لُوقا 9‏:1‏-‏62

  • بارہ رسولوں کو مُنادی کے لیے ہدایتیں ملتی ہیں (‏1-‏6‏)‏

  • ہیرودیس اُلجھن میں (‏7-‏9‏)‏

  • یسوع 5000 کو کھانا کھلاتے ہیں (‏10-‏17‏)‏

  • پطرس کا جواب:‏ ”‏آپ خدا کے مسیح ہیں“‏ (‏18-‏20‏)‏

  • یسوع کی موت کے متعلق پیش‌گوئی (‏21،‏ 22‏)‏

  • سچے پیروکاروں کی پہچان (‏23-‏27‏)‏

  • یسوع کی صورت بدلتی ہے (‏28-‏36‏)‏

  • بُرا فرشتہ لڑکے سے نکالا جاتا ہے (‏37-‏43‏)‏

  • یسوع کی موت کے متعلق دوبارہ پیش‌گوئی (‏43-‏45‏)‏

  • شاگردوں میں بحث (‏46-‏48‏)‏

  • جو ہمارے خلاف نہیں،‏ وہ ہمارے ساتھ ہے (‏49،‏ 50‏)‏

  • سامریہ کے ایک گاؤں میں یسوع کو قبول نہیں کِیا جاتا (‏51-‏56‏)‏

  • یسوع کی پیروی کیسے کی جائے؟‏ (‏57-‏62‏)‏

9  پھر یسوع نے 12 رسولوں کو اپنے پاس بلایا اور اُن کو تمام بُرے فرشتوں پر اِختیار دیا اور بیماریاں ٹھیک کرنے کی قوت دی۔‏ 2  اِس کے بعد اُنہوں نے اُن کو بھیجا تاکہ وہ خدا کی بادشاہت کی مُنادی کریں اور شفا دیں۔‏ 3  یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏سفر کے لیے کچھ ساتھ نہ لے جائیں،‏ نہ لاٹھی،‏ نہ کھانے کا تھیلا،‏ نہ روٹی،‏ نہ پیسے* اور نہ ہی دو کُرتے۔‏* 4  جب آپ کسی کے گھر میں داخل ہوں تو اُس کے گھر میں ٹھہریں اور تب تک اُس کے پاس رہیں جب تک آپ اُس علاقے سے روانہ نہ ہوں۔‏ 5  جس شہر میں لوگ آپ کو قبول نہ کریں،‏ وہاں سے جاتے وقت اُس کی مٹی اپنے پاؤں سے جھاڑ دیں تاکہ اُن کے خلاف گواہی ہو۔‏“‏ 6  لہٰذا وہ وہاں سے روانہ ہوئے اور اُنہوں نے اُس علاقے میں گاؤں گاؤں خوش‌خبری سنائی اور ہر جگہ لوگوں کی بیماریاں ٹھیک کیں۔‏ 7  اب گلیل کے حاکم ہیرودیس* نے بھی اِن ساری باتوں کی خبر سنی اور وہ اُلجھن میں پڑ گیا کیونکہ کچھ لوگ کہہ رہے تھے کہ ”‏یوحنا بپتسمہ دینے والے کو زندہ کر دیا گیا ہے“‏ 8  لیکن کچھ لوگ کہہ رہے تھے کہ ”‏ایلیاہ نبی ظاہر ہوئے ہیں“‏ جبکہ کچھ اَور کہہ رہے تھے کہ ”‏پُرانے زمانے کے کوئی نبی جی اُٹھے ہیں۔‏“‏ 9  ہیرودیس نے کہا:‏ ”‏یوحنا کا تو مَیں نے سر قلم کروایا تھا۔‏ تو پھر یہ کون ہے جس کے متعلق مَیں یہ ساری خبریں سُن رہا ہوں؟‏“‏ اِس لیے وہ یسوع سے ملنا چاہتا تھا۔‏ 10  جب رسول واپس آئے تو اُنہوں نے یسوع کو اُن سارے کاموں کے بارے میں بتایا جو اُنہوں نے کیے تھے۔‏ اِس کے بعد یسوع اُن کو اپنے ساتھ شہر بیت‌صیدا لے گئے تاکہ اُن کے ساتھ اکیلے میں وقت گزار سکیں۔‏ 11  لیکن جب لوگوں کو پتہ چلا تو وہ اُن کے پیچھے گئے۔‏ یسوع اُن سے خوشی سے ملے اور اُن کو خدا کی بادشاہت کے بارے میں بتانے لگے۔‏ اُنہوں نے اُن کو بھی ٹھیک کِیا جو بیمار تھے۔‏ 12  جب شام ہوئی تو 12 رسولوں نے آ کر یسوع سے کہا:‏ ”‏لوگوں کو آس‌پاس کے گاؤں اور قصبوں میں بھیج دیں تاکہ وہ اپنے ٹھہرنے اور کھانے کا بندوبست کر سکیں کیونکہ یہ جگہ سنسان ہے۔