یوحنا 14‏:1‏-‏31

  • باپ کے پاس جانے کا واحد ذریعہ (‏1-‏14‏)‏

    • ‏”‏مَیں راستہ اور سچائی اور زندگی ہوں“‏ (‏6‏)‏

  • پاک روح بھیجنے کا وعدہ (‏15-‏31‏)‏

    • ‏”‏باپ مجھ سے بڑا ہے“‏ (‏28‏)‏

14  یسوع نے یہ بھی کہا:‏ ”‏اپنے دلوں کو پریشان نہ ہونے دیں۔‏ خدا پر ایمان ظاہر کریں۔‏ مجھ پر بھی ایمان ظاہر کریں۔‏ 2  میرے باپ کے گھر میں بہت جگہ ہے۔‏ اگر نہ ہوتی تو مَیں آپ کو بتا دیتا کیونکہ مَیں آپ کے لیے جگہ تیار کرنے جا رہا ہوں۔‏ 3  اور اگر مَیں آپ کے لیے جگہ تیار کرنے جا رہا ہوں تو مَیں دوبارہ آؤں گا اور آپ کو اپنے ساتھ اپنے گھر لے جاؤں گا تاکہ جہاں مَیں ہوں وہاں آپ بھی ہوں۔‏ 4  اور جہاں مَیں جا رہا ہوں،‏ وہاں کا راستہ آپ کو پتہ ہے۔‏“‏ 5  توما نے اُن سے کہا:‏ ”‏مالک،‏ ہم نہیں جانتے کہ آپ کہاں جا رہے ہیں۔‏ پھر ہمیں وہاں کا راستہ کیسے پتہ ہو سکتا ہے؟‏“‏ 6  یسوع نے کہا:‏ ”‏مَیں راستہ اور سچائی اور زندگی ہوں۔‏ لوگ صرف اور صرف میرے ذریعے باپ کے پاس جا سکتے ہیں۔‏ 7  اگر آپ لوگ مجھے جانتے تو میرے باپ کو بھی جانتے۔‏ اب سے آپ اُسے جانتے ہیں بلکہ آپ نے اُسے دیکھ لیا ہے۔‏“‏ 8  فِلپّس نے اُن سے کہا:‏ ”‏مالک،‏ باپ کو ہمیں دِکھائیں۔‏ ہمارے لیے یہ کافی ہوگا۔‏“‏ 9  یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏فِلپّس،‏ مَیں اِتنے عرصے سے آپ لوگوں کے ساتھ ہوں۔‏ کیا آپ ابھی تک مجھے نہیں جان پائے؟‏ جس نے مجھے دیکھا ہے،‏ اُس نے باپ کو بھی دیکھا ہے۔‏ تو پھر آپ یہ کیوں کہہ رہے ہیں کہ ”‏باپ کو ہمیں دِکھائیں“‏؟‏ 10  کیا آپ اِس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ مَیں باپ کے ساتھ متحد ہوں اور باپ میرے ساتھ متحد ہے؟‏ مَیں جو کہتا ہوں،‏ وہ اپنی طرف سے نہیں کہتا بلکہ میرا باپ جو میرے ساتھ متحد رہتا ہے،‏ میرے ذریعے اپنا کام کرتا ہے۔‏ 11  یقین کریں کہ مَیں باپ کے ساتھ متحد ہوں اور باپ میرے ساتھ متحد ہے یا پھر میرے کاموں کی وجہ سے میرا یقین کریں۔‏ 12  مَیں آپ سے بالکل سچ کہتا ہوں کہ جو کوئی مجھ پر ایمان ظاہر کرتا ہے،‏ وہ ویسے کام بھی کرے گا جیسے مَیں کرتا ہوں بلکہ وہ تو مجھ سے بھی بڑے کام کرے گا کیونکہ مَیں باپ کے پاس جا رہا ہوں۔‏ 13  اور آپ میرے نام سے جو کچھ بھی مانگیں گے،‏ مَیں آپ کو دوں گا تاکہ بیٹے کے ذریعے باپ کی بڑائی ہو۔‏ 14  اگر آپ میرے نام سے کچھ مانگیں گے تو مَیں آپ کو دوں گا۔‏ 15  اگر آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں تو آپ میرے حکموں پر عمل کریں گے۔‏ 16  مَیں باپ سے درخواست کروں گا اور وہ آپ کو ایک اَور مددگار* دے گا جو ہمیشہ آپ کے ساتھ رہے گا 17  یعنی سچائی کی روح جو اِس دُنیا کو نہیں مل سکتی کیونکہ دُنیا نہ تو اِسے دیکھتی ہے اور نہ ہی اِسے جانتی ہے۔