مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

خدا کے ساتھ کام کرنا—‏خوشی کا باعث

خدا کے ساتھ کام کرنا—‏خوشی کا باعث

‏”‏ہم جو اُس کے ساتھ کام میں شریک ہیں یہ بھی اِلتماس کرتے ہیں کہ خدا کا فضل جو تُم پر ہوا بےفائدہ نہ رہنے دو۔‏“‏—‏2-‏کُر 6:‏1‏۔‏

گیت:‏ 28‏،‏ 14

1.‏ اگرچہ یہوواہ خدا حاکمِ‌اعلیٰ ہے لیکن اُس نے دوسروں کو کیا اعزاز بخشا ہے؟‏

یہوواہ خدا حاکمِ‌اعلیٰ ہے۔‏ وہ کائنات کا خالق ہے اور لامحدود حکمت اور طاقت کا مالک ہے۔‏ ایوب کو یہ بات سمجھانے کے لیے یہوواہ خدا نے اُن سے مختلف سوال پوچھے جس پر اُنہوں نے کہا:‏ ”‏مَیں جانتا ہوں کہ تُو سب کچھ کر سکتا ہے اور تیرا کوئی اِرادہ رُک نہیں سکتا۔‏“‏ (‏ایو 42:‏2‏)‏ بِلا‌شُبہ یہوواہ خدا کسی کی مدد کے بغیر اپنے اِرادے پورے کر سکتا ہے۔‏ لیکن وہ اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لیے دوسروں کو بھی اپنے ساتھ کام کرنے کا اعزاز بخشتا ہے۔‏ یوں وہ اُن کے لیے محبت ظاہر کرتا ہے۔‏

2.‏ یہوواہ خدا نے یسوع کو کون سا اہم کام کرنے کا اعزاز بخشا؟‏

2 یہوواہ خدا نے سب سے پہلے اپنے اِکلوتے بیٹے یسوع کو خلق کِیا۔‏ اِس کے بعد یہوواہ خدا نے اُسے یہ اعزاز بخشا کہ وہ اُس کے ساتھ مل کر فرشتے اور کائنات کی ہر شے بنائے۔‏ (‏یوح 1:‏1-‏3،‏ 18‏)‏ یسوع مسیح کے بارے میں پولُس رسول نے لکھا:‏ ”‏اُسی میں سب چیزیں پیدا کی گئیں۔‏ آسمان کی ہوں یا زمین کی۔‏ دیکھی ہوں یا اَن‌دیکھی۔‏ تخت ہوں یا ریاستیں یا حکومتیں یا اِختیارات۔‏ سب چیزیں اُسی کے وسیلہ سے اور اُسی کے واسطے پیدا ہوئی ہیں۔‏“‏ (‏کُل 1:‏15-‏17‏)‏ یہوواہ خدا نے نہ صرف یسوع کو  کائنات کی تخلیق میں شامل ہونے کا اعزاز بخشا بلکہ دوسروں کو اُن کے اِس اہم کردار کے بارے میں بتا کر اُنہیں عزت بھی بخشی۔‏

3.‏ یہوواہ خدا نے آدم کو کون سی ذمےداریاں سونپیں اور کیوں؟‏

3 یہوواہ خدا نے اِنسانوں کو بھی اپنے ساتھ کام کرنے کا اعزاز بخشا۔‏ مثال کے طور پر اُس نے آدم کو یہ ذمےداری سونپی کہ وہ جانوروں کے نام رکھیں۔‏ (‏پید 2:‏19،‏ 20‏)‏ ذرا سوچیں کہ آدم کو اُس وقت کتنی خوشی ہوئی ہوگی جب اُنہوں نے ہر جانور کی بناوٹ اور حرکتوں پر غور کِیا اور پھر اُس کا نام رکھا۔‏ یہوواہ خدا جانوروں کے نام خود بھی رکھ سکتا تھا کیونکہ اُسی نے اِنہیں بنایا تھا۔‏ لیکن محبت کی بِنا پر اُس نے یہ کام آدم کو سونپا۔‏ اُس نے آدم کو پوری زمین کو فردوس بنانے کی بھی ذمےداری سونپی۔‏ (‏پید 1:‏27،‏ 28‏)‏ لیکن افسوس کی بات ہے کہ بعد میں آدم نے فیصلہ کِیا کہ وہ آئندہ خدا کے ساتھ کام نہیں کریں گے جس کے نتیجے میں اُنہیں اور اُن کی اولاد کو تکلیفوں اور مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا۔‏—‏پید 3:‏17-‏19،‏ 23‏۔‏

