مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 آپ‌بیتی

ہم نے اچھی مثالوں پر عمل کِیا اور برکت پائی

ہم نے اچھی مثالوں پر عمل کِیا اور برکت پائی

ایک دن مجھے بھائی اِضحاق مورے کا فون آیا۔‏ اُنہوں نے مجھے ایک ایسے کام کی پیشکش کی جس پر مَیں نے اُن سے کہا:‏ ”‏کیا آپ جانتے ہیں کہ میری عمر کیا ہے؟‏“‏ بھائی اِضحاق نے جواب دیا:‏ ”‏جی مجھے معلوم ہے۔‏“‏ آئیں،‏ مَیں آپ کو اِس گفتگو کا پس‌منظر بتاتا ہوں۔‏

مَیں 10 دسمبر 1936ء کو پیدا ہوا۔‏ ہم چار بہن بھائی امی ابو کے ساتھ امریکہ کی ریاست کنساس کے شہر وِچیتا میں رہتے تھے۔‏ امی ابو بڑے جوش‌وجذبے سے یہوواہ خدا کی خدمت کرتے تھے اور ابو کلیسیا کی پیشوائی بھی کرتے تھے۔‏ امی نے میری نانی سے یہوواہ خدا کے بارے میں سیکھا تھا۔‏ نانی نے بہت سے لوگوں کو بائبل کی تعلیم دی۔‏ اِن میں سے ایک گرٹروڈ سٹیل تھیں جنہوں نے بعد میں کئی سالوں تک پورٹو ریکو میں مشنری کے طور پر خدمت کی۔‏ لہٰذا میری زندگی میں بہت سے ایسے لوگ تھے جنہوں نے میرے لیے اچھی مثال قائم کی۔‏

کچھ یادگار مثالیں

ابو سڑک کے کنارے کھڑے ہو کر راہ چلتے لوگوں کو رسالے پیش کر رہے ہیں۔‏

جب مَیں پانچ سال کا تھا تو ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو مَیں آج تک نہیں بھول پایا۔‏ یہ اُس وقت کی بات تھی جب امریکہ دوسری عالمی جنگ لڑ رہا تھا۔‏ ہفتے کی شام مَیں اپنے ابو کے ساتھ سڑک پر گزرتے لوگوں کو رسالہ مینارِنگہبانی اور کنسولیشن ‏(‏اب جاگو!‏‏)‏ پیش کر رہا تھا۔‏ وہاں سے ایک ڈاکٹر گزرا جو نشے میں دُھت تھا۔‏ ہمیں دیکھ کر وہ ابو کو گالیاں دینے لگا کیونکہ ابو نے فوج میں بھرتی ہونے سے اِنکا‌ر کر دیا تھا۔‏ ڈاکٹر نے ابو کے بالکل قریب آ کر کہا:‏ ”‏ابے بزدل،‏ مجھے مار!‏“‏ مَیں بہت ڈر گیا۔‏ لیکن ساتھ ہی ساتھ مجھے ابو پر فخر بھی محسوس ہوا کیونکہ اُنہوں نے ڈاکٹر کی بات کو نظرانداز کِیا اور اُن لوگوں کو رسالے پیش کرنے لگے جو تماشا دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے تھے۔‏ اِتنے میں وہاں سے ایک فوجی گزرا۔‏ اُسے دیکھ کر ڈاکٹر نے کہا:‏ ”‏ذرا آ کر اِس بزدل کو سبق سکھاؤ!‏“‏ فوجی نے دیکھ لیا کہ ڈاکٹر نے پی رکھی ہے اِس لیے اُس نے ڈاکٹر سے کہا:‏ ”‏گھر جاؤ اور نشہ اُتارو۔‏“‏ اِس کے بعد وہ دونوں وہاں سے چلے گئے۔‏ مَیں یہوواہ خدا کا شکر کرتا ہوں کہ اُس نے اِس صورتحال میں میرے ابو کو اِتنی دلیری بخشی۔‏ دراصل ہمارے شہر میں ابو کی نائی کی دو دُکانیں تھیں اور یہ ڈاکٹر اُن کا گاہک تھا۔‏

