لُوقا 24‏:1‏-‏53

  • یسوع کو زندہ کِیا جاتا ہے (‏1-‏12‏)‏

  • اِماؤس کے راستے پر (‏13-‏35‏)‏

  • یسوع شاگردوں کو دِکھائی دیتے ہیں (‏36-‏49‏)‏

  • یسوع آسمان پر اُٹھا لیے جاتے ہیں (‏50-‏53‏)‏

24  مگر ہفتے کے پہلے دن وہ صبح سویرے اُن مصالحوں کو لے کر قبر پر گئیں جو اُنہوں نے تیار کیے تھے۔‏ 2  وہاں پہنچ کر اُنہوں نے دیکھا کہ قبر کے سامنے سے پتھر ہٹا ہوا ہے۔‏ 3  جب وہ قبر کے اندر گئیں تو ہمارے مالک یسوع کی لاش وہاں نہیں تھی۔‏ 4  یہ دیکھ کر وہ حیران‌وپریشان رہ گئیں۔‏ اِتنے میں دیکھو!‏ دو آدمی وہاں آ کر کھڑے ہو گئے۔‏ اُن کے کپڑے چمک رہے تھے۔‏ 5  وہ عورتیں بہت خوف‌زدہ ہو گئیں اور سر جھکائے کھڑی رہیں۔‏ اِس پر اُن آدمیوں نے اُن سے کہا:‏ ”‏آپ اُس کو جو زندہ ہے،‏ مُردوں میں کیوں ڈھونڈ رہی ہیں؟‏ 6  وہ یہاں نہیں ہے بلکہ اُسے زندہ کر دیا گیا ہے۔‏ یاد کریں کہ جب وہ گلیل میں تھا تو اُس نے آپ سے کہا تھا کہ 7  اِنسان کے بیٹے* کو گُناہ‌گار آدمیوں کے حوالے کِیا جائے گا اور اُسے سُولی* پر چڑھایا جائے گا لیکن تیسرے دن وہ زندہ ہو جائے گا۔‏“‏ 8  تب اُن عورتوں کو یسوع کی باتیں یاد آئیں 9  اور وہ قبر سے نکلیں اور جا کر 11 رسولوں اور باقی شاگردوں کو یہ سب کچھ بتایا۔‏ 10  اُن عورتوں میں مریم مگدلینی،‏ یوانہ اور یعقوب کی ماں مریم بھی شامل تھیں۔‏ اِس کے علاوہ جو عورتیں اُن تینوں کے ساتھ قبر پر گئی تھیں،‏ اُنہوں نے بھی رسولوں کو اِن باتوں کے بارے میں بتایا۔‏ 11  مگر اُن کو اِن عورتوں کی باتیں بڑی احمقانہ لگیں اور اُنہوں نے اِن پر یقین نہیں کِیا۔‏ 12  لیکن پطرس اُٹھے اور بھاگ کر قبر پر گئے اور جب اُنہوں نے جھک کر قبر کے اندر دیکھا تو اُنہیں لینن کی پٹیوں کے سوا کچھ دِکھائی نہیں دیا۔‏ لہٰذا وہ دل میں اِن باتوں کے بارے میں سوچتے ہوئے وہاں سے چلے گئے۔‏ 13  اور دیکھو!‏ اُس دن دو شاگرد اِماؤس کی طرف جا رہے تھے۔‏ یہ ایک گاؤں ہے جو یروشلیم سے تقریباً سات میل* دُور ہے۔‏ 14  راستے میں وہ اُن باتوں کے بارے میں بات کر رہے تھے جو حال ہی میں ہوئی تھیں۔‏ 15  ابھی وہ آپس میں یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ یسوع اُن کے پاس آئے اور اُن کے ساتھ ساتھ چلنے لگے۔‏ 16  لیکن اُن شاگردوں کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا تھا اِس لیے وہ اُن کو پہچان نہیں سکے۔‏ 17  یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏آپ آپس میں کس بارے میں بات کر رہے تھے؟‏“‏ وہ ایک دم سے رُک گئے۔‏ وہ بہت اُداس لگ رہے تھے۔‏ 18  اُن میں سے ایک نے جس کا نام کلیُپاس تھا،‏ یسوع سے کہا:‏ ”‏کیا آپ یروشلیم میں اجنبی ہیں اور اکیلے رہتے ہیں جو آپ کو نہیں پتہ* کہ پچھلے دنوں وہاں کیا ہوا ہے؟