو آسمان پر کاہنوں اور بادشاہوں کے طور پر حکمرانی کرنے کے لیے چُنا ہے۔‏ جب ایک شخص کو آسمانی بلا‌وے کا پتہ چلتا ہے تو اُس کی سوچ اور اُمید میں بہت بڑی تبدیلی آتی ہیں۔‏‏—‏اِفسیوں 1:‏18 کو پڑھیں۔‏

9 لیکن ایک شخص کیسے جان جاتا ہے کہ اُسے ”‏میراث کا بیعانہ“‏ یعنی آسمانی بلا‌وا ملا ہے؟‏ غور کریں کہ پولُس رسول نے روم میں رہنے والے ممسوح مسیحیوں کو کیا بتایا جنہیں ’‏مُقدس ہونے کے لئے بلا‌یا گیا تھا۔‏‘‏ پولُس نے اُن سے کہا:‏ ”‏تُم کو غلا‌می کی روح نہیں ملی جس سے پھر ڈر پیدا ہو بلکہ لےپالک ہونے کی روح ملی جس سے ہم ابا یعنی اَے باپ کہہ کر پکا‌رتے ہیں۔‏ روح خود ہماری روح کے ساتھ مل کر گواہی دیتا ہے کہ ہم خدا کے فرزند ہیں۔‏“‏ (‏روم 1:‏7؛‏ 8:‏15،‏ 16‏)‏ لہٰذا خدا اپنی پاک روح کے ذریعے ایک شخص کو پکا یقین دِلاتا ہے کہ وہ بادشاہت کا وارث ہے۔‏—‏1-‏تھس 2:‏12‏۔‏

10.‏ پہلا یوحنا 2:‏27 میں اِس بات کا کیا مطلب ہے کہ ”‏تُم اِس کے محتاج نہیں کہ کوئی تمہیں سکھائے“‏؟‏

10 جن مسیحیوں کو آسمانی زندگی حاصل کرنے کی دعوت مل گئی ہے،‏ اُنہیں اِس بات کی تصدیق کے لیے کسی اَور کی گواہی کی ضرورت نہیں۔‏ یہوواہ خدا اُنہیں اِس بات کا اِتنا پکا یقین دِلاتا ہے کہ اُن کے دل‌ودماغ میں شک کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔‏ یوحنا رسول نے ممسوح مسیحیوں کو بتایا:‏ ”‏تُم کو تو اُس قدوس کی طرف سے مسح کِیا گیا ہے اور تُم سب کچھ جانتے ہو۔‏“‏ اُنہوں نے یہ بھی کہا:‏ ”‏تمہارا وہ مسح جو اُس کی طرف سے کِیا گیا تُم میں قائم رہتا ہے اور تُم اِس کے محتاج نہیں کہ کوئی تمہیں سکھائے بلکہ جس طرح وہ مسح جو اُس کی طرف سے کِیا گیا تمہیں سب باتیں سکھاتا ہے اور سچا ہے اور جھوٹا نہیں اور جس طرح اُس نے تمہیں سکھایا اُسی طرح تُم اُس میں قائم رہتے ہو۔‏“‏ (‏1-‏یوح 2:‏20،‏ 27‏)‏ دوسرے مسیحیوں کی طرح ممسوح مسیحیوں کو بھی خدا کی تعلیم کی ضرورت ہے۔‏ لیکن اُنہیں اِس بات کی ضرورت نہیں کہ کوئی اَور یہ تصدیق کرے کہ وہ مسح‌شُدہ ہیں۔‏ دراصل یہوواہ خدا نے کائنات کی سب سے طاقت‌ور قوت یعنی اپنی روح کے ذریعے اِس بات کی تصدیق کی ہے۔‏

وہ ”‏نئے سرے سے پیدا“‏ ہوئے

11،‏ 12.‏ ایک ممسوح مسیحی کے ذہن میں شاید کون سے سوال آئیں؟‏ لیکن اُسے کس بات پر شک نہیں ہوتا؟‏

