اعمال 5‏:1‏-‏42

  • حننیاہ اور سفیرہ (‏1-‏11‏)‏

  • رسول بہت سے معجزے دِکھاتے (‏12-‏16‏)‏

  • گِرفتاری اور رِہائی (‏17-‏21‏)‏

  • عدالتِ‌عظمیٰ کے سامنے دوبارہ پیشی (‏21-‏32‏)‏

    • خدا کا کہنا ماننا زیادہ ضروری ہے (‏29‏)‏

  • گملی‌ایل کا مشورہ (‏33-‏40‏)‏

  • شاگرد گھر گھر جا کر تعلیم دیتے (‏41،‏ 42‏)‏

5  اور ایک آدمی حننیاہ اور اُس کی بیوی سفیرہ نے بھی کچھ زمین بیچی۔‏ 2  مگر اُس نے اپنی بیوی کی رضامندی کے ساتھ بڑی چالاکی سے کچھ رقم اپنے پاس رکھ لی اور باقی لا کر رسولوں کے قدموں میں رکھ دی۔‏ 3  پطرس نے اُس سے کہا:‏ ”‏حننیاہ،‏ آپ نے شیطان کے بہکاوے میں آ کر پاک روح سے جھوٹ کیوں بولا اور زمین کی کچھ رقم اپنے پاس کیوں رکھی؟‏ 4  کیا وہ زمین آپ کی نہیں تھی؟‏ اور جب آپ نے اِسے بیچا تو کیا وہ رقم آپ کی نہیں تھی؟‏ تو پھر آپ نے ایسی حرکت کرنے کا کیوں سوچا؟‏ آپ نے اِنسانوں سے نہیں بلکہ خدا سے جھوٹ بولا ہے۔‏“‏ 5  یہ سُن کر حننیاہ گِر پڑا اور مر گیا۔‏ اور جس جس نے بھی یہ خبر سنی،‏ اُس پر خوف چھا گیا۔‏ 6  پھر جوان آدمی اُٹھے اور اُس کی لاش کو کپڑوں میں لپیٹا اور لے جا کر دفنا دیا۔‏ 7  اِس کے کوئی تین گھنٹے بعد اُس کی بیوی وہاں آئی۔‏ اُسے نہیں پتہ تھا کہ اُس کے شوہر کے ساتھ کیا ہوا ہے۔‏ 8  پطرس نے اُس سے پوچھا:‏ ”‏کیا آپ دونوں نے زمین اِتنے ہی پیسوں میں بیچی تھی؟‏“‏ اُس نے جواب دیا:‏ ”‏جی،‏ اِتنے ہی پیسوں میں بیچی تھی۔‏“‏ 9  اِس پر پطرس نے کہا:‏ ”‏آپ دونوں نے یہوواہ* کی روح کا اِمتحان لینے کا منصوبہ کیوں بنایا؟‏ دیکھیں!‏ جو لوگ آپ کے شوہر کو دفنا کر آئے ہیں،‏ وہ دروازے پر کھڑے ہیں اور آپ کو بھی اُٹھا کر لے جائیں گے۔‏“‏ 10  اُسی لمحے وہ پطرس کے قدموں میں گِری اور مر گئی۔‏ جب جوان آدمی اندر آئے تو اُنہوں نے دیکھا کہ وہ مر گئی ہے۔‏ وہ اُسے اُٹھا کر لے گئے اور اُس کے شوہر کے ساتھ دفنا دیا۔‏ 11  تب پوری کلیسیا* پر اور اُن سب پر خوف طاری ہو گیا جنہوں نے اِس واقعے کے بارے میں سنا۔‏ 12  اور رسول سرِعام بہت سے معجزے اور نشانیاں دِکھاتے اور وہ سب سلیمان کے برآمدے میں جمع ہوتے۔‏ 13  اور دوسرے لوگوں میں اِتنی جُرأت نہیں تھی کہ اُن کے ساتھ جمع ہوں لیکن وہ اُن کی تعریف ضرور کرتے تھے۔‏ 14  اور بہت سے آدمی اور عورتیں ہمارے مالک پر ایمان لائے اور شاگردوں کی تعداد میں اِضافہ ہوتا گیا۔