مکاشفہ 21‏:1‏-‏27

  • نیا آسمان اور نئی زمین (‏1-‏8‏)‏

    • موت نہ رہے گی (‏4‏)‏

    • مَیں سب کچھ نیا بنا رہا ہوں (‏5‏)‏

  • نئے یروشلیم کی خصوصیات (‏9-‏27‏)‏

21  اور مَیں نے ایک نئے آسمان اور نئی زمین کو دیکھا کیونکہ پہلا آسمان اور پہلی زمین مٹ گئے اور سمندر بھی نہیں رہا۔‏ 2  مَیں نے مُقدس شہر یعنی نئے یروشلیم کو بھی دیکھا جو آسمان سے،‏ ہاں،‏ خدا کی طرف سے نیچے آ رہا تھا اور ایک دُلہن کی طرح لگ رہا تھا جس نے اپنے دُلہے کے لیے سنگھار کِیا ہو۔‏ 3  اِس کے ساتھ ہی مَیں نے تخت سے ایک اُونچی آواز سنی جس نے کہا:‏ ”‏دیکھیں!‏ خدا کا خیمہ اِنسانوں کے درمیان ہے۔‏ وہ اُن کے ساتھ رہے گا اور وہ اُس کے بندے ہوں گے۔‏ اور خدا خود اُن کے ساتھ ہوگا۔‏ 4  اور وہ اُن کے سارے آنسو پونچھ دے گا اور نہ موت رہے گی،‏ نہ ماتم،‏ نہ رونا،‏ نہ درد۔‏ جو کچھ پہلے ہوتا تھا،‏ وہ سب ختم ہو گیا۔‏“‏ 5  اور جو تخت پر بیٹھا تھا،‏ اُس نے کہا:‏ ”‏دیکھیں!‏ مَیں سب کچھ نیا بنا رہا ہوں۔‏“‏ اُس نے یہ بھی کہا:‏ ‏”‏اِن باتوں کو لکھ لیں کیونکہ یہ قابلِ‌بھروسا اور سچی ہیں۔‏“‏ 6  پھر اُس نے مجھ سے کہا:‏ ”‏یہ باتیں پوری ہو چکی ہیں!‏ مَیں الفا اور اومیگا ہوں،‏* مَیں آغاز اور اِختتام ہوں۔‏ جو پیاسا ہے،‏ اُس کو مَیں زندگی کے پانی کے چشمے سے مُفت پلاؤں گا۔‏ 7  جو جیتے گا،‏ اُس کو یہ سب کچھ ورثے میں ملے گا اور مَیں اُس کا خدا ہوں گا اور وہ میرا بیٹا ہوگا۔‏ 8  لیکن جو لوگ بزدل ہیں اور جو خدا پر ایمان نہیں رکھتے اور جو اپنی گندی حرکتوں کی وجہ سے گھناؤنے ہیں اور جو قاتل ہیں اور جو حرام‌کار* ہیں اور جو جادوٹونا کرتے ہیں اور جو بُت‌پرست ہیں اور جو جھوٹ بولتے ہیں،‏ اُن کا انجام وہ جھیل ہوگی جو آگ اور گندھک سے جلتی ہے۔‏ اِس کا مطلب دوسری موت ہے۔‏“‏ 9  اور سات فرشتے جن کے پاس سات آخری آفتوں والے سات کٹورے تھے،‏ اُن میں سے ایک نے میرے پاس آ کر کہا:‏ ”‏آئیں،‏ مَیں آپ کو دُلہن یعنی میمنے کی ہونے والی بیوی دِکھاتا ہوں۔‏“‏ 10  پھر وہ مجھے روح کے اثر میں ایک بڑے اور اُونچے پہاڑ پر لے گیا اور مجھے مُقدس شہر یروشلیم دِکھایا جو آسمان سے،‏ ہاں،‏ خدا کی طرف سے نیچے آ رہا تھا۔‏ 11  اُس شہر میں خدا کی شان تھی۔‏ اُس کی چمک ایک بہت ہی قیمتی پتھر جیسی تھی یعنی سنگِ‌یشب جیسی جو بِلور کی طرح چمکتا ہے۔‏ 12  اُس کی دیوار بہت ہی بڑی اور اُونچی تھی۔‏ اُس کے 12 دروازے تھے جن پر 12 فرشتے کھڑے تھے۔‏ اُن دروازوں پر بنی‌اِسرائیل کے 12 قبیلوں کے نام لکھے تھے۔‏ 13  تین دروازے شہر کے مشرق میں تھے،‏ تین دروازے شمال میں تھے،‏ تین دروازے جنوب میں تھے اور تین دروازے مغرب میں تھے۔