مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

حقیقی آزادی کی راہ

حقیقی آزادی کی راہ

‏”‏اگر بیٹا آپ کو آزاد کرتا ہے تو آپ واقعی آزاد ہوں گے۔‏“‏‏—‏یوحنا 8:‏36‏۔‏

گیت:‏ 32،‏  52

1،‏ 2.‏ ‏(‏الف)‏ لوگ آزادی پانے کے لیے کیا کرتے ہیں؟‏ (‏ب)‏ جس طرح سے لوگ آزادی پانے کی کوشش کرتے ہیں،‏ اُس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟‏

آج‌کل دُنیا کے بہت سے حصوں میں برابری کے حقوق اور آزادی کا موضوع زیرِبحث ہے۔‏ بہت سے لوگ ظلم‌وستم،‏ تعصب اور غربت سے آزادی چاہتے ہیں۔‏ کئی لوگ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اُنہیں اپنی رائے کا اِظہار کرنے،‏ اپنی مرضی سے فیصلے کرنے اور جیسے جی چاہے زندگی گزارنے کی آزادی دی جائے۔‏ دراصل آزادی ایک ایسی چیز ہے جس کی ہر شخص خواہش رکھتا ہے۔‏

2 اِس آزادی کو پانے کے لیے لوگ احتجاج کرتے ہیں،‏ دھرنے دیتے ہیں اور اِنقلابی تحریکیں چلاتے ہیں۔‏ لیکن کیا ایسا کرنے سے اُن کا مقصد پورا ہو جاتا ہے؟‏ جی نہیں۔‏ عموماً اِس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگوں کو اَور زیادہ تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے،‏ یہاں تک کہ اپنی جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔‏ اِس سب کے پیشِ‌نظر بادشاہ سلیمان کی یہ بات بالکل سچ ثابت ہوتی ہے:‏ ”‏ایک شخص دوسرے پر حکومت کر کے اُس کو ضرر پہنچاتا ہے۔‏“‏—‏واعظ 8:‏9‏،‏ کیتھولک ترجمہ۔‏

3.‏ ہمیں حقیقی خوشی اور اِطمینان کیسے مل سکتا ہے؟‏

3 بائبل میں بتایا گیا ہے کہ حقیقی خوشی اور اِطمینان حاصل کرنے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے۔‏ یسوع مسیح  کے شاگرد یعقوب نے لکھا:‏ ”‏جو شخص اُس کامل شریعت کو دھیان سے دیکھتا ہے جو آزادی کی طرف لے جاتی ہے اور اِس پر چلتا رہتا ہے،‏ .‏ .‏ .‏ اُسے اپنے کاموں سے خوشی ملتی ہے۔‏“‏ (‏یعقوب 1:‏25‏)‏ یہ کامل شریعت یہوواہ کی طرف سے ہے اور وہی اِس بات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ ہم صحیح معنوں میں خوش اور مطمئن کیسے رہ سکتے ہیں۔‏ یہوواہ نے آدم اور حوا کو ہر وہ چیز دی تھی جس سے اُنہیں خوشی مل سکتی تھی اور اِن چیزوں میں حقیقی آزادی بھی شامل تھی۔‏

جب اِنسانوں کو حقیقی آزادی حاصل تھی

4.‏ آدم اور حوا کو کیسی آزادی حاصل تھی؟‏ (‏اِس مضمون کی پہلی تصویر کو دیکھیں۔‏)‏

4 جب ہم پیدایش کی کتاب کے پہلے اور دوسرے باب کو پڑھتے ہیں تو ہم سیکھتے ہیں کہ یہوواہ نے آدم اور حوا کو وہ آزادی بخشی تھی جس کے لوگ آج صرف خواب دیکھتے ہیں۔‏ اُن کے پاس ضرورت کی ہر چیز تھی؛‏ اُنہیں کسی قسم کا خوف نہیں تھا اور نہ ہی اُنہیں کسی طرح کی نااِنصافی کا سامنا تھا۔‏ وہ اِس حوالے سے فکرمند نہیں تھے کہ اپنا پیٹ کیسے پالیں گے اور اِس کے لیے کون سا کام کریں گے۔‏ وہ اِس پریشانی سے بھی آزاد تھے کہ اُنہیں بیماری یا موت کا سامنا کرنا پڑے گا۔‏ (‏پیدایش 1:‏27-‏29؛‏ 2:‏8،‏ 9،‏ 15‏)‏ لیکن کیا اِس کا یہ مطلب تھا کہ آدم اور حوا کی آزادی پر کوئی حدیں نہیں لگی تھیں؟‏ آئیں،‏ دیکھتے ہیں۔‏