‏ 15  لوگ بیماروں کو چوکوں میں لاتے اور اُنہیں چارپائیوں اور چٹائیوں پر لِٹاتے تاکہ جب پطرس وہاں سے گزریں تو اُن کا سایہ ہی اُن پر پڑ جائے۔‏ 16  اِس کے علاوہ یروشلیم کے آس‌پاس کے شہروں سے لوگ بیماروں کو اور اُن لوگوں کو لاتے جو بُرے فرشتوں* کے قبضے میں تھے اور وہ سب کے سب ٹھیک ہو جاتے۔‏ 17  لیکن کاہنِ‌اعظم اور اُس کے ساتھی جو صدوقی فرقے کے تھے،‏ حسد کے مارے رسولوں کے خلاف اُٹھے 18  اور اُنہیں گِرفتار کر کے شہر کے قیدخانے میں ڈال دیا۔‏ 19  مگر یہوواہ* کے فرشتے نے رات کو قیدخانے کے دروازے کھول دیے اور رسولوں کو باہر لا کر کہا:‏ 20  ‏”‏ہیکل* میں جائیں اور لوگوں کو زندگی کا پیغام سنائیں۔‏“‏ 21  رسول صبح سویرے ہیکل میں گئے اور لوگوں کو تعلیم دینے لگے۔‏ اِس دوران کاہنِ‌اعظم اور اُس کے ساتھیوں نے عدالتِ‌عظمیٰ اور بنی‌اِسرائیل کے بزرگوں کی جماعت کو اِکٹھا کِیا اور سپاہیوں کو بھیجا تاکہ رسولوں کو قیدخانے سے لائیں۔‏ 22  لیکن جب سپاہی وہاں پہنچے تو رسول قیدخانے میں نہیں تھے۔‏ لہٰذا اُنہوں نے واپس آ کر یہ خبر دی کہ 23  ‏”‏قیدخانے کو تالا لگا ہوا تھا اور سپاہی دروازوں پر پہرا دے رہے تھے لیکن جب ہم نے قیدخانے کو کھولا تو وہاں کوئی نہیں تھا۔‏“‏ 24  جب ہیکل کے نگران اور اعلیٰ کاہنوں نے یہ سنا تو وہ سوچنے لگے کہ اب کیا ہوگا؟‏ 25  اِسی دوران کسی نے آ کر خبر دی کہ ”‏دیکھیں!‏ جن آدمیوں کو آپ نے قید میں ڈالا تھا،‏ وہ ہیکل میں ہیں اور لوگوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔‏“‏ 26  اِس پر ہیکل کا نگران اپنے سپاہیوں کے ساتھ گیا۔‏ وہ رسولوں کو لے کر آئے لیکن زبردستی نہیں کیونکہ اُنہیں ڈر تھا کہ اُن پر پتھراؤ کِیا جائے گا۔‏ 27  اُنہوں نے رسولوں کو لا کر عدالتِ‌عظمیٰ کے سامنے کھڑا کر دیا۔‏ پھر کاہنِ‌اعظم نے رسولوں سے پوچھ‌گچھ کی 28  اور کہا:‏ ”‏ہم نے تمہیں کتنی سختی سے تاکید کی تھی کہ اِس نام سے تعلیم نہ دینا لیکن تُم لوگوں نے تو پورے یروشلیم میں اپنی تعلیم پھیلا دی ہے اور اُس آدمی کا خون ہمارے سر ڈالنے پر تُلے ہو۔‏“‏ 29  اِس پر پطرس اور باقی رسولوں نے جواب دیا:‏ ”‏ہمارے لیے خدا کا کہنا ماننا اِنسانوں کا کہنا ماننے سے زیادہ ضروری ہے۔‏ 30  ہمارے باپ‌دادا کے خدا نے یسوع کو زندہ کِیا جن کو آپ لوگوں نے سُولی* پر لٹکا کر مار ڈالا تھا۔