‏ 14  شہر کی دیوار کے 12 بنیادی پتھر تھے جن پر میمنے کے 12 رسولوں کے 12 نام لکھے تھے۔‏ 15  جو فرشتہ مجھ سے بات کر رہا تھا،‏ اُس نے ہاتھ میں سونے کا ایک بانس پکڑا ہوا تھا تاکہ اُس شہر اور اُس کے دروازوں اور اُس کی دیوار کو ناپے۔‏ 16  اور وہ شہر چوکور تھا اور اُس کی لمبائی اُس کی چوڑائی جتنی تھی۔‏ جب اُس نے شہر کو بانس سے ناپا تو اِس کی لمبائی اور چوڑائی اور اُونچائی برابر تھی یعنی 12 ہزار فرلانگ۔‏* 17  اُس نے شہر کی دیوار بھی ناپی اور یہ اِنسانی پیمانے کے مطابق 144 (‏ایک سو چوالیس)‏ ہاتھ* تھی اور فرشتے نے یہی پیمانہ اِستعمال کِیا۔‏ 18  یہ دیوار سنگِ‌یشب کی بنی ہوئی تھی اور شہر خالص سونے کا تھا اور دِکھنے میں شیشے کی طرح شفاف تھا۔‏ 19  شہر کی دیوار کی بنیادیں ہر طرح کے قیمتی پتھروں سے سجی ہوئی تھیں۔‏ پہلی بنیاد سنگِ‌یشب کی تھی،‏ دوسری نیلم کی تھی،‏ تیسری سنگِ‌یمانی کی تھی،‏ چوتھی زُمُرد کی تھی،‏ 20  پانچویں عقیقِ‌سلیمانی کی تھی،‏ چھٹی عقیقِ‌جگری کی تھی،‏ ساتویں زبرجد کی تھی،‏ آٹھویں بَرِیل کی تھی،‏ نویں یاقوتِ‌زرد کی تھی،‏ دسویں عقیقِ‌سبز کی تھی،‏ گیارہویں زرقون کی تھی اور بارہویں یاقوتِ‌ارغوانی کی تھی۔‏ 21  اور شہر کے 12 دروازے 12 موتی تھے۔‏ ہر دروازہ ایک موتی تھا۔‏ شہر کی مرکزی سڑک خالص سونے سے بنی تھی اور دِکھنے میں شیشے کی طرح شفاف تھی۔‏ 22  مجھے اُس میں کوئی ہیکل* دِکھائی نہیں دی کیونکہ یہوواہ* خدا جو لامحدود قدرت کا مالک ہے،‏ اُس کی ہیکل ہے اور میمنا بھی اُس کی ہیکل ہے۔‏ 23  اور شہر کو سورج یا چاند کی روشنی کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ خدا کی شان سے روشن تھا اور میمنا اُس کا چراغ تھا۔‏ 24  اور اُس شہر کی روشنی سے قوموں کی راہ روشن ہوگی اور زمین کے بادشاہ اُس میں اپنی شان لائیں گے۔‏ 25  اُس کے دروازے سارا دن بند نہیں کیے جائیں گے کیونکہ اُس میں رات نہیں ہوگی۔‏ 26  اور اُس میں قوموں کی شان اور عظمت لائی جائے گی۔‏ 27  لیکن کوئی ناپاک چیز یا کوئی ایسا شخص جو گھناؤنے کام کرتا ہے یا دھوکےباز ہے،‏ ہرگز اُس شہر میں داخل نہیں ہوگا بلکہ صرف وہ اُس میں داخل ہوگا جس کا نام اُس زندگی کی کتاب* میں لکھا ہے جو میمنے کی ہے۔‏

فٹ‌ نوٹس

یا ”‏مَیں الف ہوں اور ے بھی۔‏“‏ الفا یونانی حروفِ‌تہجی کا پہلا حرف ہے جبکہ اومیگا آخری حرف ہے۔‏
‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ میں ”‏حرام‌کاری“‏ کو دیکھیں۔‏
یونانی میں:‏ ”‏12 ہزار ستادیون۔‏“‏ تقریباً 2220 کلومیٹر (‏1379 میل)‏۔‏ ایک ستادیون 185 میٹر (‏تقریباً 607 فٹ)‏ تھا۔‏
تقریباً 64 میٹر (‏210 فٹ)‏
یعنی خدا کا گھر
‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏
یا ”‏طومار“‏