مرقس 15‏:1‏-‏47

  • یسوع،‏ پیلاطُس کے سامنے (‏1-‏15‏)‏

  • یسوع کا مذاق اُڑایا جاتا ہے (‏16-‏20‏)‏

  • یسوع کو گلگتا میں سُولی پر لٹکایا جاتا ہے (‏21-‏32‏)‏

  • یسوع کی موت (‏33-‏41‏)‏

  • یسوع کو دفنایا جاتا ہے (‏42-‏47‏)‏

15  پَو پھٹتے ہی اعلیٰ کاہنوں،‏ بزرگوں اور شریعت کے عالموں بلکہ ساری عدالتِ‌عظمیٰ نے آپس میں مشورہ کِیا۔‏ پھر اُنہوں نے یسوع کو باندھا اور لے جا کر پیلاطُس کے حوالے کر دیا۔‏ 2  پیلاطُس نے یسوع سے پوچھا:‏ ”‏کیا تُم یہودیوں کے بادشاہ ہو؟‏“‏ یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏آپ نے خود ہی کہہ دیا کہ مَیں ہوں۔‏“‏ 3  مگر اعلیٰ کاہن،‏ یسوع پر بہت سے اِلزام لگا رہے تھے۔‏ 4  اِس لیے پیلاطُس نے پھر سے سوال کِیا:‏ ”‏کیا تُم اپنی صفائی میں کچھ نہیں کہو گے؟‏ دیکھو،‏ وہ تُم پر کتنے اِلزام لگا رہے ہیں۔‏“‏ 5  لیکن یسوع نے کوئی جواب نہیں دیا۔‏ یہ دیکھ کر پیلاطُس بہت حیران ہوا۔‏ 6  پیلاطُس عیدِفسح پر اُس قیدی کو رِہا کِیا کرتا تھا جسے لوگ رِہا کروانا چاہتے تھے۔‏ 7  اُس وقت قیدخانے میں ایک آدمی جس کا نام برابا تھا،‏ کچھ باغیوں کے ساتھ قید تھا جنہوں نے حکومت کے خلاف بغاوت کے سلسلے میں قتل کِیا تھا۔‏ 8  لوگوں نے آ کر پیلاطُس سے درخواست کی کہ وہ اپنے رواج کے مطابق ایک قیدی کو رِہا کرے۔‏ 9  پیلاطُس نے اُن سے پوچھا:‏ ”‏کیا مَیں تمہارے لیے یہودیوں کے بادشاہ کو رِہا کر دوں؟‏“‏ 10  کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اعلیٰ کاہنوں نے یسوع کو حسد کی وجہ سے اُس کے حوالے کِیا ہے۔‏ 11  لیکن اعلیٰ کاہن لوگوں کو اُکسا رہے تھے کہ وہ پیلاطُس سے کہیں کہ ”‏یسوع کی بجائے برابا کو رِہا کریں۔‏“‏ 12  اِس پر پیلاطُس نے کہا:‏ ”‏تو پھر مَیں اُس کے ساتھ کیا کروں جسے تُم یہودیوں کا بادشاہ کہتے ہو؟‏“‏ 13  لوگ پھر سے چلّانے لگے:‏ ”‏اُسے سُولی* دیں!‏“‏ 14  مگر پیلاطُس نے اُن سے کہا:‏ ”‏لیکن کیوں؟‏ اُس نے کون سا بُرا کام کِیا ہے؟‏“‏ یہ سُن کر لوگ اَور زور سے چلّانے لگے:‏ ”‏اُسے سُولی دیں!‏“‏ 15  پیلاطُس لوگوں کو خوش کرنا چاہتا تھا۔‏ اِس لیے اُس نے برابا کو رِہا کر دیا لیکن یسوع کو کوڑے لگوا کر سپاہیوں کے حوالے کر دیا تاکہ اُنہیں سُولی پر چڑھا دیں۔‏ 16  سپاہی،‏ یسوع کو حاکم کی رہائش‌گاہ کے صحن میں لے گئے اور ساری فوج کو وہاں بلایا۔