مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 سوگواروں کے لیے غم سے نکلنے کا راستہ

غم پر قابو پانے کے طریقے—‏آپ ابھی کیا کر سکتے ہیں؟‏

غم پر قابو پانے کے طریقے—‏آپ ابھی کیا کر سکتے ہیں؟‏

اگر آپ کسی عزیز کی موت کے غم پر قابو پانے کے سلسلے میں معلومات تلاش کریں تو غالباً آپ کو لاکھوں مشورے ملیں گے۔‏ اِن میں کچھ زیادہ فائدہ‌مند ہوں گے اور کچھ کم۔‏ شاید اِس کی وجہ یہ ہو کہ ہر شخص فرق فرق طریقے سے غم کا اِظہار کرتا ہے جیسا کہ پچھلے مضمون میں بتایا گیا ہے۔‏ ہو سکتا ہے کہ جو مشورے ایک شخص کے کام آئیں،‏ وہ دوسرے کے لیے اِتنے عملی نہ ہوں۔‏

لیکن پھر بھی کچھ بنیادی مشورے ایسے ہیں جو بہت سے لوگوں کے لیے فائدہ‌مند ثابت ہوئے ہیں۔‏ غم پر قابو پانے کے سلسلے میں مشورے دینے والے ماہرین بھی اکثر اِن مشوروں پر عمل کرنے کو کہتے ہیں۔‏ یہ مشورے ایسے اصولوں کے مطابق ہیں جو ایک عرصے سے قابلِ‌بھروسا ثابت ہوئے ہیں اور جو دانش‌مندی سے پُر ایک قدیم کتاب یعنی بائبل میں پائے جاتے ہیں۔‏

1:‏ رشتےداروں اور دوستوں کی مدد قبول کریں

  • کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ غم پر قابو پانے کا سب سے اہم طریقہ ہے۔‏ لیکن شاید کبھی کبھار آپ تنہا رہنا چاہیں،‏ یہاں‌تک کہ آپ کو اُن لوگوں پر غصہ آئے جو آپ کی مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‏ اکثر لوگوں کے ساتھ ایسا ہوتا ہے۔‏

  • یہ نہ سوچیں کہ آپ کو ہر وقت دوسروں کے آس‌پاس رہنا ہوگا۔‏ لیکن اپنے آپ کو دوسروں سے بالکل الگ تھلگ بھی نہ کریں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں آپ کو اُن کی مدد کی ضرورت پڑے۔‏ نرمی سے اُنہیں بتائیں کہ آپ کو اِس وقت کیا چاہیے اور کیا نہیں۔‏

  • اپنی صورتحال کے مطابق فیصلہ کریں کہ آپ اکیلے کتنا وقت گزاریں گے اور دوسروں کے ساتھ کتنا۔‏

اصول:‏ ‏”‏دو ایک سے بہتر ہیں،‏ کیونکہ .‏ .‏ .‏ اگر ایک گِر جائے تو اُس کا ساتھی اُسے دوبارہ کھڑا کرے گا۔‏“‏—‏واعظ 4:‏9،‏ 10‏،‏ اُردو جیو ورشن۔‏

 2:‏ متوازن غذا کھائیں اور ورزش کے لیے وقت نکالیں

  • متوازن غذا اُس ذہنی دباؤ پر قابو پانے میں مدد کرے گی جو کسی عزیز کی موت کے نتیجے میں ہوتا ہے۔‏ مختلف طرح کے پھل،‏ سبزیاں اور پروٹین والی ایسی غذائیں کھائیں جن میں چکنائی کم ہو۔‏

  • زیادہ سے زیادہ پانی اور صحت‌بخش مشروبات اِستعمال کریں۔‏

  • اگر آپ کی بھوک کم ہو گئی ہے تو بار بار تھوڑی تھوڑی مقدار میں کھانا کھائیں۔‏ شاید آپ کو اپنے ڈاکٹر سے طاقت کی دوائیاں بھی لینی پڑیں۔‏ *