4.‏ خدا نے اپنے مقصد کے سلسلے میں اپنے بعض بندوں کو کیا شرف دیا؟‏

4 بعد میں خدا نے اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لیے دیگر اِنسانوں کو بھی اپنے ساتھ کام کرنے کا شرف دیا۔‏ مثال کے طور پر نوح نے ایک بہت بڑی کشتی بنائی جس میں وہ اور اُن کے گھر والے طوفان سے بچ گئے؛‏ موسیٰ نے بنی‌اِسرائیل کو مصر کی غلا‌می سے چھڑایا؛‏ یشوع بنی‌اِسرائیل کو ملک کنعان میں لے گئے؛‏ سلیمان نے یروشلیم میں ہیکل تعمیر کی اور مریم نے یسوع کی پرورش کی۔‏ اِس کے علا‌وہ خدا کے بہت سے اَور وفادار بندوں نے بھی اُس کے مقصد کو پورا کرنے میں اُس کے ساتھ کام کِیا۔‏

5.‏ ہم سب کس کام میں حصہ لے سکتے ہیں؟‏ اور کیا خدا کو اِس کام میں ہماری مدد کی ضرورت ہے؟‏ (‏اِس مضمون کی پہلی تصویر کو دیکھیں۔‏)‏

5 آج یہوواہ خدا نے ہمیں یہ اعزاز دیا ہے کہ ہم اُس کی بادشاہت کی بھرپور حمایت کریں۔‏ ہم مختلف طریقوں سے ایسا کر سکتے ہیں۔‏ ہمارے لیے خدا کی خدمت کے ہر پہلو میں حصہ لینا تو ممکن نہیں لیکن مُنادی کے کام میں ہم سب حصہ لے سکتے ہیں۔‏ سچ ہے کہ اِس کام کو انجام دینے کے لیے یہوواہ خدا کو ہماری مدد کی ضرورت نہیں ہے۔‏ اگر وہ چاہتا تو آسمان سے براہِ‌راست بھی اِنسانوں سے بات کر سکتا۔‏ یسوع مسیح نے کہا تھا کہ یہوواہ خدا تو پتھروں کے ذریعے بھی مسیح کی بادشاہت کا اِعلا‌ن کروا سکتا ہے۔‏ (‏لُو 19:‏37-‏40‏)‏ لیکن خدا نے ہمیں اپنے ”‏ساتھ کام کرنے“‏ کا شرف عطا کِیا ہے۔‏ (‏1-‏کُر 3:‏9‏)‏ پولُس رسول نے لکھا:‏ ”‏ہم جو اُس کے ساتھ کام میں شریک ہیں یہ بھی اِلتماس کرتے ہیں کہ خدا کا فضل جو تُم پر ہوا بےفائدہ نہ رہنے دو۔‏“‏ (‏2-‏کُر 6:‏1‏)‏ خدا کے ساتھ کام کرنا ایک ایسا اعزاز ہے جس سے ہمیں بہت خوشی ملتی ہے۔‏ آئیں،‏ اِس کی کچھ وجوہات پر غور کریں۔‏

