یوحنا 9‏:1‏-‏41

  • پیدائشی اندھا دیکھنے لگتا ہے (‏1-‏12‏)‏

  • شفایافتہ اندھے آدمی سے فریسیوں کی پوچھ‌گچھ (‏13-‏34‏)‏

  • فریسیوں کا اندھاپن (‏35-‏41‏)‏

9  جب یسوع وہاں سے جا رہے تھے تو اُنہوں نے ایک آدمی کو دیکھا جو پیدائش سے اندھا تھا۔‏ 2  اُن کے شاگردوں نے اُن سے پوچھا:‏ ”‏ربّی،‏ یہ آدمی اندھا کیوں پیدا ہوا؟‏ کیا اِس نے گُناہ کِیا تھا یا اِس کے ماں باپ نے؟‏“‏ 3  یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏نہ تو اِس آدمی نے گُناہ کِیا تھا اور نہ ہی اِس کے ماں باپ نے بلکہ اِس کے ذریعے تو خدا کے کاموں کو ظاہر ہونا ہے۔‏ 4  جب تک دن ہے،‏ ہمیں اُس کے کام کرنے ہیں جس نے مجھے بھیجا ہے۔‏ رات آ رہی ہے جس میں کوئی شخص کام نہیں کر سکتا۔‏ 5  لیکن جب تک مَیں دُنیا میں ہوں،‏ مَیں دُنیا کی روشنی ہوں۔‏“‏ 6  یہ کہہ کر یسوع نے زمین پر تھوکا اور مٹی کا لیپ بنا کر اُس آدمی کی آنکھوں پر لگایا 7  اور اُس سے کہا:‏ ”‏جائیں،‏ سِلُوام کے تالاب میں اپنا مُنہ دھو لیں۔‏“‏ (‏سِلُوام کا ترجمہ ہے:‏ بھیجا گیا۔‏)‏ اُس آدمی نے جا کر اپنا مُنہ دھویا اور جب وہ واپس آیا تو وہ دیکھ سکتا تھا۔‏ 8  جب اُس آدمی کے جاننے والوں اور اُن لوگوں نے اُسے دیکھا جن کو پتہ تھا کہ وہ فقیر ہے تو اُنہوں نے کہا:‏ ”‏کیا یہ وہ آدمی نہیں جو بیٹھ کر بھیک مانگا کرتا تھا؟‏“‏ 9  کچھ لوگ کہہ رہے تھے:‏ ”‏ہاں،‏ یہ وہی ہے۔‏“‏ دوسرے کہہ رہے تھے:‏ ”‏نہیں،‏ اِس کی شکل اُس سے ملتی ہے۔‏“‏ لیکن وہ آدمی بار بار کہہ رہا تھا:‏ ”‏مَیں وہی ہوں۔‏“‏ 10  اِس پر لوگوں نے اُس سے پوچھا:‏ ”‏تو پھر تمہاری آنکھیں کیسے ٹھیک ہوئیں؟‏“‏ 11  اُس نے جواب دیا:‏ ”‏جس آدمی کا نام یسوع ہے،‏ اُس نے مٹی کا لیپ بنا کر میری آنکھوں پر لگایا اور کہا کہ جا کر سِلُوام میں اپنا مُنہ دھو لو۔‏ مَیں نے جا کر مُنہ دھویا اور مجھے دِکھائی دینے لگا۔‏“‏ 12  لوگوں نے اُس سے کہا:‏ ”‏وہ آدمی کہاں ہے؟‏“‏ اُس نے کہا:‏ ”‏مجھے نہیں پتہ۔‏“‏ 13  لوگ اُس کو فریسیوں کے پاس لے گئے۔‏ 14  اِتفاق سے جس دن یسوع نے لیپ بنا کر اُس کی آنکھوں کو ٹھیک کِیا،‏ وہ سبت کا دن تھا۔‏ 15  اِس لیے فریسی بھی اُس سے پوچھنے لگے کہ وہ کیسے ٹھیک ہو گیا۔‏ اُس نے جواب دیا:‏ ”‏اُس آدمی نے میری آنکھوں پر لیپ لگایا اور مَیں نے مُنہ دھویا اور ٹھیک ہو گیا۔‏“‏ 16  اِس پر کچھ فریسیوں نے کہا:‏ ”‏وہ خدا کی طرف سے نہیں آیا کیونکہ وہ سبت کے دن کو نہیں مناتا۔‏“‏ دوسروں نے کہا:‏ ”‏ایک گُناہ‌گار بھلا ایسے معجزے کیسے کر سکتا ہے؟‏“‏ لہٰذا اُن میں اِختلاف پیدا ہو گیا۔‏ 17  اُنہوں نے پھر سے اُس آدمی سے کہا:‏ ”‏اُس نے تمہاری آنکھوں کو ٹھیک کِیا ہے تو تمہارا اُس کے بارے میں کیا خیال ہے؟‏“‏ اُس نے جواب دیا:‏ ”‏وہ ایک نبی ہیں۔‏“‏ 18  لیکن یہودیوں کو اِس بات پر یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ آدمی اندھا تھا اور اب ٹھیک ہو گیا ہے۔‏ اِس لیے اُنہوں نے اُس کے ماں باپ کو بلوایا 19  اور اُن سے پوچھا:‏ ”‏کیا یہ تمہارا وہی بیٹا ہے جس کے بارے میں تُم کہتے ہو کہ یہ پیدائش سے اندھا تھا؟‏ تو اب اِس کی آنکھیں کیسے ٹھیک ہو گئیں؟‏“‏ 20  اُس کے ماں باپ نے جواب دیا:‏ ”‏ہاں،‏ یہ ہمارا بیٹا ہے اور پیدائش سے اندھا تھا۔