مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 سرِورق کا موضوع | آپ کے لیے خدا کا بیش‌قیمت تحفہ

خدا کا تحفہ بیش‌قیمت کیوں ہے؟‏

خدا کا تحفہ بیش‌قیمت کیوں ہے؟‏

کیا آپ کو کبھی کوئی ایسا تحفہ ملا ہے جو آپ کی نظر میں بیش‌قیمت ہے؟‏ تحفے کی اہمیت کا اندازہ اِن چار باتوں سے لگا‌یا جا سکتا ہے:‏ (‏1)‏ یہ تحفہ کس نے دیا ہے؟‏ (‏2)‏ یہ تحفہ کیوں دیا گیا ہے؟‏ (‏3)‏ تحفہ دینے والے نے کون سی قربانی دی ہے؟‏ اور (‏4)‏ کیا اِس تحفے سے ہماری کوئی ضرورت پوری ہوتی ہے؟‏ جب ہم خدا کے بیش‌قیمت تحفے یعنی فدیے کے سلسلے میں اِن چار باتوں پر غور کرتے ہیں تو ہمارے دل میں اِس کے لیے قدر اَور بڑھ جاتی ہے۔‏

یہ تحفہ کس نے دیا ہے؟‏

کچھ تحفے اِس لیے بیش‌قیمت ہوتے ہیں کیونکہ یہ کسی ایسے شخص کی طرف سے دیے جاتے ہیں جو بہت بااِختیار ہوتا ہے یا جس کی ہم بہت عزت کرتے ہیں۔‏ کچھ تحفے شاید اِتنے مہنگے تو نہ ہوں لیکن وہ ہمارے لیے بہت خاص ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے کسی رشتےدار یا دوست کی طرف سے ہوتے ہیں۔‏ پچھلے مضمون میں ہم نے اُس تحفے کے بارے میں پڑھا جو رسل نے جورڈن کو دیا تھا۔‏ وہ تحفہ بھی اِتنا مہنگا نہیں تھا لیکن جورڈن کے لیے بہت خاص تھا۔‏ لیکن یہ باتیں فدیے پر کیسے لاگو ہوتی ہیں؟‏

پہلی بات تو یہ ہے کہ خدا کے کلام میں لکھا ہے کہ ”‏اُس نے اپنا اِکلوتا بیٹا دُنیا میں بھیجا تاکہ اُس کے ذریعے ہم زندگی حاصل کر سکیں۔‏“‏ (‏1-‏یوحنا 4:‏9‏)‏ اِس وجہ سے فدیہ ایک بیش‌قیمت تحفہ ہے۔‏ خدا سے زیادہ اِختیار کسی کے پاس بھی نہیں ہے۔‏ خدا کے ایک بندے نے اُس کے بارے میں یوں لکھا:‏ ”‏تُو ہی جس کا نام یہوؔواہ ہے تمام زمین پر بلندوبالا ہے۔‏“‏ (‏زبور 83:‏18‏)‏ بےشک خدا سے اعلیٰ ہستی کوئی اَور نہیں جو ہمیں اِتنا انمول تحفہ دے سکے۔‏

دوسری بات یہ ہے کہ خدا ”‏ہمارا باپ“‏ ہے۔‏ (‏یسعیاہ 63:‏16‏)‏ ہم ایسا کیوں کہہ سکتے ہیں؟‏ اِس لیے کہ اُس نے ہمیں زندگی دی ہے۔‏ اِس کے علا‌وہ وہ بالکل ویسے ہی ہمارا خیال رکھتا ہے جیسے ایک شفیق باپ اپنے بچوں کا خیال رکھتا ہے۔‏ قدیم زمانے میں خدا نے اپنے بندوں کو اِفرائیم کہہ کر مخاطب کِیا اور کہا:‏ ”‏کیا اؔفرائیم میرا پیارا بیٹا نہیں ہے؟‏ وہ فرزند جس میں مَیں مسرور ہوں؟‏ .‏ .‏ .‏ میرا دل اُس کے لیے بےتاب ہو جاتا ہے؛‏ اور اُس کے لیے شفقت سے بھر جاتا ہے۔‏“‏ (‏یرمیاہ 31:‏20‏،‏ نیو اُردو بائبل ورشن‏)‏ خدا آج بھی اپنے بندوں کے لیے ایسے ہی احساسات رکھتا ہے۔‏ وہ نہ صرف ہمارا خالق ہے بلکہ ہمارا باپ اور دوست بھی ہے۔‏ بِلا‌شُبہ یہ بات جان کر ہمارے دل میں اُس کے ہر تحفے کے لیے قدر بڑھ جاتی ہے۔‏

