متی 23‏:1‏-‏39

  • شریعت کے عالموں اور فریسیوں جیسے کام نہ کریں (‏1-‏12‏)‏

  • شریعت کے عالموں اور فریسیوں پر افسوس (‏13-‏36‏)‏

  • یروشلیم کے لوگوں پر افسوس (‏37-‏39‏)‏

23  پھر یسوع لوگوں کی بِھیڑ اور اپنے شاگردوں سے کہنے لگے:‏ 2  ‏”‏شریعت کے عالم اور فریسی،‏ موسیٰ کی گدی پر بیٹھ گئے ہیں۔‏ 3  اِس لیے وہ آپ سے جو باتیں کہتے ہیں،‏ اُن پر عمل کریں لیکن اُن جیسے کام نہ کریں کیونکہ وہ جو کچھ کہتے ہیں،‏ اُس پر خود عمل نہیں کرتے۔‏ 4  وہ بھاری بوجھ باندھ کر لوگوں کے کندھوں پر لادتے ہیں لیکن خود اِسے اُٹھانے کے لیے ایک اُنگلی بھی نہیں لگاتے۔‏ 5  وہ ہر کام دِکھاوے کے لیے کرتے ہیں کیونکہ وہ بڑے بڑے تعویذ* اور بڑی بڑی جھالر والے کپڑے پہنتے ہیں۔‏ 6  وہ عبادت‌گاہوں میں اگلی* کُرسیوں اور دعوتوں میں سب سے اہم جگہوں پر بیٹھنا پسند کرتے ہیں۔‏ 7  وہ چاہتے ہیں کہ بازاروں میں لوگ اُنہیں سلام کریں اور اُنہیں ربّی* کہیں۔‏ 8  لیکن آپ ربّی نہ کہلائیں کیونکہ آپ کا اُستاد ایک ہے اور آپ سب بھائی ہیں۔‏ 9  زمین پر کسی کو باپ* نہ کہیں کیونکہ آپ کا باپ ایک ہے جو آسمان پر ہے۔‏ 10  آپ رہنما بھی نہ کہلائیں کیونکہ آپ کا رہنما ایک ہے یعنی مسیح۔‏ 11  لیکن جو آپ میں سب سے بڑا ہے،‏ اُسے آپ کا خادم بننا چاہیے۔‏ 12  جو اپنے آپ کو بڑا خیال کرتا ہے،‏ اُس کو چھوٹا کِیا جائے گا اور جو اپنے آپ کو چھوٹا خیال کرتا ہے،‏ اُس کو بڑا کِیا جائے گا۔‏ 13  شریعت کے عالمو اور فریسیو!‏ ریاکارو!‏ تُم پر افسوس کیونکہ تُم دوسروں پر آسمان کی بادشاہت کے دروازے بند کرتے ہو۔‏ تُم نہ تو خود اِس میں داخل ہوتے ہو اور نہ ہی اُن لوگوں کو داخل ہونے دیتے ہو جو اِس میں جانا چاہتے ہیں۔‏ 14  ‏—‏* 15  شریعت کے عالمو اور فریسیو!‏ ریاکارو!‏ تُم پر افسوس کیونکہ تُم ایک شخص کو اپنا مُرید بنانے کے لیے خشکی اور تری کا سفر کرتے ہو اور جب وہ تمہارا مُرید بن جاتا ہے تو تُم اُسے اپنے سے دو گُنا زیادہ ہنوم کی وادی* کا سزاوار بناتے ہو۔‏ 16  اندھے رہنماؤ!‏ تُم پر افسوس کیونکہ تُم کہتے ہو کہ ”‏اگر کوئی شخص ہیکل* کی قسم کھاتا ہے تو کوئی بات نہیں لیکن اگر کوئی ہیکل کے سونے کی قسم کھاتا ہے تو اُسے قسم ضرور پوری کرنی چاہیے۔‏“‏ 17  بےوقوفو اور اندھو!‏ سونا زیادہ اہم ہے یا ہیکل جس کی وجہ سے سونا پاک ہے؟‏ 18  تُم یہ بھی کہتے ہو کہ ”‏اگر کوئی شخص قربان‌گاہ کی قسم کھاتا ہے تو کوئی بات نہیں لیکن اگر کوئی قربان‌گاہ پر رکھے نذرانے کی قسم کھاتا ہے تو اُسے قسم ضرور پوری کرنی چاہیے۔‏“‏ 19  اندھو!‏ نذرانہ زیادہ اہم ہے یا قربان‌گاہ جس کی وجہ سے نذرانہ پاک ہے؟‏ 20  لہٰذا جو کوئی قربان‌گاہ کی قسم کھاتا ہے،‏ وہ نہ صرف اِس کی قسم کھاتا ہے بلکہ اِس پر رکھی چیزوں کی بھی۔‏ 21  اور جو کوئی ہیکل کی قسم کھاتا ہے،‏ وہ نہ صرف اِس کی قسم کھاتا ہے بلکہ خدا کی بھی کیونکہ یہ اُس کا گھر ہے۔‏ 22  اور جو کوئی آسمان کی قسم کھاتا ہے،‏ وہ نہ صرف خدا کے تخت کی قسم کھاتا ہے بلکہ اُس کی بھی جو اِس پر بیٹھا ہے۔‏ 23  شریعت کے عالمو اور فریسیو!‏ ریاکارو!‏ تُم پر افسوس کیونکہ تُم پودینے،‏ اجوائن اور زیرے کا دسواں حصہ* تو دیتے ہو لیکن شریعت کے اہم معاملوں یعنی اِنصاف،‏ رحم اور ایمان کو نظرانداز کرتے ہو۔