‏“‏ 19  یسوع نے پوچھا:‏ ”‏کیوں؟‏ کیا ہوا؟‏“‏ اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏کیا آپ کو نہیں پتہ کہ یسوع ناصری کے ساتھ کیا کچھ ہوا؟‏ وہ ایک نبی تھے جن کے کام اور باتیں خدا اور اِنسانوں کی نظر میں بڑی بااثر تھیں۔‏ 20  لیکن ہمارے اعلیٰ کاہنوں اور پیشواؤں کے اُکسانے پر اُنہیں سزائےموت سنائی گئی اور سُولی پر چڑھا دیا گیا 21  جبکہ ہمیں توقع تھی کہ یہ آدمی اِسرائیل کو نجات دِلائے گا اور آج تو اِن باتوں کو ہوئے تیسرا دن ہے۔‏ 22  اِس کے علاوہ کچھ عورتوں نے بھی ہمیں حیران کر دیا کیونکہ جب وہ صبح سویرے یسوع کی قبر پر گئیں 23  تو اُنہوں نے دیکھا کہ اُن کی لاش وہاں نہیں ہے اور اُنہوں نے واپس آ کر بتایا کہ اُن کو فرشتے دِکھائی دیے جنہوں نے کہا کہ یسوع زندہ ہیں۔‏ 24  پھر ہمارے کچھ ساتھی اُن کی قبر پر گئے اور اُنہوں نے دیکھا کہ سب کچھ بالکل ویسا ہی ہے جیسا اُن عورتوں نے کہا تھا اور اُنہیں بھی یسوع دِکھائی نہیں دیے۔‏“‏ 25  اِس پر یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏ارے ناسمجھو!‏ تمہارے دل نبیوں کی باتوں پر یقین کرنے میں سُستی کیوں کرتے ہیں؟‏ 26  کیا لازمی نہیں تھا کہ مسیح یہ سب کچھ سہے اور عظمت حاصل کرے؟‏“‏ 27  پھر اُنہوں نے موسیٰ اور نبیوں کے صحیفوں سے شروع کِیا اور اُنہیں وہ تمام باتیں سمجھائیں جو اُن کے اپنے بارے میں تھیں۔‏ 28  آخر وہ اُس گاؤں کے قریب پہنچ گئے جہاں وہ جا رہے تھے مگر یسوع نے اُنہیں یہ تاثر دیا کہ وہ اَور آگے جائیں گے۔‏ 29  لیکن شاگرد اِصرار کرنے لگے کہ ”‏ہمارے ساتھ رہیں کیونکہ دن ڈھل رہا ہے اور شام ہونے والی ہے۔‏“‏ لہٰذا وہ اُن کے ساتھ گئے۔‏ 30  پھر یسوع اُن کے ساتھ کھانا کھانے کے لیے بیٹھے۔‏ اُنہوں نے روٹی لی،‏ اِس پر دُعا کی اور اِسے توڑ کر اُن کو دینے لگے۔‏ 31  اُس وقت اُن دونوں کی آنکھوں سے پردہ ہٹ گیا اور اُنہوں نے یسوع کو پہچان لیا۔‏ پھر یسوع اُن کی نظروں سے غائب ہو گئے۔‏ 32  تب وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے:‏ ”‏جب اُنہوں نے راستے میں ہمارے سامنے صحیفوں کی وضاحت کی تو کیا ہمارے دل جوش سے نہیں بھر گئے تھے؟‏“‏ 33  وہ اُسی وقت اُٹھ کر یروشلیم واپس گئے اور وہاں جمع 11 رسولوں اور باقی شاگردوں سے ملے 34  جنہوں نے کہا:‏ ”‏بےشک ہمارے مالک زندہ ہو گئے ہیں۔‏ وہ شمعون کو دِکھائی دیے ہیں۔‏“‏ 35  اِس پر اُن دونوں نے بھی اُن کو وہ ساری باتیں بتائیں جو راستے میں ہوئی تھیں۔‏ اُنہوں نے یہ بھی بتایا کہ جب یسوع نے روٹی توڑی تو وہ پہچان گئے کہ یہ یسوع ہیں۔