اِفسیوں 4‏:1‏-‏32

  • مسیح کے جسم میں اِتحاد (‏1-‏16‏)‏

    • آدمیوں کے رُوپ میں نعمت (‏8‏)‏

  • پُرانی اور نئی شخصیت (‏17-‏32‏)‏

4  مَیں جو مالک کی وجہ سے قید ہوں،‏ آپ سے اِلتجا کرتا ہوں کہ اپنے چال‌چلن سے ظاہر کریں کہ آپ اُس بلاوے کے لائق ہیں جس کے لیے آپ کو بلایا گیا تھا 2  یعنی خاکساری،‏ نرم‌مزاجی اور صبر کے ساتھ چلیں اور محبت کی بِنا پر ایک دوسرے کی برداشت کریں۔‏ 3  اُس اِتحاد کو برقرار رکھنے کی پوری کوشش کریں جو ہمیں پاک روح کے ذریعے حاصل ہے اور صلح کے بندھن کو قائم رکھیں۔‏ 4  جسم ایک ہے؛‏ روح ایک ہے؛‏ وہ اُمید ایک ہے جس کے لیے آپ کو بلایا گیا تھا؛‏ 5  مالک ایک ہے؛‏ ایمان ایک ہے؛‏ بپتسمہ ایک ہے؛‏ 6  اور خدا بھی ایک ہے جو سب کا باپ ہے،‏ سب کا مالک ہے،‏ سب کے ذریعے کام کرتا ہے اور اپنی روح کے ذریعے سب پر اثر کرتا ہے۔‏ 7  جس طرح مسیح نے نعمت بانٹی ہے،‏ اُس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کو عظیم رحمت دی گئی ہے۔‏ 8  کیونکہ لکھا ہے کہ ”‏جب وہ اُوپر گیا تو اُس نے قیدی لیے؛‏ اُس نے آدمیوں کے رُوپ میں نعمتیں دیں۔‏“‏ 9  اب اِس اِصطلاح کا کیا مطلب ہے کہ ”‏وہ اُوپر گیا“‏؟‏ کیا اِس کا مطلب یہ نہیں کہ پہلے وہ اُوپر سے نیچے آیا یعنی زمین پر آیا؟‏ 10  جو شخص آسمان سے زمین پر آیا،‏ وہ وہی ہے جو سب آسمانوں سے اُوپر گیا تاکہ تمام چیزوں کو پورا کرے۔‏ 11  اُس نے کچھ آدمی رسولوں کے طور پر دیے اور کچھ نبیوں کے طور پر،‏ کچھ مبشروں کے طور پر اور کچھ چرواہوں اور اُستادوں کے طور پر دیے 12  تاکہ وہ تب تک مُقدسوں کی اِصلاح* کریں،‏ خدمت کریں اور مسیح کے جسم* کو مضبوط کریں 13  جب تک ہم سب ایمان میں متحد نہ ہوں،‏ خدا کے بیٹے کے بارے میں صحیح علم نہ رکھیں اور پُختہ نہ ہو جائیں یعنی مسیح کی طرح مکمل طور پر پُختہ نہ ہو جائیں۔‏ 14  اُس نے ایسا اِس لیے کِیا تاکہ ہم بچوں کی طرح نہ ہوں اور لہروں کے زور پر اِدھر اُدھر ہچکولے نہ کھائیں اور تعلیمات کے جھونکوں سے یہاں وہاں دھکیلے نہ جائیں یعنی اُن آدمیوں کے دھوکے میں نہ آئیں جو چالاکی سے بُرے منصوبے باندھ کر لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔‏ 15  اِس کی بجائے آئیں،‏ ہم سچ بولیں اور محبت کی بِنا پر جسم کے سر یعنی مسیح کے تحت ہر لحاظ سے پُختہ بنیں۔‏ 16  اُسی کے ذریعے جسم کے تمام اعضا ترتیب سے جُڑے ہوئے ہیں اور اُن جوڑوں کی وجہ سے ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں جو اپنا اپنا کام انجام دیتے ہیں۔