مکاشفہ 15‏:1‏-‏8

  • سات فرشتوں کے پاس سات آفتیں (‏1-‏8‏)‏

    • موسیٰ اور میمنے کا گیت (‏3،‏ 4‏)‏

15  اور مَیں نے آسمان پر ایک اَور نشانی دیکھی جو بہت ہی شان‌دار اور حیران‌کُن تھی۔‏ سات فرشتوں کے پاس سات آفتیں تھیں۔‏ یہ آخری آفتیں ہیں کیونکہ اِن کے ذریعے خدا کا غصہ ختم ہو جائے گا۔‏ 2  اور مَیں نے شیشے کے تالاب جیسی کوئی چیز دیکھی جس میں آگ ملی ہوئی تھی۔‏ اور جو لوگ وحشی درندے اور اِس کے بُت اور اِس کے نام کے عدد پر غالب آئے،‏ وہ شیشے کے اُس تالاب کے پاس کھڑے تھے اور اُن کے ہاتھوں میں خدا کے بربط* تھے۔‏ 3  وہ خدا کے غلام موسیٰ کا گیت اور میمنے کا گیت گا رہے تھے اور کہہ رہے تھے:‏ ‏”‏یہوواہ* خدا،‏ لامحدود قدرت کے مالک!‏ تیرے کام شان‌دار اور حیران‌کُن ہیں۔‏ ابدیت کے بادشاہ!‏ تیری راہیں راست اور سچی ہیں۔‏ 4  اَے یہوواہ،‏* کون تجھ سے نہیں ڈرے گا؟‏ اور کون تیرے نام کی بڑائی نہیں کرے گا؟‏ کیونکہ تُو ہی وفادار ہے۔‏ ساری قومیں آئیں گی اور تیرے حضور عبادت کریں گی کیونکہ تیرے راست فیصلے ظاہر ہو گئے ہیں۔‏“‏ 5  اِس کے بعد مَیں نے دیکھا کہ آسمان پر گواہی کے خیمے کا مُقدس مقام کُھل گیا 6  اور وہ سات فرشتے جن کے پاس سات آفتیں تھیں،‏ مُقدس مقام سے نکل آئے۔‏ اُنہوں نے لینن کے صاف ستھرے اور اُجلے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور سینے کے گِرد سونے کی پیٹیاں باندھی ہوئی تھیں۔‏ 7  چار جان‌داروں میں سے ایک نے سات فرشتوں کو سونے کے سات کٹورے دیے۔‏ یہ کٹورے اُس خدا کے غصے سے بھرے ہوئے تھے جو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے زندہ ہے۔‏ 8  اور مُقدس مقام خدا کی شان اور طاقت کی وجہ سے دھوئیں سے بھر گیا۔‏ اور جب تک وہ سات آفتیں ختم نہ ہو گئیں جو سات فرشتوں کے پاس تھیں،‏ کوئی بھی مُقدس مقام میں داخل نہیں ہو سکا۔‏

فٹ‌ نوٹس

یہ ایک قسم کا تاردار ساز ہے۔‏
‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏
‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