11 جب پاک روح ایک شخص کو پکا یقین دِلا دیتی ہے کہ وہ ممسوح ہے تو اُس شخص میں بڑی بڑی تبدیلیاں آ جاتی ہیں۔‏ اِس لیے یسوع مسیح نے ایسے شخص کے بارے میں کہا کہ وہ ”‏نئے سرے سے پیدا“‏ ہوتا ہے۔‏ ‏[‏2]‏ (‏یوح 3:‏3،‏ 5‏)‏ اُنہوں نے یہ بھی کہا:‏ ”‏تعجب نہ کر کہ مَیں نے تجھ سے کہا تمہیں نئے سرے سے پیدا  ہونا ضرور ہے۔‏ ہوا جدھر چاہتی ہے چلتی ہے اور تُو اُس کی آواز سنتا ہے مگر نہیں جانتا کہ وہ کہاں سے آتی اور کہاں کو جاتی ہے۔‏ جو کوئی روح سے پیدا ہوا ایسا ہی ہے۔‏“‏ (‏یوح 3:‏7،‏ 8‏)‏ جو شخص روح سے مسح نہیں ہے،‏ وہ یہ بات پوری طرح نہیں سمجھ سکتا کہ مسح ہونے پر ایک شخص کیسا محسوس کرتا ہے۔‏

12 شاید ممسوح مسیحیوں کے ذہن میں یہ سوال آئیں کہ ”‏یہوواہ خدا نے مجھے کیوں چُنا ہے؟‏ کیا مَیں واقعی اِس کے لائق ہوں؟‏“‏ لیکن اُنہیں اِس بات پر کوئی شک نہیں ہوتا کہ خدا نے اُنہیں آسمانی زندگی کے لیے بلا‌یا ہے۔‏ وہ اِس شرف کو پا کر بہت خوش ہیں اور اِس کی بڑی قدر کرتے ہیں۔‏ وہ پطرس رسول کی طرح محسوس کرتے ہیں جنہوں نے کہا:‏ ”‏ہمارے خداوند یسوؔع مسیح کے خدا اور باپ کی حمد ہو جس نے یسوؔع مسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے باعث اپنی بڑی رحمت سے ہمیں زندہ اُمید کے لئے نئے سرے سے پیدا کِیا۔‏ تاکہ ایک غیرفانی اور بےداغ اور لازوال میراث کو حاصل کریں۔‏“‏ (‏1-‏پطر 1:‏3،‏ 4‏)‏ جب ممسوح مسیحی یہ الفاظ پڑھتے ہیں تو وہ بغیر کسی شک کے جانتے ہیں کہ اُن کا آسمانی باپ اُن سے یہ بات کہہ رہا ہے۔‏

13.‏ ‏(‏الف)‏ جب ایک شخص کو روح سے مسح کِیا جاتا ہے تو اُس کی سوچ میں کیا تبدیلی آتی ہے؟‏ (‏ب)‏ اُس کی سوچ کیوں بدل جاتی ہے؟‏

13 آسمانی زندگی کی دعوت ملنے سے پہلے یہ مسیحی اِس خیال سے بہت خوش تھے کہ وہ زمین پر ہمیشہ تک زندہ رہیں گے۔‏ وہ اُس وقت کو دیکھنے کے بڑے آرزومند تھے جب یہوواہ خدا زمین کو فردوس بنائے گا اور بُرائی کو ختم کرے گا۔‏ شاید وہ تصور کرتے تھے کہ وہ اپنے اُن عزیزوں سے دوبارہ ملیں گے جو فوت ہو گئے ہیں۔‏ وہ اپنے ہاتھوں سے بنے گھروں میں رہنے کے مشتاق تھے اور ایسے درختوں کا پھل کھانے کے خواہش‌مند تھے جو اُنہوں نے خود لگا‌ئے ہوں۔‏ (‏یسع 65:‏21-‏23‏)‏ لیکن اُن کی سوچ کیوں بدل گئی؟‏ اِس لیے نہیں کہ وہ اِس اُمید سے اُکتا گئے ہیں یا زندگی کی مصیبتوں اور تکلیفوں کی وجہ سے بیزار ہو گئے ہیں۔‏ وہ نہ تو یہ سوچنے لگے ہیں کہ زمین پر زندگی گزارنے میں مزہ نہیں آئے گا اور نہ ہی وہ بس یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آسمان پر زندگی کیسی ہوگی۔‏ اُن کی سوچ اِس لیے بدل گئی کیونکہ پاک روح نے اُنہیں آسمانی زندگی کی دعوت دی اور اُن کی سوچ اور اُمید کو بدل دیا۔‏