‏ 36  ابھی وہ یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ یسوع اُن کے بیچ میں آ کر کھڑے ہو گئے اور اُن سے کہا:‏ ”‏آپ پر سلامتی ہو۔‏“‏ 37  لیکن وہ بہت ڈر گئے اور خوف‌زدہ ہو گئے اِس لیے اُنہیں لگا کہ وہ کوئی روحانی مخلوق دیکھ رہے ہیں۔‏ 38  یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏آپ گھبرا کیوں رہے ہیں اور آپ کے دل میں شک کیوں پیدا ہو رہے ہیں؟‏ 39  میرے ہاتھوں اور پاؤں کو دیکھیں!‏ یہ مَیں ہی ہوں۔‏ ذرا مجھے چُھو کر تو دیکھیں۔‏ میری ہڈیاں ہیں،‏ گوشت ہے۔‏ کیا روحانی مخلوق کی ہڈیاں اور گوشت ہوتا ہے؟‏“‏ 40  یہ کہتے ہوئے یسوع اُن کو اپنے ہاتھ پاؤں دِکھا رہے تھے۔‏ 41  لیکن اُن سب کو حیرت اور خوشی کے مارے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ یسوع ہی ہیں۔‏ اِس لیے یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏کیا آپ کے پاس کوئی کھانے کی چیز ہے؟‏“‏ 42  اُنہوں نے یسوع کو بھنی ہوئی مچھلی کا ٹکڑا دیا۔‏ 43  یسوع نے اِسے لے کر اُن کے سامنے کھایا۔‏ 44  اِس کے بعد اُنہوں نے کہا:‏ ”‏یاد ہے کہ جب مَیں آپ کے ساتھ تھا تو مَیں نے کہا تھا کہ موسیٰ کی شریعت،‏ نبیوں کے صحیفوں اور زبور میں جتنی باتیں میرے بارے میں لکھی ہیں،‏ وہ ضرور پوری ہوں گی؟‏“‏ 45  پھر اُنہوں نے اُن کی سمجھ سے پردہ ہٹا دیا تاکہ وہ صحیفوں میں لکھی ہوئی باتوں کو پوری طرح سے سمجھ جائیں۔‏ 46  اُنہوں نے کہا:‏ ”‏صحیفوں میں یہی لکھا ہے کہ مسیح کو اذیت اُٹھانی پڑے گی اور تیسرے دن اُسے زندہ کِیا جائے گا 47  اور یروشلیم سے شروع کر کے سب قوموں میں اُس کے نام سے یہ پیغام سنایا جائے گا کہ توبہ کرو تاکہ تمہیں گُناہوں کی معافی حاصل ہو۔‏ 48  آپ اِن باتوں کے بارے میں گواہی دیں گے۔‏ 49  اور دیکھیں!‏ مَیں آپ کو وہ نعمت عطا کروں گا جس کا میرے باپ نے وعدہ کِیا تھا۔‏ لیکن اُس وقت تک اِس شہر میں رہیں جب تک آپ اُوپر والے کی قدرت سے معمور نہ ہو جائیں۔‏“‏ 50  پھر یسوع اُن کو بیت‌عنیاہ تک لے گئے۔‏ وہاں پہنچ کر اُنہوں نے اپنے ہاتھ اُٹھائے اور اُن کو برکت دی۔‏ 51  ابھی وہ برکت دے ہی رہے تھے کہ وہ شاگردوں سے جُدا ہو گئے اور آسمان پر اُٹھا لیے گئے۔‏ 52  شاگرد اُن کے سامنے جھکے* اور بڑی خوشی کے ساتھ یروشلیم واپس چلے گئے۔‏ 53  اور وہ ہر روز ہیکل* میں جاتے اور خدا کی بڑائی کرتے۔‏

فٹ‌ نوٹس

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏
‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏
یونانی میں:‏ ”‏60 ستادیون۔‏“‏ تقریباً 11 کلومیٹر۔‏ ایک ستادیون 185 میٹر (‏تقریباً 607 فٹ)‏ تھا۔‏
یا شاید ”‏آپ یروشلیم میں واحد مسافر ہوں گے جسے نہیں پتہ“‏
یا ”‏شاگردوں نے اُن کی تعظیم کی“‏
یعنی خدا کا گھر