رومیوں 3‏:1‏-‏31

  • ‏”‏خدا ہمیشہ سچا ثابت ہو“‏ (‏1-‏8‏)‏

  • یہودی اور یونانی سب گُناہ‌گار ہیں (‏9-‏20‏)‏

  • ایمان رکھنے والا نیک ٹھہر سکتا ہے (‏21-‏31‏)‏

    • سب نے گُناہ کِیا ہے (‏23‏)‏

3  تو پھر یہودی ہونے یا ختنہ کرانے کا کیا فائدہ؟‏ 2  بڑا فائدہ ہے۔‏ پہلے تو یہ کہ خدا کے پیغام یہودیوں کے سپرد کیے گئے تھے۔‏ 3  لیکن اگر کچھ یہودیوں میں ایمان کی کمی تھی تو کیا ہوا؟‏ کیا اِس وجہ سے خدا کی سچائی جھوٹ بن جائے گی؟‏ 4  ہرگز نہیں!‏ بلکہ خدا ہمیشہ سچا ثابت ہو،‏ چاہے باقی سب جھوٹے ثابت ہوں جیسا کہ لکھا ہے:‏ ”‏تُو اپنی ساری باتوں سے نیک ثابت ہو اور جب تجھ پر اِلزام لگایا جائے تو تُو بَری ہو۔‏“‏ 5  اب اگر ہماری بُرائی سے خدا کی نیکی نمایاں ہوتی ہے تو کیا اِس کا مطلب ہے کہ خدا اپنا غضب نازل کر کے نااِنصافی کرتا ہے؟‏ (‏یہی تو بعض لوگوں کا خیال ہے۔‏)‏ 6  ہرگز نہیں!‏ ورنہ خدا دُنیا کی عدالت کیسے کرے گا؟‏ 7  اور اگر میرے جھوٹ سے خدا کی سچائی اَور نمایاں ہوتی ہے اور یوں اُس کی تعظیم ہوتی ہے تو پھر مجھے گُناہ‌گار کیوں ٹھہرایا جاتا ہے؟‏ 8  پھر تو ہم وہ بات کہہ سکتے ہیں جس کا کچھ لوگ ہم پر اِلزام لگاتے ہیں کہ ”‏آئیں،‏ بُرے کام کریں تاکہ اچھے نتیجے نکلیں۔‏“‏ ایسے لوگوں کی عدالت اِنصاف کے تقاضوں کے مطابق ہوگی۔‏ 9  تو پھر کیا ہم یہودی دوسروں سے بہتر ہیں؟‏ ہرگز نہیں!‏ ہم اِس خط میں واضح کر چکے ہیں کہ یہودی اور یونانی سب گُناہ‌گار ہیں 10  جیسا کہ لکھا ہے کہ ”‏کوئی شخص نیک نہیں،‏ ہاں،‏ ایک بھی نہیں؛‏ 11  کوئی شخص سمجھ نہیں رکھتا؛‏ کوئی شخص خدا کی تلاش نہیں کرتا۔‏ 12  سب گمراہ ہو گئے ہیں اور کسی کام کے نہیں رہے؛‏ کوئی شخص مہربان نہیں،‏ ہاں،‏ ایک بھی نہیں۔‏“‏ 13  ‏”‏اُن کا حلق کُھلی قبر ہے؛‏ اُن کی زبان دھوکےباز ہے۔‏“‏ ”‏اُن کے ہونٹوں کے پیچھے سانپ کا زہر ہے۔‏“‏ 14  ‏”‏اُن کے مُنہ بددُعاؤں اور کڑوی باتوں سے بھرے ہیں۔‏“‏ 15  ‏”‏اُن کے پاؤں تیزی سے خون بہانے کے لیے بھاگتے ہیں۔‏“‏ 16  ‏”‏اُن کی راہوں میں تباہی اور مصیبت ہے 17  اور اُن کو صلح کی راہ پر چلنا نہیں آتا۔‏“‏ 18  ‏”‏اُن کی آنکھوں میں خدا کا خوف نہیں ہے۔