14.‏ ممسوح مسیحی زمین پر اپنی زندگی کو کیسا خیال کرتے ہیں؟‏

14 تو پھر کیا اِس کا مطلب ہے کہ ممسوح مسیحی مرنا چاہتے ہیں؟‏ پولُس رسول نے خدا کے اِلہام سے لکھا:‏ ”‏ہم اِس خیمہ میں رہ کر بوجھ کے مارے کراہتے ہیں۔‏ اِس لئے نہیں کہ یہ لباس اُتارنا چاہتے ہیں بلکہ اِس پر اَور پہننا چاہتے ہیں تاکہ وہ جو فانی ہے زندگی میں غرق ہو جائے۔‏“‏ (‏2-‏کُر 5:‏4‏)‏ ایسا نہیں کہ ممسوح مسیحیوں کا اِس زندگی سے دل بھر گیا ہے اور وہ جلد از جلد اِس دُنیا سے رُخصت ہونا چاہتے ہیں۔‏ اِس کے برعکس وہ اپنے دوستوں اور رشتےداروں کے ساتھ یہوواہ خدا کی خدمت میں مگن رہنا چاہتے ہیں۔‏ لیکن چاہے وہ کچھ بھی کریں،‏ وہ اپنی شان‌دار اُمید کو ذہن میں رکھتے ہیں۔‏—‏1-‏کُر 15:‏53؛‏ 2-‏پطر 1:‏4؛‏ 1-‏یوح 3:‏2،‏ 3؛‏ مکا 20:‏6‏۔‏

کیا آپ کو بلا‌یا گیا ہے؟‏

15.‏ کن باتوں سے ظاہر نہیں ہوتا ہے کہ ایک شخص کو آسمانی زندگی کے لیے بلا‌یا گیا ہے؟‏

15 شاید آپ کے ذہن میں یہ سوال آیا ہو کہ ”‏کہیں مجھے بھی آسمانی زندگی حاصل کرنے کی دعوت تو نہیں ملی ہے؟‏“‏ ذرا اِن سوالوں پر غور کریں:‏ کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ بڑے جوش سے مُنادی کا کام کرتے ہیں؟‏ کیا آپ بڑے شوق سے خدا کے کلام کا مطالعہ کرتے ہیں اور ”‏خدا کی تہہ کی باتیں“‏ دریافت کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟‏ (‏1-‏کُر 2:‏10‏)‏ کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہوواہ خدا مُنادی کے کام میں آپ کو خاص برکت بخشتا ہے؟‏ کیا آپ خدا کی مرضی پر چلنے کی دلی خواہش رکھتے ہیں؟‏ کیا آپ سمجھتے  ہیں کہ دوسروں کی روحانی طور پر مدد کرنا آپ کی اہم ذمےداری ہے؟‏ کیا آپ نے اپنی زندگی میں دیکھا ہے کہ یہوواہ خدا نے آپ کی مدد کی ہے؟‏ اگر آپ اِن سب سوالوں کا جواب ہاں میں دیتے ہیں تو کیا اِس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو آسمانی زندگی حاصل کرنے کی دعوت ملی ہے؟‏ لازمی نہیں۔‏ کیوں نہیں؟‏ کیونکہ خدا کے سب بندے اِس طرح محسوس کر سکتے ہیں،‏ چاہے وہ ممسوح ہوں یا نہ ہوں۔‏ خدا کی پاک روح سب مسیحیوں کو قوت بخش سکتی ہے،‏ چاہے وہ زمین پر زندگی گزارنے کی اُمید رکھتے ہوں یا آسمان پر۔‏ اصل میں اگر آپ کے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ آپ کو آسمانی زندگی کے لیے بلا‌یا گیا ہے یا نہیں تو اِس کا مطلب ہے کہ آپ کو نہیں بلا‌یا گیا ہے کیونکہ جنہیں یہوواہ خدا نے بلا‌یا ہے،‏ اُنہیں اِس کا پکا یقین ہے۔‏ اُن کے ذہن میں اِس کے بارے میں کوئی سوال نہیں اُٹھتا۔‏

16.‏ ہم کیسے جانتے ہیں کہ ہر اُس شخص کو جسے پاک روح ملتی ہے،‏ آسمانی زندگی کے لیے نہیں بلا‌یا گیا ہے؟‏

