اعمال 27‏:1‏-‏44

  • پولُس روم کے لیے روانہ ہوتے ہیں (‏1-‏12‏)‏

  • جہاز طوفان میں گِھر جاتا ہے (‏13-‏38‏)‏

  • جہاز تباہ ہو جاتا ہے (‏39-‏44‏)‏

27  جب یہ فیصلہ ہو گیا کہ ہمیں اِطالیہ بھیجا جائے گا تو اُنہوں نے پولُس اور کچھ اَور قیدیوں کو اوگوستُس کے دستے کے ایک فوجی افسر کے حوالے کِیا جس کا نام یُولیُس تھا۔‏ 2  ہم ایک جہاز پر سوار ہوئے جو ادرمتیُم سے آیا تھا اور صوبہ آسیہ کے ساحل کی بندرگاہوں کی طرف جا رہا تھا۔‏ ہمارے ساتھ ارِسترخس بھی تھے جو مقدونیہ کے شہر تھسلُنیکے سے تھے۔‏ 3  اگلے دن ہم صیدا پہنچے۔‏ یُولیُس نے پولُس پر مہربانی کر کے اُنہیں اُن کے دوستوں سے ملنے کی اِجازت دی جنہوں نے اُن کی خاطرتواضع کی۔‏ 4  پھر جہاز وہاں سے روانہ ہوا اور ہم قبرص کی آڑ لیتے ہوئے آگے بڑھے کیونکہ ہوا ہمارے مخالف تھی۔‏ 5  ہم کِلکیہ اور پمفیلیہ سے گزر کر لوکیہ میں مورہ کی بندرگاہ پر اُترے۔‏ 6  وہاں فوجی افسر یُولیُس کو ایک جہاز ملا جو اِسکندریہ سے آ رہا تھا اور اِطالیہ جا رہا تھا اور اُس نے ہمیں اُس جہاز پر سوار ہونے کا حکم دیا۔‏ 7  پھر ہم کافی دنوں تک آہستہ آہستہ سفر کرتے ہوئے بڑی مشکل سے کنیدُس پہنچے۔‏ لیکن چونکہ ہوا کا رُخ ہمارے خلاف تھا اِس لیے ہم سلمونے سے گزر کر کرِیٹ کی آڑ لیتے ہوئے آگے بڑھے۔‏ 8  ہمارا جہاز بڑی مشکل سے ساحل کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے شہر لسیہ کے قریب ایک بندرگاہ پر پہنچا جس کا نام حسین بندرگاہ ہے۔‏ 9  اِس دوران کافی وقت گزر چُکا تھا یہاں تک کہ یومِ‌کفارہ کا روزہ* بھی گزر چُکا تھا اور اب سمندری سفر جاری رکھنا خطرناک تھا۔‏ لہٰذا پولُس نے مشورہ دیا کہ 10  ‏”‏بھائیو،‏ اگر ہم سفر جاری رکھیں گے تو ہمیں بڑا نقصان اُٹھانا پڑے گا؛‏ نہ صرف مال اور جہاز کا بلکہ ہماری جانوں کا بھی۔‏“‏ 11  لیکن فوجی افسر نے پولُس کی بات سننے کی بجائے جہاز کے مالک اور کپتان کی بات مانی۔‏ 12  یہ بندرگاہ سردیاں گزارنے کے لیے مناسب نہیں تھی اِس لیے زیادہ‌تر لوگوں نے مشورہ دیا کہ وہاں سے روانہ ہو کر فینِکس پہنچنے کی کوشش کی جائے تاکہ وہاں سردی کا موسم گزارا جا سکے۔‏ فینِکس کرِیٹ کی ایک بندرگاہ ہے جو شمال مشرق اور جنوب مشرق سے کُھلی ہے۔‏ 13  جب جنوب کی طرف سے ہلکی ہلکی ہوا چلنے لگی تو ملاحوں نے سوچا کہ اب وہ فینِکس پہنچ جائیں گے۔‏ اِس لیے اُنہوں نے لنگر اُٹھا دیا اور کرِیٹ کے ساحل کے ساتھ ساتھ آگے بڑھنے لگے۔‏ 14  لیکن تھوڑی دیر بعد ایک دم سے شمال مشرق سے طوفانی ہوا چلنے لگی جسے یورکلون کہا جاتا ہے۔