مرقس 8‏:1‏-‏38

  • یسوع 4000 کو کھانا کھلاتے ہیں (‏1-‏9‏)‏

  • مذہبی رہنما آسمان سے نشانی مانگتے ہیں (‏10-‏13‏)‏

  • فریسیوں اور ہیرودیس کا خمیر (‏14-‏21‏)‏

  • بیت‌صیدا میں اندھے آدمی کی شفایابی (‏22-‏26‏)‏

  • پطرس کا جواب:‏ ”‏آپ مسیح ہیں“‏ (‏27-‏30‏)‏

  • یسوع کی موت کے متعلق پیش‌گوئی (‏31-‏33‏)‏

  • سچے پیروکاروں کی پہچان (‏34-‏38‏)‏

8  اُنہی دنوں میں پھر سے ایک بِھیڑ یسوع کے پاس اِکٹھی ہوئی اور لوگوں کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں تھا۔‏ اِس لیے یسوع نے شاگردوں کو بلایا اور اُن سے کہا:‏ 2  ‏”‏مجھے اِن لوگوں پر ترس آ رہا ہے کیونکہ یہ تین دن سے میرے ساتھ ہیں اور اِن کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے۔‏ 3  اگر مَیں اِنہیں خالی پیٹ گھر بھیج دوں تو شاید وہ کمزوری کی وجہ سے راستے میں گِر جائیں کیونکہ کچھ لوگ دُور سے آئے ہیں۔‏“‏ 4  لیکن شاگردوں نے اُن سے کہا:‏ ”‏اِس سنسان جگہ پر ہم اِتنے لوگوں کا پیٹ بھرنے کے لیے روٹی کہاں سے لائیں؟‏“‏ 5  یسوع نے اُن سے پوچھا:‏ ”‏آپ کے پاس کتنی روٹیاں ہیں؟‏“‏ اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏سات۔‏“‏ 6  یسوع نے لوگوں سے کہا کہ زمین پر بیٹھ جائیں۔‏ اِس کے بعد اُنہوں نے سات روٹیاں لیں،‏ اُن پر دُعا کی اور اُن کو توڑ توڑ کر شاگردوں کو دیا اور شاگردوں نے اُنہیں لوگوں میں تقسیم کِیا۔‏ 7  اُن کے پاس کچھ چھوٹی مچھلیاں بھی تھیں۔‏ یسوع نے دُعا کر کے وہ مچھلیاں بھی شاگردوں کو دیں اور اُن سے کہا کہ ”‏اِنہیں بھی لوگوں میں تقسیم کر دیں۔‏“‏ 8  سب لوگوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا اور شاگردوں نے روٹی کے بچے ہوئے ٹکڑوں سے سات ٹوکرے بھرے۔‏ 9  اُس موقعے پر تقریباً 4000 آدمی موجود تھے۔‏ اِس کے بعد یسوع نے لوگوں کو رُخصت کِیا۔‏ 10  پھر یسوع فوراً اپنے شاگردوں کے ساتھ کشتی پر سوار ہوئے اور دلمنوتہ کے علاقے میں گئے۔‏ 11  وہاں فریسی اُن کے پاس آئے اور اُن سے بحث کرنے لگے اور اُن کا اِمتحان لینے کے لیے کہنے لگے:‏ ”‏ہمیں آسمان سے ایک نشانی دِکھاؤ۔‏“‏ 12  تب یسوع نے دل ہی دل میں* گہری آہ بھری اور کہا:‏ ”‏یہ پُشت ایک نشانی کیوں مانگتی ہے؟‏ مَیں سچ کہتا ہوں کہ اِس پُشت کو کوئی نشانی نہیں دِکھائی جائے گی۔‏“‏ 13  پھر وہ اُنہیں وہیں چھوڑ کر دوبارہ کشتی میں سوار ہوئے اور جھیل کے اُس پار جانے کے لیے روانہ ہوئے۔‏ 14  لیکن چونکہ شاگرد اپنے ساتھ روٹی لے جانا بھول گئے تھے اِس لیے اُن کے پاس کھانے کے لیے ایک روٹی کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔‏ 15  یسوع نے اُنہیں صاف صاف کہا:‏ ”‏اپنی آنکھیں کُھلی رکھیں اور فریسیوں کے خمیر اور ہیرودیس کے خمیر سے خبردار رہیں۔‏“‏ 16  اِس پر شاگرد ایک دوسرے سے بحث کرنے لگے کیونکہ اُن کے پاس روٹیاں نہیں تھیں۔‏ 17  یہ دیکھ کر یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏آپ لوگ اِس بات پر کیوں بحث کر رہے ہیں کہ آپ کے پاس روٹیاں نہیں ہیں؟‏ کیا آپ ابھی تک میری بات نہیں سمجھے؟‏ کیا ابھی بھی آپ کی سمجھ پر پردہ پڑا ہے؟‏ 18  ‏”‏تمہاری آنکھیں ہیں،‏ پھر تُم دیکھ کیوں نہیں سکتے؟‏ تمہارے کان ہیں،‏ پھر تُم سُن کیوں نہیں سکتے؟‏“‏ کیا آپ کو یاد ہے کہ 19  جب مَیں نے پانچ روٹیوں سے 5000 آدمیوں کو کھانا کھلایا تو آپ نے بچے ہوئے ٹکڑوں سے کتنے ٹوکرے بھرے تھے؟