5.‏ بہت سے لوگوں کے نظریے کے برعکس آزادی سے زندگی گزارنے کے لیے کیا ضروری ہے؟‏

5 بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ حقیقی آزادی کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی مرضی سے ہر کام کر سکیں پھر چاہے اُن کے کاموں کا نتیجہ کچھ بھی ہو۔‏ اِس حوالے سے ‏”‏دی ورلڈ بک اِنسائیکلوپیڈیا“‏ میں بتایا گیا ہے کہ آزادی ”‏وہ نعمت ہے جس کی بِنا پر ہم اپنی مرضی سے فیصلے کر سکتے ہیں اور اِن پر عمل کر سکتے ہیں۔‏“‏ ساتھ ہی ساتھ اِس میں یہ بھی بتایا گیا ہے:‏ ”‏قانونی نقطۂ‌نظر سے لوگوں کو آزادی دراصل اُس وقت ملتی ہے جب اُن پر کوئی ناجائز یا غیرضروری حدیں نہیں لگائی جاتیں۔‏“‏ اِس سے ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ کچھ حدیں جائز ہیں اور معاشرے میں یہ حدیں لگانا لازمی ہے تاکہ سب لوگ آزادی سے زندگی گزار سکیں۔‏ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ فیصلہ کرنے کا حق کس کو ہے کہ کون سی حدیں جائز اور ضروری ہیں؟‏

6.‏ ‏(‏الف)‏ صرف یہوواہ ہی وہ ہستی کیوں ہے جو لامحدود آزادی کا مالک ہے؟‏ (‏ب)‏ اِنسانوں کو کیسی آزادی حاصل ہے؟‏

6 ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ صرف یہوواہ ہی وہ ہستی ہے جو لامحدود آزادی کا مالک ہے۔‏ اِس کی کیا وجہ ہے؟‏ دراصل یہوواہ سب چیزوں کا خالق اور کائنات کا حاکمِ‌اعلیٰ ہے۔‏ (‏1-‏تیمُتھیُس 1:‏17؛‏ مکاشفہ 4:‏11‏)‏ بادشاہ داؤد نے بڑی خوب‌صورتی سے یہوواہ کی عظمت کو بیان کِیا۔‏ ‏(‏1-‏تواریخ 29:‏11،‏ 12 کو پڑھیں۔‏)‏ یہوواہ کے برعکس آسمان اور زمین کی تمام مخلوقات کی آزادی محدود ہے۔‏ وہ چاہتا ہے کہ ہم اِس بات کو تسلیم کریں کہ صرف اُسے ہی ہماری آزادی پر حدیں لگانے کا اِختیار ہے اور صرف وہی یہ فیصلہ کرنے کا حق رکھتا ہے کہ کون سی حدیں جائز اور ضروری ہیں۔‏ اصل میں یہوواہ نے شروع سے ہی اپنی مخلوق کی آزادی پر کچھ حدیں لگائی تھیں۔‏

7.‏ ہم فطری طور پر چند ایسے کون سے کام کرتے ہیں جن سے ہمیں خوشی ملتی ہے؟‏

7 اگرچہ آدم اور حوا کو کافی آزادی دی گئی تھی لیکن اُن کی آزادی پر کچھ حدیں بھی لگی تھیں۔‏ اِن میں سے کچھ حدیں ایسی تھیں جن کے وہ فطری طور پر پابند تھے۔‏ مثال کے طور پر اُنہیں زندہ رہنے کے لیے سانس لینی تھی،‏ کھانا کھانا تھا اور سونا تھا۔‏ کیا اِس کا یہ مطلب ہے کہ وہ آزاد نہیں تھے؟‏ جی نہیں۔‏ یہوواہ خدا نے اُنہیں اِس طرح بنایا تھا کہ یہ کام کرنے سے اُنہیں خوشی اور اِطمینان ملے۔‏ (‏زبور 104:‏14،‏ 15؛‏ واعظ 3:‏12،‏ 13‏)‏ کیا آپ کو تازہ ہوا میں سانس لینا،‏ اپنی پسند کے کھانے کھانا اور سکون کی نیند سونا اچھا نہیں لگتا؟‏ ہم یہ نہیں سوچتے کہ یہ کام کرنے سے ہماری آزادی چھن جاتی ہے۔‏ بِلاشُبہ آدم اور حوا بھی ایسا ہی محسوس کرتے ہوں گے۔‏