‏ 15  جہاز طوفان میں گِھر گیا اور ہمارے لیے ہوا کو چیر کر آگے بڑھنا مشکل ہو گیا۔‏ اِس لیے ہم نے ہار مان لی اور اِسے ہوا کے رُخ پر بہنے دیا۔‏ 16  پھر ہم نے ایک چھوٹے سے جزیرے کی آڑ لی جس کا نام کودہ ہے۔‏ لیکن پھر بھی ملاح مشکل سے ہی جہاز کے پچھلے حصے سے بندھی ڈونگی کو بچا پائے۔‏ 17  اُنہوں نے اِسے جہاز پر چڑھایا اور پھر جہاز کو زیادہ مضبوط بنانے کے لیے اِس کے اِردگِرد رسے باندھے۔‏ اُنہیں ڈر تھا کہ جہاز خلیجِ‌سُورتِس* کی ریت میں دھنس جائے گا۔‏ اِس لیے اُنہوں نے بادبان کی رسیاں ڈھیلی کر دیں اور جہاز کو ہوا کے رُخ پر بہنے دیا۔‏ 18  طوفانی لہریں جہاز کو اِدھر اُدھر اُچھال رہی تھیں اِس لیے دوسرے دن اُنہوں نے جہاز کو ہلکا کرنے کے لیے مال سمندر میں پھینکنا شروع کِیا 19  اور تیسرے دن تو اُنہوں نے اپنے ہاتھوں سے بادبان کی رسیاں اور چرخیاں سمندر میں پھینک دیں۔‏ 20  کافی دنوں تک سورج اور ستارے دِکھائی نہیں دیے اور طوفان کی شدت برقرار رہی۔‏ آخر ہم اُمید کا دامن ہاتھ سے چھوڑنے لگے۔‏ 21  جب لوگوں نے بہت دنوں تک کچھ نہیں کھایا تو پولُس کھڑے ہو گئے اور اُن سے کہا:‏ ”‏بھائیو،‏ اگر آپ میرا مشورہ مان لیتے اور کرِیٹ سے روانہ نہ ہوتے تو ہمیں اِتنا نقصان نہ اُٹھانا پڑتا۔‏ 22  بہرحال اب میرا مشورہ ہے کہ ہمت باندھیں کیونکہ آپ میں سے کسی کی جان نہیں جائے گی،‏ صرف جہاز غرق ہوگا۔‏ 23  رات کو اُس خدا کا ایک فرشتہ میرے پاس آیا جس کی مَیں عبادت اور خدمت کرتا ہوں۔‏ 24  اُس نے مجھ سے کہا:‏ ”‏پولُس،‏ خوف‌زدہ نہ ہوں۔‏ آپ قیصر کے سامنے ضرور جائیں گے۔‏ اور دیکھیں،‏ خدا آپ کی خاطر اُن لوگوں کو بچائے گا جو آپ کے ساتھ سفر کر رہے ہیں۔‏“‏ 25  لہٰذا بھائیو،‏ ہمت باندھیں!‏ کیونکہ مجھے پورا یقین ہے کہ خدا کی بات ضرور پوری ہوگی۔‏ 26  لیکن یہ طے ہے کہ ہمارا جہاز کسی جزیرے کے قریب غرق ہوگا۔‏“‏ 27  چودہویں رات جب ہمارا جہاز بحیرۂادریہ میں ہچکولے کھا رہا تھا تو آدھی رات کو ملاحوں کو لگا کہ ہم خشکی کے قریب ہیں۔‏ 28  اِس لیے اُنہوں نے گہرائی ناپی اور یہ 120 فٹ* تھی۔‏ جب ہم تھوڑا اَور آگے بڑھے تو اُنہوں نے دوبارہ گہرائی ناپی اور یہ 90 ‏(‏نوے)‏ فٹ* تھی۔‏ 29  اُنہیں ڈر تھا کہ کہیں جہاز پانی کے نیچے چھپی چٹانوں سے نہ ٹکرا جائے اِس لیے اُنہوں نے جہاز کی پچھلی طرف سے چار لنگر ڈال دیے اور بےتابی سے صبح ہونے کا اِنتظار کرنے لگے۔‏ 30  لیکن پھر ملاح جہاز سے فرار ہونے کی کوشش کرنے لگے اور اِس بہانے ڈونگی کو سمندر میں اُتارنے لگے کہ وہ جہاز کے اگلی طرف لنگر ڈالنے جا رہے ہیں۔