  • تیز تیز چہل‌قدمی یا دوسری ورزشوں سے منفی احساسات پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔‏ ورزش کے دوران شاید آپ کو اپنے عزیز کی موت سے ہونے والے نقصان کے بارے میں سوچنے کا وقت ملے یا پھر شاید آپ کا دھیان اِس سے ہٹ جائے۔‏

اصول:‏ ‏”‏کوئی شخص اپنے جسم سے نفرت نہیں کرتا بلکہ اِسے کھلاتا پلاتا ہے اور اِس کا خیال رکھتا ہے۔‏“‏—‏اِفسیوں 5:‏29‏،‏ نیو اِنگلش ٹرانسلیشن بائبل۔‏

3:‏ نیند پوری کریں

  • ویسے تو نیند پوری کرنا ہمیشہ اہم ہوتا ہے۔‏ لیکن اُن لوگوں کو خاص طور پر نیند پوری کرنی چاہیے جو کسی عزیز کی موت کے غم سے دوچار ہیں کیونکہ اِس غم کی وجہ سے وہ معمول سے زیادہ تھکاوٹ کا شکار ہو سکتے ہیں۔‏

  • کیفین والے مشروبات اور شراب کے اِستعمال کے سلسلے میں محتاط رہیں کیونکہ اِن کی وجہ سے نیند متاثر ہو سکتی ہے۔‏

اصول:‏ ‏”‏ایک مٹھی بھر آرام محنت اور ہوا کے تعاقب سے بھری ہوئی دو مٹھیوں سے بہتر ہے۔‏“‏—‏واعظ 4:‏6‏،‏ کیتھولک ترجمہ۔‏

 4:‏ لچک‌دار بنیں

  • اِس بات کو سمجھیں کہ ہر شخص فرق طریقے سے غم کا اِظہار کرتا ہے۔‏ لہٰذا آپ کو یہ دیکھنا ہوگا کہ آپ کے لیے غم پر قابو پانے کا کون سا مشورہ کارآمد ہوگا۔‏

  • بہت سے لوگوں کو لگتا ہے کہ دوسروں کے سامنے اپنے غم کا اِظہار کرنے سے اُنہیں اِس پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے جبکہ کچھ لوگ اپنے احساسات کو دبا کر رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔‏ اِس حوالے سے ماہرین کی رائے فرق فرق ہے کہ آیا اپنے احساسات کا اِظہار کرنا غم پر قابو پانے کے لیے لازمی ہے یا نہیں۔‏ اگر آپ کسی کو اپنے دل کا حال بتانا چاہتے ہیں لیکن ایسا کرنے سے ہچکچاتے ہیں تو شاید آپ اپنے کسی قریبی دوست کو آہستہ آہستہ کر کے اپنے احساسات کے بارے میں بتا سکتے ہیں۔‏

  • کچھ لوگوں نے دیکھا ہے کہ رونے سے دل کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے جبکہ کچھ لوگ کم رو کر بھی اپنے احساسات پر قابو پا لیتے ہیں۔‏

اصول:‏ ‏”‏ہر دل اپنی تلخی سے واقف ہوتا ہے۔‏“‏—‏امثال 14:‏10‏،‏ نیو اُردو بائبل ورشن۔‏

 5:‏ تباہ‌کُن عادتوں سے گریز کریں

  • کچھ سوگوار لوگ اپنے غم کو بُھلانے کے لیے شراب یا منشیات کا سہارا لیتے ہیں۔‏ غم سے فرار حاصل کرنے کا یہ راستہ تباہ‌کُن ثابت ہو سکتا ہے۔‏ اِس طریقے سے جو سکون حاصل ہوتا ہے،‏ وہ عارضی ہوتا ہے اور اِس کے بہت سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔‏ لہٰذا اپنی پریشانیوں میں سکون پانے کے لیے ایسے طریقے اپنائیں جو آپ کے لیے نقصان‌دہ نہ ہوں۔‏

اصول:‏ ‏”‏آئیں،‏ اپنے جسم .‏ .‏ .‏ کو ہر طرح کی ناپاکی سے پاک کریں۔‏“‏—‏2-‏کُرنتھیوں 7:‏1‏۔‏