8.‏ خدا نے آدم اور حوا کو کون سا حکم دیا اور کیوں؟‏

 8 یہوواہ خدا نے آدم اور حوا کو ایک حکم دیا۔‏ اُس نے اُن سے کہا کہ وہ بچے پیدا کریں،‏ زمین کو بھر دیں اور اِس کی دیکھ‌بھال کریں۔‏ (‏پیدایش 1:‏28‏)‏ کیا یہ حکم دینے سے خدا نے آدم اور حوا کو آزادی سے محروم کر دیا تھا؟‏ ہرگز نہیں۔‏ اِس حکم کو ماننے سے آدم اور حوا کو یہ موقع ملنا تھا کہ وہ پوری زمین کو فردوس بنا دیں اور اِس پر اپنے بےعیب بچوں کے ساتھ مل کر ہمیشہ تک زندہ رہیں۔‏ یہی خدا کا مقصد تھا۔‏ (‏یسعیاہ 45:‏18‏)‏ آج لوگ خدا کے اِس حکم پر عمل کرنے کے پابند نہیں ہیں کہ وہ شادی کریں اور اولاد پیدا کریں۔‏ پھر بھی بہت سے لوگ شادی کرتے اور اولاد پیدا کرتے ہیں حالانکہ اُنہیں کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‏ (‏1-‏کُرنتھیوں 7:‏36-‏38‏)‏ لوگ دراصل ایسا اِس لیے کرتے ہیں کیونکہ اُنہیں یہ توقع ہوتی ہے کہ اِس طرح اُنہیں خوشی اور اِطمینان ملے گا۔‏ (‏زبور 127:‏3‏)‏ اِسی طرح اگر آدم اور حوا نے خدا کے حکم پر عمل کِیا ہوتا تو وہ ایک دوسرے کے ساتھ اور اپنی اولاد کے ساتھ ہمیشہ تک خوشی خوشی زندگی بسر کر سکتے تھے۔‏

اِنسانوں نے حقیقی آزادی کھو دی

9.‏ ہم کیوں کہہ سکتے ہیں کہ پیدایش 2:‏17 میں درج خدا کا حکم ناجائز یا غیرضروری نہیں تھا؟‏

9 یہوواہ خدا نے آدم اور حوا کو ایک اَور حکم بھی دیا اور اُنہیں بتایا کہ اِس حکم کی خلاف‌ورزی کرنے کا کیا نتیجہ نکلے گا۔‏ اُس نے کہا:‏ ”‏نیک‌وبد [‏یعنی اچھے اور بُرے]‏ کی پہچان کے درخت کا [‏پھل]‏ کبھی نہ کھانا کیونکہ جس روز تُو نے اُس میں سے کھایا تُو مرا۔‏“‏ (‏پیدایش 2:‏17‏)‏ کیا یہ حکم ناجائز یا غیرضروری تھا؟‏ کیا اِس حکم پر عمل کرنے سے آدم اور حوا کی آزادی ختم ہو جانی تھی؟‏ بالکل نہیں۔‏ بائبل کے بہت سے عالموں کا کہنا ہے کہ خدا کے اِس حکم سے اُس کی دانش‌مندی کا ثبوت ملتا ہے۔‏ مثال کے طور پر ایک عالم نے لکھا:‏ ”‏[‏پیدایش 2:‏16،‏ 17‏]‏ میں درج خدا کے حکم سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف وہی جانتا ہے کہ اِنسانوں کے لیے کیا اچھا .‏ .‏ .‏ ہے اور صرف وہی جانتا ہے کہ اُن کے لیے کیا اچھا .‏ .‏ .‏ نہیں ہے۔‏ اگر اِنسان اپنے لیے وہ چاہتے ہیں جو اچھا ہے تو اُنہیں خدا پر بھروسا رکھنا چاہیے اور اُس کی فرمانبرداری کرنی چاہیے۔‏ اگر وہ خدا کی نافرمانی کریں گے تو یہ فیصلہ اُن پر چھوڑ دیا جائے گا کہ کیا اچھا .‏ .‏ .‏ ہے اور کیا اچھا .‏ .‏ .‏ نہیں ہے۔‏“‏ بِلاشُبہ اِنسان اپنے بل‌بوتے پر اِس معاملے کے بارے میں صحیح فیصلہ کرنے کے قابل نہیں ہیں۔‏

