مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 آپ‌بیتی

مجھے دوسروں کی خدمت کرنے سے خوشی ملی

مجھے دوسروں کی خدمت کرنے سے خوشی ملی

جب مَیں 12 سال کا تھا تو مجھے پتہ چلا کہ میرے پاس ایک بہت ہی قیمتی چیز ہے جو مَیں دوسروں کو دے سکتا ہوں۔‏ ہوا یہ کہ ایک اِجتماع کے دوران ایک بھائی نے مجھ سے پوچھا کہ ”‏کیا آپ مُنادی کرنا چاہتے ہو؟‏“‏ مَیں نے فوراً ہاں میں جواب دیا حالانکہ مَیں نے پہلے کبھی مُنادی نہیں کی تھی۔‏ جب ہم اُس علا‌قے میں پہنچے جہاں پر ہم نے مُنادی کرنی تھی تو اُس بھائی نے مجھے خدا کی بادشاہت کے بارے میں کچھ کتابیں دیں اور کہا:‏ ”‏آپ سڑک کے اِس پار مُنادی کرو اور مَیں سڑک کے اُس پار مُنادی کرتا ہوں۔‏“‏ مَیں ڈرے ڈرے ایک گھر سے دوسرے گھر پر دستک دینے لگا۔‏ جلد ہی میرے پاس ایک بھی کتاب نہیں بچی۔‏ مَیں بہت حیران تھا اور جان گیا کہ بہت سے لوگ اُس پیغام کو قیمتی خیال کرتے ہیں جو مَیں اُن کو دے رہا تھا۔‏

مَیں 1923ء میں اِنگلینڈ کے ضلع کینٹ میں پیدا ہوا۔‏ اُس زمانے  میں  ہر  طرف مایوسی ہی مایوسی تھی۔‏ دراصل پہلی عالمی جنگ کے بعد لوگوں نے سوچا کہ دُنیا کے حالات بہتر ہو جائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔‏ میرے والدین جو بپٹسٹ چرچ کے رُکن تھے،‏ وہ بھی بہت مایوس تھے کیونکہ اُنہوں نے دیکھا کہ اُن کے پادری صرف اپنے ہی فائدے کا سوچتے ہیں۔‏ جب مَیں نو سال کا تھا تو میری امی یہوواہ کے گواہوں کے اِجلا‌سوں پر جانے لگیں۔‏ وہاں ایک بہن مجھے اور تین اَور بچوں کو بائبل اور کتاب دی ہارپ آف گاڈ سے تعلیم دیتی تھی۔‏ مَیں جو کچھ سیکھ رہا تھا،‏ وہ مجھے بہت اچھا لگا۔‏

عمررسیدہ بھائیوں کی اچھی مثال

نوجوانی میں مَیں لوگوں کو بڑے شوق سے خدا کے کلام سے اُمید کا  پیغام  دیتا تھا۔‏ حالانکہ مَیں اکثر اکیلے گھر گھر مُنادی کرتا تھا لیکن مَیں نے دوسروں کے ساتھ مُنادی کرنے سے بھی بہت کچھ سیکھا۔‏ ایک دن مَیں ایک عمررسیدہ بھائی کے ساتھ سائیکل پر اُس علا‌قے میں جا رہا تھا جہاں ہم نے مُنادی کرنی تھی۔‏ راستے میں ہم نے ایک پادری کو دیکھا اور مَیں نے فٹ سے کہا:‏ ”‏وہ دیکھیں،‏ بکری جا رہی ہے۔‏“‏ اِس پر بھائی نے سائیکل روک دی اور میرے ساتھ سڑک کے کنارے بیٹھ گیا۔‏ پھر اُس نے کہا:‏ ”‏آپ کو کس نے یہ فیصلہ کرنے کا اِختیار دیا ہے کہ کون بکری ہے اور کون بھیڑ؟‏ یہ کام یہوواہ کو کرنے دو جبکہ ہم دونوں لوگوں کو خوش‌خبری سنانے پر توجہ دیتے ہیں۔‏“‏ اِس طرح کے تجربوں سے مَیں نے سیکھا کہ دینے میں زیادہ خوشی ہے۔‏—‏متی 25:‏31-‏33؛‏ اعما 20:‏35‏۔‏