خدا کے ساتھ کام کرنا—‏خوشی کا باعث

6.‏ یہوواہ کے پہلوٹھے بیٹے کو اپنے باپ کے ساتھ کام کر کے کیسا محسوس ہوا؟‏

6 یہوواہ کے خادموں کے لیے اُس کے ساتھ کام کرنا ہمیشہ سے خوشی کا باعث رہا ہے۔‏ مثال کے طور پر زمین پر آنے سے پہلے خدا کے پہلوٹھے بیٹے نے کہا:‏ ”‏[‏یہوواہ]‏ نے اِنتظامِ‌عالم کے شروع میں اپنی قدیمی صنعتوں سے پہلے مجھے پیدا کِیا۔‏ .‏ .‏ .‏ اُس وقت ماہر کاریگر کی مانند مَیں اُس کے پاس تھی اور مَیں ہر روز اُس کی خوشنودی تھی اور ہمیشہ اُس کے حضور شادمان رہتی تھی۔‏“‏ (‏امثا 8:‏22،‏ 30‏)‏ یسوع کو اپنے باپ کے ساتھ کام کر کے بڑی خوشی محسوس ہوئی۔‏ اُن کو اِس بات سے بھی خوشی ملی کہ وہ ایک اہم کام انجام دے رہے ہیں اور اُن کا باپ اُن سے خوش ہے۔‏ لیکن کیا ہمیں بھی خدا کے ساتھ کام کر کے خوشی ہوتی ہے؟‏

بھلا اِس سے زیادہ اِطمینان‌بخش کام اَور کیا ہو سکتا ہے کہ ہم دوسروں کو پاک کلام کی سچائیاں سکھائیں؟‏ (‏پیراگراف 7 کو دیکھیں۔‏)‏

7.‏ مُنادی کے کام سے ہمیں خوشی کیوں ملتی ہے؟‏

7 یسوع مسیح نے کہا تھا کہ جب ہم کسی کو کچھ دیتے ہیں یا کوئی ہمیں کچھ دیتا ہے تو ہمیں بڑی خوشی ملتی ہے۔‏ (‏اعما 20:‏35‏)‏ جب کسی نے ہمیں پاک کلام کی سچائیاں سکھائی تھیں تو ہم بہت خوش ہوئے تھے اور جب ہم دوسروں کو یہی سچائیاں سکھاتے ہیں تو ہمیں  بھی بہت خوشی ہوتی ہے۔‏ ہم ایسا کیوں کہہ سکتے ہیں؟‏ جب لوگ خدا کے بارے میں سیکھنے لگتے ہیں اور اُس کے قریب آنے لگتے ہیں تو اُن کو خوشی ملتی ہے اور اِس خوشی کو دیکھ کر ہم بھی خوش ہوتے ہیں۔‏ پھر جب یہ لوگ اپنی سوچ اور زندگی میں تبدیلیاں لانے لگتے ہیں تو ہماری خوشی دوبالا ہو جاتی ہے۔‏ ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ بادشاہت کی خوش‌خبری سنانا کتنا اہم ہے کیونکہ اِس کے ذریعے دوسروں کو ہمیشہ کی زندگی مل سکتی ہے۔‏ کیا اِس سے زیادہ خوشی کسی اَور کام سے مل سکتی ہے؟‏—‏2-‏کُر 5:‏20‏۔‏

