مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 سرِورق کا موضوع | کیا دُنیا کے حالات قابو سے باہر ہیں؟‏

حقائق پر ایک نظر

حقائق پر ایک نظر

اگر آپ ہر طرف سے بُری خبریں سُن سُن کر پریشان یا خوف‌زدہ ہیں تو آپ اکیلے نہیں ہیں۔‏ 2014ء میں امریکہ کے صدر باراک اوباما نے کہا کہ میڈیا کے ذریعے ملنے والی بُری خبروں کی وجہ سے بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ ”‏دُنیا کے حالات بڑی تیزی سے بدل رہے ہیں اور اِن پر قابو پانے والا کوئی نہیں ہے۔‏“‏

لیکن یہ بیان دینے کے کچھ دیر بعد ہی باراک اوباما نے بڑے یقین سے اُن منصوبوں کا ذکر کِیا جن پر عمل کر کے دُنیا کے مسائل کو حل کِیا جا سکتا ہے۔‏ اُنہوں نے حکومت کی طرف سے اُٹھائے جانے والے کچھ اِقدام کو ایک ”‏خوش‌خبری“‏ قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ وہ اِس حوالے سے بہت ”‏پُراعتماد“‏ اور ”‏پُراُمید“‏ ہیں۔‏ دوسرے لفظوں میں وہ یہ کہہ رہے تھے کہ اچھے لوگوں کی کوششوں سے دُنیا کے حالات پر قابو پایا جا سکتا ہے اور اِسے تباہی سے بچایا جا سکتا ہے۔‏

بہت سے لوگ باراک اوباما کی طرح پُراُمید ہیں۔‏ مثال کے طور پر کچھ لوگ سائنس پر بھروسا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کے میدان میں اِتنی زیادہ ترقی ہو جائے گی کہ دُنیا کے مسائل ختم ہو جائیں گے۔‏ ٹیکنالوجی کے ایک ماہر نے بڑے یقین سے یہ پیش‌گوئی کی کہ 2030ء تک ”‏ہماری ٹیکنالوجی ہزاروں گُنا بہتر ہو جائے گی اور 2045ء تک یہ لاکھوں گُنا بہتر ہو جائے گی۔‏“‏ اُس نے یہ بھی کہا:‏ ”‏ہم کامیاب ہو رہے ہیں۔‏ آج جتنی تیزی سے ہم پر مشکلات آ رہی ہیں،‏ ہم اُس سے کہیں زیادہ تیزی سے اِن کا حل نکال سکتے ہیں۔‏“‏

لیکن سوال یہ ہے کہ دُنیا کے حالات کس حد تک خراب ہیں؟‏ کیا ہم واقعی تباہی کی دہلیز پر کھڑے ہیں؟‏ اگرچہ کچھ حکمران اور سائنس‌دان لوگوں کو اچھے مستقبل کی اُمید دیتے ہیں لیکن پھر بھی بہت سے لوگ مستقبل کو لے کر پریشان ہیں۔‏ اِس کی کیا وجہ ہے؟‏

بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار۔‏ اقوامِ‌متحدہ اور دوسری تنظیموں نے جوہری ہتھیاروں کی روک‌تھام کے حوالے سے لاکھوں کوششیں کی ہیں لیکن وہ ناکام رہی ہیں۔‏ بہت سے سرکش حکمران ہتھیاروں کی روک‌تھام کے لیے بنائے گئے قوانین کی خلاف‌ورزی کرتے ہیں۔‏ اِس کے علاوہ جن ملکوں کے پاس جوہری ہتھیار ہیں،‏ وہ بڑی بےصبری سے پُرانے بموں کو بہتر بنا رہے ہیں اور ایسے نئے بم بھی بنا رہے ہیں جو نہایت خطرناک ہیں۔‏ اور ایسے ملک جن کے پاس پہلے جوہری صلاحیت نہیں تھی،‏ وہ بھی اب بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کے قابل ہیں۔‏

آج‌کل کی حکومتیں جوہری جنگ کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ لیس ہیں جس کی وجہ سے امن کے دَور میں بھی دُنیا میں رہنا خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔‏ ایک سائنسی رسالے میں بتایا گیا کہ ”‏ایسے خودکار مُہلک ہتھیار خاص طور پر پریشانی کا باعث ہیں جن میں یہ پروگرام ہوتا ہے کہ وہ اِنسانوں کی رہنمائی کے بغیر خود کسی کو ہلاک کرنے کا فیصلہ کریں۔‏“‏—‏رسالہ ‏”‏بلیٹن آف دی اٹامک سائنٹسٹس۔‏“‏