‏ آپ اِسے جانتے ہیں کیونکہ یہ آپ کے ساتھ رہتی ہے اور آپ کے اندر ہے۔‏ 18  مَیں آپ کو اکیلا* نہیں چھوڑوں گا۔‏ مَیں آپ کے پاس آ رہا ہوں۔‏ 19  کچھ دیر کے بعد دُنیا مجھے نہیں دیکھے گی لیکن آپ مجھے دیکھیں گے کیونکہ مَیں زندہ ہوں اور آپ بھی زندہ ہوں گے۔‏ 20  اُس دن آپ جان جائیں گے کہ مَیں اپنے باپ کے ساتھ متحد ہوں اور آپ میرے ساتھ متحد ہیں اور مَیں آپ کے ساتھ متحد ہوں۔‏ 21  جو میرے حکموں کو قبول کرتا ہے اور اِن پر عمل کرتا ہے،‏ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔‏ اور جو مجھ سے محبت کرتا ہے،‏ میرا باپ اُس سے محبت کرے گا اور مَیں بھی اُس سے محبت کروں گا اور خود کو اُس پر ظاہر کروں گا۔‏“‏ 22  یہوداہ نے (‏یہ یہوداہ اِسکریوتی نہیں تھے)‏ اُن سے کہا:‏ ”‏مالک،‏ آپ خود کو صرف ہم پر ظاہر کیوں کرنا چاہتے ہیں،‏ دُنیا پر کیوں نہیں؟‏“‏ 23  یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏اگر کوئی مجھ سے محبت کرتا ہے تو وہ میرے حکموں پر عمل کرے گا اور میرا باپ اُس سے محبت کرے گا اور ہم اُس کے پاس جائیں گے اور ہم سب ساتھ رہیں گے۔‏ 24  جو مجھ سے محبت نہیں کرتا،‏ وہ میری باتوں پر عمل نہیں کرتا۔‏ جو باتیں آپ سُن رہے ہیں،‏ وہ میری نہیں بلکہ میرے باپ کی ہیں جس نے مجھے بھیجا ہے۔‏ 25  ابھی تو مَیں آپ کے ساتھ ہوں اور آپ سے یہ باتیں کہہ رہا ہوں۔‏ 26  لیکن مددگار یعنی پاک روح جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا،‏ آپ کو سب باتیں سکھائے گا اور آپ کو وہ باتیں یاد دِلائے گا جو مَیں نے آپ سے کہی ہیں۔‏ 27  مَیں آپ کو اِطمینان دے رہا ہوں اور اِسے آپ کے پاس چھوڑ رہا ہوں۔‏ مَیں آپ کو ویسا اِطمینان نہیں دے رہا جیسا یہ دُنیا دیتی ہے۔‏ اپنے دلوں کو خوف سے لرزنے یا پریشان نہ ہونے دیں۔‏ 28  مَیں نے آپ سے کہا تھا کہ ”‏مَیں جا رہا ہوں اور آپ کے پاس واپس آؤں گا۔‏“‏ اگر آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں تو آپ اِس بات پر خوش ہوں گے کہ مَیں باپ کے پاس جا رہا ہوں کیونکہ باپ مجھ سے بڑا ہے۔‏ 29  مَیں ابھی سے آپ کو اِن باتوں کے بارے میں بتا رہا ہوں تاکہ جب یہ ہوں تو آپ اِن پر یقین کر لیں۔‏ 30  اب مَیں آپ سے زیادہ باتیں نہیں کروں گا کیونکہ دُنیا کا حاکم آ رہا ہے لیکن مَیں اُس کی گِرفت سے باہر ہوں۔‏* 31  مَیں وہی کر رہا ہوں جو باپ نے مجھے کہا ہے تاکہ دُنیا جان لے کہ مَیں باپ سے محبت کرتا ہوں۔‏ آئیں،‏ یہاں سے چلیں۔‏

فٹ‌ نوٹس

یا ”‏تسلی دینے والا“‏
یا ”‏یتیم“‏
یا ”‏لیکن وہ مجھ پر حاوی نہیں ہو سکتا۔‏“‏