رومیوں 14‏:1‏-‏23

  • ایک دوسرے پر نکتہ‌چینی نہ کریں (‏1-‏12‏)‏

  • کسی کے لیے ٹھوکر کا باعث نہ بنیں (‏13-‏18‏)‏

  • اپنے کاموں سے امن کو فروغ دیں (‏19-‏23‏)‏

14  اُس شخص کو قبول کریں جس کا ایمان کمزور ہے اور اگر اُس کی رائے آپ سے فرق ہے* تو اُس پر نکتہ‌چینی نہ کریں۔‏ 2  ایک شخص کا ایمان مضبوط ہے اِس لیے وہ سب کچھ کھاتا ہے لیکن دوسرے کا ایمان کمزور ہے اِس لیے وہ صرف سبزیاں کھاتا ہے۔‏ 3  جو سب کچھ کھاتا ہے،‏ وہ اُس کو حقیر نہ جانے جو سب کچھ نہیں کھاتا۔‏ اور جو سب کچھ نہیں کھاتا،‏ وہ اُس پر نکتہ‌چینی نہ کرے جو سب کچھ کھاتا ہے کیونکہ خدا نے اُسے بھی قبول کِیا ہے۔‏ 4  آپ کون ہیں کسی اَور کے نوکر پر نکتہ‌چینی کرنے والے؟‏ اُس کا مالک یعنی خدا ہی فیصلہ کر سکتا ہے کہ وہ صحیح کر رہا ہے یا غلط۔‏ ہاں،‏ چونکہ یہوواہ* اُس کی مدد کرتا ہے اِس لیے وہ شخص اُس کے سامنے کھڑا ہو سکتا ہے۔‏ 5  ایک شخص ایک دن کو دوسرے دنوں سے زیادہ اہم خیال کرتا ہے جبکہ دوسرا کہتا ہے کہ سب دن ایک جیسے ہیں۔‏ ہر شخص کو پورا یقین ہونا چاہیے کہ وہ صحیح کام کر رہا ہے۔‏ 6  جو شخص ایک دن کو خاص مانتا ہے،‏ وہ اِسے یہوواہ* کے لیے خاص مانتا ہے۔‏ اور جو شخص کچھ کھاتا ہے،‏ وہ یہوواہ* کے لیے کھاتا ہے کیونکہ وہ خدا کا شکر کر کے کھاتا ہے اور جو شخص نہیں کھاتا،‏ وہ یہوواہ* کے لیے نہیں کھاتا اور پھر بھی خدا کا شکر کرتا ہے۔‏ 7  ہم میں سے کوئی بھی صرف اپنے لیے نہیں جیتا اور کوئی بھی صرف اپنے لیے نہیں مرتا 8  کیونکہ اگر ہم جیتے ہیں تو ہم یہوواہ* کے لیے جیتے ہیں اور اگر ہم مرتے ہیں تو ہم یہوواہ* کے لیے مرتے ہیں۔‏ لہٰذا چاہے ہم جئیں یا مریں،‏ ہم یہوواہ* کے ہیں۔‏ 9  کیونکہ مسیح اِس لیے مرا اور دوبارہ زندہ ہوا کہ وہ مُردوں اور زندوں کا مالک ہو۔‏ 10  تو پھر آپ اپنے بھائی پر نکتہ‌چینی کیوں کرتے ہیں؟‏ آپ اپنے بھائی کو حقیر کیوں جانتے ہیں؟‏ ہم سب خدا کے تختِ‌عدالت کے سامنے کھڑے ہوں گے۔‏ 11  کیونکہ لکھا ہے کہ ”‏یہوواہ* کہتا ہے:‏ ”‏بےشک ہر شخص میرے سامنے گھٹنے ٹیکے گا اور ہر شخص اپنی زبان سے میرا اِقرار کرے گا۔‏“‏ “‏ 12  لہٰذا ہم سب کو خدا کے سامنے حساب دینا پڑے گا۔‏ 13  اِس لیے آئیں،‏ آئندہ ایک دوسرے پر نکتہ‌چینی نہ کریں بلکہ ٹھان لیں کہ ہم کسی کے لیے ٹھوکر کا باعث یا رُکاوٹ نہیں بنیں گے۔‏ 14  مالک یسوع کے پیروکار ہونے کے ناتے مَیں جانتا ہوں اور مجھے پکا یقین ہے کہ کوئی چیز بذاتِ‌خود ناپاک نہیں ہوتی بلکہ جب ایک شخص کسی چیز کو ناپاک سمجھتا ہے تو پھر وہ اُس کے لیے ناپاک ہوتی ہے۔‏ 15  اگر اُس چیز کی وجہ سے جو آپ کھاتے ہیں،‏ آپ کے بھائی کو ٹھیس پہنچتی ہے تو آپ نے محبت کی راہ کو چھوڑ دیا ہے۔‏ اپنے کھانے کے ذریعے اُس شخص کو تباہ نہ کریں جس کے لیے مسیح نے جان دی۔‏ 16  کوئی ایسا کام نہ کریں جس کی وجہ سے آپ کے اچھے کاموں کو بُرا کہا جائے۔‏ 17  کیونکہ خدا کی بادشاہت کا مطلب کھانا پینا نہیں بلکہ نیکی،‏ امن اور پاک روح سے ملنے والی خوشی ہے۔‏ 18  کیونکہ جو شخص اِس طرح سے مسیح کی غلامی کرتا ہے،‏ اُسے خدا اور اِنسانوں کی خوشنودی حاصل ہے۔‏ 19  اِس لیے آئیں،‏ ایسے کام کریں جن سے امن کو فروغ ملے اور دوسروں کی حوصلہ‌افزائی ہو۔‏ 20  کھانے کی خاطر خدا کے کام کو برباد کرنا چھوڑ دیں۔‏ یہ سچ ہے کہ سب چیزیں پاک ہیں لیکن اگر ایک شخص کوئی ایسی چیز کھاتا ہے جس سے دوسرے گمراہ ہو سکتے ہیں تو یہ غلط* ہے۔‏ 21  اچھا ہوگا کہ آپ گوشت نہ کھائیں یا مے نہ پئیں یا ایسا کوئی اَور کام نہ کریں جس کی وجہ سے آپ کا بھائی گمراہ ہو۔‏ 22  اِن چیزوں کے بارے میں آپ کا اِعتقاد صرف آپ کے اور خدا کے درمیان رہے۔‏ وہ شخص خوش ہے جو اپنے فیصلے کی وجہ سے خود کو قصوروار نہیں ٹھہراتا۔‏ 23  اگر وہ شک کرتا ہے اور پھر بھی کھاتا ہے تو وہ خود کو قصوروار ٹھہراتا ہے کیونکہ وہ اِعتقاد نہیں رکھتا۔‏ بےشک جو کام اِعتقاد کی بِنا پر نہیں کِیا جاتا،‏ وہ گُناہ ہے۔‏

فٹ‌ نوٹس

یا شاید ”‏اگر وہ اُلجھن میں ہے“‏
‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏
‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏
‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏
‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏
‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏
‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏
‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏
‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏
یا ”‏نقصان‌دہ“‏