8.‏ بعض گواہوں نے خدا کے ساتھ کام کرنے کے بارے میں کیا کہا؟‏

8 جب ہم دوسروں کو یہوواہ کے بارے میں سکھاتے ہیں تو یہوواہ خوش ہوتا ہے اور ہماری کوششوں کی قدر کرتا ہے۔‏ یہ جان کر ہمیں بھی خوشی ملتی ہے۔‏ ‏(‏1-‏کُرنتھیوں 15:‏58 کو پڑھیں۔‏)‏ ذرا اِٹلی میں رہنے والے بھائی مارکو کی بات پر غور کریں۔‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏مجھے یہ سوچ کر بڑی خوشی ہوتی ہے کہ مَیں پورے جی جان سے یہوواہ خدا کے لیے کام کر رہا ہوں نہ کہ کسی اِنسان کے لیے جو شاید فوراً بھول جائے کہ مَیں نے اُس کے لیے کیا کِیا ہے۔‏“‏ بھائی فرینکو جو اِٹلی میں خدمت کر رہے ہیں،‏ اُنہوں نے بھی کہا:‏ ”‏یہوواہ اپنے کلام اور اپنی تنظیم کے ذریعے ہمیں ہر روز یقین دِلاتا ہے کہ وہ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہماری کوششوں کی قدر کرتا ہے،‏ چاہے یہ کوششیں ہماری نظر میں کچھ بھی نہ ہوں۔‏ اِسی وجہ سے مجھے یہوواہ کے ساتھ کام کرنے سے خوشی ملتی ہے اور میری زندگی بامقصد ہے۔‏“‏

خدا کے ساتھ کام کرنا—‏قربت کا باعث

9.‏ یہوواہ خدا اور یسوع مسیح کا رشتہ کیسا ہے اور ایسا کیوں ہے؟‏

9 جب ہم دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں تو ہم اُن کے قریب آ جاتے ہیں۔‏ یوں ہم اُن کی شخصیت اور خوبیوں سے واقف ہو جاتے ہیں۔‏ ہم نہ صرف یہ جان جاتے ہیں کہ اُن کے منصوبے کیا ہیں بلکہ یہ بھی کہ وہ اِنہیں کیسے پورا کرنا چاہتے ہیں۔‏ یسوع اور یہوواہ نے غالباً اربوں سال ایک ساتھ کام کِیا۔‏ اِس لیے وہ ایک دوسرے سے گہری محبت کرتے ہیں۔‏ اُن کا آپس میں رشتہ اِتنا مضبوط ہے کہ کوئی بھی اِسے توڑ نہیں سکتا۔‏ اِس رشتے کی گہرائی کے بارے میں یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏مَیں اور باپ ایک ہیں۔‏“‏ (‏یوح 10:‏30‏)‏ وہ ایک دوسرے کے ساتھ متحد ہیں اور ہمیشہ مل کر کام کرتے ہیں۔‏

10.‏ مُنادی کا کام کرنے سے ہم یہوواہ خدا اور بہن بھائیوں کے قریب کیوں آ جاتے ہیں؟‏

10 یسوع مسیح نے یہوواہ خدا سے دُعا کی کہ وہ اُن کے شاگردوں کی حفاظت کرے تاکہ شاگرد بھی اُن کی طرح ایک ہوں۔‏ (‏یوح 17:‏11‏)‏ جب ہم خدا کے معیاروں پر پورا اُترنے کی کوشش کرتے ہیں اور مُنادی کے کام میں بھرپور حصہ لیتے ہیں تو ہم یہوواہ خدا کی خوبیوں کی اَور زیادہ قدر کرنے لگتے ہیں۔‏ ہم یہ بھی جان جاتے ہیں کہ یہوواہ پر بھروسا کرنا اور اُس کی رہنمائی کے مطابق چلنا سمجھ‌داری کی بات کیوں ہے۔‏ جوں‌جوں ہم یہوواہ کے قریب ہوتے ہیں،‏ وہ ہمارے قریب آتا ہے۔‏ ‏(‏یعقوب 4:‏8 کو پڑھیں۔‏)‏ اِس کے علا‌وہ ہم اپنے بہن بھائیوں کے بھی قریب آ جاتے ہیں کیونکہ ہماری خوشیاں،‏ مشکلیں اور منزلیں ملتی جلتی ہیں۔‏ ہم مل کر مُنادی کا کام کرتے ہیں؛‏ مل کر خوش ہوتے ہیں اور مل کر مشکلا‌ت  سہتے ہیں۔‏ برطانیہ میں رہنے والی بہن اوکتاویہ نے کہا:‏ ”‏یہوواہ کے ساتھ کام کرنے کی وجہ سے مَیں بہن بھائیوں کے اَور قریب آ گئی ہوں۔‏“‏ اُنہوں نے اِس کی وجہ یہ بتائی:‏ ”‏ہماری منزل ایک ہے اور ہم ایک ہی خدا کی رہنمائی میں چل رہے ہیں۔‏“‏ کیا آپ بھی ایسا ہی محسوس کرتے ہیں؟‏ جب ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے بہن بھائی یہوواہ کو خوش کرنے کی کتنی کوشش کر رہے ہیں تو بِلا‌شُبہ ہم اُن کے اَور قریب آ جاتے ہیں۔‏

