اعمال 11‏:1‏-‏30

  • پطرس رسولوں کو سارا واقعہ سناتے ہیں (‏1-‏18‏)‏

  • برنباس اور ساؤل سُوریہ کے شہر انطاکیہ میں (‏19-‏26‏)‏

    • شاگرد مسیحی کہلائے (‏26‏)‏

  • اگبُس قحط کی پیش‌گوئی کرتے ہیں (‏27-‏30‏)‏

11  اب اُن رسولوں اور بھائیوں کو جو یہودیہ میں تھے،‏ یہ خبر ملی کہ غیریہودیوں نے بھی خدا کا کلام قبول کر لیا ہے۔‏ 2  اِس لیے جب پطرس یروشلیم آئے تو اُن بھائیوں نے جو ختنے کے رواج پر قائم تھے،‏ اُن پر نکتہ‌چینی کی 3  اور کہا:‏ ”‏آپ ایسے لوگوں کے گھر گئے جن کا ختنہ نہیں ہوا اور اُن کے ساتھ کھانا بھی کھایا۔‏“‏ 4  اِس پر پطرس نے اُنہیں سارا واقعہ تفصیل سے سناتے ہوئے کہا:‏ 5  ‏”‏مَیں شہر یافا میں دُعا کر رہا تھا کہ مجھ پر سکتہ طاری ہو گیا اور مَیں نے رُویا میں دیکھا کہ ایک ایسی چیز* جو لینن کی بڑی سی چادر جیسی ہے،‏ چاروں کونوں سے آسمان سے نیچے اُتاری جا رہی ہے اور یہ بالکل میرے سامنے آ گئی۔‏ 6  جب مَیں نے غور سے دیکھا تو اِس میں زمین کے چوپائے،‏ جنگلی جانور،‏ رینگنے والے جانور اور آسمان کے پرندے تھے۔‏ 7  پھر ایک آواز نے مجھ سے کہا:‏ ”‏پطرس،‏ اُٹھیں!‏ اِن کو ذبح کریں اور کھائیں!‏“‏ 8  لیکن مَیں نے کہا:‏ ”‏مالک،‏ مَیں یہ ہرگز نہیں کر سکتا کیونکہ مَیں نے کبھی کوئی ناپاک اور حرام چیز نہیں کھائی۔‏“‏ 9  دوسری بار آواز نے مجھ سے کہا:‏ ”‏اُن چیزوں کو ناپاک نہ کہیں جن کو خدا نے پاک کر دیا ہے۔‏“‏ 10  تیسری بار بھی ایسا ہی ہوا اور پھر سب کچھ آسمان پر اُٹھا لیا گیا۔‏ 11  عین اُسی وقت تین آدمی اُس گھر کے باہر آ کر کھڑے ہو گئے جہاں ہم ٹھہرے ہوئے تھے۔‏ اُن آدمیوں کو قیصریہ سے میرے پاس بھیجا گیا تھا۔‏ 12  پھر پاک روح نے مجھے حکم دیا کہ مَیں بِلاجھجک اُن کے ساتھ جاؤں۔‏ یہ چھ بھائی بھی میرے ساتھ گئے اور ہم اُس آدمی کے گھر میں داخل ہوئے۔‏ 13  اُس نے ہمیں بتایا کہ اُسے اپنے گھر میں ایک فرشتہ دِکھائی دیا جس نے اُس سے کہا کہ ”‏کچھ آدمیوں کو یافا بھیجیں اور شمعون نامی ایک آدمی کو بلوائیں جو پطرس بھی کہلاتا ہے 14  اور وہ آپ کو ایسی باتیں بتائے گا جن کے ذریعے آپ اور آپ کے گھر والے نجات پا سکتے ہیں۔‏“‏ 15  لیکن جب مَیں اُن سے بات کر رہا تھا تو پاک روح بالکل ویسے ہی اُن پر نازل ہوئی جیسے شروع میں ہم پر ہوئی تھی۔‏ 16  اِس پر مجھے یاد آیا کہ ہمارے مالک کہا کرتے تھے کہ ”‏یوحنا نے پانی سے بپتسمہ دیا لیکن آپ کو پاک روح سے بپتسمہ دیا جائے گا۔