‏ 17  اُنہوں نے یسوع کو جامنی رنگ کا لباس پہنایا اور کانٹوں سے ایک تاج بنا کر اُن کے سر پر رکھا۔‏ 18  پھر وہ یسوع سے کہنے لگے:‏ ”‏یہودیوں کے بادشاہ!‏ آداب!‏“‏ 19  اور ایک چھڑی لے کر اُن کے سر پر مارنے لگے،‏ اُن پر تھوکنے لگے اور گھٹنے ٹیک کر اُن کے سامنے جھکنے لگے۔‏* 20  جب وہ یسوع کا کافی مذاق اُڑا چکے تو اُنہوں نے اُن کے جسم سے جامنی لباس اُتار دیا اور اُنہیں اُن کے کپڑے پہنا دیے۔‏ پھر وہ اُنہیں سُولی پر لٹکانے کے لیے لے گئے۔‏ 21  راستے میں سپاہیوں نے کُرینے کے ایک آدمی کو دیکھا جو دیہات سے شہر آ رہا تھا۔‏ اُنہوں نے زبردستی اُس سے یسوع کی سُولی اُٹھوائی۔‏ اُس آدمی کا نام شمعون تھا اور وہ سکندر اور رُوفس کا باپ تھا۔‏ 22  سپاہی یسوع کو ایک جگہ لائے جسے گلگتا یعنی کھوپڑی کہا جاتا ہے۔‏ 23  وہاں اُنہوں نے یسوع کو ایسی مے دینے کی کوشش کی جس میں مُر* ملی ہوئی تھی۔‏ لیکن اُنہوں نے اِسے پینے سے اِنکار کر دیا۔‏ 24  اِس کے بعد سپاہیوں نے یسوع کو کیلوں کے ساتھ سُولی پر لٹکا دیا۔‏ پھر اُنہوں نے اُن کے کپڑوں پر قُرعہ* ڈالا تاکہ اِس بات کا فیصلہ ہو سکے کہ کس کے حصے میں کیا آئے گا۔‏ 25  جب اُنہوں نے یسوع کو سُولی پر لٹکایا تو تیسرا گھنٹہ* تھا۔‏ 26  اُنہوں نے یسوع کے سر سے اُوپر ایک تختی بھی لگائی جس پر یہ اِلزام لکھا تھا:‏ ”‏یہ یہودیوں کا بادشاہ ہے۔‏“‏ 27  اور اُنہوں نے دو ڈاکوؤں کو بھی سُولی پر لٹکایا،‏ ایک کو یسوع کی دائیں طرف اور دوسرے کو اُن کی بائیں طرف۔‏ 28  ‏—‏* 29  وہاں سے گزرنے والے لوگ سر ہلا ہلا کر یسوع کی بےعزتی کرنے لگے اور کہنے لگے:‏ ”‏بڑا آیا ہیکل* کو گِرانے اور تین دن میں بنانے والا!‏ 30  اب سُولی سے نیچے اُتر کر اپنے آپ کو بچا!‏“‏ 31  اِسی طرح اعلیٰ کاہن بھی شریعت کے عالموں کے ساتھ مل کر یسوع کا مذاق اُڑا رہے تھے اور کہہ رہے تھے:‏ ”‏اِس نے دوسروں کو بچایا لیکن اپنے آپ کو نہیں بچا سکتا!‏ 32  یہ تو مسیح اور اِسرائیل کا بادشاہ ہے۔‏ تو پھر ذرا سُولی سے اُتر کر دِکھائے۔‏ اگر اُتر آیا تو ہم اِس پر ایمان لے آئیں گے۔‏“‏ اور وہ ڈاکو بھی جو یسوع کی دونوں طرف سُولیوں پر لٹکے ہوئے تھے،‏ اُن کی بےعزتی کرنے لگے۔‏ 33  جب چھٹا گھنٹہ* شروع ہوا تو سارے ملک میں تاریکی چھا گئی اور نویں گھنٹے* تک رہی۔‏ 34  نویں گھنٹے میں یسوع نے چلّا کر کہا:‏ ”‏ایلی،‏ ایلی،‏ لما شبقتنی؟