‏“‏ اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏بارہ۔‏“‏ 20  ‏”‏اور جب مَیں نے سات روٹیوں سے 4000 آدمیوں کو کھانا کھلایا تو آپ نے بچے ہوئے ٹکڑوں سے کتنے ٹوکرے بھرے تھے؟‏“‏ اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏سات۔‏“‏ 21  اِس پر یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏کیا آپ ابھی بھی میری بات نہیں سمجھے؟‏“‏ 22  پھر وہ بیت‌صیدا پہنچے۔‏ وہاں لوگ ایک اندھے آدمی کو یسوع کے پاس لائے اور اُن سے اِلتجا کرنے لگے کہ وہ اُسے چُھوئیں۔‏ 23  یسوع اُس آدمی کا ہاتھ پکڑ کر اُسے گاؤں سے باہر لے گئے۔‏ پھر اُنہوں نے اُس کی آنکھوں پر تھوک لگایا اور اُس پر ہاتھ رکھ کر کہا:‏ ”‏کیا آپ کو کچھ نظر آ رہا ہے؟‏“‏ 24  اُس آدمی نے آنکھیں اُٹھا کر دیکھا اور کہا:‏ ‏”‏مجھے لوگ نظر آ رہے ہیں لیکن وہ چلتے پھرتے درختوں کی طرح لگتے ہیں۔‏“‏ 25  یسوع نے دوبارہ اُس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھے اور اُس کی آنکھیں بالکل ٹھیک ہو گئیں اور اُسے سب کچھ صاف صاف نظر آنے لگا۔‏ 26  اِس کے بعد یسوع نے اُسے یہ کہہ کر گھر بھیج دیا کہ ”‏گاؤں میں داخل نہ ہونا۔‏“‏ 27  پھر یسوع اور اُن کے شاگرد قیصریہ فِلپّی کے علاقے کے لیے روانہ ہوئے۔‏ راستے میں یسوع نے اُن سے پوچھا:‏ ”‏لوگوں کے خیال میں مَیں کون ہوں؟‏“‏ 28  اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏کچھ لوگ کہتے ہیں:‏ یوحنا بپتسمہ دینے والا،‏ کچھ کہتے ہیں:‏ ایلیاہ نبی جبکہ کچھ کہتے ہیں:‏ نبیوں میں سے ایک۔‏“‏ 29  یسوع نے اُن سے پوچھا:‏ ”‏اور آپ کے خیال میں مَیں کون ہوں؟‏“‏ پطرس نے جواب دیا:‏ ”‏آپ مسیح ہیں۔‏“‏ 30  اِس پر یسوع نے شاگردوں کو سخت تاکید کی کہ ”‏کسی کو نہ بتانا کہ مَیں کون ہوں۔‏“‏ 31  یسوع نے اُنہیں یہ بھی بتایا کہ اِنسان کے بیٹے* کو بہت اذیت اُٹھانی پڑے گی اور بزرگ،‏ اعلیٰ کاہن اور شریعت کے عالم اُسے ٹھکرا دیں گے اور پھر اُسے مار ڈالا جائے گا اور تین دن بعد زندہ کِیا جائے گا۔‏ 32  اُنہوں نے شاگردوں کو یہ سب کچھ واضح طور پر بتا دیا۔‏ لیکن پطرس،‏ یسوع کو ایک طرف لے جا کر جھڑکنے لگے۔‏ 33  یسوع نے مُڑ کر اپنے شاگردوں کی طرف دیکھا اور پطرس کو ڈانٹتے ہوئے کہا:‏ ”‏میرے سامنے سے ہٹ جاؤ،‏ شیطان!‏ کیونکہ تُم خدا کی سوچ نہیں بلکہ اِنسان کی سوچ رکھتے ہو۔‏“‏ 34  پھر یسوع نے بِھیڑ کو اور اپنے شاگردوں کو پاس بلایا اور اُن سے کہا:‏ ”‏اگر کوئی میرے پیچھے پیچھے آنا چاہتا ہے تو اپنے لیے جینا چھوڑ دے اور اپنی سُولی* اُٹھائے اور میری پیروی کرتا رہے 35  کیونکہ جو کوئی اپنی جان بچانا چاہتا ہے،‏ وہ اِسے کھو دے گا لیکن جو کوئی میری خاطر اور خوش‌خبری کی خاطر اپنی جان کھو دیتا ہے،‏ وہ اِسے بچا لے گا۔‏ 36  اگر ایک آدمی پوری دُنیا حاصل کر لے لیکن اپنی جان کھو دے تو اُسے کیا فائدہ ہوگا؟‏ 37  آخر ایک آدمی اپنی جان کے بدلے میں کیا دے سکتا ہے؟‏ 38  کیونکہ اِس بےوفا* اور گُناہ‌گار پُشت میں سے جو کوئی میری اور میری باتوں کی وجہ سے شرمندگی محسوس کرے گا،‏ اِنسان کا بیٹا بھی تب اُس کی وجہ سے شرمندگی محسوس کرے گا جب وہ مُقدس فرشتوں کو لے کر اپنے باپ کی شان کے ساتھ آئے گا۔‏“‏

فٹ‌ نوٹس

یونانی میں:‏ ”‏روح میں“‏
‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏
‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏
یونانی میں:‏ ”‏زِناکار“‏