مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 پاک صحیفوں کی روشنی میں | شکرگزاری

شکرگزاری

شکرگزاری

تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جو شخص دوسروں کا شکرگزار ہوتا ہے،‏ اُسے جسمانی،‏ ذہنی اور جذباتی طور پر بہت فائدہ ہوتا ہے۔‏ اِس لیے ہر شخص کو دوسروں کا شکریہ ادا کرنے کی عادت اپنانی چاہیے۔‏

شکرگزار ہونے کے کیا فائدے ہیں؟‏

ڈاکٹروں کی رائے کیا ہے؟‏

ایک طبی رسالے کے مطابق ”‏شکرگزاری کا خوشی سے بہت گہرا تعلق ہے۔‏ شکرگزاری ہمیں مثبت سوچ رکھنے،‏ خوش‌گوار واقعات سے لطف اُٹھانے،‏ اپنی صحت کو بہتر بنانے،‏ مشکلا‌ت کا سامنا کرنے اور رشتوں کو مضبوط کرنے کے قابل بناتی ہے۔‏“‏‏—‏رسالہ ‏”‏ہارورڈ مینٹل ہیلتھ لیٹر۔‏“‏

پاک صحیفوں کی تعلیم:‏

پاک کلام میں ہماری حوصلہ‌افزائی کی گئی ہے کہ ہم اپنے اندر شکرگزاری کا جذبہ پیدا کریں۔‏ خدا کے بندے پولُس نے لکھا:‏ ”‏شکرگزاری کرتے رہیں۔‏“‏ اُنہوں نے شکرگزاری کرنے کے سلسلے میں ایک عمدہ مثال قائم کی۔‏ مثال کے طور پر جب لوگوں نے اُن کے پیغام کو قبول کِیا تو اُنہوں نے ”‏خدا کا شکر“‏ ادا کِیا۔‏ (‏کُلسّیوں 3:‏15؛‏ 1-‏تھسلُنیکیوں 2:‏13‏)‏ حقیقی خوشی صرف کبھی کبھار شکریہ کہنے سے نہیں بلکہ شکریہ کہنے کی عادت ڈالنے سے ملتی ہے۔‏ یوں ہمارے اندر غرور،‏ حسد اور نفرت جیسے احساسات پیدا نہیں ہوتے جو ہمیں لوگوں سے دُور کر سکتے ہیں اور خوشی سے محروم کر سکتے ہیں۔‏

خدا نے اِنسانوں کے کاموں کی قدر کرنے کے سلسلے میں ایک عمدہ مثال قائم کی ہے۔‏ عبرانیوں 6:‏10 میں لکھا ہے:‏ ”‏خدا بےاِنصاف نہیں ہے۔‏ وہ اُس محنت اور محبت کو نہیں بھولے گا جو آپ نے .‏ .‏ .‏ اُس کے نام کے لیے ظاہر کی ہے۔‏“‏ خدا کے نزدیک دوسروں کی قدر نہ کرنا بےاِنصافی ہے۔‏

‏”‏ہمیشہ خوش ہوں۔‏ ہر چیز کے لیے خدا کا شکر کریں۔‏“‏‏—‏1-‏تھسلُنیکیوں 5:‏16،‏ 18‏۔‏

 دوسروں کا شکریہ ادا کرنے سے اُن کے ساتھ ہمارے تعلقات کیسے بہتر ہوتے ہیں؟‏

آپ کا تجربہ کیا کہتا ہے؟‏

جب کوئی شخص ہمیں تحفہ دیتا ہے،‏ ہمارا حوصلہ بڑھاتا ہے یا ہماری مدد کرتا ہے تو اُس کا شکریہ ادا کرنے سے ہم اُسے یہ احساس دِلاتے ہیں کہ ہم اُس کی قدر کرتے ہیں۔‏ یہاں تک کہ اجنبی لوگوں کو بھی اُس وقت اچھا لگتا ہے جب کوئی شخص اُن کے کسی کام جیسے کہ دروازہ کھولنے کے لیے اُن کا شکریہ ادا کرتا ہے۔‏