‏“‏ 13  لیکن یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏آپ اُن کو کھانا دیں۔‏“‏ رسولوں نے کہا:‏ ”‏ہمارے پاس پانچ روٹیوں اور دو مچھلیوں کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔‏ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم جا کر اِن سب لوگوں کے لیے کھانا خریدیں؟‏“‏ 14  ‏(‏دراصل وہاں تقریباً 5000 آدمی تھے۔‏)‏ لیکن یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا:‏ ‏”‏لوگوں سے کہیں کہ وہ پچاس پچاس کی ٹولیوں میں بیٹھ جائیں۔‏“‏ 15  اِس پر اُنہوں نے لوگوں کو بٹھا دیا۔‏ 16  پھر یسوع نے وہ پانچ روٹیاں اور دو مچھلیاں لیں اور آسمان کی طرف دیکھ کر دُعا کی۔‏ اِس کے بعد اُنہوں نے اِن کو توڑ توڑ کر شاگردوں کو دیا تاکہ وہ اِنہیں لوگوں میں تقسیم کریں۔‏ 17  اور سب نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔‏ پھر شاگردوں نے روٹیوں کے بچے ہوئے ٹکڑے جمع کیے اور اُن سے 12 ٹوکرے بھرے۔‏ 18  بعد میں جب یسوع اکیلے میں دُعا کر رہے تھے تو شاگرد اُن کے پاس آئے۔‏ یسوع نے اُن سے پوچھا:‏ ”‏لوگوں کے خیال میں مَیں کون ہوں؟‏“‏ 19  اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آپ یوحنا بپتسمہ دینے والے ہیں،‏ کچھ کہتے ہیں کہ آپ ایلیاہ نبی ہیں جبکہ کچھ کہتے ہیں کہ آپ پُرانے زمانے کے ایک نبی ہیں جو جی اُٹھا ہے۔‏“‏ 20  یسوع نے اُن سے پوچھا:‏ ”‏لیکن آپ کے خیال میں مَیں کون ہوں؟‏“‏ پطرس نے جواب دیا:‏ ”‏آپ خدا کے مسیح ہیں۔‏“‏ 21  پھر یسوع نے شاگردوں کو تاکید کی کہ وہ یہ بات کسی کو نہ بتائیں 22  اور کہا:‏ ”‏اِنسان کے بیٹے* کو بہت اذیت اُٹھانی پڑے گی اور بزرگ،‏ اعلیٰ کاہن اور شریعت کے عالم اُسے ٹھکرا دیں گے،‏ پھر اُسے مار ڈالا جائے گا لیکن تیسرے دن زندہ کِیا جائے گا۔‏“‏ 23  پھر یسوع نے سب سے کہا:‏ ”‏اگر کوئی میرے پیچھے پیچھے آنا چاہتا ہے تو اپنے لیے جینا چھوڑ دے اور ہر روز اپنی سُولی* اُٹھائے اور میری پیروی کرتا رہے۔‏ 24  کیونکہ جو کوئی اپنی جان بچانا چاہتا ہے،‏ وہ اِسے کھو دے گا لیکن جو کوئی میری خاطر اپنی جان کھو دیتا ہے،‏ وہ اِسے بچا لے گا۔‏ 25  اگر ایک آدمی پوری دُنیا حاصل کر لے لیکن اپنی جان کھو دے یا کوئی نقصان اُٹھائے تو اُسے کیا فائدہ ہوگا؟‏ 26  کیونکہ جو کوئی میری اور میری باتوں کی وجہ سے شرمندگی محسوس کرے گا،‏ اِنسان کا بیٹا بھی تب اُس کی وجہ سے شرمندگی محسوس کرے گا جب وہ اپنی،‏ اپنے باپ کی اور مُقدس فرشتوں کی شان کے ساتھ آئے گا۔‏ 27  لیکن مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ یہاں کچھ ایسے لوگ ہیں جو موت کا مزہ چکھنے سے پہلے خدا کی بادشاہت کو دیکھیں گے۔‏“‏ 28  اور ایسا ہی ہوا۔‏ اِس کے تقریباً آٹھ دن بعد یسوع نے پطرس،‏ یوحنا اور یعقوب کو ساتھ لیا اور ایک پہاڑ پر جا کر دُعا کی۔‏ 29  جب یسوع دُعا کر رہے تھے تو اُن کے چہرے کی صورت بدل گئی اور اُن کے کپڑے اِتنے سفید ہو گئے کہ چمکنے لگے۔