مرقس 11‏:1‏-‏33

  • یسوع گدھے پر یروشلیم میں داخل ہوتے ہیں (‏1-‏11‏)‏

  • اِنجیر کے درخت پر لعنت (‏12-‏14‏)‏

  • یسوع تاجروں کو ہیکل سے نکالتے ہیں (‏15-‏18‏)‏

  • سُوکھے ہوئے اِنجیر کے درخت سے سبق (‏19-‏26‏)‏

  • یسوع سے اِختیار کے سلسلے میں پوچھ‌گچھ (‏27-‏33‏)‏

11  جب وہ یروشلیم کے نزدیک بیت‌فگے اور بیت‌عنیاہ کے پاس پہنچے جو کوہِ‌زیتون پر ہیں تو یسوع نے اپنے دو شاگردوں سے کہا:‏ 2  ‏”‏سامنے جو گاؤں ہے،‏ اُس میں جائیں۔‏ اور جیسے ہی آپ اُس میں داخل ہوں گے،‏ آپ کو ایک گدھا بندھا ہوا ملے گا جس پر ابھی تک کوئی اِنسان سوار نہیں ہوا۔‏ اُسے کھول کر میرے پاس لائیں۔‏ 3  اگر کوئی آپ سے پوچھے کہ ”‏تُم کیا کر رہے ہو؟‏“‏ تو اُس سے کہنا:‏ ”‏مالک کو اِس کی ضرورت ہے۔‏ وہ جلد اِسے واپس کر دیں گے۔‏“‏ “‏ 4  شاگرد روانہ ہو گئے۔‏ گاؤں میں پہنچ کر اُنہوں نے دیکھا کہ گلی میں ایک گدھا دروازے پر بندھا ہوا ہے اور وہ اُسے کھولنے لگے۔‏ 5  لیکن وہاں کھڑے کچھ لوگوں نے کہا:‏ ”‏تُم گدھے کو کیوں کھول رہے ہو؟‏“‏ 6  شاگردوں نے اُن کو وہی جواب دیا جو یسوع نے کہا تھا۔‏ اِس پر لوگوں نے اُن کو جانے دیا۔‏ 7  وہ گدھے کو یسوع کے پاس لائے اور اِس پر اپنی چادریں ڈالیں۔‏ پھر یسوع اِس پر سوار ہو گئے۔‏ 8  اِس کے علاوہ بہت سے لوگوں نے اپنی چادریں راستے پر بچھائیں جبکہ کچھ لوگوں نے سڑک کے کنارے لگے درختوں کی شاخیں کاٹ کاٹ کر راستے پر رکھیں۔‏ 9  اور جو لوگ یسوع کے آگے اور پیچھے چل رہے تھے،‏ وہ سب اُونچی آواز میں کہہ رہے تھے:‏ ”‏اُسے نجات دِلا!‏* اُس شخص کو بڑی برکتیں حاصل ہیں جو یہوواہ* کے نام سے آتا ہے!‏ 10  ہمارے باپ داؤد کی آنے والی بادشاہت برکتوں والی ہے!‏ اَے خدا،‏ تُو جو آسمان پر ہے!‏ اُسے نجات دِلا!‏“‏ 11  پھر یسوع یروشلیم میں داخل ہوئے اور ہیکل* میں گئے۔‏ وہاں اُنہوں نے سب چیزوں پر نظر ڈالی لیکن چونکہ کافی دیر ہو چکی تھی اِس لیے وہ 12 رسولوں کے ساتھ بیت‌عنیاہ چلے گئے۔‏ 12  اگلے روز جب وہ بیت‌عنیاہ سے نکلے تو یسوع کو بھوک لگ رہی تھی۔‏ 13  اُنہیں دُور سے ایک اِنجیر کا درخت نظر آیا جس پر پتے تھے۔‏ وہ یہ دیکھنے کے لیے اُس کے پاس گئے کہ اُس پر پھل لگا ہے یا نہیں۔‏ لیکن اُدھر پہنچ کر اُنہوں نے دیکھا کہ اِس پر صرف پتے لگے ہیں کیونکہ اِنجیروں کا موسم نہیں تھا۔‏ 14  اِس پر اُنہوں نے درخت سے کہا:‏ ”‏آئندہ کبھی کسی کو تجھ سے پھل نہ ملے۔‏“‏ اور اُن کے شاگردوں نے بھی یہ بات سنی۔‏ 15  جب وہ یروشلیم پہنچے تو یسوع ہیکل میں گئے اور اُن لوگوں کو باہر نکالنے لگے جو وہاں خریدوفروخت کر رہے تھے۔‏ اُنہوں نے پیسوں کا کاروبار کرنے والوں کی میزیں اور کبوتر بیچنے والوں کی چوکیاں اُلٹ دیں 16  اور اُن لوگوں کو روک دیا جو چیزیں اُٹھائے ہیکل کے بیچ سے گزر رہے تھے۔