11.‏ ہم نئی دُنیا میں یہوواہ خدا اور اپنے بہن بھائیوں کے اَور قریب کیوں آ جائیں گے؟‏

11 سچ ہے کہ ہم ابھی یہوواہ خدا اور بہن بھائیوں سے گہری محبت رکھتے ہیں لیکن نئی دُنیا میں یہ محبت اَور بھی گہری ہو جائے گی۔‏ ذرا سوچیں کہ نئی دُنیا میں ہم کون کون سے کام کریں گے۔‏ جب مُردے زندہ ہوں گے تو ہم اُنہیں یہوواہ خدا اور اُس کی مرضی کے بارے میں سکھائیں گے۔‏ اِس کے علا‌وہ ہمیں زمین کو فردوس بنانے کا کام بھی سونپا جائے گا۔‏ یہ سب کام بہت ہی محنت‌طلب ہوں گے لیکن ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے سے ہمیں بہت خوشی ملے گی۔‏ ہم تب بھی بہت خوش ہوں گے جب ہمیں آہستہ آہستہ گُناہ سے پاک کِیا جائے گا۔‏ پھر اِنسان ایک دوسرے کے اور یہوواہ خدا کے اَور زیادہ قریب آ جائیں گے۔‏ اُس وقت یہوواہ خدا ”‏ہر جان‌دار کی خواہش“‏ پوری کرے گا۔‏—‏زبور 145:‏16‏۔‏

خدا کے ساتھ کام کرنا—‏تحفظ کا باعث

12.‏ مُنادی کا کام ہمیں کس لحاظ سے تحفظ فراہم کرتا ہے؟‏

12 ہمیں یہوواہ خدا کی دوستی پر کوئی آنچ نہیں آنے دینی چاہیے۔‏ چونکہ ہم ایسی دُنیا میں رہتے ہیں جس کا حکمران شیطان ہے اور ہم نے گُناہ کا ورثہ پایا ہے اِس لیے ہم دُنیا کی غلط سوچ اور طورطریقے اپنانے کے خطرے میں ہیں۔‏ جس طرح تیز دریا کا بہاؤ ہمیں ایسی سمت لے جاتا ہے جہاں ہم جانا نہیں چاہتے اور دوسری سمت جانے کے لیے ہمیں پوری جان لگا‌نی پڑتی ہے اِسی طرح دُنیا کی روح کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں سخت کوشش کرنی پڑتی ہے۔‏ جب ہم دوسروں کو یہوواہ خدا اور اُس کے پاک کلام کے بارے میں بتاتے ہیں تو ہمارا دھیان اہم اور فائدہ‌مند باتوں پر رہتا ہے اور ہم نقصان‌دہ باتوں پر دھیان دینے سے بچ جاتے ہیں جو ہمارے ایمان کو کمزور کر سکتی ہیں۔‏ (‏فل 4:‏8‏)‏ مُنادی کا کام کرنے سے ہمیں خدا کے وعدے اور اُس کے معیار ہر وقت یاد رہتے ہیں اور یوں ہمارا ایمان مضبوط رہتا ہے۔‏ اِس کے علا‌وہ اِس کام کے ذریعے ہماری وہ خوبیاں برقرار رہتی ہیں جو ہمیں شیطان کی دُنیا کا مقابلہ کرنے کے قابل بناتی ہیں۔‏‏—‏اِفسیوں 6:‏14-‏17 کو پڑھیں۔‏