‏ 30  اور دیکھو!‏ دو آدمی یعنی موسیٰ اور ایلیاہ،‏ اُن سے باتیں کر رہے تھے۔‏ 31  وہ بڑے شان‌دار دِکھائی دے رہے تھے اور یسوع کی روانگی کے بارے میں بات کر رہے تھے جو یروشلیم سے ہونی تھی۔‏ 32  اِس دوران پطرس اور اُن کے ساتھی اُونگھ رہے تھے۔‏ لیکن جب وہ جاگے تو اُنہوں نے یسوع کی شان کو دیکھا اور اُن دو آدمیوں کو بھی دیکھا جو اُن کے ساتھ کھڑے تھے۔‏ 33  جب وہ آدمی یسوع کو چھوڑ کر جانے لگے تو پطرس نے کہا:‏ ”‏اُستاد،‏ کتنی اچھی بات ہے کہ ہم یہاں پر ہیں۔‏ اگر آپ کہیں تو ہم تین خیمے کھڑے کر دیتے ہیں،‏ ایک آپ کے لیے،‏ ایک موسیٰ کے لیے اور ایک ایلیاہ کے لیے۔‏“‏ دراصل پطرس بغیر سوچے سمجھے بات کر رہے تھے۔‏ 34  ابھی وہ یہ کہہ ہی رہے تھے کہ ایک بادل بنا اور اُن سب پر چھانے لگا۔‏ جب بادل نے اُن کو گھیر لیا تو شاگرد ڈر گئے۔‏ 35  پھر بادل میں سے آواز آئی کہ ”‏یہ میرا بیٹا ہے۔‏ مَیں نے اِسے چُنا ہے۔‏ اِس کی سنیں۔‏“‏ 36  جب یہ آواز سنائی دی تو اُنہوں نے دیکھا کہ یسوع اکیلے کھڑے ہیں۔‏ لیکن وہ اِس واقعے کے بارے میں چپ رہے اور کچھ عرصے کے لیے کسی کو نہیں بتایا کہ اُنہوں نے کیا دیکھا تھا۔‏ 37  اگلے دن جب وہ پہاڑ سے اُترے تو بہت سے لوگ یسوع سے ملنے آئے۔‏ 38  اور دیکھو!‏ ایک آدمی نے چلّا کر کہا:‏ ”‏اُستاد!‏ مَیں آپ سے مِنت کرتا ہوں کہ میرے بیٹے کے لیے کچھ کریں۔‏ وہ میرا اِکلوتا بیٹا ہے۔‏ 39  اور دیکھیں!‏ ایک بُرا فرشتہ* بار بار اُس پر آتا ہے۔‏ جب ایسا ہوتا ہے تو میرا بیٹا اچانک چلّا اُٹھتا ہے اور بُرا فرشتہ اُسے مروڑتا ہے اور اُس کے مُنہ سے جھاگ نکلنے لگتی ہے۔‏ بُرا فرشتہ اُس کو زخمی کرتا ہے اور اُسے مشکل سے چھوڑتا ہے۔‏ 40  مَیں نے آپ کے شاگردوں سے مِنت کی کہ وہ میرے بیٹے میں سے بُرے فرشتے کو نکال دیں لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے۔‏“‏ 41  اِس پر یسوع نے کہا:‏ ”‏ایمان سے خالی اور بگڑی ہوئی پُشت!‏ مجھے کب تک تمہارے ساتھ رہنا پڑے گا اور تمہیں برداشت کرنا پڑے گا؟‏ اپنے بیٹے کو میرے پاس لائیں۔‏“‏ 42  لیکن جب وہ لڑکا یسوع کے پاس آ رہا تھا تو بُرے فرشتے نے اُس کو زمین پر پٹخ دیا اور اُسے زور زور سے مروڑنے لگا۔‏ مگر یسوع نے اُس کو* ڈانٹا اور لڑکے کو ٹھیک کر کے اُسے اُس کے باپ کے سپرد کر دیا۔‏ 43  یہ دیکھ کر سب لوگ خدا کی شان‌دار قدرت پر دنگ رہ گئے۔‏ جب وہ اُن سب کاموں پر حیران ہو رہے تھے جو یسوع نے کیے تھے تو یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا:‏ 44  ‏”‏غور سے سنیں اور یاد رکھیں کہ اِنسان کے بیٹے کو دُشمنوں کے حوالے کِیا جائے گا۔‏“‏ 45  لیکن شاگردوں کو اُن کی بات سمجھ نہیں آئی۔‏ دراصل یہ بات اُن سے پوشیدہ تھی اِس لیے وہ اِسے سمجھ نہیں سکے اور وہ یسوع سے اِس بارے میں پوچھنے سے ہچکچا رہے تھے۔