سن 1940ء کے لگ بھگ مَیں اور امی ابو،‏ ایک اِجتماع پر جاتے وقت

جب مَیں آٹھ سال کا تھا تو امی ابو نے اپنا گھر اور دُکانیں بیچ دیں اور ہم ریاست کولوراڈو منتقل ہو گئے کیونکہ وہاں پر مبشروں کی ضرورت تھی۔‏ امی ابو پہل‌کار تھے اور ہمارا خرچہ پورا کرنے کے لیے جُز وقتی طور پر کسی کے فارم پر کام کرتے تھے۔‏ یہوواہ نے اُن کی محنت پر برکت ڈالی اور وہاں ایک کلیسیا قائم ہو گئی۔‏ 20 جون 1948ء کو ابو نے مجھے ایک پہاڑی ندی میں بپتسمہ دیا۔‏ میرے ساتھ اَور بھی لوگوں نے بپتسمہ لیا،‏ مثلاً بلی نکولس اور اُن کی بیوی۔‏ بعد میں اِنہوں نے حلقے کے نگہبان کے طور پر خدمت کی اور اُن کے بیٹے اور اُس کی بیوی نے بھی یہ خدمت انجام دی۔‏

 ہمارے بہت سے قریبی دوست کُل‌وقتی طور پر یہوواہ خدا کی خدمت کر رہے تھے۔‏ اِن میں سٹیل خاندان بھی شامل تھا جس نے میری زندگی پر بہت اچھا اثر ڈالا۔‏ اِن سے مَیں نے سیکھا کہ جب ہم خدا کی بادشاہت کو اپنی زندگی میں پہلا درجہ دیتے ہیں تو ہماری زندگی بامقصد ہو جاتی ہے اور خوشیوں سے بھر جاتی ہے۔‏

پہل‌کار کے طور پر خدمت کا آغاز

جب مَیں 19 سال کا ہوا تو ہمارے خاندانی دوست بڈ ہاسٹی نے مجھے اپنے ساتھ پہل‌کار کے طور پر خدمت کرنے کو کہا۔‏ حلقے کے نگہبان نے ہمیں ریاست لوزیانا کے شہر رسٹن بھیج دیا جہاں کافی بہن بھائیوں نے یہوواہ کی خدمت کرنا چھوڑ دی تھی۔‏ حلقے کے نگہبان نے ہمیں ہدایت دی کہ ہم سارے اِجلا‌س منعقد کریں،‏ خواہ اِن پر کوئی آئے یا نہ آئے۔‏ رسٹن پہنچ کر ہمیں اِجلا‌سوں کے لیے ایک مناسب جگہ مل گئی۔‏ ہم باقاعدگی سے اِجلا‌س منعقد کرنے لگے لیکن کچھ عرصے کے لیے صرف ہم دونوں ہی اِن پر ہوتے تھے۔‏ ہم باری باری تقریریں پیش کرتے۔‏ جب ہم میں سے ایک تقریر دیتا تو دوسرا تبصرے دیتا۔‏ جب ہم کوئی منظر پیش کرتے تو ہم دونوں پلیٹ‌فارم پر ہوتے لیکن اِسے دیکھنے والا کوئی نہ ہوتا۔‏ آخرکار ایک عمررسیدہ بہن اِجلا‌سوں پر آنے لگی۔‏ پھر آہستہ آہستہ کچھ ایسے لوگ جنہیں ہم بائبل کورس کرا رہے تھے اور کچھ ایسے بہن بھائی جنہوں نے خدا کی خدمت کرنا چھوڑ دی تھی،‏ اِجلا‌سوں پر آنے لگے۔‏ یوں وہاں ایک کلیسیا قائم ہو گئی۔‏

ایک دن بڈ اور مَیں نے ایک پادری سے بات کی جس نے ایسی آیتوں کا ذکر کِیا جن کی مَیں وضاحت نہیں کر پایا۔‏ اِس پر مجھے احساس ہوا کہ مجھے گہرائی سے بائبل کا مطالعہ کرنا چاہیے۔‏ ایک ہفتے کے لیے مَیں رات گئے تک بائبل کا مطالعہ کرتا رہا تاکہ مَیں اُن تمام سوالوں کے جواب حاصل کر سکوں جو اُس پادری نے اُٹھائے تھے۔‏ اِس سے میرا ایمان زیادہ مضبوط ہو گیا اور مَیں آئندہ پادریوں سے بات کرنے کے لیے لیس ہو گیا۔‏