‏ 31  خدا نے اُنہی کو اپنی دائیں طرف بیٹھنے کا شرف دیا اور اُنہیں عظیم پیشوا اور نجات‌دہندہ بنایا تاکہ اِسرائیل کو توبہ کرنے اور گُناہوں کی معافی حاصل کرنے کا موقع ملے۔‏ 32  اور ہم اِن باتوں کے گواہ ہیں اور پاک روح بھی اِن کی گواہ ہے۔‏ یہ وہی پاک روح ہے جو خدا نے اُن لوگوں کو دی ہے جو اُس کا کہنا مانتے ہیں۔‏“‏ 33  یہ سُن کر وہ آگ‌بگولا ہو گئے اور رسولوں کو مار ڈالنا چاہتے تھے۔‏ 34  لیکن پھر عدالتِ‌عظمیٰ میں ایک فریسی کھڑا ہوا جس کا نام گملی‌ایل تھا۔‏ وہ شریعت کا عالم تھا اور سب لوگ اُس کی بڑی عزت کرتے تھے۔‏ اُس نے حکم دیا کہ ”‏اِن کو تھوڑی دیر کے لیے باہر لے جاؤ۔‏“‏ 35  پھر اُس نے کہا:‏ ”‏اِسرائیل کے پیشواؤ،‏ سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں کہ آپ اِن آدمیوں کے ساتھ کیا کریں گے۔‏ 36  یاد ہے کہ کچھ عرصہ پہلے تھیوداس اُٹھا تھا جو اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتا تھا۔‏ اُس نے تقریباً 400 آدمیوں کو اپنے ساتھ ملا لیا۔‏ لیکن وہ مارا گیا اور اُس کے ساتھی تتربتر ہو گئے اور اُن کی تحریک ناکام ہو گئی۔‏ 37  اِس کے بعد مردم‌شماری کے زمانے میں گلیل کا یہوداہ اُٹھا تھا۔‏ اُس نے بھی لوگوں کو اپنے پیچھے لگا لیا تھا۔‏ لیکن وہ بھی مر گیا اور اُس کے حمایتی بھی تتربتر ہو گئے۔‏ 38  لہٰذا موجودہ صورتحال میں میرا مشورہ ہے کہ اِن آدمیوں کے کام میں دخل نہ دیں بلکہ اِنہیں چھوڑ دیں۔‏ کیونکہ اگر یہ تعلیم یا کام اِنسانوں کی طرف سے ہے تو یہ مٹ جائے گا۔‏ 39  لیکن اگر یہ خدا کی طرف سے ہے تو آپ اِسے مٹا نہیں سکیں گے۔‏ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ خدا کا مقابلہ کرنے والے بن جائیں۔‏“‏ 40  اُن لوگوں نے گملی‌ایل کا مشورہ مان لیا اور رسولوں کو بلوایا،‏ اُنہیں پٹوایا اور حکم دیا کہ یسوع کے نام سے تعلیم دینا بند کر دیں اور پھر اُنہیں جانے دیا۔‏ 41  جب رسول عدالتِ‌عظمیٰ کے سامنے سے گئے تو وہ بہت خوش تھے کیونکہ اُنہیں یسوع کے نام کی خاطر بےعزت ہونے کا شرف ملا۔‏ 42  اور وہ ہر دن ہیکل میں اور گھر گھر جا کر تعلیم دیتے رہے اور مسیح یسوع کے بارے میں خوش‌خبری سناتے رہے۔‏

فٹ‌ نوٹس

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏
یا ”‏جماعت“‏
یونانی میں:‏ ”‏ناپاک روحوں“‏
‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏
یعنی خدا کا گھر
یا ”‏درخت“‏