اعمال 23‏:1‏-‏35

  • پولُس عدالتِ‌عظمیٰ سے مخاطب ہوتے ہیں (‏1-‏10‏)‏

  • یسوع،‏ پولُس کی ہمت بڑھاتے ہیں (‏11‏)‏

  • پولُس کو قتل کرنے کی سازش (‏12-‏22‏)‏

  • پولُس کو قیصریہ لے جایا جاتا ہے (‏23-‏35‏)‏

23  پھر پولُس نے عدالتِ‌عظمیٰ کی طرف دیکھا اور کہا:‏ ”‏بھائیو،‏ مَیں نے آج تک خدا کے حضور اِس طرح سے زندگی گزاری ہے کہ میرا ضمیر بالکل صاف ہے۔‏“‏ 2  یہ سُن کر کاہنِ‌اعظم حننیاہ نے پولُس کے پاس کھڑے لوگوں کو حکم دیا کہ اُن کے مُنہ پر تھپڑ ماریں۔‏ 3  اِس پر پولُس نے اُس سے کہا:‏ ”‏منافق!‏* خدا تمہیں مارے گا!‏ ایک طرف تو تُم شریعت کے مطابق مجھ پر مُقدمہ چلانے بیٹھے ہو اور دوسری طرف مجھے مارنے کا حکم دے کر شریعت کی خلاف‌ورزی کر رہے ہو۔‏“‏ 4  وہاں کھڑے لوگوں نے اُن سے کہا:‏ ”‏ابے،‏ تُو خدا کے کاہنِ‌اعظم کی توہین کر رہا ہے؟‏“‏ 5  پولُس نے جواب دیا:‏ ”‏بھائیو،‏ مجھے نہیں پتہ تھا کہ یہ کاہنِ‌اعظم ہیں۔‏ مجھے معلوم ہے کہ لکھا ہے کہ ”‏اپنی قوم کے حاکموں کی توہین نہ کرو۔‏“‏ “‏ 6  پولُس جانتے تھے کہ وہاں صدوقی بھی موجود ہیں اور فریسی بھی۔‏ اِس لیے اُنہوں نے اُونچی آواز میں عدالتِ‌عظمیٰ سے کہا:‏ ”‏بھائیو،‏ مَیں فریسی ہوں اور فریسیوں کی اولاد ہوں۔‏ مجھ پر اِس لیے مُقدمہ چلایا جا رہا ہے کیونکہ مَیں مُردوں کے جی اُٹھنے پر ایمان رکھتا ہوں۔‏“‏ 7  اِس پر فریسیوں اور صدوقیوں میں بحث چھڑ گئی اور جماعت دو حصوں میں بٹ گئی 8  کیونکہ صدوقی نہ تو یہ مانتے ہیں کہ مُردے زندہ ہوں گے اور نہ ہی فرشتوں اور روحانی مخلوقات پر ایمان رکھتے ہیں جبکہ فریسی اِن سب باتوں کو مانتے ہیں۔‏ 9  لہٰذا وہاں بڑا ہنگامہ شروع ہو گیا۔‏ شریعت کے کچھ عالم جو فریسی فرقے سے تھے،‏ کھڑے ہو گئے اور بڑے جوش سے بحث کرنے لگے اور کہنے لگے:‏ ”‏ہمیں تو یہ آدمی بےقصور لگتا ہے۔‏ ہو سکتا ہے کہ کسی روحانی مخلوق یا فرشتے نے اِس سے بات کی ہو۔‏“‏ 10  جب بہت لڑائی جھگڑا شروع ہو گیا تو فوجی کمانڈر ڈر گیا کہ کہیں لوگ پولُس کو چیر پھاڑ نہ دیں۔‏ اِس لیے اُس نے فوجیوں کو حکم دیا کہ وہ جائیں اور پولُس کو اُن کے بیچ سے نکال کر چھاؤنی میں پہنچا دیں۔‏ 11  اگلی رات ہمارے مالک پولُس کے پاس آئے اور کہا:‏ ”‏ہمت نہ ہاریں!‏ جیسے آپ نے یروشلیم میں میرے بارے میں اچھی طرح سے گواہی دی ویسے ہی آپ کو روم میں بھی دینی ہوگی۔‏“‏ 12  جب صبح ہوئی تو کچھ یہودیوں نے پولُس کے خلاف سازش گھڑی۔‏ اُنہوں نے قسم کھائی کہ اگر وہ پولُس کو قتل کرنے سے پہلے کچھ کھائیں یا پئیں تو اُن پر خدا کی لعنت ہو۔‏ 13  چالیس سے زیادہ آدمیوں نے یہ قسم کھائی۔‏ 14  وہ اعلیٰ کاہنوں اور بزرگوں کے پاس گئے اور اُن سے کہا:‏ ”‏ہم نے قسم کھائی ہے کہ جب تک ہم پولُس کو قتل نہ کر لیں،‏ ہم کچھ نہیں کھائیں گے۔‏ 15  اِس لیے آپ عدالتِ‌عظمیٰ کے ساتھ مل کر فوجی کمانڈر کو پیغام بھیجیں کہ وہ پولُس کو آپ کے پاس لائے اور یہ بہانہ بنائیں کہ آپ اُس سے مزید پوچھ‌گچھ کرنا چاہتے ہیں۔‏ لیکن اِس سے پہلے کہ وہ آپ کے پاس پہنچے،‏ ہم اُس کا کام تمام کر دیں گے۔‏“‏ 16  مگر پولُس کے بھانجے کو اِس سازش کا پتہ چل گیا اور اُس نے چھاؤنی میں جا کر اُن کو خبر دی۔