ایک اَور عمررسیدہ بھائی سے مَیں نے سیکھا کہ خوشی حاصل کرنے کے  لیے  صبر سے کام لینا پڑتا ہے۔‏ اُس کی بیوی یہوواہ کے گواہوں کو پسند نہیں کرتی تھی۔‏ ایک دن مُنادی کے بعد وہ بھائی مجھے اپنے گھر چائے پر لے گیا۔‏ جب اُس کی بیوی کو پتہ چلا کہ وہ مُنادی سے آیا ہے تو اُس کو اِتنا غصہ آیا کہ وہ دراز سے چائے کے پیکٹ نکا‌ل نکا‌ل کر ہم پر پھینکنے لگی۔‏ مگر اُس بھائی نے اپنی بیوی کو نہیں ٹوکا بلکہ مسکراتے ہوئے  چائے کے پیکٹ واپس دراز میں رکھ دیے۔‏ اُس کا صبر رنگ لایا کیونکہ بہت سال بعد اُس کی بیوی نے یہوواہ کی گواہ کے طور پر بپتسمہ لے لیا۔‏

ستمبر 1939ء میں جب مَیں 16 سال کا تھا تو برطانیہ نے جرمنی سے  جنگ  کا اِعلا‌ن کر دیا۔‏ امی اور مَیں نے مارچ 1940ء میں بپتسمہ لے لیا۔‏ اُسی سال جون میں ٹرکوں میں سوار ہزاروں فوجی ہمارے گھر کے سامنے سے گزرے۔‏ دراصل یہ فوجی ڈنکرک کے محاذ سے آ رہے تھے جہاں اُن کے باقی ساتھی مارے گئے تھے۔‏ یہ سب سکتے کی حالت میں تھے۔‏ اُن کی آنکھوں میں اُمید کے دیے بجھ گئے تھے۔‏ یہ دیکھ کر میرا دل کِیا کہ اُنہیں خدا کی بادشاہت کے بارے میں بتاؤں۔‏ اِس کے کچھ مہینے بعد جرمنی نے برطانیہ پر باقاعدہ بمباری شروع کر دی۔‏ ہر رات جرمنی کے جنگی طیاروں کے جھنڈ کے جھنڈ ہمارے علا‌قے سے گزرتے تھے۔‏ بموں کے گِرتے وقت جو آواز سنائی دیتی تھی،‏ وہ بالکل سیٹی کی طرح ہوتی تھی۔‏ اِس آواز کو سنتے ہی سب پر دہشت طاری ہو جاتی تھی۔‏ صبح کو جب ہم گھر سے نکلتے تھے تو پورے کے پورے محلے تباہ ہو چُکے ہوتے تھے۔‏ تب مجھے اَور بھی زیادہ احساس ہوتا تھا کہ اِنسانوں کو خدا کی بادشاہت کی کتنی ضرورت ہے۔‏

مَیں خوشی کی راہ پر چل نکلا

سن 1941ء میں مَیں اُس راہ پر چل دیا جس سے مجھے بہت ہی خوشی ملی۔‏ اِس سے پہلے مَیں بحری جہاز بنانے کا کام سیکھ رہا تھا۔‏ اِس کام کی بڑی مانگ تھی اور اِس سے خوب کمایا بھی جا سکتا تھا۔‏ یہوواہ کے بندوں کو بہت عرصے سے پتہ تھا کہ اُنہیں جنگ میں حصہ نہیں لینا چاہیے۔‏ لیکن 1941ء کے لگ بھگ ہم یہ بھی سمجھ گئے کہ ہمیں ایسی جگہوں پر ملا‌زمت بھی نہیں کرنی چاہیے جہاں جنگی سامان اور ہتھیار بنائے جاتے ہیں۔‏ (‏یوح 18:‏36‏)‏ مَیں جہاں کام کرتا تھا،‏ وہاں آب‌دوز بنائی جاتی تھیں۔‏ اِس لیے مَیں نے یہ ملا‌زمت چھوڑنے اور پہل‌کار کے طور پر خدمت کرنے کا فیصلہ کِیا۔‏ شروع میں مجھے شہر سائرن‌سسٹر میں خدمت کرنے کے لیے بھیجا گیا جو اِنگلینڈ کا بہت ہی خوب‌صورت شہر ہے۔‏