16 پاک صحیفوں میں خدا کے بہت سے ایسے بندوں کی مثالیں ہیں جنہیں پاک روح ملی تھی حالانکہ وہ آسمان پر زندگی حاصل کرنے کی اُمید نہیں رکھتے تھے۔‏ اُن میں سے ایک یوحنا بپتسمہ دینے والے تھے۔‏ یسوع مسیح نے اُن کی بہت تعریف کی لیکن اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ یوحنا آسمان کی بادشاہت میں حکمرانی نہیں کریں گے۔‏ (‏متی 11:‏10،‏ 11‏)‏ داؤد بادشاہ پر بھی خدا کی پاک روح نازل ہوئی۔‏ (‏1-‏سمو 16:‏13‏)‏ پاک روح کی مدد سے وہ یہوواہ خدا کے بارے میں گہری باتیں سمجھ پائے اور اُنہوں نے بائبل کے کچھ حصے بھی لکھے۔‏ (‏مر 12:‏36‏)‏ پھر بھی پطرس رسول نے عیدِپنتِکُست پر کہا کہ ’‏داؤد آسمان پر نہیں چڑھے۔‏‘‏ (‏اعما 2:‏34‏)‏ پاک روح کے ذریعے خدا کے اِن بندوں نے بڑے بڑے کام انجام دیے لیکن پاک روح نے اُنہیں یہ گواہی نہیں دی کہ اُنہیں آسمانی زندگی کے لیے چُنا گیا ہے۔‏ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ اُن میں کوئی کمی تھی یا وہ اِس کے لائق نہیں تھے۔‏ اِس کا مطلب صرف یہ ہے کہ یہوواہ خدا اُنہیں زمین پر فردوس میں زندہ کرے گا۔‏—‏یوح 5:‏28،‏ 29؛‏ اعما 24:‏15‏۔‏

17،‏ 18.‏ ‏(‏الف)‏ آج‌کل خدا کے زیادہ‌تر بندے کون سی اُمید رکھتے ہیں؟‏ (‏ب)‏ اگلے مضمون میں ہم کن سوالوں پر غور کریں گے؟‏

17 آج‌کل خدا کے زیادہ‌تر بندوں کو آسمانی زندگی پانے کی دعوت نہیں ملی ہے۔‏ وہ داؤد،‏ یوحنا بپتسمہ دینے والے اور خدا کے دیگر وفادار بندوں جیسی اُمید رکھتے ہیں۔‏ ابرہام کی طرح وہ اِس بات کے منتظر ہیں کہ وہ خدا کی بادشاہت کی رعایا کے طور پر زمین پر رہیں گے۔‏ (‏عبر 11:‏10‏)‏ اِس آخری زمانے میں ممسوح مسیحیوں کا صرف چھوٹا سا گروہ زمین پر باقی ہے۔‏ (‏مکا 12:‏17‏)‏ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 1 لاکھ 44 ہزار چُنے ہوئے لوگوں میں سے زیادہ‌تر فوت ہو چکے ہیں۔‏

18 لہٰذا جو لوگ زمین پر زندگی پانے کی اُمید رکھتے ہیں،‏ اُنہیں اُن لوگوں کو کیسا خیال کرنا چاہیے جو آسمانی اُمید رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں؟‏ جب آپ کی کلیسیا میں ایک شخص یادگاری تقریب پر روٹی اور مے میں سے کھانے پینے لگتا ہے تو آپ کو اُسے کیسا خیال کرنا چاہیے؟‏ کیا آپ کو روٹی اور مے میں سے کھانے پینے والوں کی تعداد میں اِضافے کے بارے میں فکرمند ہونا چاہیے؟‏ اگلے مضمون میں اِن سوالوں کے جواب دیے جائیں گے۔‏

^ ‏[‏1]‏ ‏(‏پیراگراف 4)‏ ہو سکتا ہے کہ عیدِپنتِکُست سال میں اُس وقت منائی جاتی تھی جب خدا نے کوہِ‌سینا پر موسیٰ کو شریعت دی۔‏ (‏خر 19:‏1‏)‏ لہٰذا جس تاریخ پر موسیٰ کے ذریعے بنی‌اِسرائیل کے ساتھ شریعت کا عہد باندھا گیا،‏ شاید اُسی تاریخ پر یسوع مسیح کے ذریعے روحانی اِسرائیل (‏یعنی مسح‌شُدہ مسیحیوں)‏ کے ساتھ نیا عہد بھی باندھا گیا۔‏

^ ‏[‏2]‏ ‏(‏پیراگراف 11)‏ یہ جاننے کے لیے کہ نئے سرے سے پیدا ہونے کا کیا مطلب ہے،‏ مینارِنگہبانی،‏ 1 مئی 2009ء،‏ ص.‏ 3-‏11 کو دیکھیں۔‏