اِس کے تھوڑے عرصے بعد ہی حلقے کے نگہبان نے مجھے ریاست آرکنساس میں ایک کلیسیا کی مدد کرنے کے لیے بھیج دیا۔‏ وہاں سے مجھے اکثر کولوراڈو واپس جانا پڑتا تھا کیونکہ مجھے اُس کمیٹی کے سامنے حاضری دینی پڑتی تھی جو آدمیوں کو فوج میں بھرتی ہونے کے لیے چُنتی ہے۔‏ ایک بار جب مَیں کچھ اَور پہل‌کاروں کے ساتھ اپنی گاڑی میں کولوراڈو کا سفر کر رہا تھا تو ہمارے ساتھ ایک حادثہ ہوا جس میں میری گاڑی بالکل ناکارہ ہو گئی۔‏ اُس وقت ہم ریاست ٹیکساس سے گزر رہے تھے۔‏ ہم نے ایک بھائی کو فون کِیا جو آ کر ہمیں اپنے گھر لے گیا اور بعد میں اِجلا‌س پر بھی لے گیا۔‏ وہاں اُس نے بہن بھائیوں کو ہمارے حادثے کے بارے میں بتایا۔‏ یہ سُن کر بہن بھائیوں نے ہماری مالی مدد کی اور اُس بھائی نے میری گاڑی 25 ڈالر میں بیچ دی۔‏

ٹیکساس سے ایک شخص نے ہمیں شہر وِچیتا چھوڑ دیا۔‏ وہاں ہمارا ایک خاندانی دوست پہل‌کار کے طور پر خدمت کر رہا تھا جس کے جُڑواں بیٹے میرے بہت اچھے  دوست تھے بلکہ آج بھی ہیں۔‏ اُن کے پاس ایک پُرانی گاڑی تھی جو اُنہوں نے مجھے 25 ڈالر میں بیچ دی،‏ بالکل اُسی رقم میں جو مجھے اپنی ناکارہ گاڑی کے لیے ملی تھی۔‏ یہ پہلی بار تھا جب مجھے احساس ہوا کہ یہوواہ نے میری ایک مخصوص ضرورت پوری کی کیونکہ مَیں اُس کی بادشاہت کو اپنی زندگی میں پہلا درجہ دے رہا تھا۔‏ اِسی موقعے پر میری ملا‌قات ایک خوب‌صورت بہن سے ہوئی جس کا نام بیت‌ایل کرین تھا۔‏ بیت‌ایل کی امی روتھ ریاست کنساس میں پہل‌کار کے طور پر خدمت کر رہی تھیں۔‏ اُن میں اِتنا جوش تھا کہ اُنہوں نے 90 سال کی عمر کے بعد بھی اِس خدمت کو جاری رکھا۔‏ اِس ملا‌قات کے کچھ مہینوں بعد ہی بیت‌ایل اور مَیں نے شادی کر لی۔‏ یہ 1958ء کی بات تھی۔‏ اِس کے بعد ہم نے کچھ عرصے تک آرکنساس میں پہل‌کاروں کے طور پر خدمت کی۔‏

مشنری کے طور پر خدمت

ہم اُن بہن بھائیوں کی اچھی مثالوں پر عمل کرنا چاہتے تھے جو ہم نے بچپن میں دیکھی تھیں۔‏ اِس لیے ہم نے فیصلہ کِیا کہ ہم ہر وہ کام کرنے کے لیے تیار رہیں گے جو یہوواہ کی تنظیم ہمیں سونپے گی۔‏ پہلے تو ہم نے آرکنساس میں خصوصی پہل‌کاروں کے طور پر خدمت کی۔‏ پھر 1962ء میں ہمیں گلئیڈ سکول کی 37ویں کلاس میں تربیت حاصل کرنے کے لیے بلا‌یا گیا۔‏ جب ہم نے سنا کہ ہمارا دوست ڈان سٹیل بھی اِسی کلاس میں ہوگا تو ہم بہت خوش ہوئے۔‏ تربیت مکمل کرنے کے بعد ہمیں کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں خدمت کرنے کے لیے بھیج دیا گیا۔‏ نیو یارک سے روانہ ہوتے وقت ہم اُداس تھے لیکن جب ہم نیروبی کے ہوائی اڈے پر پہنچے تو یہ اُداسی خوشی میں بدل گئی کیونکہ ہمارے بھائی ہمیں لینے کے لیے آئے تھے۔‏