جب مَیں 18 سال کا ہوا تو مجھے فوج میں بھرتی ہونے کے لیے بلا‌یا  گیا  لیکن مَیں نے بھرتی ہونے سے اِنکا‌ر کر دیا۔‏ اِس پر مجھے قید کر دیا گیا۔‏ جب سپاہی نے مجھے قیدخانے میں ڈال کر دروازہ بند کِیا تو میرا دل ڈوب سا گیا۔‏ مَیں خود کو بہت تنہا محسوس کر رہا تھا۔‏ لیکن جلد ہی مَیں سنبھل گیا کیونکہ جیل میں مجھے سپاہیوں اور قیدیوں کو گواہی دینے کا موقع ملا۔‏ مَیں نو مہینے تک قید میں رہا۔‏

قید سے رِہا ہونے کے بعد مجھے بھائی لینارڈ سمتھ کے ساتھ ضلع کینٹ کے شہروں میں مُنادی کرنے کے لیے بھیجا گیا۔‏ جرمنی کے طیارے لندن پر بم پھینکنے کے لیے ہمارے ضلعے سے گزرتے تھے۔‏ دراصل یہ طیارے بذاتِ‌خود ایک طرح کے بم تھے۔‏ اِن میں کوئی پائلٹ نہیں ہوتا تھا اور اِن کو بارود سے بھر کر منزل کی طرف روانہ کر دیا جاتا تھا جہاں وہ گِر کر پھٹ جاتے تھے اور خوب تباہی مچاتے تھے۔‏ جب اُوپر سے گزرتے ہوئے طیاروں کے انجن بند ہو جاتے تھے تو ہمارے دل خوف سے لرز جاتے تھے کیونکہ ہمیں پتہ ہوتا تھا کہ کچھ ہی لمحوں میں وہ گِر کر پھٹیں گے۔‏ 1944ء میں ایک ہزار سے زیادہ طیارے کینٹ پر گِرے۔‏ اُسی سال ہم ایک میاں بیوی اور  اُن کے تین بچوں کو بائبل کورس کرا رہے تھے۔‏ اکثر ہم سب لوہے کی ایک میز کے نیچے بیٹھ کر بائبل کورس کرتے تھے تاکہ اگر گھر گِر بھی جائے تو ہم محفوظ رہیں۔‏ کچھ عرصے بعد اُن سب نے بپتسمہ لے لیا۔‏

بیرونِ‌ملک میں خدمت کا آغاز

آئرلینڈ میں ایک اِجتماع کا اِشتہار دیتے ہوئے

دوسری عالمی جنگ کے بعد مَیں نے دو سال جنوبی آئرلینڈ میں پہل‌کار کے طور پر خدمت کی۔‏ جب ہم وہاں پہنچے تو ہم گھر گھر جا کر لوگوں کو بتانے لگے کہ ہم مشنری ہیں اور رہنے کے لیے جگہ ڈھونڈ رہے ہیں۔‏ ہم نے سڑک پر چلتے لوگوں کو اپنے رسالے بھی پیش کیے۔‏ لیکن آئرلینڈ،‏ اِنگلینڈ سے بہت فرق تھا۔‏ دراصل آئرلینڈ میں کیتھولک چرچ کا زور تھا اور لوگ ہماری مدد کرنے کو تیار نہیں تھے۔‏ ایک آدمی نے تو ہمیں مارنے پیٹنے کی دھمکی دی اور جب مَیں نے پولیس والے سے شکا‌یت کی تو پولیس والے نے کہا کہ ”‏ایسا تو ہونا ہی تھا۔‏“‏ وہاں پادریوں کا سکہ چلتا تھا۔‏ جو لوگ ہمارے رسالے قبول کرتے تھے،‏ اُنہیں ملا‌زمت سے نکا‌ل دیا جاتا تھا۔‏ اور جب ہمیں کوئی رہائش مل جاتی تھی تو ہمیں جلد ہی وہاں سے نکا‌ل دیا جاتا تھا۔‏

