عبرانیوں 7‏:1‏-‏28

  • مَلکی‌صدق،‏ بادشاہ اور کاہن دونوں تھے (‏1-‏10‏)‏

  • مسیح اور اِنسانی کاہنوں میں فرق (‏11-‏28‏)‏

    • مسیح مکمل نجات دِلا سکتا ہے (‏25‏)‏

7  کیونکہ مَلکی‌صدق جو سالم کے بادشاہ اور خدا تعالیٰ کے کاہن تھے،‏ اُس وقت ابراہام سے ملنے گئے جب ابراہام بادشاہوں کو شکست دے کر آ رہے تھے۔‏ مَلکی‌صدق نے اُن کو برکت دی 2  اور ابراہام نے اُنہیں ہر چیز کا دسواں حصہ* دیا۔‏ مَلکی‌صدق کے نام کا مطلب ”‏صداقت کا بادشاہ“‏ ہے اور وہ سالم کے بادشاہ یعنی ”‏سلامتی کے بادشاہ“‏ بھی ہیں۔‏ 3  اُن کے ماں باپ،‏ اُن کے نسب‌نامے اور اُن کی زندگی کے آغاز اور اِختتام کے بارے میں کچھ پتہ نہیں بلکہ وہ خدا کے بیٹے کی طرح ہیں اور اِس لیے وہ ہمیشہ تک کاہن رہیں گے۔‏ 4  دیکھیں،‏ وہ کتنا عظیم آدمی تھا جسے ہمارے خاندان کے سربراہ ابراہام نے مالِ‌غنیمت کی سب سے اچھی چیزوں کا دسواں حصہ دیا۔‏ 5  یہ سچ ہے کہ لاوی کے جن بیٹوں کو کاہن کا عہدہ دیا جاتا ہے،‏ اُنہیں شریعت کے مطابق حکم دیا گیا کہ وہ اپنی قوم سے یعنی اپنے بھائیوں سے دسواں حصہ اِکٹھا کریں حالانکہ یہ بھی ابراہام کی اولاد ہیں۔‏ 6  لیکن وہ آدمی جو لاوی کے قبیلے سے نہیں تھا،‏ اُس نے ابراہام سے دسواں حصہ لیا اور اُس شخص کو برکت دی جس سے وعدے کیے گئے تھے۔‏ 7  اب اِس میں کوئی شک نہیں کہ بڑا،‏ چھوٹے کو برکت دیتا ہے۔‏ 8  عام طور پر تو دسواں حصہ ایسے آدمیوں کو دیا جاتا ہے جو مرتے ہیں لیکن اِس موقعے پر یہ ایک ایسے شخص کو دیا گیا جس کے بارے میں گواہی دی گئی کہ وہ زندہ ہے۔‏ 9  یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ لاوی جنہیں دسواں حصہ دیا جاتا ہے،‏ اُنہوں نے بھی ایک لحاظ سے ابراہام کے ذریعے دسواں حصہ دیا 10  کیونکہ جب مَلکی‌صدق،‏ ابراہام سے ملے تو لاوی،‏ ابراہام کی آنے والی اولاد تھے۔‏ 11  اگر لاوی کے کاہنوں کے ذریعے کامل بننا ممکن ہوتا (‏کیونکہ کاہنوں کا عہدہ اُس شریعت کا ایک پہلو تھا جو ہماری قوم کو دی گئی تھی)‏ تو ایک ایسے کاہن کی کیا ضرورت ہوتی جو ہارون جیسا نہیں بلکہ مَلکی‌صدق جیسا ہو؟‏ 12  اب چونکہ کاہنوں کا عہدہ کسی اَور کو دیا جائے گا اِس لیے ضروری ہے کہ شریعت کو بھی تبدیل کِیا جائے۔‏ 13  کیونکہ جس آدمی کے بارے میں یہ باتیں کہی گئیں،‏ وہ ایک اَور قبیلے سے ہے یعنی ایک ایسے قبیلے سے جس میں سے کسی نے کاہن کے طور پر قربانیاں نہیں چڑھائیں۔