‏ 46  پھر شاگرد آپس میں بحث کرنے لگے کہ اُن میں سب سے بڑا* کون ہے۔‏ 47  یسوع اُن کی سوچ سے واقف تھے۔‏ اِس لیے اُنہوں نے ایک چھوٹے بچے کو اپنے پاس کھڑا کِیا 48  اور شاگردوں سے کہا:‏ ”‏جو کوئی اِس بچے کو میرے نام کی خاطر قبول کرتا ہے،‏ وہ مجھے قبول کرتا ہے اور جو کوئی مجھے قبول کرتا ہے،‏ وہ اُس کو بھی قبول کرتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے کیونکہ آپ میں سے وہ شخص جو اپنے آپ کو چھوٹا خیال کرتا ہے،‏ وہی بڑا ہے۔‏“‏ 49  اِس پر یوحنا نے یسوع سے کہا:‏ ”‏اُستاد!‏ ہم نے ایک ایسے آدمی کو دیکھا جو آپ کے نام سے بُرے فرشتے نکال رہا تھا اور ہم نے اُس کو روکنے کی کوشش کی کیونکہ وہ ہمارے ساتھ نہیں ہے۔‏“‏ 50  لیکن یسوع نے کہا:‏ ”‏آپ لوگ اُسے روکنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ جو آپ کے خلاف نہیں ہے،‏ وہ آپ کے ساتھ ہے۔‏“‏ 51  اب وہ وقت قریب آ رہا تھا جب یسوع کو آسمان پر جانا تھا۔‏ اِس لیے اُنہوں نے یروشلیم جانے کا پکا اِرادہ کر لیا 52  اور کچھ شاگردوں کو اپنے آگے بھیجا۔‏ یہ شاگرد روانہ ہوئے اور سامریوں کے ایک گاؤں میں داخل ہوئے تاکہ یسوع کے آنے کے لیے تیاریاں کریں۔‏ 53  لیکن سامریوں نے یسوع کا خیرمقدم نہیں کِیا کیونکہ یسوع یروشلیم جانے کا اِرادہ رکھتے تھے۔‏ 54  جب یعقوب اور یوحنا نے یہ دیکھا تو اُنہوں نے پوچھا:‏ ”‏مالک،‏ کیا ہم آسمان سے آگ نازل کروائیں تاکہ یہ لوگ راکھ ہو جائیں؟‏“‏ 55  لیکن یسوع نے مُڑ کر اُن کو ڈانٹا۔‏ 56  پھر وہ کسی اَور گاؤں میں گئے۔‏ 57  جب وہ سڑک پر چل رہے تھے تو کسی نے یسوع سے کہا:‏ ”‏آپ جہاں کہیں بھی جائیں گے،‏ مَیں آپ کے پیچھے پیچھے چلوں گا۔‏“‏ 58  یسوع نے اُس کو جواب دیا:‏ ”‏لومڑیوں کے بِل ہوتے ہیں اور آسمان کے پرندوں کے گھونسلے لیکن اِنسان کے بیٹے کے پاس آرام کرنے کے لیے اپنا کوئی ٹھکانا نہیں ہے۔‏“‏ 59  پھر یسوع نے ایک اَور آدمی سے کہا:‏ ”‏میرے پیروکار بن جائیں۔‏“‏ اُس نے جواب دیا:‏ ”‏مالک!‏ مجھے اِجازت دیں کہ مَیں پہلے جا کر اپنے باپ کو دفن کروں۔‏“‏ 60  لیکن یسوع نے اُس سے کہا:‏ ”‏مُردوں کو اپنے مُردے دفن کرنے دیں مگر آپ جائیں اور ہر جگہ خدا کی بادشاہت کا اِعلان کریں۔‏“‏ 61  ایک اَور آدمی نے کہا:‏ ”‏مالک،‏ مَیں آپ کی پیروی کروں گا لیکن مجھے اِجازت دیں کہ مَیں پہلے اپنے گھر والوں کو خدا حافظ کہہ آؤں۔‏“‏ 62  یسوع نے اُس سے کہا:‏ ”‏جو شخص ہل پر ہاتھ رکھتا ہے اور پھر پیچھے مُڑ کر دیکھتا ہے،‏ وہ خدا کی بادشاہت کے لائق نہیں ہے۔‏“‏

فٹ‌ نوٹس

یونانی میں:‏ ”‏چاندی“‏
یا ”‏ایک اَور کُرتا“‏
یعنی ہیرودیس انتپاس۔‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏
‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏
‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏
یونانی میں:‏ ”‏روح“‏
یونانی میں:‏ ”‏اُس ناپاک روح کو“‏
یا ”‏سب سے اہم“‏