‏ 21  لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ اِسے دِکھائی کیسے دینے لگا اور اِس کی آنکھیں کس نے ٹھیک کی ہیں۔‏ اِسی سے پوچھیں۔‏ یہ بالغ ہے اور خود جواب دے سکتا ہے۔‏“‏ 22  اُس کے ماں باپ نے یہ اِس لیے کہا کیونکہ وہ یہودیوں سے ڈرتے تھے۔‏ دراصل یہودیوں نے آپس میں طے کِیا تھا کہ اگر کوئی شخص اِقرار کرے کہ یسوع،‏ مسیح ہیں تو اُسے عبادت‌گاہ سے خارج کر دیا جائے گا۔‏ 23  اِسی لیے اُس کے ماں باپ نے کہا:‏ ”‏یہ بالغ ہے۔‏ اِسی سے پوچھیں۔‏“‏ 24  لہٰذا یہودیوں نے دوسری بار اُس آدمی کو بلایا اور اُس سے کہا:‏ ”‏خدا کو حاضروناظر جان کر سچ بولو۔‏ ہم جانتے ہیں کہ وہ آدمی گُناہ‌گار ہے۔‏“‏ 25  اُس نے جواب دیا:‏ ”‏مَیں یہ نہیں جانتا کہ وہ آدمی گُناہ‌گار ہے کہ نہیں۔‏ لیکن مَیں یہ ضرور جانتا ہوں کہ مَیں اندھا تھا مگر اب دیکھ سکتا ہوں۔‏“‏ 26  پھر اُنہوں نے اُس سے پوچھا:‏ ”‏اُس نے کس طرح تمہاری آنکھیں کھولی تھیں؟‏ اُس نے کیا کِیا تھا؟‏“‏ 27  اُس نے جواب دیا:‏ ”‏مَیں پہلے بھی آپ کو بتا چُکا ہوں لیکن آپ نے میری بات نہیں سنی۔‏ آپ دوبارہ سے ساری بات کیوں سننا چاہتے ہیں؟‏ کہیں آپ بھی تو اُس کے شاگرد نہیں بننا چاہتے؟‏“‏ 28  اِس پر اُنہوں نے مذاق اُڑاتے ہوئے کہا:‏ ”‏تُم ہوگے اُس کے شاگرد۔‏ ہم تو موسیٰ کے شاگرد ہیں۔‏ 29  ہم جانتے ہیں کہ خدا نے موسیٰ سے باتیں کیں لیکن جہاں تک اُس آدمی کا تعلق ہے،‏ ہمیں نہیں پتہ کہ اُسے کس نے بھیجا ہے۔‏“‏ 30  اُس نے کہا:‏ ”‏یہ تو بڑی عجیب بات ہے کہ آپ نہیں جانتے کہ اُسے کس نے بھیجا ہے حالانکہ اُس نے میری آنکھیں ٹھیک کی ہیں۔‏ 31  ہم جانتے ہیں کہ خدا گُناہ‌گاروں کی نہیں سنتا لیکن اگر کوئی شخص خدا سے ڈرتا ہے اور اُس کی مرضی پر چلتا ہے تو وہ اُس کی سنتا ہے۔‏ 32  آج تک کبھی یہ سننے میں نہیں آیا کہ کسی نے ایک پیدائشی اندھے کی آنکھیں ٹھیک کی ہوں۔‏ 33  اگر وہ آدمی خدا کی طرف سے نہیں آیا تو وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا۔‏“‏ 34  اِس پر یہودیوں نے کہا:‏ ”‏تُم خود تو پیدائش سے گُناہ‌گار ہو اور ہمیں سکھا رہے ہو؟‏“‏ پھر اُنہوں نے اُس کو عبادت‌گاہ سے نکال دیا۔‏ 35  یسوع کو خبر ملی کہ اُن لوگوں نے اُس آدمی کو نکال دیا ہے۔‏ جب وہ اُس سے ملے تو اُنہوں نے کہا:‏ ”‏کیا آپ اِنسان کے بیٹے* پر ایمان لے آئے ہیں؟‏“‏ 36  اُس نے جواب دیا:‏ ”‏جناب،‏ مجھے بتائیں کہ وہ کون ہے تاکہ مَیں اُس پر ایمان لاؤں؟‏“‏ 37  یسوع نے کہا:‏ ”‏آپ نے اُسے دیکھا ہے۔‏ دراصل وہ ابھی آپ سے بات کر رہا ہے۔‏“‏ 38  اُس آدمی نے کہا:‏ ”‏جی مالک،‏ مَیں اُس پر ایمان لاتا ہوں۔‏“‏ پھر اُس نے اُن کی تعظیم کی۔‏* 39  یسوع نے کہا:‏ ”‏مَیں اِسی لیے دُنیا میں آیا ہوں کہ لوگوں کی عدالت کی جائے تاکہ جو اندھے ہیں،‏ وہ دیکھ سکیں اور جو دیکھ سکتے ہیں،‏ وہ اندھے ہو جائیں۔‏“‏ 40  جب اُن فریسیوں نے جو اُن کے ساتھ تھے،‏ یہ سنا تو اُنہوں نے کہا:‏ ”‏تمہارے خیال میں کیا ہم اندھے ہیں؟‏“‏ 41  یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏اگر آپ اندھے ہوتے تو آپ کو قصوروار نہ ٹھہرایا جاتا۔‏ لیکن آپ تو کہہ رہے ہیں کہ ”‏ہم دیکھ سکتے ہیں“‏ اِس لیے آپ کا گُناہ معاف نہیں ہوگا۔‏“‏

فٹ‌ نوٹس

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏
یا ”‏اُن کے سامنے جھکا۔‏“‏