آدم اور حوا کے فیصلے کا نتیجہ بہت بھیانک نکلا۔‏ (‏پیراگراف 9-‏12 کو دیکھیں۔‏)‏

10.‏ آدم اور حوا کی مثال سے یہ کیسے ظاہر ہوتا ہے کہ اپنی مرضی سے فیصلے کرنے کی آزادی اور اچھائی اور بُرائی کا معیار قائم کرنے کے حق میں فرق ہے؟‏

10 کچھ لوگ اِس بات پر اِعتراض کرتے ہیں کہ یہوواہ نے آدم کو یہ آزادی نہیں دی تھی کہ وہ جو دل چاہے،‏ وہ کریں۔‏ لیکن یہ لوگ اِس بات کو نہیں سمجھتے کہ اپنی مرضی سے فیصلے کرنے کی آزادی فرق بات ہے اور اچھائی اور بُرائی کا معیار قائم کرنے کا حق فرق بات ہے۔‏ آدم اور حوا کو یہ فیصلہ کرنے کی آزادی تھی کہ وہ خدا کی فرمانبرداری کریں گے یا نہیں۔‏ لیکن یہ فیصلہ کرنے کا حق صرف یہوواہ کو ہے کہ کیا اچھا ہے اور کیا بُرا۔‏ ”‏نیک‌وبد کی پہچان کا درخت“‏ اِسی حقیقت کی علامت تھا۔‏ (‏پیدایش 2:‏9‏)‏ آپ اِس بات سے اِتفاق کریں گے کہ ہمیں ہمیشہ یہ علم نہیں ہوتا کہ ہمارے فیصلوں کا نتیجہ اچھا نکلے گا یا بُرا۔‏ یہی وجہ ہے کہ اکثر جب لوگ فیصلے کرتے ہیں تو نتیجے کے طور پر اُنہیں مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‏ اُن کے اِرادے تو نیک ہوتے ہیں لیکن عیب‌دار ہونے کی وجہ اُن کے فیصلے اچھے ثابت نہیں ہوتے۔‏ (‏امثال 14:‏12‏)‏ جب یہوواہ نے آدم اور حوا کو نیک‌وبد کی پہچان کے درخت کا پھل کھانے سے منع کِیا تو اِس طرح اُس نے اُنہیں یہ سکھایا کہ حقیقی آزادی حاصل کرنے کے لیے اُنہیں اُس کی فرمانبرداری کرنی ہوگی۔‏ آدم اور حوا نے کیا فیصلہ کِیا؟‏

11،‏ 12.‏ آدم اور حوا کے فیصلے کا نتیجہ بھیانک کیوں نکلا؟‏ ایک مثال دیں۔‏

11 افسوس کی بات ہے کہ آدم اور حوا نے یہوواہ کی نافرمانی کرنے  کا فیصلہ کِیا۔‏ حوا شیطان کی اِس بات کو سچ مان بیٹھیں کہ ”‏تمہاری آنکھیں کُھل جائیں گی اور تُم خدا کی مانند نیک‌وبد کے جاننے والے بن جاؤ گے۔‏“‏ (‏پیدایش 3:‏5‏)‏ کیا اِس فیصلے سے آدم اور حوا کی آزادی بڑھ گئی جیسا شیطان نے کہا تھا؟‏ ایسا نہیں ہوا۔‏ وہ جلد ہی اِس بات کو سمجھ گئے کہ خدا کی رہنمائی کو ترک کرنے کے نتائج کتنے بھیانک نکلے ہیں۔‏ (‏پیدایش 3:‏16-‏19‏)‏ یہ نتائج اِس بات کا ثبوت تھے کہ یہوواہ نے اِنسانوں کو یہ فیصلہ کرنے کی آزادی نہیں دی تھی کہ کیا اچھا ہے اور کیا بُرا۔‏‏—‏امثال 20:‏24 کو فٹ‌نوٹ سے پڑھیں *‏؛‏ یرمیاہ 10:‏23 کو پڑھیں۔‏