لہٰذا کوئی نئی رہائش ڈھونڈنے کے بعد ہم فوراً اِس کے آس‌پاس مُنادی نہیں کرتے تھے بلکہ وہاں سے دُور علا‌قوں میں جاتے تھے جہاں کے پادری ہمیں نہیں پہچانتے تھے۔‏ اِن علا‌قوں میں مُنادی کرنے کے بعد ہی ہم اپنی رہائش‌گاہ کے اِردگِرد کے علا‌قے میں بھی مُنادی کرتے تھے۔‏ ایک شہر میں ہم ایک آدمی کو ہفتے میں تین بار بائبل کورس کراتے تھے حالانکہ اکثر وہاں بِھیڑ ہمیں ڈرانے دھمکا‌نے کے لیے جمع ہو جاتی تھی۔‏ مجھے لوگوں کو بائبل کی تعلیم دینا اِتنا اچھا لگتا تھا کہ مَیں نے واچ‌ٹاور بائبل سکول آف گلئیڈ میں داخلہ لینے کی درخواست ڈال دی۔‏

یہ بادبان والی کشتی 1948ء سے 1953ء تک ہم مشنریوں کا گھر رہی۔‏

اِس سکول میں پانچ مہینے تعلیم حاصل کرنے کے بعد مجھے اور میرے تین ہم‌جماعتوں کو بحیرۂکیریبیئن کے چھوٹے چھوٹے جزیروں میں مُنادی کرنے کو کہا گیا۔‏ اِس کام کو انجام دینے کے لیے ہمیں 18 میٹر (‏59 فٹ)‏ لمبی بادبان والی کشتی دی گئی جس کا نام سیبیا تھا۔‏ ہم نومبر 1948ء میں نیو یارک سے روانہ ہو گئے۔‏ میرے ساتھیوں میں سے ایک کا نام گسٹ ماکی تھا جو کہ بحری جہاز کے کپتان رہ چُکے تھے۔‏ بھائی گسٹ نے ہمیں بادبانوں کو کھولنا اور بند کرنا،‏ کشتی کو ہوا کے رُخ کے خلا‌ف چلا‌نا اور اِسے کمپاس کی مدد سے منزل تک پہنچانا سکھایا۔‏ اُنہوں نے بڑی مہارت سے کشتی چلا‌ئی اور یوں ہم خطرناک طوفانوں کے باوجود 30 دن کے اندر اندر بہاماس پہنچ گئے۔‏

‏”‏دُور کے جزیروں میں مُنادی کرو“‏

ہم نے کچھ مہینوں تک بہاماس کے چھوٹے جزیروں میں مُنادی  کی  اور  پھر  ہم لی‌وارڈ جزائر اور وِنڈوارڈ جزائر کے لیے روانہ ہو گئے۔‏ جزیروں کے یہ سلسلے پورٹو ریکو اور ٹرینیڈاڈ کے بیچ 800 کلو میٹر (‏500 میل)‏ بڑے علا‌قے میں بکھرے ہیں۔‏ پانچ سال تک ہم ایسے دُوردراز جزیروں کا سفر کرتے رہے جہاں کوئی یہوواہ کے گواہ نہیں تھے۔‏ کبھی کبھار ہمیں خط ملے یا بھیجے ہفتے گزر جاتے تھے۔‏ لیکن ہم بہت خوش تھے کیونکہ ہم ”‏دُور کے جزیروں میں مُنادی“‏ کر رہے تھے۔‏—‏یرم 31:‏10‏۔‏

بادبان والی کشتی پر ہم چار مشنری (‏بائیں سے دائیں)‏:‏ مَیں،‏ ڈِک رائڈ،‏ گسٹ ماکی اور سٹین‌لی کارٹر