13.‏ آسٹریلیا میں رہنے والا ایک بھائی مُنادی کے کام کے بارے میں کیسا محسوس کرتا ہے؟‏

13 جب ہم مُنادی کے کام اور خدا کی خدمت کے دیگر پہلوؤں میں مصروف رہتے ہیں تو ہمارا دھیان کسی حد تک اپنی پریشانیوں سے ہٹ جاتا ہے۔‏ ذرا آسٹریلیا میں رہنے والے بھائی جوئیل کی بات پر غور کریں۔‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏مُنادی کے کام کے دوران مَیں دیکھتا ہوں کہ لوگ کتنی مشکلا‌ت سے گزر رہے ہیں۔‏ تب مجھے احساس ہوتا ہے کہ خدا کے اصولوں پر عمل کرنے سے مجھے کتنا فائدہ ہوا ہے۔‏ یہ کام مجھے خاکسار رہنے کے قابل بناتا ہے کیونکہ اِس کے ذریعے مجھے یہوواہ اور اپنے بہن بھائیوں پر بھروسا ظاہر کرنے کا موقع ملتا ہے۔‏“‏

14.‏ یہ کیسے ثابت ہوتا ہے کہ مُنادی کے کام میں خدا کی روح ہمارے ساتھ ہے؟‏

14 مُنادی کا کام کرنے سے اِس بات پر ہمارا اِعتماد بڑھتا ہے کہ خدا کی پاک روح ہمارے ساتھ ہے۔‏ مثال کے طور پر فرض کریں کہ آپ کو اپنے علا‌قے میں کھانا تقسیم کرنے کا کام دیا جاتا ہے۔‏ آپ کو اِس کام کے لیے کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا اور آپ کو خود ہی اپنے اخراجات پورے کرنے پڑتے ہیں۔‏ اَور تو اَور آپ کو پتہ چلتا ہے کہ زیادہ‌تر لوگ یہ کھانا نہیں لینا چاہتے یہاں تک کہ کچھ لوگ تو آپ کے کام کی وجہ سے آپ سے نفرت کرتے  ہیں۔‏ ایسی صورتحال میں آپ کب تک یہ کام کرتے رہیں گے؟‏ لوگوں کے ایسے ردِعمل کی وجہ سے شاید آپ کی ہمت جواب دے جائے اور آپ یہ کام چھوڑ دیں۔‏ لیکن ہمارے بہت سے بہن بھائی سالوں سال سے بڑی لگن سے مُنادی کا کام کر رہے ہیں۔‏ وہ اپنے اخراجات خود پورے کرتے ہیں اور لوگوں کی ناشکری کے باوجود اِس کام میں مگن ہیں۔‏ کیا اِس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ خدا کی روح ہمارے ساتھ ہے؟‏

مُنادی کا کام—‏محبت کا اِظہار

15.‏ مُنادی کے کام اور اِنسانوں کے لیے خدا کے مقصد میں کیا تعلق ہے؟‏

15 مُنادی کے کام اور اِنسانوں کے لیے خدا کے مقصد میں کیا تعلق ہے؟‏ خدا کا مقصد ہے کہ اِنسان زمین پر ہمیشہ تک زندہ رہیں۔‏ آدم کے گُناہ کرنے کے باوجود بھی خدا نے اپنا اِرادہ نہیں بدلا۔‏ (‏یسع 55:‏11‏)‏ اِس کی بجائے اُس نے اِنسانوں کو گُناہ اور موت سے چھٹکا‌را دینے کا بندوبست کِیا۔‏ اُس نے اپنے بیٹے کو زمین پر بھیجا تاکہ وہ اپنی جان وفادار اِنسانوں کے لیے قربان کرے۔‏ لیکن خدا کا وفادار بننے کے لیے اِنسانوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خدا اُن سے کیا چاہتا ہے۔‏ اِس لیے یسوع مسیح نے لوگوں کو سکھایا کہ خدا اُن سے کن باتوں کی توقع کرتا ہے۔‏ اُنہوں نے اپنے شاگردوں کو حکم دیا کہ وہ بھی لوگوں کو یہ باتیں سکھائیں۔‏ جب ہم خدا کا دوست بننے میں دوسروں کی مدد کرتے ہیں تو دراصل ہم اِنسانوں کو گُناہ اور موت سے آزاد کرنے کے سلسلے میں خدا کا ساتھ دیتے ہیں۔‏