‏ جب ہر عضو صحیح طور پر کام کرتا ہے تو جسم کی نشوونما ہوتی ہے اور وہ محبت کی بِنا پر مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے۔‏ 17  لہٰذا مَیں مالک کے سامنے آپ سے یہ کہتا اور تاکید کرتا ہوں کہ آئندہ دُنیا کے لوگوں کی طرح نہ چلیں جو اپنی فضول سوچ کے مطابق چلتے ہیں۔‏ 18  اُن کی سمجھ پر تاریکی چھا گئی ہے اور وہ اُس زندگی سے الگ ہیں جو خدا سے ملتی ہے کیونکہ وہ خدا کو جاننا ہی نہیں چاہتے اور اُن کے دل سُن ہیں۔‏ 19  اُنہوں نے شرم‌وحیا کی حد پار کر لی ہے،‏ وہ ہٹ‌دھرمی سے غلط کام* کرنے میں مگن ہیں اور بڑے شوق* سے ناپاک کام کرتے رہتے ہیں۔‏ 20  لیکن آپ نے جان لیا ہے کہ مسیح ایسا نہیں ہے 21  بشرطیکہ آپ نے اُس کی باتیں سنی ہوں اور اُس کے ذریعے تعلیم پائی ہو کیونکہ یسوع سچائی ہیں۔‏ 22  آپ کو سکھایا گیا تھا کہ اُس پُرانی شخصیت کو اُتار دیں جو آپ کے پچھلے چال‌چلن کے مطابق ڈھلی ہوئی ہے اور جو اپنی بُری خواہشوں کی وجہ سے بگڑی ہوئی ہے۔‏ 23  آپ کو یہ بھی سکھایا گیا تھا کہ اپنی سوچ* کو نیا بناتے جائیں 24  اور اُس نئی شخصیت کو پہن لیں جو خدا کی مرضی کے مطابق ڈھالی گئی ہے اور حقیقی نیکی اور وفاداری پر مبنی ہے۔‏ 25  اب جبکہ آپ نے جھوٹ بولنا بند کر دیا ہے،‏ آپ میں سے ہر ایک اپنے پڑوسی کے ساتھ سچ بولے کیونکہ ہم سب ایک ہی جسم کے اعضا ہیں۔‏ 26  جب آپ کو غصہ آئے تو گُناہ نہ کریں بلکہ سورج کے ڈوبنے تک اپنا غصہ دُور کر لیں 27  اور اِبلیس کو موقع نہ دیں۔‏ 28  چور آئندہ چوری نہ کرے بلکہ اپنے ہاتھوں سے محنت کرے اور اچھا کام کرے تاکہ وہ ضرورت‌مندوں کی مدد کر سکے۔‏ 29  آپ کے مُنہ سے کوئی بُری بات نہ نکلے بلکہ ایسی اچھی بات نکلے جس سے ضرورت کے وقت دوسروں کی حوصلہ‌افزائی ہو اور سننے والوں کو فائدہ پہنچے۔‏ 30  خدا کی پاک روح کو غمگین نہ کریں کیونکہ اِس کے ساتھ آپ پر مُہر لگائی گئی ہے تاکہ آپ کو مقررہ دن پر فدیے کے ذریعے رِہائی ملے۔‏ 31  ہر طرح کی رنجش،‏ غصے،‏ غضب،‏ چیخنے چلّانے،‏ گالی‌گلوچ اور نقصان‌دہ باتوں سے باز رہیں۔‏ 32  اِس کی بجائے ایک دوسرے سے مہربانی اور ہمدردی سے پیش آئیں اور دل سے ایک دوسرے کو معاف کریں،‏ بالکل ویسے ہی جیسے خدا نے مسیح کے ذریعے آپ کو دل سے معاف کِیا ہے۔‏

فٹ‌ نوٹس

یا ”‏تربیت“‏
یعنی کلیسیا
یا ”‏بےشرمی سے غلط کام۔‏“‏ یونانی لفظ:‏ ”‏اسیلگیا۔‏“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ میں ”‏ہٹ‌دھرم چال‌چلن“‏ کو دیکھیں۔‏
یا ”‏لالچ“‏
یا ”‏ذہنی رُجحان۔‏“‏ یونانی میں:‏ ”‏ذہن کی روح“‏