6:‏ اپنا دھیان بٹائیں

  • بہت سے لوگوں نے دیکھا ہے کہ ہر وقت اپنے غم کے بارے میں سوچتے رہنے کی بجائے کچھ ایسے کاموں میں تھوڑا وقت گزارنا فائدہ‌مند ہوتا ہے جو غم سے توجہ ہٹانے میں اُن کی مدد کریں۔‏

  • شاید آپ کو نئے دوست بنانے،‏ پُرانی دوستیوں کو مضبوط کرنے،‏ کوئی ہنر سیکھنے یا تفریح کرنے سے وقتی طور پر سکون ملے۔‏

  • وقت کے ساتھ ساتھ آپ دیکھیں گے کہ آپ اُن کاموں میں زیادہ وقت گزارنے لگے ہیں جو آپ اپنے غم کو بُھلانے کے لیے کر رہے تھے۔‏ اور یہ غم کو بُھلانے کا ایک فطری طریقہ ہے۔‏

اصول:‏ ‏”‏ہر چیز کا .‏ .‏ .‏ ایک وقت ہے۔‏ رونے کا ایک وقت ہے اور ہنسنے کا ایک وقت ہے۔‏ غم کھانے کا ایک وقت ہے اور ناچنے کا ایک وقت ہے۔‏“‏—‏واعظ 3:‏1،‏ 4‏۔‏

 7:‏ معمول برقرار رکھیں

  • جتنی جلدی ممکن ہو،‏ اپنے روزمرہ کام شروع کر دیں۔‏

  • جب آپ سونے،‏ ملازمت اور دوسرے کاموں کے لیے ایک معمول برقرار رکھیں گے تو آپ کو احساس ہوگا کہ آپ زندگی کی طرف لوٹ رہے ہیں۔‏

  • خود کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھنے سے آپ کو تکلیف‌دہ احساسات پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔‏

اصول:‏ ‏”‏وہ شاذونادر ہی اپنی زندگی کے ایّام پر غوروفکر کرتا ہے کیونکہ خدا اُسے اُس کے دل کی خوشی میں مگن رکھتا ہے۔‏“‏—‏واعظ 5:‏20‏،‏ نیو اُردو بائبل ورشن۔‏

8:‏ بڑے بڑے فیصلے کرنے میں جلدبازی نہ کریں

  • بہت سے ایسے لوگ جو اپنے عزیز کی موت کے فوراً بعد بڑے بڑے فیصلے کرتے ہیں،‏ اُنہیں بعد میں پچھتاوا ہوتا ہے۔‏

  • اگر ممکن ہو تو گھر بدلنے،‏ کوئی دوسری نوکری کرنے یا اپنے فوت‌شُدہ عزیز کی ذاتی چیزوں کی چھانٹی کرنے جیسے بڑے فیصلے کرنے کے لیے کچھ وقت اِنتظار کریں۔‏

اصول:‏ ‏”‏محنتی شخص کے منصوبے نفع کا باعث ہیں،‏ لیکن جلدبازی غربت تک پہنچا دیتی ہے۔‏“‏—‏امثال 21:‏5‏،‏ اُردو جیو ورشن۔‏

 9:‏ اپنے عزیز کی یادوں کو زندہ رکھیں

  • بہت سے سوگوار لوگوں کو لگتا ہے کہ ایسے کام کرنا فائدہ‌مند ثابت ہوتا ہے جن سے اُن کے فوت‌شُدہ عزیز کی یاد تازہ رہے۔‏

  • شاید آپ کو اپنے عزیز کی تصویریں یا چیزیں جمع کرنے یا کسی ڈائری میں ایسے واقعات اور قصے لکھنے سے تسلی ملے جنہیں آپ یاد رکھنا چاہتے ہیں۔‏

  • ایسی چیزیں سنبھال کر رکھیں جن سے آپ کو اپنے عزیز کے ساتھ گزرے خوش‌گوار پَل یاد آئیں اور بعد میں اُنہیں اُس وقت نکال کر دیکھیں جب آپ سنبھل جائیں۔‏