16.‏ مُنادی کے کام اور متی 22:‏37-‏39 میں درج حکموں میں کیا تعلق ہے؟‏

16 جب ہم ہمیشہ کی زندگی کا راستہ اِختیار کرنے میں دوسروں کی مدد کرتے ہیں تو ہم ظاہر کرتے ہیں کہ ہم اُن سے اور یہوواہ خدا سے محبت کرتے ہیں۔‏ یہوواہ خدا ”‏چاہتا ہے کہ سب آدمی نجات پائیں اور سچائی کی پہچان تک پہنچیں۔‏“‏ (‏1-‏تیم 2:‏4‏)‏ جب ایک فریسی نے یسوع مسیح سے پوچھا کہ شریعت میں سب سے بڑا حکم کون سا ہے تو اُنہوں نے کہا:‏ ”‏[‏یہوواہ]‏ اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل سے محبت رکھ۔‏ بڑا اور پہلا حکم یہی ہے۔‏ اور دوسرا اِس کی مانند یہ ہے کہ اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھ۔‏“‏ (‏متی 22:‏37-‏39‏)‏ مُنادی کے کام میں حصہ لینے سے ہم اِن حکموں پر عمل کرتے ہیں۔‏‏—‏اعمال 10:‏42 کو پڑھیں۔‏

17.‏ آپ خوش‌خبری سنانے کے اعزاز کو کیسا خیال کرتے ہیں؟‏

17 یہوواہ خدا نے واقعی ہمیں برکتوں سے مالا مال کِیا ہے۔‏ اُس نے ہمیں ایک ایسا کام سونپا ہے جس سے ہمیں خوشی ملتی ہے،‏ جس سے ہم اُس کے اور اپنے بہن بھائیوں کے اَور قریب ہو جاتے ہیں اور جس سے ہمیں تحفظ ملتا ہے۔‏ اِس کے علا‌وہ اِس کام کے ذریعے ہمیں خدا اور اپنے پڑوسی کے لیے محبت ظاہر کرنے کا بھی موقع ملتا ہے۔‏ اگرچہ پوری دُنیا میں ہمارے بہن بھائیوں کی صورتحال ایک دوسرے سے فرق ہے لیکن چاہے ہم جوان ہیں یا بوڑھے؛‏ امیر ہیں یا غریب؛‏ کمزور ہیں یا طاقت‌ور،‏ ہم سب بڑی لگن سے دوسروں کو خوش‌خبری سنا رہے ہیں۔‏ شاید ہمارے جذبات بھی فرانس میں رہنے والی بہن شانٹل جیسے ہوں۔‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏میرا خالق جو کہ کائنات کی سب سے طاقت‌ور ہستی اور خوش‌دل خدا ہے،‏ مجھ سے کہہ رہا ہے:‏ ”‏جاؤ اور لوگوں کو میرے بارے میں بتاؤ!‏ اُنہیں دل سے بتاؤ۔‏ مَیں تمہیں ہمت دوں گا۔‏ مَیں اپنے کلام،‏ فرشتوں اور کلیسیا کے ذریعے تمہاری مدد کروں گا اور مُنادی کے کام کے لیے تمہیں تربیت اور ہدایت دوں گا۔‏“‏ یہ کتنا بڑا اعزاز ہے کہ ہم وہ کام کر رہے ہیں جو یہوواہ خدا نے ہمیں دیا ہے اور یہ کام اُس کے ساتھ مل کر کر رہے ہیں!‏“‏