جب ہماری کشتی کسی خلیج پر رُکتی تو آس‌پاس کے گاؤں کے لوگ  ہمیں  دیکھنے  کے لیے بھاگے بھاگے آتے۔‏ اُن میں سے کچھ لوگوں نے تو پہلے کبھی بادبان والی کشتی اور گوروں کو نہیں دیکھا تھا۔‏ اِن جزیروں کے باسی بائبل سے اچھی طرح واقف تھے اور بڑے ملنسار تھے۔‏ اکثر وہ ہمیں تازہ مچھلی،‏ مقامی پھل اور مونگ پھلیاں دیتے تھے۔‏ ہماری چھوٹی سی کشتی میں کھانا پکا‌نے،‏ کپڑے دھونے اور سونے کے لیے کم ہی جگہ تھی لیکن ہم گزارہ کر لیتے تھے۔‏

کسی جزیرے پر پہنچ کر ہم پورا دن گھر گھر جا کر لوگوں کو بادشاہت کی خوش‌خبری سناتے تھے اور اُنہیں بتاتے تھے کہ شام کو بائبل پر مبنی ایک تقریر ہوگی۔‏ پھر جب شام ہوتی تھی تو ہم اپنی کشتی کی گھنٹی بجاتے تھے۔‏ لوگ دُور دُور سے ساحل پر آنے لگتے تھے۔‏ جب وہ پہاڑوں سے کشتی کی طرف آتے تھے تو اُن کے دیوں کی روشنی چمکتے ہوئے ستاروں کی طرح لگتی تھی۔‏ کبھی کبھار تو 100 سے زیادہ لوگ تقریر سننے کے لیے آتے تھے اور رات گئے تک ہم سے بائبل کے بارے میں سوال پوچھتے تھے۔‏ چونکہ جزیروں کے لوگ گانا گانے کے بہت شوقین تھے اِس لیے ہم پرچوں پر اپنے  گیتوں کے بول لکھ لیتے تھے اور اِنہیں لوگوں میں تقسیم کرتے تھے۔‏ پھر ہم چاروں بھائی گیت گانے لگتے تھے اور لوگ آہستہ آہستہ ہمارے ساتھ آوازیں ملا‌نے لگتے تھے۔‏ وہ کیا ہی خوب‌صورت لمحے تھے!‏

جب ہم ایک شخص کو بائبل کورس کرا کر دوسرے شخص کے گھر جاتے  تھے  تو  اکثر پہلا شخص ہمارے ساتھ ساتھ جاتا تھا اور وہاں بھی بائبل کورس میں شامل ہو جاتا تھا۔‏ ایک جگہ کچھ ہفتے رہنے کے بعد ہمیں اپنا سفر جاری رکھنا پڑتا تھا لیکن جو لوگ سب سے زیادہ شوق سے بائبل کورس کرتے تھے،‏ اُن سے ہم کہتے تھے کہ وہ ہمارے آنے تک دوسروں کو بائبل کورس کرائیں۔‏ اِن میں سے کچھ تو اِس کام کو اِتنی لگن سے کرتے تھے کہ دل خوش ہو جاتا تھا۔‏

آج تو اِن میں سے بہت سے جزیرے سیاحوں کے لیے تفریح‌گاہیں بن گئے ہیں۔‏ لیکن اُس زمانے میں کم ہی لوگ وہاں جاتے تھے اور وہاں کے نیلے نیلے سمندر،‏ سنہرے ریتلے ساحل اور ہوا میں جھومتے ہوئے تاڑ کے درختوں سے لطف‌اندوز ہوتے تھے۔‏ ہم عموماً رات کو ہی ایک جزیرے سے دوسرے جزیرے کا سفر کرتے تھے۔‏ ڈولفن مچھلیاں ہماری کشتی کے ہمراہ اٹکھیلیاں کرتی ہوئی گزرتی تھیں۔‏ پانی کو چیرتی ہوئی کشتی کی آواز کے سوا ہر طرف سناٹا ہی سناٹا ہوتا تھا۔‏ ساکت پانی پر چاندنی کی شاہراہ سی بچھی ہوتی تھی جس پر ہماری کشتی منزل کی طرف بڑھتی چلی جاتی تھی۔‏