نیروبی میں کرِس اور میری کانائیا کے ساتھ مُنادی کرتے وقت

جلد ہی کینیا میں ہمارا دل لگ گیا اور ہمیں یہاں مُنادی کرنا بہت اچھا لگا۔‏ ہم نے جن لوگوں کو بائبل کورس کرایا،‏ اِن میں کرِس اور میری کانائیا وہ سب سے پہلے لوگ تھے جنہوں نے بپتسمہ لیا۔‏ یہ شادی‌شُدہ جوڑا آج تک کینیا میں کُل‌وقتی خدمت کر رہا ہے۔‏ ایک سال بعد ہمیں ملک یوگنڈا بھیج دیا گیا۔‏ ہم وہ پہلے مشنری تھے جو اِس ملک میں آئے۔‏ یہاں ہمیں مُنادی کرنے میں بہت مزہ آیا کیونکہ بہت سے لوگ بائبل کے بارے میں سیکھنے کا شوق رکھتے تھے اور ہمارے بہن بھائی بن گئے۔‏ لیکن افریقہ میں ساڑھے تین سال گزارنے کے بعد میری بیوی اُمید سے ہو گئیں اور ہم امریکہ لوٹ آئے۔‏ جس دن ہم افریقہ کو الوداع کہہ رہے تھے،‏ ہم بہت ہی اُداس تھے۔‏ افریقہ اور اِس کے باشندے ہمارے دل میں بس گئے تھے اور ہم ایک نہ ایک دن یہاں واپس آنا چاہتے تھے۔‏

بیٹیوں کی پرورش

ہم ریاست کولوراڈو کے اُس علا‌قے میں رہنے لگے جہاں میرے امی ابو رہتے تھے۔‏ کچھ مہینوں بعد ہماری بیٹی کمبرلی پیدا ہوئی اور اِس کے 17 مہینے بعد ہماری دوسری بیٹی سٹیفنی پیدا ہوئی۔‏ اب ہمارے کندھوں پر اِن بچیوں کی پرورش کرنے کی ذمےداری آ گئی تھی۔‏ ہم چاہتے تھے کہ اِن کے ننھے دلوں میں خدا اور اُس کے کلام کے لیے محبت پیدا ہو۔‏ اِس لیے ہم نے اُن عمدہ مثالوں پر عمل کرنے کا عزم کِیا جو دوسروں نے ہمارے لیے قائم کی تھیں۔‏ ہم جانتے تھے کہ اچھی مثالوں کو دیکھ کر بچوں پر اچھا اثر تو پڑتا ہے لیکن اِس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اِن مثالوں پر عمل بھی کریں گے۔‏ دراصل میرے چھوٹے بھائی اور بہن نے یہوواہ کی خدمت کرنا چھوڑ دی تھی۔‏ اُمید ہے کہ وہ اُن اچھی مثالوں کو یاد کریں جو اُن کے لیے قائم کی گئی تھیں اور پھر سے اِن پر عمل کرنے لگیں۔‏

ہمیں اپنی بیٹیوں کی پرورش کرنے میں بہت مزہ آیا۔‏ ہماری کوشش تھی کہ ہم اُن کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں۔‏ ہم پہاڑی علا‌قے میں رہتے تھے جہاں خوب برف پڑتی تھی۔‏ اِس لیے سردیوں میں ہم اکثر چیئر لفٹ کے ذریعے کسی پہاڑ کی چوٹی پر جاتے اور وہاں خوب‌صورت برفانی نظاروں سے لطف اُٹھاتے۔‏ یہ مل کر بات‌چیت کرنے کے اچھے موقعے ہوتے تھے۔‏ گرمیوں میں ہم اکثر کیمپنگ کرنے جاتے۔‏ رات کو دہکتی آگ کے گِرد بیٹھ کر ہمیں باتیں کرنے میں بہت مزہ آتا تھا۔‏ حالانکہ ہماری بیٹیاں ابھی چھوٹی تھیں لیکن اُن کے دل میں طرح طرح کے سوال  تھے جیسے کہ ”‏مَیں بڑی ہو کر کیا بنوں گی؟‏“‏ اور ”‏مجھے کس طرح کے شخص سے شادی کرنی چاہیے؟‏“‏ ہماری کوشش تھی کہ وہ پاک کلام کے اصولوں کی قدر کرنا سیکھیں۔‏ ہم نے اُن کی حوصلہ‌افزائی کی کہ وہ بڑے ہو کر کُل‌وقتی خدمت کریں اور صرف ایسے شخص سے شادی کریں جو کُل‌وقتی خدمت کرنے کا شوق رکھتا ہو۔‏ ہم نے اُنہیں یہ بھی سمجھایا کہ وہ شادی کرنے میں جلدی نہ کریں۔‏ ہمارا مقولہ تھا کہ ”‏23 سے پہلے شادی نہیں!‏“‏