 یہ تحفہ کیوں دیا گیا ہے؟‏

کچھ تحفے اِس لیے بیش‌قیمت ہوتے ہیں کیونکہ یہ فرض سمجھ کر نہیں بلکہ سچی محبت کی بِنا پر دیے جاتے ہیں۔‏ جو شخص دل سے تحفہ دیتا ہے،‏ وہ اِس بات کی توقع نہیں کرتا کہ اُسے بدلے میں کچھ دیا جائے۔‏

خدا نے محبت کی بِنا پر یسوع مسیح کو ہماری خاطر قربان کِیا۔‏ پاک کلام میں لکھا ہے کہ ”‏خدا نے ہمارے لیے محبت اِس طرح ظاہر کی کہ اُس نے اپنا اِکلوتا بیٹا دُنیا میں بھیجا۔‏“‏ مگر خدا نے ایسا کیوں کِیا؟‏ ”‏تاکہ اُس کے ذریعے ہم زندگی حاصل کر سکیں۔‏“‏ (‏1-‏یوحنا 4:‏9‏)‏ کیا خدا کا فرض تھا کہ وہ ایسا کرے؟‏ جی نہیں۔‏ دراصل یسوع مسیح نے ہماری خاطر جو فدیہ ادا کِیا،‏ وہ خدا کی ”‏عظیم رحمت“‏ کا ثبوت ہے۔‏—‏رومیوں 3:‏24‏۔‏

فدیہ خدا کی ”‏عظیم رحمت“‏ کا ثبوت کیسے ہے؟‏ پاک کلام میں لکھا ہے:‏ ”‏خدا نے تو اپنی محبت کا ثبوت یوں دیا کہ جب ہم گُناہ‌گار ہی تھے تو مسیح ہمارے لیے مرا۔‏“‏ (‏رومیوں 5:‏8‏)‏ بےلوث محبت کی بِنا پر خدا نے گُناہ‌گار اور کمزور اِنسانوں کے لیے فدیے کا بندوبست کِیا۔‏ ہم نہ تو اِس محبت کے مستحق ہیں اور نہ ہی خدا کے احسان کا بدلہ اُتار سکتے ہیں۔‏ فدیے کی نعمت محبت کا اِتنا بڑا ثبوت ہے کہ تاریخ میں اِس کی کوئی اَور مثال نہیں ملتی۔‏

تحفہ دینے والے نے کون سی قربانی دی ہے؟‏

کچھ تحفے اِس لیے بیش‌قیمت ہوتے ہیں کیونکہ اِنہیں دینے کے لیے بڑی قربانی دی جاتی ہے۔‏ جب ایک شخص ہمیں اپنی کوئی بہت پیاری چیز دیتا ہے تو ہم اُس کی خاص طور پر قدر کرتے ہیں کیونکہ اِس کے لیے وہ بڑی قربانی دیتا ہے۔‏

خدا نے ”‏اپنا اِکلوتا بیٹا دے دیا۔‏“‏ (‏یوحنا 3:‏16‏)‏ اِس کا مطلب ہے کہ اُس نے اپنی سب سے پیاری چیز ہماری خاطر قربان کر دی۔‏ خدا نے بہت لمبے عرصے کے دوران کائنات کو بنایا اور اِس دوران یسوع مسیح نے اُس کے ساتھ کام کِیا اور اُنہیں اُس کی ”‏خوشنودی“‏ حاصل تھی۔‏ (‏امثال 8:‏30‏)‏ یسوع مسیح خدا کے ”‏عزیز بیٹے“‏ ہیں اور ”‏ہوبہو اَن‌دیکھے خدا کی طرح“‏ ہیں۔‏ (‏کُلسّیوں 1:‏13-‏15‏)‏ یہوواہ خدا اور یسوع مسیح کے درمیان اِتنی گہری محبت ہے کہ ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔‏

اِس کے باوجود خدا نے ”‏اپنے بیٹے کو ہمارے لیے اذیت سہنے دی۔‏“‏ (‏رومیوں 8:‏32‏)‏ یہوواہ خدا نے اپنی سب سے بیش‌قیمت چیز ہماری خاطر قربان کر دی۔‏ واقعی یہ ایک بہت بڑی قربانی تھی۔‏

کیا اِس تحفے سے ہماری کوئی ضرورت پوری ہوتی ہے؟‏

کچھ تحفے اِس لیے بیش‌قیمت ہوتے ہیں کیونکہ اُن سے ہماری کوئی ضرورت پوری ہوتی ہے۔‏ فرض کریں،‏ آپ کو کوئی بیماری ہے لیکن آپ علا‌ج کا خرچہ نہیں اُٹھا سکتے۔‏ لیکن پھر ایک شخص آپ کے علا‌ج کے لیے پیسے دیتا ہے اور یوں آپ کی جان بچ جاتی ہے۔‏ یقیناً آپ اُس شخص کے اِس تحفے کی بڑی قدر کریں گے۔‏