بادبان والی کشتی کے ذریعے پانچ سال جزیروں پر مُنادی کرنے کے بعد ہم ملک پورٹو ریکو گئے۔‏ یہاں سے ہم نے انجن والی کشتی پر اپنا سفر جاری رکھنا تھا۔‏ لیکن جب ہم وہاں پہنچے تو میری ملا‌قات ایک خوب‌صورت بہن سے ہوئی۔‏ اُن کا نام میکزین بوئڈ تھا اور وہ ایک مشنری تھیں۔‏ میکزین بچپن سے ہی بڑی لگن سے بادشاہت کی مُنادی کرتی تھیں۔‏ بعد میں اُنہیں مشنری کے طور پر ڈومینیکن ریپبلک بھیجا گیا۔‏ لیکن 1950ء میں وہاں کی کیتھولک حکومت نے اُنہیں ملک سے نکا‌ل دیا۔‏ مجھے پورٹو ریکو پر صرف ایک مہینہ رہنے کی اِجازت تھی کیونکہ مَیں کشتی کے عملے کا رُکن تھا۔‏ اِس کے بعد مجھے دوبارہ سے اپنے ساتھیوں کے ساتھ چھوٹے چھوٹے جزیروں کے لیے روانہ ہونا تھا اور وہاں کئی سال گزارنے تھے۔‏ لہٰذا مَیں نے خود سے کہا:‏ ”‏رونلڈ،‏ اگر تُم اِس لڑکی سے شادی کرنا چاہتے ہو تو دیر مت کرو۔‏“‏ تین ہفتے بعد مَیں نے میکزین سے پوچھا کہ کیا وہ مجھ سے شادی کریں گی اور چھ ہفتے بعد ہماری شادی ہو گئی۔‏ ہم دونوں کو مشنری کے طور پر پورٹو ریکو بھیجا گیا اور میرے ساتھیوں نے انجن والی کشتی پر اپنا سفر جاری رکھا۔‏

سن 1956ء میں مجھے حلقے کا نگہبان بنا دیا گیا اور ہم کلیسیاؤں کا دورہ کرنے لگے۔‏ ہمارے حلقے کے بہت سے بہن بھائی نہایت ہی غریب تھے لیکن ہم بڑے شوق سے اُن کے ہاں ٹھہرا کرتے تھے۔‏ مثال کے طور پر پستیو نامی گاؤں میں دو خاندان یہوواہ کے گواہ تھے اور اُن کے بہت زیادہ بچے تھے۔‏ مَیں اِن بچوں کے لیے بانسری بجاتا تھا۔‏ اِن میں سے ایک بچی کا نام ہلڈا تھا۔‏ ایک دن مَیں نے ہلڈا سے پوچھا کہ ”‏کیا آپ ہمارے ساتھ مُنادی پر جانا چاہتی ہو؟‏“‏ اِس پر اُس نے کہا:‏ ”‏مَیں جانا تو چاہتی ہوں لیکن میرے پاس جُوتے نہیں ہیں۔‏“‏ ہم نے ہلڈا کے لیے جُوتے خریدے اور وہ ہمارے ساتھ مُنادی کرنے کے لیے گئی۔‏ بہت سال بعد 1972ء میں میکزین اور مَیں بروکلن بیت‌ایل میں ایک بہن سے ملے جس نے گلئیڈ سکول سے تربیت پائی تھی اور اب مشنری کے طور پر ایکواڈور جانے والی تھی۔‏ اِس بہن نے ہم سے کہا:‏ ”‏آپ نے مجھے نہیں پہچانا،‏ نا؟‏ مَیں پستیو گاؤں کی وہی چھوٹی لڑکی ہوں جس کے پاس جُوتے نہیں تھے۔‏“‏ جب ہمیں پتہ چلا کہ وہ لڑکی ہلڈا ہے تو خوشی سے ہماری آنکھیں بھر آئیں۔‏