‏ 31  پولُس نے فوجی افسر اور باقی فوجیوں سے کہا:‏ ”‏اگر یہ آدمی جہاز پر نہ رہے تو آپ میں سے کوئی بھی نہیں بچے گا۔‏“‏ 32  لہٰذا فوجیوں نے ڈونگی کے رسے کاٹ دیے اور اِسے سمندر میں گِرا دیا۔‏ 33  جب صبح ہونے والی تھی تو پولُس نے سب کو سمجھایا کہ کچھ کھا لیں۔‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏دیکھیں،‏ آج چودہواں دن ہے کہ آپ پریشانی کی حالت میں ہیں اور آپ نے کچھ نہیں کھایا۔‏ 34  لہٰذا کچھ کھا لیں کیونکہ اِس میں آپ کا فائدہ ہے۔‏ یقین مانیں،‏ آپ کے ایک بال کو بھی نقصان نہیں پہنچے گا۔‏“‏ 35  اِس کے بعد اُنہوں نے روٹی لی،‏ اُن سب کے سامنے خدا کا شکریہ ادا کِیا اور پھر اِسے توڑ کر کھانے لگے۔‏ 36  لہٰذا اُن سب کا حوصلہ بڑھا اور وہ بھی کھانا کھانے لگے۔‏ 37  جہاز پر کُل ملا کر 276 ‏(‏دو سو چھہتر)‏ لوگ* تھے۔‏ 38  جب اُنہوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھا لیا تو اُنہوں نے جہاز کو ہلکا کرنے کے لیے گندم سمندر میں پھینک دی۔‏ 39  صبح ہونے پر اُنہیں خشکی دِکھائی دی لیکن وہ اُس جگہ کو پہچان نہیں پائے۔‏ پھر اُنہیں ساحل پر ایک خلیج دِکھائی دی اور اُنہوں نے طے کِیا کہ وہ جہاز کو وہاں لے جانے کی کوشش کریں گے۔‏ 40  لہٰذا اُنہوں نے لنگر کاٹ کر سمندر میں گِرا دیے اور ساتھ ہی پتواروں کی رسیاں بھی ڈھیلی کر دیں۔‏ پھر اُنہوں نے سامنے والا بادبان چڑھایا اور ہوا کے زور پر ساحل کی طرف بڑھنے لگے۔‏ 41  آخر جہاز ایک ایسی جگہ پہنچا جہاں پانی کے نیچے ریت کا تودہ تھا اور اِس کا اگلا حصہ اُس ریت میں دھنس گیا جبکہ پچھلا حصہ طوفانی لہروں کے تھپیڑوں سے ٹکڑے ٹکڑے ہونے لگا۔‏ 42  یہ دیکھ کر فوجیوں نے فیصلہ کِیا کہ وہ قیدیوں کو مار ڈالیں گے تاکہ کوئی قیدی تیر کر فرار نہ ہو جائے۔‏ 43  لیکن فوجی افسر نے اُنہیں ایسا کرنے سے روکا کیونکہ وہ پولُس کو بچانا چاہتا تھا۔‏ اُس نے حکم دیا کہ پہلے وہ لوگ سمندر میں چھلانگ لگائیں جو تیر سکتے ہیں اور ساحل پر پہنچ جائیں 44  پھر باقی لوگ چھلانگ لگائیں اور جہاز کے تختوں اور دوسرے حصوں کو پکڑ کر ساحل تک پہنچ جائیں۔‏ آخر سب لوگ صحیح سلامت خشکی پر پہنچ گئے۔‏

فٹ‌ نوٹس

یہ روزہ ستمبر یا اکتوبر میں ہوتا تھا جس کے بعد بارشیں اور طوفان شروع ہو جاتے تھے۔‏
‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏
یونانی میں:‏ ”‏20 اورگیا“‏
یونانی میں:‏ ”‏15 اورگیا“‏
یونانی میں:‏ ”‏جانیں“‏