‏“‏ 17  اب اگر خدا نے اُن لوگوں کو بھی وہ نعمت دی جو اُس نے ہمیں دی جنہوں نے مالک یسوع مسیح پر ایمان رکھا تو پھر مَیں کون ہوتا ہوں کہ خدا کی راہ میں رُکاوٹ بنوں؟‏“‏ 18  جب اُن بھائیوں نے یہ باتیں سنیں تو اُنہوں نے کوئی اَور اِعتراض نہیں کِیا* بلکہ خدا کی بڑائی کی اور کہا:‏ ”‏اِس کا مطلب ہے کہ اب خدا نے غیریہودیوں کو بھی توبہ کرنے کا موقع دیا ہے تاکہ وہ بھی زندگی حاصل کر سکیں۔‏“‏ 19  جو بھائی ستفنُس کی موت کے بعد شروع ہونے والی اذیت کی وجہ سے فینیکے،‏ قبرص اور انطاکیہ تک پھیل گئے تھے،‏ وہ صرف یہودیوں کو خدا کا کلام سنا رہے تھے۔‏ 20  لیکن کچھ بھائی جو قبرص اور کُرینے سے تھے،‏ انطاکیہ آئے اور یونانی بولنے والے لوگوں کو مالک یسوع کے بارے میں خوش‌خبری سنانے لگے۔‏ 21  اور یہوواہ* کا ہاتھ اُن پر تھا اور بہت سے لوگ ایمان لے آئے اور ہمارے مالک کے پیروکار بن گئے۔‏ 22  یہ خبر یروشلیم کی کلیسیا* تک پہنچی اور وہاں کے بھائیوں نے برنباس کو انطاکیہ بھیجا۔‏ 23  جب وہ وہاں پہنچے تو اُنہوں نے دیکھا کہ اُن لوگوں کو خدا کی عظیم رحمت حاصل ہے۔‏ اِس پر وہ بہت خوش ہوئے اور بھائیوں کی حوصلہ‌افزائی کرنے لگے کہ پورے دل سے مالک کی پیروی کرتے رہیں 24  کیونکہ برنباس ایک اچھے آدمی تھے،‏ مضبوط ایمان کے مالک تھے اور پاک روح سے معمور تھے۔‏ اور بہت سے لوگ ہمارے مالک پر ایمان لے آئے۔‏ 25  لہٰذا برنباس،‏ ساؤل کو ڈھونڈنے کے لیے ترسُس گئے۔‏ 26  اور جب ساؤل اُنہیں مل گئے تو وہ اُنہیں انطاکیہ لائے۔‏ وہاں وہ دونوں ایک سال تک کلیسیا کے ساتھ جمع ہوتے رہے اور بہت سے لوگوں کو تعلیم دیتے رہے۔‏ اور انطاکیہ ہی وہ جگہ تھی جہاں خدا کی مرضی سے پہلی بار شاگردوں کو مسیحی کہا گیا۔‏ 27  اُن دنوں میں کچھ نبی یروشلیم سے انطاکیہ آئے۔‏ 28  اُن میں سے ایک کا نام اگبُس تھا جس نے کھڑے ہو کر پاک روح کے ذریعے یہ پیش‌گوئی کی کہ پورے ملک میں ایک بہت بڑا قحط پڑنے والا ہے۔‏ اور کلودِیُس کے دَورِحکومت میں بالکل ایسا ہی ہوا۔‏ 29  لہٰذا وہاں کے شاگردوں نے یہ فیصلہ کِیا کہ ہر ایک اپنی اپنی مالی حیثیت کے مطابق کچھ دے تاکہ یہودیہ میں رہنے والے بھائیوں کے لیے اِمداد بھیجی جا سکے۔‏ 30  اُنہوں نے ایسا ہی کِیا اور یہ اِمداد برنباس اور ساؤل کے ہاتھ بزرگوں کو بھیجی۔‏

فٹ‌ نوٹس

یونانی میں:‏ ”‏برتن“‏
یونانی میں:‏ ”‏وہ چپ رہے“‏
‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏
یا ”‏جماعت“‏