‏ دسواں حصہ دینا ضروری تو ہے لیکن اِس کی وجہ سے تمہیں اہم معاملوں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔‏ 24  اندھے رہنماؤ!‏ تُم مچھر کو تو چھانتے ہو لیکن اُونٹ کو نگل جاتے ہو۔‏ 25  شریعت کے عالمو اور فریسیو!‏ ریاکارو!‏ تُم پر افسوس کیونکہ تُم پیالے اور تھالی کو باہر سے تو صاف کرتے ہو لیکن اندر سے وہ لالچ* اور نفس‌پرستی سے بھرے ہیں۔‏ 26  اندھے فریسیو!‏ پہلے پیالے اور تھالی کو اندر سے صاف کرو تاکہ یہ باہر سے بھی صاف ہو جائے۔‏ 27  شریعت کے عالمو اور فریسیو!‏ ریاکارو!‏ تُم پر افسوس کیونکہ تُم سفیدی کی گئی قبروں کی طرح ہو جو باہر سے تو خوب‌صورت لگتی ہیں لیکن اندر سے مُردوں کی ہڈیوں اور ہر طرح کی ناپاکی سے بھری ہوتی ہیں۔‏ 28  اِسی طرح تُم بھی باہر سے نیک نظر آتے ہو لیکن اندر سے ریاکاری اور بُرائی سے بھرے ہو۔‏ 29  شریعت کے عالمو اور فریسیو!‏ ریاکارو!‏ تُم پر افسوس کیونکہ تُم نبیوں کی قبریں بناتے ہو اور نیک لوگوں کی قبریں سجاتے ہو 30  اور کہتے ہو کہ ”‏اگر ہم اپنے باپ‌دادا کے زمانے میں ہوتے تو ہم اُن کے ساتھ نبیوں کے قتل میں ہرگز شریک نہ ہوتے۔‏“‏ 31  اِس طرح تُم خود یہ تسلیم کرتے ہو کہ تُم اُن کی اولاد ہو جنہوں نے نبیوں کو قتل کِیا۔‏ 32  تو پھر اپنے باپ‌دادا کے گُناہوں کا پیمانہ بھر دو۔‏ 33  سانپ کے بچو!‏ تُم ہنوم کی وادی* میں جھونکے جانے سے کیسے بچو گے؟‏ 34  اِس لیے مَیں نبیوں،‏ دانش‌مندوں اور اُستادوں کو تمہارے پاس بھیج رہا ہوں۔‏ تُم اُن میں سے کچھ کو قتل کرو گے اور سُولی* پر چڑھاؤ گے اور کچھ کو اپنی عبادت‌گاہوں میں کوڑے لگواؤ گے اور سب شہروں میں اُن کو اذیت پہنچاؤ گے 35  تاکہ تُم اُس نیک خون کے ذمےدار ٹھہرو جو زمین پر بہایا گیا ہے یعنی ہابل کے خون سے لے کر برکیاہ کے بیٹے زکریاہ کے خون تک جنہیں تُم نے مُقدس مقام اور قربان‌گاہ کے بیچ میں قتل کِیا۔‏ 36  مَیں تُم سے سچ کہتا ہوں کہ یہ پُشت اِن سب باتوں کے لیے جواب‌دہ ٹھہرائی جائے گی۔‏ 37  یروشلیم کے لوگو!‏ نبیوں کو قتل کرنے والو اور پیغمبروں کو سنگسار کرنے والو!‏ مَیں نے بہت بار چاہا کہ مَیں ویسے ہی تمہیں جمع کروں جیسے مُرغی،‏ چُوزوں کو اپنے پَروں کے نیچے جمع کرتی ہے۔‏ لیکن تُم نے ایسا نہیں چاہا۔‏ 38  دیکھو!‏ تمہارا گھر چھوڑ دیا جائے گا۔‏ 39  مَیں تُم سے کہتا ہوں کہ اب تُم مجھے اُس وقت تک نہیں دیکھو گے جب تک یہ نہیں کہو گے کہ ”‏اُس شخص کو بڑی برکتیں حاصل ہیں جو یہوواہ* کے نام سے آتا ہے۔‏“‏ “‏

فٹ‌ نوٹس

یہ تعویذ چھوٹی ڈبیوں کی شکل میں ہوتے تھے جن میں توریت کی آیتیں لکھ کر رکھی جاتی تھیں۔‏
یا ”‏سب سے اچھی“‏
یا ”‏اُستاد“‏
یسوع یہ کہہ رہے تھے کہ کسی کو مذہبی لحاظ سے باپ کا لقب نہ دیا جائے جیسا کہ فادر وغیرہ۔‏
متی 17:‏21 کے فٹ‌نوٹ کو دیکھیں۔‏
‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏
یعنی خدا کا گھر
یا ”‏دہ‌یکی“‏
یونانی میں:‏ ”‏لُوٹ کے مال“‏
‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏
‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏
‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