12 اِس حوالے سے ذرا ایک پائلٹ کی مثال پر غور کریں جو جہاز اُڑا رہا ہے۔‏ جہاز کو اِس کی منزل تک صحیح سلامت پہنچانے کے لیے پائلٹ کو اِسے طےشُدہ راستے پر لے جانا ہوتا ہے۔‏ اُس کی مدد کے لیے جہاز میں مختلف آلات ہوتے ہیں جن کے ذریعے وہ یہ جان سکتا ہے کہ اُسے جہاز کو کس سمت میں لے کر جانا ہے۔‏ اِس کے علاوہ اُسے ہوائی اڈے پر موجود اُس عملے سے بھی رابطے میں رہنا ہوتا ہے جو اُسے پرواز کے سلسلے میں مختلف ہدایات دیتا ہے۔‏ لیکن اگر پائلٹ ہدایات کو نظرانداز کرتا ہے اور اپنی مرضی سے جہاز کو کسی بھی سمت میں اُڑانا شروع کر دیتا ہے تو اِس کا نتیجہ بہت بھیانک ہو سکتا ہے۔‏ آدم اور حوا بھی ایک ایسے ہی پائلٹ کی طرح تھے۔‏ وہ اپنی مرضی کرنا چاہتے تھے۔‏ اُنہوں نے خدا کی ہدایات کو رد کر دیا اور اِس کا نتیجہ بہت بھیانک نکلا۔‏ اُن کے فیصلے کی وجہ سے نہ صرف وہ خود عیب‌دار بن گئے اور مر گئے بلکہ اُن کی اولاد بھی گُناہ اور موت کی دَلدل میں دھنس گئی۔‏ (‏رومیوں 5:‏12‏)‏ اپنے لیے صحیح اور غلط کا معیار قائم کرنے کے چکر میں آدم اور حوا کو اَور آزادی نہیں ملی بلکہ اُنہوں نے اُس حقیقی آزادی کو بھی کھو دیا جو خدا نے اُنہیں بخشی تھی۔‏

 حقیقی آزادی کیسے حاصل کریں؟‏

13،‏ 14.‏ ہمیں کیا کرنا چاہیے تاکہ ہمیں حقیقی آزادی حاصل ہو؟‏

13 کچھ لوگ سوچتے ہیں کہ اگر اُنہیں ایسی آزادی مل جائے جس پر کوئی حد نہ لگی ہو تو اُن کی زندگی بن جائے گی۔‏ لیکن کیا یہ سچ ہے؟‏ اِس میں کوئی شک نہیں کہ آزادی کے بہت سے فائدے ہیں۔‏ لیکن ذرا سوچیں کہ اگر لوگوں کی آزادی پر حدیں نہ لگی ہوتیں تو دُنیا کیسی ہوتی؟‏ ‏”‏دی ورلڈ بک اِنسائیکلوپیڈیا“‏ میں لکھا ہے:‏ ”‏ہر منظم معاشرے میں موجود قوانین اِس لیے پیچیدہ ہوتے ہیں کیونکہ ایسے قوانین کی بدولت لوگوں کی آزادی کا تحفظ کِیا جاتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اِس آزادی پر حدیں بھی لگائی جاتی ہیں۔‏“‏ اِن دونوں باتوں کا ایک ساتھ خیال رکھنا آسان کام نہیں ہے۔‏ اِسی لیے اِنسانوں نے ڈھیروں ڈھیر قوانین بنائے ہیں اور اِن کی وضاحت کرنے اور اِنہیں نافذ کرنے کے لیے وکیلوں اور ججوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔‏

14 یسوع مسیح نے بتایا کہ ہم حقیقی آزادی کیسے حاصل کر سکتے ہیں۔‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏اگر آپ میری باتوں پر عمل کرتے رہیں گے تو آپ واقعی میرے شاگرد ہوں گے۔‏ اور آپ سچائی کو جان جائیں گے اور سچائی آپ کو آزاد کر دے گی۔‏“‏ (‏یوحنا 8:‏31،‏ 32‏)‏ لہٰذا حقیقی آزادی پانے کے لیے ہمیں دو کام کرنے کی ضرورت ہے۔‏ پہلا یہ کہ ہمیں اُس سچائی کو قبول کرنا چاہیے جو یسوع مسیح نے سکھائی ہے۔‏ اور دوسرا یہ کہ ہمیں یسوع کے شاگرد بننا چاہیے۔‏ لیکن یہ کام کرنے سے ہمیں کس چیز سے آزادی ملے گی؟‏ یسوع نے کہا:‏ ”‏جو شخص گُناہ کرتا ہے،‏ وہ گُناہ کا غلام ہے۔‏“‏ اُنہوں نے یہ بھی کہا:‏ ”‏اگر بیٹا آپ کو آزاد کرتا ہے تو آپ واقعی آزاد ہوں گے۔‏“‏—‏یوحنا 8:‏34،‏ 36‏۔‏