سن 1960ء میں ہمیں پورٹو ریکو بیت‌ایل میں کام کرنے  کو  کہا  گیا۔‏  یہ  بیت‌ایل شہر سان خوان میں ایک چھوٹے سے دو منزلہ گھر پر مشتمل تھا۔‏ شروع شروع میں بھائی لنارٹ جانسن اور مَیں نے وہاں کا زیادہ‌تر کام سنبھالا۔‏ بھائی لنارٹ اور اُن کی بیوی وہ سب سے پہلے لوگ تھے جنہوں نے ڈومینیکن ریپبلک میں سچائی کو قبول کِیا۔‏ وہ دونوں 1957ء میں پورٹو ریکو آئے تھے۔‏ میری بیوی میکزین کا کام یہ تھا کہ ہمارے رسالوں پر نام پتہ لکھ کر اُن لوگوں کو بھیجیں جنہوں نے یہ رسالے لگوائے تھے۔‏ میکزین ہفتے میں ہزار سے زیادہ رسالے لوگوں کو بھیجتی تھیں۔‏ اُنہیں یہ کام بہت اچھا لگتا تھا کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ اُن کی خدمت کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو روحانی کھانا مل رہا ہے۔‏

مجھے بیت‌ایل میں خدمت کرنا اچھا لگتا تھا کیونکہ مَیں اپنا پورا وقت اور توانائی یہوواہ خدا کو دے رہا تھا۔‏ لیکن بیت‌ایل میں زندگی ہمیشہ آسان نہیں ہوتی۔‏ مثال کے طور پر جب 1967ء میں پورٹو ریکو میں پہلی بار ہمارا بین‌الاقوامی اِجتماع منعقد ہوا تو میرے کندھوں پر بھاری ذمےداری تھی اور مجھے لگا کہ مَیں اِتنی بڑی ذمےداری پوری نہیں کر پاؤں گا۔‏ بھائی ناتھن نار جو اُس وقت یہوواہ کے گواہوں کے کام کی نگرانی کر رہے تھے،‏ اِجتماع کے لیے پورٹو ریکو آئے۔‏ مَیں نے مشنریوں کے لیے بسوں کا اِنتظام کِیا تھا لیکن بھائی نار کو لگا کہ مَیں نے ایسا نہیں کِیا اِس لیے بعد میں اُنہوں نے میری تنبیہ کی اور یہ بھی کہا کہ اُنہیں مجھ سے اِتنی لاپرواہی کی اُمید نہیں تھی۔‏ مَیں نے اُن سے بحث نہیں کی لیکن مجھے لگا کہ میرے ساتھ نااِنصافی ہوئی ہے اور مَیں کافی عرصے تک خفا رہا۔‏ مگر اگلی بار جب میری اور میکزین کی ملا‌قات بھائی نار سے ہوئی تو اُنہوں نے ہمیں اپنے کمرے میں بلا‌یا اور اپنے ہاتھوں سے ہمارے لیے کھانا پکا‌یا۔‏

 پورٹو ریکو میں رہتے وقت ہم اکثر میرے گھر والوں سے ملنے اِنگلینڈ جاتے تھے۔‏ جب امی اور مَیں نے بپتسمہ لیا تو اُس وقت ابو سچائی میں نہیں تھے۔‏ لیکن جب بھی بیت‌ایل سے بھائی امی کی کلیسیا میں تقریر دینے کے لیے آتے،‏ امی اُنہیں ہمارے گھر ٹھہراتیں۔‏ میرے ابو چرچ کے پادریوں سے تو ویسے ہی تنگ آ چُکے تھے۔‏ جب اُنہوں نے دیکھا کہ بیت‌ایل کے بھائی سربراہ ہونے کے باوجود اِتنے خاکسار ہیں تو وہ بہت متاثر ہوئے اور اُنہوں نے 1962ء میں یہوواہ کے گواہ کے طور پر بپتسمہ لے لیا۔‏

مَیں اور میکزین،‏ پورٹو ریکو میں شادی کے کچھ عرصے بعد اور 2003ء میں شادی کی 50ویں سالگرہ کے موقعے پر