 طرح طرح کی بیماریاں۔‏ جہاں تک اچھی صحت کا تعلق ہے تو سائنس اِنسانوں کو بیماریوں سے مکمل طور پر نجات نہیں دِلا سکتی۔‏ ہائی بلڈپریشر،‏ موٹاپا،‏ فضائی آلودگی اور منشیات کا اِستعمال بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے بیماریوں کی شرح میں اِضافہ ہو رہا ہے۔‏ بہت سے لوگ کینسر،‏ دل کی بیماریوں اور شوگر جیسی بیماریوں کی وجہ سے موت کا شکار ہو رہے ہیں۔‏ کافی زیادہ لوگ دوسری بیماریوں جیسے کہ نفسیاتی بیماری کی وجہ سے معذور ہو گئے ہیں۔‏ اِس کے علاوہ پچھلے چند سالوں میں کچھ جان‌لیوا وباؤں جیسے کہ ایبولا وائرس اور زیکا وائرس نے بھی سر اُٹھایا ہے۔‏ لہٰذا یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اِنسان ابھی تک بیماریوں پر قابو نہیں پا سکے اور نہ ہی اِس کی کوئی اُمید نظر آتی ہے۔‏

ماحول پر اِنسانوں کا اثر۔‏ کارخانوں کی وجہ سے آب‌وہوا آلودہ ہو رہی ہے۔‏ ہر سال لاکھوں لوگ آلودہ ہوا میں سانس لینے کی وجہ سے موت کے مُنہ میں چلے جاتے ہیں۔‏

لوگ اور حکومتی اِدارے کچرا،‏ طبی اور زرعی فضلہ،‏ پلاسٹک اور دوسری چیزیں سمندر میں پھینک کر اِسے آلودہ کر رہے ہیں۔‏ ایک اِنسائیکلوپیڈیا کے مطابق ”‏یہ زہریلی چیزیں نہ صرف سمندری جانوروں اور پودوں کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ اُن اِنسانوں کو بھی جو متاثرہ سمندری جان‌داروں کو خوراک کے طور پر اِستعمال کرتے ہیں۔‏“‏‏—‏اِنسائیکلوپیڈیا آف میرین سائنس۔‏

اِس کے علاوہ صاف پانی کے ذخائر میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے۔‏ برطانیہ کے ایک سائنسی رسالے کے مصنف نے کہا کہ ”‏دُنیا کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے جس کی وجہ سے زمین کا چپہ چپہ متاثر ہوگا۔‏“‏ سیاست‌دان اِس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ پانی کی کمی کا مسئلہ اِنسانوں کا پیداکردہ ہے اور یہ ایک بہت بڑے خطرے کی گھنٹی ہے۔‏

اِنسانوں پر قدرتی طاقتوں کا اثر۔‏ آج قدرتی آفتوں کے نتیجے میں پہلے سے کہیں زیادہ لوگ ہلاک ہوتے ہیں یا پھر بُری طرح متاثر ہوتے ہیں۔‏ طوفانوں،‏ آندھیوں،‏ بگولوں،‏ سمندری طوفانوں اور زلزلوں کی وجہ سے تباہ‌کُن سیلاب آتے ہیں،‏ مٹی کے تودے گِرتے ہیں اور اَور بھی کافی نقصان ہوتا ہے۔‏ امریکی خلائی اِدارے ناسا کے مطابق اِس بات کا بہت اِمکان ہے کہ آگے چل کر ”‏طوفانوں اور گرمی کی شدت میں اِضافہ ہوگا اور سیلاب اور قحط کا سلسلہ اَور بھی شدید ہو جائے گا۔‏“‏ کیا قدرتی طاقتوں کی وجہ سے اِنسانوں کا وجود مٹ جائے گا؟‏

شاید آپ اَور بھی چیزوں کے بارے میں جانتے ہوں جن کی وجہ سے اِنسانوں کا وجود خطرے میں ہے۔‏ لیکن آپ کو مستقبل کے بارے میں اپنے سوالوں کے تسلی‌بخش جواب صرف دُنیا کے بُرے حالات پر غور کرنے سے نہیں ملیں گے۔‏ شاید کچھ لوگ کہیں کہ سیاست‌دانوں اور سائنس‌دانوں کے بیانات سے بھی مستقبل کے حوالے سے کوئی اُمید نہیں ملے گی۔‏ لیکن جیسے کہ پچھلے مضمون میں بتایا گیا تھا،‏ بہت سے لوگوں کو دُنیا کے حالات اور مستقبل کے بارے میں اپنے سوالوں کے تسلی‌بخش جواب ملے ہیں۔‏ کیا آپ جاننا چاہیں گے کہ اِن لوگوں کو یہ جواب کہاں سے ملے ہیں؟‏