ہم نے اپنے والدین کی مثال پر عمل کرتے ہوئے اپنے گھر میں بھی عبادت کا معمول قائم کِیا۔‏ ہم باقاعدگی سے اِجلا‌سوں پر جاتے اور مل کر مُنادی کے کام میں حصہ لیتے۔‏ وقتاًفوقتاً ہم اپنے گھر میں ایسے بہن بھائیوں کو ٹھہراتے جو کُل‌وقتی خدمت کر رہے تھے۔‏ ہم اکثر اپنی بیٹیوں کو اُس خوب‌صورت وقت کے بارے میں بتاتے جو ہم نے مشنریوں کے طور پر گزارا تھا۔‏ یوں اُن کے دل میں افریقہ جانے کا شوق پیدا ہوا۔‏ ہماری خواہش تھی کہ ایک دن ہم چاروں مل کر افریقہ جائیں۔‏

ہم باقاعدگی سے خاندانی عبادت کرتے تھے۔‏ اِس دوران ہم اکثر ایسی صورتحال کو ڈرامے کی شکل میں پیش کرتے جو سکول میں پیدا ہو سکتی تھیں۔‏ اِن ڈراموں میں ہماری بیٹیاں ایک گواہ کا کردار ادا کرتیں اور اپنے ہم‌جماعتوں یا ٹیچروں کو گواہی دیتیں۔‏ یوں اُنہوں نے کھیل ہی کھیل میں گواہی دینا سیکھ لیا اور اُن کا اِعتماد بھی بڑھ گیا۔‏ جب وہ تھوڑی بڑی ہوئیں تو کبھی کبھار وہ بڑبڑاتیں اور کہتیں کہ وہ خاندانی عبادت نہیں کرنا چاہتیں۔‏ ایک دن مَیں اِتنا تنگ آ گیا کہ مَیں نے اُن سے کہا کہ ”‏اپنے اپنے کمروں میں چلی جاؤ۔‏ آج ہم خاندانی عبادت نہیں کریں گے۔‏“‏ یہ سُن کر وہ رونے لگیں اور اُنہوں نے کہا کہ وہ خاندانی عبادت کرنا چاہتی ہیں۔‏ اِس واقعے سے ہمیں پتہ چلا کہ ہماری محنت رنگ لا رہی ہے اور اُن کے دل میں یہوواہ کے لیے محبت پیدا ہو رہی ہے۔‏ آہستہ آہستہ اُن میں خاندانی عبادت کرنے کا شوق بڑھتا گیا۔‏ ہم اُن کی حوصلہ‌افزائی کرتے تھے کہ وہ کُھل کر ہم سے بات کریں۔‏ سچ کہوں تو جب وہ کبھی کبھار ہم سے کہتی تھیں کہ وہ بائبل کی کسی تعلیم سے متفق نہیں ہیں تو ہمیں دُکھ ہوتا تھا۔‏ لیکن اِس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی پتہ چل جاتا تھا کہ اُن کے دل میں کیا ہے۔‏ پھر جب ہم اُنہیں بائبل سے دلیلیں دیتے تھے تو وہ مطمئن ہو جاتی تھیں اور یہوواہ کی سوچ کو اپنا لیتی تھیں۔‏

محنت کا صلہ

ہماری بیٹیاں پلک جھپکتے ہی بڑی ہو گئیں۔‏ خدا کی تنظیم کی مدد سے ہم نے اُن کے دل میں یہوواہ خدا کے لیے محبت ڈالنے کی بھرپور کوشش کی۔‏ ہم یہوواہ کے بڑے شکرگزار ہیں کہ ہماری دونوں بیٹیاں پڑھائی مکمل کرنے کے بعد پہل‌کار کے طور پر خدمت کرنے لگیں۔‏ اب وہ اپنے خرچے خود پورے کرنے کے قابل ہو گئی تھیں اِس لیے وہ دو اَور بہنوں کے ساتھ مل کر ایک ایسے علا‌قے میں منتقل ہو گئیں جہاں مبشروں کی ضرورت تھی۔‏ وہ ہمیں بہت یاد آتی تھیں۔‏ لیکن اِس کے ساتھ ساتھ ہم خوش بھی تھے کہ وہ کُل‌وقتی طور پر یہوواہ خدا کی خدمت کر رہی ہیں۔‏ بیٹیوں کے جانے کے بعد بیت‌ایل اور مَیں نے دوبارہ سے پہل‌کار کے طور پر خدمت کرنا شروع کِیا۔‏ اِس کے علا‌وہ مجھے وقتاًفوقتاً حلقے کے نگہبان کے طور پر خدمت کرنے کا شرف ملا اور ہم نے اِجتماعوں کے اِنتظام کے سلسلے میں بھی کام کِیا۔‏