پاک کلام میں لکھا ہے کہ ”‏جیسے آدم کی وجہ سے تمام اِنسان مرتے ہیں،‏ بالکل ویسے ہی مسیح کی وجہ سے تمام مُردوں کو زندہ کِیا جائے گا۔‏“‏ (‏1-‏کُرنتھیوں 15:‏22‏)‏ آدم کی اولاد ہونے کی وجہ سے ہم سب ”‏مرتے“‏ ہیں۔‏ اِس لیے ہم اپنے بل‌بوتے پر نہ تو بیماری اور موت کی قید سے آزاد ہو سکتے ہیں،‏ نہ خدا کی قربت حاصل کر سکتے ہیں اور نہ ہی اُس کے سامنے صاف ضمیر رکھ سکتے ہیں۔‏ اِس کے علا‌وہ ادنیٰ اِنسانوں کے طور پر ہم نہ تو خود کو اور نہ ہی کسی اَور کو ”‏زندہ“‏ کر سکتے ہیں۔‏ پاک کلام میں لکھا ہے کہ ”‏اُن میں سے کوئی کسی طرح اپنے بھائی کا فدیہ نہیں دے سکتا نہ خدا کو اُس کا معاوضہ دے سکتا ہے (‏کیونکہ اُن کی جان کا فدیہ گراں‌بہا ہے۔‏ وہ ابد تک ادا نہ ہوگا)‏۔‏“‏ (‏زبور 49:‏7،‏ 8‏)‏ لہٰذا ہم میں سے کوئی بھی فدیہ نہیں دے سکتا تھا۔‏ اِس لیے ہمیں مدد کی اشد ضرورت تھی۔‏ اور اگر خدا ہماری مدد نہ کرتا تو ہم بالکل بےبس ہوتے۔‏

ایک لحاظ سے یہوواہ خدا نے ہمارے لیے ایک ایسے علا‌ج کی قیمت ادا کی ہے جو ہماری جان بچانے کے لیے ضروری ہے۔‏ اُس نے محبت کی بِنا پر فدیے کا بندوبست کِیا تاکہ یسوع مسیح کے ذریعے ہمیں ”‏زندہ“‏ کِیا جا سکے۔‏ ہم ایسا کیوں کہہ سکتے ہیں؟‏ کیونکہ پاک کلام کے مطابق ”‏یسوع کا خون ہمیں سب گُناہوں سے پاک کر دیتا ہے۔‏“‏ اِس کا مطلب ہے کہ یسوع مسیح کی قربانی پر ایمان لانے سے ہم گُناہوں کی معافی اور ہمیشہ کی زندگی حاصل  کر سکتے ہیں۔‏ (‏1-‏یوحنا 1:‏7؛‏ 5:‏13‏)‏ مگر فدیے کے ذریعے ہمارے اُن عزیزوں کو کیا فائدہ ہوگا جو فوت ہو چُکے ہیں؟‏ پاک کلام میں لکھا ہے کہ ”‏جس طرح ایک آدمی کے ذریعے لوگ مرتے ہیں اُسی طرح ایک آدمی [‏یعنی یسوع]‏ کے ذریعے مُردے زندہ ہوں گے۔‏“‏—‏1-‏کُرنتھیوں 15:‏21‏۔‏ *

اِس میں کوئی شک نہیں کہ یسوع مسیح کی قربانی ایک انمول تحفہ ہے۔‏ کوئی اَور تحفہ ایسا نہیں جو اِتنی عظیم ہستی کی طرف سے ہو اور جسے اِتنی محبت کی بِنا پر دیا گیا ہو۔‏ کسی بھی شخص نے تحفہ دینے کے لیے کبھی اِتنی بڑی قربانی نہیں دی جتنی یہوواہ خدا نے دی ہے۔‏ اور کوئی بھی تحفہ ایسا نہیں جو ہماری اِتنی بڑی ضرورت پوری کرے کہ ہمیں گُناہ اور موت کی قید سے رِہائی دِلائے۔‏ بِلا‌شُبہ فدیہ ایک ایسی نعمت ہے جس کی اہمیت لفظوں میں بیان نہیں کی جا سکتی۔‏

 

^ پیراگراف 19 اِس سلسلے میں مزید جاننے کے لیے کہ خدا مُردوں کو کیسے زندہ کرے گا،‏ کتاب ‏”‏پاک صحائف کی تعلیم حاصل کریں“‏ کے باب نمبر 7 کو دیکھیں۔‏ یہ کتاب یہوواہ کے گواہوں نے شائع کی ہے۔‏ آپ اِسے اِس ویب‌سائٹ سے ڈاؤن‌لوڈ کر سکتے ہیں:‏ www.jw.org