‏ 17  پولُس نے ایک فوجی افسر کو بلایا اور اُس سے کہا:‏ ”‏اِس جوان کو کمانڈر کے پاس لے جائیں کیونکہ یہ اُنہیں کچھ بتانا چاہتا ہے۔‏“‏ 18  افسر اُسے کمانڈر کے پاس لے گیا اور کہا:‏ ”‏مَیں پولُس نامی قیدی کی درخواست پر اِس جوان کو آپ کے پاس لایا ہوں کیونکہ یہ آپ کو کچھ بتانا چاہتا ہے۔‏“‏ 19  کمانڈر اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے ایک طرف لے گیا اور کہا:‏ ”‏بتاؤ،‏ کیا بات ہے؟‏“‏ 20  اُس نے کہا:‏ ”‏یہودیوں نے منصوبہ بنایا ہے کہ وہ آپ سے درخواست کریں گے کہ کل پولُس کو عدالتِ‌عظمیٰ کے سامنے پیش کریں تاکہ اُن سے مزید پوچھ‌گچھ کی جائے۔‏ 21  لیکن آپ اُن کی باتوں میں نہ آئیں کیونکہ اُن کے 40 ‏(‏چالیس)‏ سے زیادہ آدمی گھات لگا کر بیٹھیں گے۔‏ دراصل اُنہوں نے قسم کھائی ہے کہ جب تک وہ پولُس کو قتل نہ کر لیں،‏ وہ کچھ نہیں کھائیں پئیں گے۔‏ وہ بس اِس اِنتظار میں ہیں کہ آپ اُن کی درخواست قبول کریں۔‏“‏ 22  کمانڈر نے اُس جوان کو حکم دیا کہ ”‏کسی کو نہ بتانا کہ تُم نے مجھے اِس سازش سے آگاہ کر دیا ہے“‏ اور پھر اُسے جانے کے لیے کہا۔‏ 23  اِس کے بعد اُس نے دو فوجی افسروں کو بلایا اور کہا:‏ ”‏200 فوجیوں،‏ 70 ‏(‏ستر)‏ گُھڑسواروں اور 200 نیزےبازوں کو رات کے تیسرے گھنٹے* قیصریہ جانے کے لیے تیار کرو۔‏ 24  اور پولُس کے لیے بھی گھوڑوں کا اِنتظام کرو تاکہ اُسے بحفاظت حاکم فیلکس کے پاس لے جایا جائے۔‏“‏ 25  اِس کے ساتھ ساتھ اُس نے یہ خط بھی لکھا:‏ 26  ‏”‏کلودِیُس لُوسیاس کی طرف سے مُعزز حاکم فیلکس کے نام۔‏ آداب!‏ 27  اِس آدمی کو یہودیوں نے پکڑ لیا تھا اور وہ اِسے قتل کرنے والے تھے۔‏ لیکن جیسے ہی مجھے پتہ چلا کہ یہ آدمی رومی شہری ہے،‏ مَیں اپنے جوانوں کے ہمراہ وہاں پہنچا اور اِس کی جان بچائی۔‏ 28  مَیں جاننا چاہتا تھا کہ وہ اِس آدمی پر کیوں اِلزام لگا رہے ہیں۔‏ اِس لیے مَیں نے اِسے اُن کی عدالتِ‌عظمیٰ کے سامنے پیش کِیا۔‏ 29  مَیں نے دیکھا کہ اُنہوں نے اِس پر جو اِلزام لگایا ہے،‏ اُس کا تعلق اُن کی شریعت سے ہے۔‏ لیکن اِس نے کوئی ایسا جُرم نہیں کِیا جس کی وجہ سے اِسے قید میں ڈالا جائے یا سزائےموت دی جائے۔‏ 30  مگر چونکہ مجھے پتہ چلا ہے کہ اِس آدمی کے خلاف سازش ہو رہی ہے اِس لیے مَیں اِسے فوراً آپ کے پاس بھیج رہا ہوں اور اِس کے مخالفوں کو حکم دے رہا ہوں کہ وہ آپ کے سامنے اپنا دعویٰ پیش کریں۔‏“‏ 31  کمانڈر کے حکم کے مطابق فوجی،‏ پولُس کو لے کر روانہ ہوئے اور اُسی رات انتیپترس پہنچے۔‏ 32  اگلے دن گُھڑسوار پولُس کے ساتھ آگے گئے جبکہ باقی فوجی چھاؤنی میں لوٹ آئے۔‏ 33  جب گُھڑسوار قیصریہ میں داخل ہوئے تو اُنہوں نے حاکم کو کمانڈر کا خط دیا اور ساتھ ہی پولُس کو بھی اُس کے حوالے کِیا۔‏ 34  حاکم نے خط پڑھنے کے بعد پولُس سے پوچھا کہ وہ کس صوبے سے ہیں اور اُسے پتہ چلا کہ وہ کِلکیہ سے ہیں۔‏ 35  پھر اُس نے کہا:‏ ”‏جب تمہارے مخالف آئیں گے تو مَیں اِس مُقدمے کی پوری پوری تفتیش کروں گا۔‏“‏ اور اُس نے حکم دیا کہ پولُس کو ہیرودیس کے سرکاری محل میں پہرے میں رکھا جائے۔‏

فٹ‌ نوٹس

یونانی میں:‏ ”‏سفیدی پھری ہوئی دیوار“‏
تقریباً رات نو بجے