‏“‏ جس کا مطلب ہے:‏ میرے خدا،‏ میرے خدا،‏ تُو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟‏ 35  یہ سُن کر پاس کھڑے کچھ لوگ کہنے لگے:‏ ”‏دیکھو!‏ یہ ایلیاہ نبی کو بلا رہا ہے۔‏“‏ 36  ایک آدمی بھاگ کر گیا اور اُس نے ایک سپنج کو کھٹی مے میں ڈبویا اور اِسے ایک چھڑی پر لگا کر یسوع کے آگے کِیا تاکہ وہ اِسے چوس سکیں۔‏ اُس آدمی نے وہاں کھڑے لوگوں سے کہا:‏ ”‏اِسے تنگ مت کرو!‏ دیکھتے ہیں کہ ایلیاہ اِسے نیچے اُتارنے آتے ہیں یا نہیں۔‏“‏ 37  لیکن یسوع چلّائے اور پھر فوت ہو گئے۔‏* 38  اور مُقدس مقام کا پردہ اُوپر سے نیچے تک پھٹ گیا اور اِس کے دو حصے ہو گئے۔‏ 39  جب پاس کھڑے فوجی افسر نے وہ سب کچھ دیکھا جو یسوع کی موت کے وقت ہوا تھا تو اُس نے کہا:‏ ”‏بےشک یہ آدمی خدا کا بیٹا تھا!‏“‏ 40  وہاں عورتیں بھی تھیں جو کچھ فاصلے پر کھڑی اِن سب باتوں کو دیکھ رہی تھیں۔‏ اُن میں مریم مگدلینی،‏ سَلومی اور چھوٹے یعقوب اور یوسیس کی ماں مریم بھی تھیں 41  جو گلیل میں یسوع کے ساتھ ہوا کرتی تھیں اور اُن کی خدمت کرتی تھیں۔‏ اِس کے علاوہ وہاں اَور بھی بہت سی عورتیں تھیں جو یسوع کے ساتھ یروشلیم آئی تھیں۔‏ 42  اب شام ہو گئی تھی اور تیاری کا دن تھا کیونکہ اگلے دن سبت تھا۔‏ 43  اِس لیے شہر ارمتیاہ کے یوسف جو عدالتِ‌عظمیٰ کے مُعزز رُکن تھے اور خود بھی خدا کی بادشاہت کا اِنتظار کر رہے تھے،‏ ہمت کر کے پیلاطُس کے پاس گئے اور یسوع کی لاش مانگی۔‏ 44  لیکن پیلاطُس پہلے جاننا چاہتا تھا کہ یسوع واقعی مر گئے ہیں یا نہیں۔‏ اِس لیے اُس نے فوجی افسر کو بلوایا اور اِس بارے میں پوچھا۔‏ 45  جب اُس کو پتہ چلا کہ یسوع مر گئے ہیں تو اُس نے یوسف کو لاش لے جانے کی اِجازت دے دی۔‏ 46  یوسف نے اعلیٰ قسم کا لینن خریدا اور لاش اُتار کر اِس میں لپیٹ دی اور اِسے ایک قبر میں رکھ دیا جو چٹان میں بنوائی گئی تھی۔‏ پھر اُنہوں نے ایک بڑا سا پتھر لڑھکا کر قبر کے مُنہ پر رکھ دیا۔‏ 47  لیکن مریم مگدلینی اور یوسیس کی ماں مریم بیٹھ کر یسوع کی قبر کو دیکھتی رہیں۔‏

فٹ‌ نوٹس

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏
یا ”‏اُن کی تعظیم کرنے لگے۔‏“‏
ایک نشہ‌آور چیز جس کو پی کر درد کا احساس کم ہو جاتا ہے۔‏
‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏
تقریباً صبح نو بجے
متی 17:‏21 کے فٹ‌نوٹ کو دیکھیں۔‏
یعنی خدا کا گھر
تقریباً دوپہر بارہ بجے
تقریباً دوپہر تین بجے
یا ”‏اُنہوں نے دم توڑ دیا۔‏“‏