پاک صحیفوں کی تعلیم:‏

یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏دیتے رہیں پھر لوگ آپ کو بھی دیں گے۔‏ وہ پیمانے کو دبا دبا کر اور ہلا ہلا کر اور اچھی طرح بھر کر آپ کی جھولی میں ڈالیں گے۔‏“‏ (‏لُوقا 6:‏38‏)‏ جنوبی بحراُلکا‌ہل کے جزیرے وانواٹو میں رہنے والی روز نامی لڑکی کی مثال پر غور کریں جو سُن نہیں سکتی۔‏

روز یہوواہ کے گواہوں کے اِجلا‌سوں میں جاتی تھیں لیکن اُنہیں زیادہ فائدہ نہیں ہوتا تھا کیونکہ نہ تو اُنہیں اور نہ ہی کلیسیا (‏یعنی جماعت)‏ میں کسی اَور کو اِشاروں کی زبان آتی تھی۔‏ پھر اِشاروں کی زبان جاننے والا ایک جوڑا اُس کلیسیا میں گیا۔‏ جب اُنہیں اِس مسئلے کا پتہ چلا تو اُنہوں نے اِشاروں کی زبان سکھانے کے لیے ایک کلاس شروع کی۔‏ اِس کے لیے روز اُن کی بہت شکرگزار تھیں۔‏ وہ کہتی ہیں:‏ ”‏مجھے بہت خوشی ہے کہ میرے اِتنے سارے دوست ہیں جو مجھ سے پیار کرتے ہیں۔‏“‏ وہ جوڑا اِس بات سے بےحد خوش ہے کہ روز اُن کی محنت کی قدر کرتی ہیں اور اب اِجلا‌سوں میں حصہ بھی لیتی ہیں۔‏ روز اُن لوگوں کی بھی بہت شکرگزار ہیں جنہوں نے اُن سے بات کرنے کے لیے اِشاروں کی زبان سیکھی ہے۔‏‏—‏اعمال 20:‏35‏۔‏

‏”‏جو شکرگذاری کی قربانی گذرانتا ہے وہ [‏خدا کی]‏ تمجید کرتا ہے۔‏“‏‏—‏زبور 50:‏23‏۔‏

آپ شکرگزاری کا جذبہ کیسے پیدا کر سکتے ہیں؟‏

پاک صحیفوں کی تعلیم:‏

ہمارے احساسات کا ہماری سوچ سے گہرا تعلق ہے۔‏ خدا کے بندے داؤد نے دُعا میں کہا:‏ ”‏مَیں تیرے سب کاموں پر غور کرتا ہوں اور تیری دست‌کاری پر دھیان کرتا ہوں۔‏“‏ (‏زبور 143:‏5‏)‏ داؤد خدا کے کاموں پر غور کرتے تھے اور یہ اُن کا معمول تھا۔‏ اِسی وجہ سے اُنہیں خدا کا شکر ادا کرنے کی ترغیب ملتی تھی۔‏‏—‏زبور 71:‏5،‏ 17‏۔‏

پاک کلام میں ہمیں مشورہ دیا گیا ہے:‏ ’‏اُن باتوں پر سوچ بچار کرتے رہیں جو سچی ہیں،‏ جو محبت کی ترغیب دیتی ہیں،‏ جن کو عمدہ خیال کِیا جاتا ہے،‏ جو اچھی ہیں اور جو قابلِ‌تعریف ہیں۔‏‘‏ (‏فِلپّیوں 4:‏8‏،‏ فٹ‌نوٹ)‏ اِصطلا‌ح ”‏سوچ بچار کرتے رہیں“‏ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمیں اِن باتوں پر باقاعدگی سے غور کرنا چاہیے۔‏ اِس طرح ہمارے اندر شکرگزاری کا جذبہ پیدا ہوگا۔‏

‏”‏مَیں تیری ساری صنعت پر دھیان کروں گا اور تیرے کاموں کو سوچوں گا۔‏“‏‏—‏زبور 77:‏12‏۔‏