مکاشفہ 4‏:1‏-‏11

  • یوحنا رُویا میں یہوواہ کا تخت دیکھتے ہیں (‏1-‏11‏)‏

    • یہوواہ اپنے تخت پر بیٹھا ہے (‏2‏)‏

    • چوبیس بزرگ چوبیس تختوں پر (‏4‏)‏

    • چار جان‌دار (‏6‏)‏

4  اِس کے بعد مَیں نے دیکھا اور دیکھو!‏ آسمان پر ایک کُھلا ہوا دروازہ تھا اور پہلی آواز جو مجھ سے بات کرنے لگی،‏ وہ ایک نرسنگے* کی طرح تھی اور کہہ رہی تھی کہ ”‏اُوپر آئیں تاکہ مَیں آپ کو وہ باتیں دِکھاؤں جو ضرور ہوں گی۔‏“‏ 2  اِس کے فوراً بعد مَیں پاک روح کے اثر میں آ گیا اور دیکھو!‏ آسمان پر ایک تخت تھا اور اُس پر کوئی بیٹھا ہوا تھا۔‏ 3  اور جو تخت پر بیٹھا تھا،‏ وہ سنگِ‌یشب اور عقیقِ‌جگری کی طرح لگ رہا تھا اور تخت کے اِردگِرد ایک دھنک تھی جو دِکھنے میں زُمُرد جیسی تھی۔‏ 4  اُس تخت کے اِردگِرد 24 (‏چوبیس)‏ تخت تھے۔‏ اور مَیں نے دیکھا کہ اُن پر 24 بزرگ بیٹھے ہیں جنہوں نے سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے اور اُن کے سروں پر سونے کے تاج تھے۔‏ 5  اُس تخت سے بجلی نکل رہی تھی اور آوازیں اور گھن‌گرج سنائی دے رہی تھی۔‏ اُس کے سامنے سات بڑے چراغ جل رہے تھے جن کا مطلب خدا کی سات روحیں ہے۔‏ 6  اور اُس کے سامنے ایک تالاب جیسی چیز بھی تھی جو دِکھنے میں شیشے یا بِلور کی طرح تھی۔‏ اور درمیان میں تخت کے اِردگِرد چار جان‌دار تھے جن کے آگے پیچھے آنکھیں ہی آنکھیں تھیں۔‏ 7  پہلا جان‌دار شیر کی طرح تھا،‏ دوسرا جان‌دار بیل کی طرح تھا،‏ تیسرے جان‌دار کی شکل اِنسان جیسی تھی اور چوتھا جان‌دار اُڑتے ہوئے عقاب کی طرح تھا۔‏ 8  اُن چاروں جان‌داروں میں سے ہر ایک کے چھ پَر تھے جن کے اُوپر نیچے آنکھیں ہی آنکھیں تھیں۔‏ اور وہ دن رات لگاتار کہہ رہے تھے:‏ ”‏مُقدس،‏ مُقدس،‏ مُقدس ہے یہوواہ* خدا جو لامحدود قدرت کا مالک ہے اور جو تھا،‏ جو ہے اور جو آ رہا ہے۔‏“‏ 9  اور جب بھی جان‌دار اُس کی بڑائی اور عزت اور شکرگزاری کرتے ہیں جو تخت پر بیٹھا ہے اور جو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے زندہ ہے 10  تو 24 (‏چوبیس)‏ بزرگ اُس کے آگے جھکتے ہیں جو تخت پر بیٹھا ہے اور اُس کی عبادت کرتے ہیں جو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے زندہ ہے اور وہ اپنے تاج تخت کے سامنے ڈال دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ 11  ‏”‏اَے یہوواہ،‏* ہمارے خدا،‏ تُو عظمت اور عزت اور طاقت کے لائق ہے کیونکہ تُو نے سب چیزیں بنائی ہیں اور ساری چیزیں تیری مرضی سے وجود میں آئیں اور بنائی گئیں۔‏“‏

فٹ‌ نوٹس

یا ”‏باجے“‏
‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏
‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