نئے علا‌قے میں منتقل ہونے سے پہلے ہماری بیٹیوں نے اِنگلینڈ کی سیر کی اور وہاں کا بیت‌ایل بھی دیکھنے گئیں۔‏ وہاں سٹیفنی کی ملا‌قات پال نارٹن سے ہوئی۔‏ اُس وقت وہ 19 سال کی تھی۔‏ جب ہماری بیٹیاں دوبارہ اِنگلینڈ گئیں تو کمبرلی کی ملا‌قات پال کے ایک دوست سے ہوئی جو اُس کے ساتھ بیت‌ایل میں کام کرتا تھا۔‏ اُس کا نام برائن لُوایلن تھا۔‏ جب سٹیفنی 23 سال کی ہوئی تو اُس نے پال سے شادی کر لی۔‏ اِس کے ایک سال بعد کمبرلی نے برائن سے شادی کر لی۔‏ اُس وقت کمبرلی کی عمر 25 سال تھی۔‏ ہماری دونوں بیٹیوں نے ہمارے مقولے کے مطابق 23 سال سے پہلے شادی نہیں کی۔‏ ہم یہ دیکھ کر بہت خوش تھے کہ اُنہوں نے اپنے لیے اِتنے اچھے جیون ساتھی چُنے۔‏

سن 2002ء میں برائن اور کمبرلی،‏ سٹیفنی اور پال ہمارے ساتھ ملا‌وی برانچ میں

ہماری بیٹیوں نے ہمیں بتایا کہ ہم نے اُن کے لیے جو مثال قائم کی،‏ اُس کی مدد سے وہ اُس وقت بھی ’‏خدا کی بادشاہت کو اپنی زندگی میں پہلا درجہ‘‏ دے پائیں جب اُنہیں مالی مشکلا‌ت کا سامنا تھا۔‏ (‏متی 6:‏33‏)‏ اپریل 1998ء میں پال اور سٹیفنی کو گلئیڈ سکول کی 105ویں کلاس میں تربیت حاصل کرنے کے لیے بلا‌یا گیا۔‏ سکول مکمل ہونے کے بعد اُنہیں افریقہ کے ملک ملا‌وی میں خدمت کرنے کے لیے بھیج دیا گیا۔‏ اِس دوران برائن اور کمبرلی کو لندن کے بیت‌ایل میں بلا‌یا گیا اور بعد میں ملا‌وی کے بیت‌ایل میں خدمت کرنے کے لیے بھیج دیا گیا۔‏ ہم بہت خوش تھے کیونکہ ہماری دونوں بیٹیوں نے اپنے لیے زندگی کی بہترین راہ چُنی تھی۔‏

ایک خاص شرف

جنوری 2001ء میں بھائی اِضحاق مورے سے فون پر میری وہ گفتگو ہوئی جس کا مَیں پہلے ذکر کر چُکا ہوں۔‏ بھائی اِضحاق ترجمے کے کام کی نگرانی کرنے والے شعبے کے نگران تھے۔‏ اُنہوں نے مجھے بتایا کہ ترجمہ‌نگا‌روں کے لیے ایک ایسا کورس تیار کِیا جا رہا ہے جس کی مدد سے وہ انگریزی زبان بہتر طور پر سمجھنے کے قابل ہوں گے۔‏ بھائی اِضحاق چاہتے تھے کہ مَیں بھی یہ کورس کرانے کی تربیت حاصل کروں حالانکہ اُس وقت میری عمر 64 سال تھی۔‏ مَیں نے بیت‌ایل کے ساتھ مل کر اِس پیشکش کے بارے میں  دُعا کی۔‏ ہم جانتے تھے کہ اِس کورس کے سلسلے میں ہمیں مختلف ملکوں میں جانا پڑے گا اِس لیے ہم نے اپنی اپنی ماؤں سے مشورہ لیا۔‏ وہ دونوں بہت ہی ضعیف تھیں لیکن پھر بھی وہ چاہتی تھیں کہ ہم اِس شرف کو ہاتھ سے جانے نہ دیں۔‏ اِس پر مَیں نے بھائی اِضحاق کو فون کر کے اُن کی پیشکش قبول کر لی۔‏