15.‏ ہم یہ کیوں کہہ سکتے ہیں کہ جب یسوع ہمیں آزاد کرتے ہیں تو ہم ”‏واقعی آزاد“‏ ہوتے ہیں؟‏

15 یسوع نے اپنے شاگردوں کو جو آزادی دینے کا وعدہ کِیا،‏ وہ اُس  آزادی سے کہیں افضل ہے جس کی آج لوگ تمنا کرتے ہیں۔‏ جب یسوع نے کہا کہ ”‏اگر بیٹا آپ کو آزاد کرتا ہے تو آپ واقعی آزاد ہوں گے“‏ تو وہ گُناہ کی غلامی سے آزادی کی بات کر رہے تھے۔‏ گُناہ کی غلامی بدترین غلامی ہے۔‏ لیکن ہم کس لحاظ سے گُناہ کے غلام ہیں؟‏ گُناہ کی وجہ سے ہم بُرے کام کرتے ہیں۔‏ گُناہ ہمیں صحیح کام کرنے اور جی جان سے خدا کی خدمت کرنے سے روکتا ہے۔‏ اِس کی وجہ سے ہمیں تکلیفوں،‏ مایوسیوں اور آخرکار موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‏ (‏رومیوں 6:‏23‏)‏ پولُس رسول نے اپنی اُس تکلیف کو بیان کِیا جو وہ گُناہ کے غلام ہونے کی وجہ سے محسوس کرتے تھے۔‏ ‏(‏رومیوں 7:‏21-‏25 کو پڑھیں۔‏)‏ جب ہم گُناہ کے چُنگل سے آزاد ہو جائیں گے تو تبھی ہم اُس حقیقی آزادی کو حاصل کر پائیں گے جسے آدم اور حوا نے کھو دیا تھا۔‏

16.‏ ہمیں حقیقی آزادی کیسے حاصل ہوگی؟‏

16 یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏اگر آپ میری باتوں پر عمل کرتے رہیں گے تو .‏ .‏ .‏ سچائی آپ کو آزاد کر دے گی۔‏“‏ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ یسوع ہمیں آزاد کریں تو ہمیں کچھ کام کرنے ہوں گے۔‏ یہ کون سے کام ہیں؟‏ چونکہ ہم نے خدا کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی ہے اِس لیے ہم اپنے لیے نہیں جیتے اور یسوع کے پیروکاروں کے طور پر اُن شرائط پر عمل کرتے ہیں جو اُنہوں نے قائم کی ہیں۔‏ (‏متی 16:‏24‏)‏ مستقبل میں جب ہم یسوع کی قربانی سے پوری طرح فائدہ حاصل کریں گے تو اُس وقت یسوع کے وعدے کے مطابق ہم واقعی آزاد ہوں گے۔‏

17.‏ ‏(‏الف)‏ ہم حقیقی خوشی اور اِطمینان کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟‏ (‏ب)‏ اگلے مضمون میں ہم کیا سیکھیں گے؟‏

17 حقیقی خوشی اور اِطمینان حاصل کرنے کے لیے ہمیں یسوع مسیح کی تعلیمات پر عمل کرنا چاہیے۔‏ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہم آخرکار گُناہ اور موت کی غلامی سے آزاد ہو جائیں گے۔‏ ‏(‏رومیوں 8:‏1،‏ 2،‏ 20،‏ 21 کو پڑھیں۔‏)‏ اگلے مضمون میں ہم سیکھیں گے کہ ہم اُس آزادی کا صحیح اِستعمال کیسے کر سکتے ہیں جو ہمیں ابھی حاصل ہے۔‏ یوں ہم ہمیشہ تک اپنے آسمانی باپ یہوواہ کی بڑائی کرنے کے قابل ہوں گے جو حقیقی آزادی کا سرچشمہ ہے۔‏

^ پیراگراف 11 امثال 20:‏24 ‏(‏کیتھولک ترجمہ)‏:‏ ‏”‏آدمی کے قدموں کی ہدایت [‏یہوواہ]‏ کی طرف سے ہے پس اِنسان اپنی راہ کو کس طرح سمجھ سکتا ہے؟‏“‏