‏“‏ 19  ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ شریعت میں لکھا ہے،‏ وہ اُن کے لیے ہے جو شریعت کے تحت ہیں تاکہ کوئی بےقصور ہونے کا دعویٰ نہ کر سکے بلکہ ساری دُنیا خدا کی نظر میں سزا کے لائق ٹھہرے۔‏ 20  اِس لیے کوئی شخص شریعت پر عمل کرنے کی وجہ سے خدا کی نظر میں نیک نہیں ٹھہر سکتا کیونکہ شریعت کے ذریعے تو ظاہر ہوتا ہے کہ گُناہ کیا ہے۔‏ 21  لیکن اب ظاہر ہو گیا ہے کہ اِنسان شریعت پر عمل کیے بغیر خدا کی نظر میں نیک ٹھہر سکتا ہے جیسا کہ شریعت اور نبیوں کے صحیفوں میں لکھا ہے۔‏ 22  ہاں،‏ جو شخص ایمان رکھتا ہے،‏ وہ خدا کی نظر میں اِس لیے نیک ٹھہر سکتا ہے کہ وہ یسوع مسیح پر ایمان لایا ہے۔‏ کیونکہ سب لوگ برابر ہیں 23  اور سب نے گُناہ کِیا ہے اور خدا کی عظمت کو ظاہر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔‏ 24  یہ تو ایک نعمت ہے کہ اُن کو خدا کی عظیم رحمت کے ذریعے نیک قرار دیا جا رہا ہے اور اُس فدیے کے ذریعے رِہائی دِلائی جا رہی ہے جو مسیح یسوع نے ادا کِیا تھا۔‏ 25  خدا نے یسوع کو قربانی کے طور پر پیش کِیا تاکہ اُن کے خون پر ایمان لانے والے لوگوں کے گُناہوں کا کفارہ ادا ہو جائے۔‏ اُس نے ایسا اِس لیے کِیا تاکہ اُس کی نیکی ظاہر ہو جائے کیونکہ اُس نے تحمل کر کے اُن گُناہوں کو معاف کِیا جو ماضی میں ہوئے۔‏ 26  اُس نے ایسا اِس لیے بھی کِیا تاکہ اِس زمانے میں بھی اُس کی نیکی ظاہر ہو جائے اور وہ اُس وقت بھی نیک ٹھہرے جب وہ یسوع پر ایمان لانے والے شخص کو نیک قرار دے۔‏ 27  تو پھر فخر کرنے کی کیا وجہ ہے؟‏ کوئی وجہ نہیں۔‏ یہ کس شریعت کی بِنا پر کہا جا سکتا ہے؟‏ کیا اُس شریعت کی بِنا پر جو کاموں کو اہمیت دیتی ہے؟‏ نہیں،‏ بلکہ اُس شریعت کی بِنا پر جو ایمان کو اہمیت دیتی ہے۔‏ 28  کیونکہ ہم اِس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ایک شخص کو شریعت پر عمل کرنے کی وجہ سے نہیں بلکہ ایمان کی وجہ سے نیک قرار دیا جاتا ہے۔‏ 29  کیا وہ صرف یہودیوں کا خدا ہے یا غیریہودیوں کا بھی؟‏ بےشک وہ غیریہودیوں کا بھی خدا ہے۔‏ 30  چونکہ خدا ایک ہے اِس لیے وہ ہر شخص کو اپنے اپنے ایمان کی بِنا پر نیک قرار دے گا،‏ چاہے اُس کا ختنہ ہوا ہو یا نہیں۔‏ 31  تو پھر کیا ہم اپنے ایمان کے ذریعے شریعت کو مٹا دیتے ہیں؟‏ ہرگز نہیں!‏ بلکہ ہم تو اِسے برقرار رکھتے ہیں۔‏

فٹ‌ نوٹس