اِسی دوران ڈاکٹر نے امی کو بتایا کہ اُنہیں کینسر ہے۔‏ یہ سُن کر مَیں نے امی سے کہا کہ ہم کورس پر نہیں جائیں گے۔‏ ہمارا اِرادہ تھا کہ ہم یہاں رہ کر میری بہن لنڈا کے ساتھ امی کی تیمارداری کریں۔‏ لیکن امی نے کہا:‏ ”‏ایسا کرنے کا سوچنا بھی مت۔‏ اگر تُم نہیں جاؤ گے تو مجھے بہت دُکھ ہوگا۔‏“‏ لنڈا بھی امی کی بات سے متفق تھیں۔‏ اُس علا‌قے میں رہنے والے بہن بھائیوں نے امی کی تیمارداری کرنے میں لنڈا کا ساتھ دیا جس کے لیے ہم اِن سب کے بہت شکرگزار ہیں۔‏ جس دن ہم تربیت پانے کے لیے شہر پیٹرسن گئے،‏ اُس کے ایک دن بعد لنڈا نے ہمیں فون کر کے بتایا کہ امی فوت ہو گئی ہیں۔‏ امی کی خواہش تھی کہ ہم دل لگا کر اپنی نئی ذمےداری کو نبھائیں اور ہم نے ایسا ہی کِیا۔‏

تربیت حاصل کرنے کے بعد ہمیں سب سے پہلے ملا‌وی کے بیت‌ایل بھیجا گیا۔‏ ہم بہت خوش تھے کیونکہ وہاں ہماری بیٹیاں اور داماد بھی خدمت کر رہے تھے۔‏ ہمیں اِتنے عرصے کے بعد اِن کے ساتھ مل بیٹھنا بہت اچھا لگا۔‏ اِس کے بعد ہم زمبابوے اور پھر زمبیا میں ترجمہ‌نگا‌روں کو کورس کرانے گئے۔‏ ساڑھے تین سال بعد ہمیں دوبارہ سے ملا‌وی بھیجا گیا۔‏ وہاں ہمیں اُن بہن بھائیوں کے تجربوں کو لکھنے کا کام دیا گیا جنہیں اِس وجہ سے سخت اذیت پہنچائی گئی تھی کیونکہ اُنہوں نے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے اِنکا‌ر کِیا تھا۔‏ *

اپنی نواسیوں کے ساتھ مُنادی کرتے وقت

سن 2005ء میں ہم کولوراڈو لوٹ آئے جہاں ہم دوبارہ سے پہل‌کاروں کے طور پر خدمت کرنے لگے۔‏ پھر 2006ء میں برائن اور کمبرلی اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ ہمارے ساتھ والے گھر میں شفٹ ہو گئے۔‏ پال اور سٹیفنی ابھی تک ملا‌وی میں ہیں اور پال برانچ کی کمیٹی کے رُکن ہیں۔‏ مَیں 80 سال کا ہونے والا ہوں اور مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ جن جوان بھائیوں کو مَیں نے تربیت دی تھی،‏ اب وہ اُن ذمےداریوں کو پورا کر رہے ہیں جو کسی زمانے میں میرے کندھوں پر ہوتی تھیں۔‏ ہم نے اپنی زندگی میں بےتحاشا خوشیاں دیکھی ہیں اور اِس کے لیے ہم اُن لوگوں کے بہت شکرگزار ہیں جنہوں نے ہمارے بچپن میں ہمارے لیے اچھی مثال قائم کی۔‏ ہم نے اُن کی مثالوں پر عمل کرنے کی پوری کوشش کی تاکہ ہم اپنی بیٹیوں اور نواسیوں کے لیے بھی اچھی مثال قائم کر سکیں۔‏

^ پیراگراف 30 مثال کے طور پر 15 اپریل 2015ء کے مینارِنگہبانی کے صفحہ 14-‏18 پر بھائی ٹروفیم نسومبا کی آپ‌بیتی کو دیکھیں۔‏