سن 2011ء میں میری پیاری بیوی میکزین فوت ہو گئیں۔‏ مَیں اُس وقت کا بےتابی سے اِنتظار کر رہا ہوں جب وہ نئی دُنیا میں زندہ ہو جائیں گی۔‏ ہم نے 58 سال ایک ساتھ گزارے اور اِس دوران ہم نے دیکھا کہ پورٹو ریکو میں یہوواہ کے گواہوں کی تعداد 650 سے 26 ہزار تک پہنچ گئی۔‏ پھر 2013ء میں پورٹو ریکو برانچ کو ریاستہائے متحدہ امریکہ برانچ میں شامل کر دیا گیا اور مجھے وہاں کے بیت‌ایل میں خدمت کرنے کو کہا گیا۔‏ پورٹو ریکو میں 60 سال گزارنے کے بعد مجھے لگا کہ میں وہاں کی مٹی کا حصہ بن گیا ہوں۔‏ لیکن میری زندگی میں ایک نیا موڑ آ گیا تھا اور مَیں امریکہ چلا گیا۔‏

‏”‏خدا اُس شخص کو پسند کرتا ہے جو خوش‌دلی سے دیتا ہے“‏

مجھے ابھی بھی بیت‌ایل میں خدا کی خدمت کرنا بہت اچھا لگتا ہے۔‏  میری  عمر 90 سال سے زیادہ ہو گئی ہے اور مجھے یہ ذمےداری دی گئی ہے کہ مَیں بیت‌ایل کے بہن بھائیوں کی حوصلہ‌افزائی کروں۔‏ اِس سلسلے میں مَیں اب تک 600 سے زیادہ بہن بھائیوں سے ملا‌قات کر چُکا ہوں۔‏ کچھ بہن بھائی مجھ سے اپنے ذاتی معاملوں یا گھر کے مسئلوں پر بات کرنے آتے ہیں۔‏ کچھ اَور آ کر مجھ سے پوچھتے ہیں کہ بیت‌ایل میں خوشی سے خدمت کرنے کا راز کیا ہے۔‏ جن کی نئی نئی شادی ہوئی ہوتی ہے،‏ وہ ازدواجی زندگی کو کامیاب بنانے کے حوالے سے مجھ سے مشورہ مانگتے ہیں۔‏ مَیں اُن بہن بھائیوں کی ہمت بھی بڑھاتا ہوں جنہیں بیت‌ایل کو چھوڑ کر پہل‌کار کے طور پر خدمت کرنے کو کہا جاتا ہے۔‏ جو بھی میرے پاس آتا ہے،‏ مَیں اُس کی بات غور سے سنتا ہوں۔‏ مَیں بہن بھائیوں سے اکثر کہتا ہوں:‏ ”‏آپ جو کچھ کرتے ہیں،‏ اِسے خوش‌دلی سے کریں کیونکہ آپ یہ کام یہوواہ خدا کے لیے کر رہے ہیں۔‏“‏—‏2-‏کُر 9:‏7‏۔‏

بیت‌ایل میں خدمت کرتے وقت خوش رہنے کا راز یہ ہے کہ  ہم  ہمیشہ  یاد  رکھیں کہ جو کچھ بھی ہم کر رہے ہیں،‏ یہ بہت ہی اہم ہے،‏ یہاں تک کہ مُقدس خدمت ہے۔‏ ہماری خدمت کی وجہ سے ”‏وفادار اور سمجھ‌دار غلا‌م“‏ دُنیا بھر میں بہن بھائیوں کو روحانی کھانا فراہم کر رہا ہے۔‏ (‏متی 24:‏45‏)‏ چاہے ہم کہیں بھی یہوواہ خدا کی خدمت کریں،‏ ہمیں اُس کی بڑائی کرنے کے بہت سے موقعے ملتے ہیں۔‏ اِس لیے آئیں،‏ خوشی سے یہوواہ خدا کی خدمت کریں کیونکہ ”‏خدا اُس شخص کو پسند کرتا ہے جو خوش‌دلی سے دیتا ہے۔‏“‏