‏ 14  کیونکہ اِس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے مالک،‏ یہوداہ کے قبیلے سے ہیں حالانکہ موسیٰ نے یہ نہیں کہا تھا کہ اِس قبیلے سے کاہن آئیں گے۔‏ 15  اب جبکہ ایک نیا کاہن اُٹھا ہے جو مَلکی‌صدق جیسا ہے تو یہ بات اَور بھی واضح ہو جاتی ہے۔‏ 16  وہ شریعت کی اِس شرط کی بِنا پر کاہن نہیں بنا کہ کاہن کسی خاص قبیلے سے ہو بلکہ وہ اُس قدرت کی بِنا پر کاہن بنا جو نہ ختم ہونے والی زندگی عطا کرتی ہے۔‏ 17  کیونکہ اُس کے بارے میں یہ گواہی دی گئی کہ ”‏تُم مَلکی‌صدق جیسے کاہن ہو اور ہمیشہ رہو گے۔‏“‏ 18  لہٰذا پہلے والے حکموں کو ہٹا دیا گیا کیونکہ وہ کمزور اور بےاثر تھے۔‏ 19  کیونکہ شریعت نے کامل نہیں بنایا لیکن جس بہتر اُمید کے ذریعے ہم خدا کے قریب جاتے ہیں،‏ وہ کامل بناتی ہے۔‏ 20  اور خدا نے قسم کھا کر یسوع کو کاہن مقرر کِیا 21  ‏(‏کچھ آدمی کاہن بن گئے حالانکہ اُن سے قسم نہیں کھائی گئی تھی جبکہ یسوع اُس قسم کی بِنا پر کاہن بنے جو خدا نے کھائی تھی جس نے کہا:‏ ”‏یہوواہ* نے قسم کھائی کہ ”‏تُم ہمیشہ کاہن رہو گے“‏ اور وہ اپنا اِرادہ نہیں بدلے گا۔‏“‏)‏ 22  لہٰذا یسوع ایک بہتر عہد کی ضمانت بن گئے۔‏ 23  اِس کے علاوہ ایک کے بعد ایک آدمی کاہن بنا کیونکہ جب ایک کاہن مر جاتا تو وہ اپنی خدمت جاری نہ رکھ پاتا۔‏ 24  لیکن چونکہ یسوع ہمیشہ تک زندہ رہیں گے اِس لیے کسی اَور کو اُن کا عہدہ سنبھالنے کی ضرورت نہیں۔‏ 25  لہٰذا وہ اُن لوگوں کو مکمل نجات دِلا سکتے ہیں جو اُن کے ذریعے خدا سے دُعا کرتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ زندہ ہیں اور ہمیشہ اِن لوگوں کے لیے اِلتجائیں کر سکتے ہیں۔‏ 26  مناسب ہے کہ ہمارا ایسا کاہنِ‌اعظم ہو جو وفادار،‏ بےگُناہ،‏ پاک،‏ گُناہ‌گاروں سے الگ اور آسمانوں سے اُونچا ہے۔‏ 27  باقی کاہنِ‌اعظموں کو پہلے تو اپنے لیے اور پھر دوسروں کے لیے ہر روز قربانیاں چڑھانی پڑیں۔‏ لیکن ہمارے کاہنِ‌اعظم کو ایسا کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اُس نے اپنے آپ کو قربان کر کے ایک ہی بار ہمیشہ کے لیے قربانی چڑھا دی۔‏ 28  کیونکہ شریعت کے ذریعے ایسے آدمیوں کو کاہنِ‌اعظم مقرر کِیا جاتا ہے جن میں کمزوریاں ہیں۔‏ لیکن شریعت کے بعد جو قسم کھائی گئی،‏ اُس کے ذریعے ایک بیٹے کو مقرر کِیا گیا جسے ہمیشہ کے لیے کامل بنایا گیا ہے۔‏

فٹ‌ نوٹس

یا ”‏دہ‌یکی“‏
‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