اصول:‏ ‏”‏قدیم ایّام [‏یعنی گزرے دنوں]‏ کو یاد کرو۔‏“‏—‏اِستثنا 32:‏7‏۔‏

10:‏ باہر نکلیں

  • آپ چھٹی پر جانے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔‏

  • اگر آپ زیادہ دنوں کی چھٹی نہیں لے سکتے تو شاید آپ ایک دو دن کوئی ایسے کام کر سکتے ہیں جو آپ کو اچھے لگتے ہیں،‏ جیسے کہ چہل‌قدمی کرنا،‏ کسی پارک،‏ چڑیاگھر یا عجائب گھر وغیرہ میں گھومنے جانا۔‏

  • اپنے معمول سے ہٹ کر کوئی چھوٹا سا کام کرنا بھی اپنے غم پر قابو پانے میں آپ کی مدد کر سکتا ہے۔‏

اصول:‏ ‏”‏آئیں،‏ کسی سنسان جگہ چلیں تاکہ ہم اکیلے میں کچھ وقت گزار سکیں اور تھوڑا سا آرام کر سکیں۔‏“‏—‏مرقس 6:‏31‏۔‏

 11:‏ دوسروں کی مدد کریں

  • آپ دوسروں کی مدد کرنے میں جو وقت گزارتے ہیں،‏ اُس سے آپ کو بھی فائدہ ہو سکتا ہے۔‏

  • شروع میں آپ اُن لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں جو آپ کے عزیز کی موت سے متاثر ہوئے ہیں جیسے کہ آپ کے دوست یا رشتےدار وغیرہ جنہیں اپنا غم بانٹنے کے لیے کسی ساتھی کی ضرورت ہے۔‏

  • دوسروں کی مدد کرنے اور اُنہیں تسلی دینے سے آپ کو پھر سے خوشی اور یہ احساس مل سکتا ہے کہ آپ کی زندگی میں ابھی بھی ایک مقصد ہے۔‏ شاید آپ کو اِنہی چیزوں کی ضرورت ہو۔‏

اصول:‏ ‏”‏لینے کی نسبت دینے میں زیادہ خوشی ہے۔‏“‏—‏اعمال 20:‏35‏۔‏

12:‏ اپنی ترجیحات کا جائزہ لیں

  • غم سے گزرنے سے آپ کو یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ زندگی میں کون سی چیزیں واقعی اہم ہیں۔‏

  • اِس موقعے سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے یہ سوچیں کہ آپ اپنی زندگی کیسے گزار رہے ہیں۔‏

  • اپنی ترجیحات میں ضروری تبدیلیاں کریں۔‏

اصول:‏ ‏”‏ماتم کے گھر میں جانا ضیافت کے گھر میں داخل ہونے سے بہتر ہے کیونکہ سب لوگوں کا انجام یہی ہے اور جو زندہ ہے اپنے دل میں اِس پر سوچے گا۔‏“‏—‏واعظ 7:‏2‏۔‏

 حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی چیز مکمل طور پر آپ کے درد کو ختم نہیں کر سکتی۔‏ لیکن اپنے عزیزوں کو کھو دینے والے بہت سے لوگ اِس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ مثبت اِقدام جیسے کہ اِس مضمون میں بتائے گئے اِقدام اُٹھانے سے اُنہیں تسلی ملی۔‏ بِلاشُبہ یہ اُن طریقوں کی مکمل فہرست نہیں ہے جو غم پر قابو پانے کے لیے آزمائے جا سکتے ہیں۔‏ لیکن اگر آپ اِن میں سے چند تجاویز پر عمل کرنے کی کوشش کریں تو آپ دیکھ سکیں گے کہ آپ کو اپنے غم کی شدت کو کم کرنے میں کافی حد تک مدد ملے گی۔‏

^ پیراگراف 13 ‏”‏جاگو!‏“‏ کے ناشرین کوئی خاص علاج کروانے کا مشورہ نہیں دیتے۔‏