‏ 17  یسوع لوگوں کو تعلیم دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ”‏کیا صحیفوں میں نہیں لکھا کہ ”‏میرا گھر سب قوموں کے لیے دُعا کا گھر کہلائے گا“‏؟‏ لیکن تُم اِسے ڈاکوؤں کا اڈا بنا رہے ہو۔‏“‏ 18  اعلیٰ کاہنوں اور شریعت کے عالموں نے یہ سُن لیا اور یسوع کو مار ڈالنے کی ترکیبیں سوچنے لگے۔‏ دراصل وہ یسوع سے ڈرتے تھے کیونکہ لوگ اُن کے تعلیم دینے کے انداز اور اُن کی باتوں سے بہت متاثر تھے۔‏ 19  جب شام ہو گئی تو یسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ شہر سے باہر چلے گئے۔‏ 20  صبح سویرے جب وہ اِنجیر کے درخت کے پاس سے گزر رہے تھے تو اُنہوں نے دیکھا کہ وہ جڑوں تک سُوکھ گیا ہے۔‏ 21  پطرس کو وہ بات یاد آئی جو یسوع نے درخت سے کہی تھی اور اُنہوں نے کہا:‏ ”‏ربّی،‏ دیکھیں!‏ آپ نے جس اِنجیر کے درخت پر لعنت بھیجی تھی،‏ وہ سُوکھ گیا ہے۔‏“‏ 22  اِس پر یسوع نے اُن سب سے کہا:‏ ”‏خدا پر ایمان رکھیں۔‏ 23  مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ اگر کوئی اِس پہاڑ سے کہے کہ ”‏اُٹھ اور سمندر میں چلا جا“‏ اور دل میں شک نہ کرے بلکہ ایمان رکھے کہ اُس کی بات ضرور پوری ہوگی تو ویسا ہی ہوگا۔‏ 24  اِس لیے مَیں آپ سے کہتا ہوں کہ جب بھی آپ کسی چیز کے لیے دُعا کریں تو ایمان رکھیں اور یوں سمجھیں کہ وہ آپ کو مل گئی ہے۔‏ پھر وہ چیز آپ کو مل جائے گی۔‏ 25  اور جب آپ کھڑے ہو کر دُعا کرتے ہیں اور آپ کو یاد آتا ہے کہ آپ کو کسی سے شکایت ہے تو اُسے معاف کر دیں تاکہ آپ کا آسمانی باپ بھی آپ کی خطائیں معاف کر دے۔‏“‏ 26  ‏—‏* 27  وہ پھر سے یروشلیم گئے۔‏ جب یسوع ہیکل میں چل پھر رہے تھے تو اعلیٰ کاہن،‏ شریعت کے عالم اور بزرگ اُن کے پاس آئے 28  اور کہنے لگے:‏ ”‏تمہارے پاس یہ سب کام کرنے کا اِختیار کہاں سے آیا؟‏ تمہیں کس نے یہ اِختیار دیا؟‏“‏ 29  یسوع نے اُنہیں جواب دیا:‏ ”‏پہلے مَیں آپ سے ایک بات پوچھوں گا۔‏ اگر آپ مجھے جواب دیں گے تو مَیں بھی آپ کو بتاؤں گا کہ مجھے یہ کام کرنے کا اِختیار کس نے دیا ہے۔‏ 30  مجھے بتائیں کہ یوحنا کو بپتسمہ دینے کا اِختیار کس نے دیا تھا؟‏ خدا* نے یا اِنسانوں نے؟‏“‏ 31  وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ ”‏اگر ہم کہیں گے:‏ ”‏خدا نے“‏ تو یہ کہے گا:‏ ”‏تو پھر آپ اُس پر ایمان کیوں نہیں لائے؟‏“‏ 32  لیکن اگر ہم کہیں گے:‏ ”‏اِنسانوں نے“‏ تو پتہ نہیں ہمارا کیا حشر ہوگا؟‏“‏ اصل میں وہ لوگوں سے ڈرتے تھے کیونکہ لوگ یوحنا کو نبی مانتے تھے۔‏ 33  اِس لیے اُنہوں نے یسوع کو جواب دیا:‏ ”‏ہمیں نہیں پتہ۔‏“‏ اِس پر یسوع نے کہا:‏ ”‏تو پھر مَیں بھی نہیں بتاؤں گا کہ مجھے یہ کام کرنے کا اِختیار کس نے دیا ہے۔‏“‏

فٹ‌ نوٹس

یونانی میں:‏ ”‏ہوشعنا“‏
‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏
یعنی خدا کا گھر
متی 17:‏21 کے فٹ‌نوٹ کو دیکھیں۔‏
یونانی میں:‏ ”‏آسمان“‏